📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل (كتاب الجنائز) 🏷️ باب: باب: میت کے بدن پر کپڑا لپیٹنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 1894 Sunan an-Nasa'i 1894
کتاب #25: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
36: بَابُ : الإِشْعَارِ
باب: میت کے بدن پر کپڑا لپیٹنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ أَبِي تَمِيمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ، يَقُولُ: كَانَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَدِمَتْ تُبَادِرُ ابْنًا لَهَا فَلَمْ تُدْرِكْهُ، حَدَّثَتْنَا، قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ فَقَالَ: " اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا أَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ" , وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ , قَالَ: لَا أَدْرِي أَيُّ بَنَاتِهِ , قَالَ: قُلْتُ: مَا قَوْلُهُ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ أَتُؤَزَّرُ بِهِ؟ قَالَ: لَا أُرَاهُ إِلَّا أَنْ يَقُولَ: " الْفُفْنَهَا فِيهِ".
محمد بن سیرین کہتے ہیں ام عطیہ رضی اللہ عنہا ایک انصاری عورت تھیں ، وہ ( بصرہ ) آئیں ، اپنے بیٹے سے جلد ملنا چاہ رہی تھیں لیکن وہ اسے نہیں پا سکیں ، انہوں نے ہم سے حدیث بیان کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں پانی اور بیر ( کی پتیوں ) سے تین بار ، یا پانچ بار غسل دو ، یا اس سے زیادہ بار اگر ضرورت سمجھو ، اور آخر میں کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لینا ( اور ) جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتاؤ “ ، تو جب ہم فارغ ہوئے تو آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا : ” اسے ان کے بدن پر لپیٹ دو “ ، اور اس سے زیادہ نہیں فرمایا ۔ ( ایوب نے ) کہا : میں نہیں جانتا کہ یہ آپ کی کون سی بیٹی تھی ں ، راوی کہتے ہیں : میں نے پوچھا ” اشعار “ سے کیا مراد ہے ؟ کیا ازار ( تہبند ) پہنانا مقصود ہے ؟ ایوب نے کہا : میں یہی سمجھتا ہوں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اسے ان کے جسم پر لپیٹ دو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1894]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1882 (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #1894
1892 1893 1894 1895 1896

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1895 أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ النَّسَائِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْ...
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کی موت ہو گئ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ