سنن النسائي حدیث نمبر: 1961
Sunan an-Nasa'i 1961
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
66: بَابُ : الصَّلاَةِ عَلَى مَنْ غَلَّ
باب: مال غنیمت چرانے والے کی نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، قال: مَاتَ رَجُلٌ بِخَيْبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ إِنَّهُ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" , فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا فِيهِ خَرَزًا مِنْ خَرَزِ يَهُودَ مَا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ.
زید بن خالد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص خیبر میں مر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ، اس نے اللہ کی راہ میں چوری کی ہے “ ، تو ( جب ) ہم نے اس کے اسباب کی تلاشی لی تو ہمیں اس میں یہود کے نگینوں میں سے کچھ نگینے ملے ، جو دو درہم کے برابر بھی نہیں تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1961]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الجھاد 143 (2710)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 34 (2848)، (تحفة الأشراف: 3767)، موطا امام مالک/الجھاد 13 (23)، مسند احمد 4/114 و 5/192 (ضعیف) (اس کے راوی ”ابو عمرہ‘‘ لین الحدیث ہیں، اور موطا میں یہ سند سے ساقط ہیں، کما حررہ ابن عبدالبر)