📖 سنن النسائي (Sunan an-Nasa'i) • تمام کتب ↗

كتاب البيوع

کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل

کتاب #49 • کل احادیث: 257
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: بَابُ : الْحَثِّ عَلَى الْكَسْبِ
باب: روزی کمانے کی ترغیب۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو قُدَامَةَ السَّرْخَسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمَّتِهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَ الرَّجُلِ مِنْ كَسْبِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے پاکیزہ کھانا وہ ہے جو آدمی اپنی ( محنت کی ) کمائی سے کھائے ، اور آدمی کی اولاد اس کی کمائی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4454]
💡 وضاحت:
۱؎: سب سے پاکیزہ کمائی کی بابت علماء کے تین اقوال ہیں: ۱- تجارت ۲- ہاتھ کی کمائی اور ایسا پیشہ جو کمتر درجے کا نہ ہو ۳- زراعت (کھیتی باڑی)، ان میں سب سے بہتر کون ہے اس کا دارومدار حالات و ظروف پر ہے۔ راجح یہ ہے کہ سب سے بہتر اور پاکیزہ رزق وہ ہے جو حدیث رسول «جعل رزقی تحت ظل رمحی» کے مطابق بطور غنیمت حاصل ہو۔ اس لیے کہ یہ دین کے غلبہ کے لیے حاصل ہونے والی جدوجہد اور قتال میں حاصل مال ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع 79 (3528، 3529)، سنن الترمذی/الأحکام 22 (1258)، سنن ابن ماجہ/التجارات 64 (229)، (تحفة الأشراف: 17992)، مسند احمد (6/31، 41، 127، 162، 193، 201، 202، 220)، سنن الدارمی/البیوع 6 (2579) (صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ اس کی راویہ ”عمة عمارة“ مجہولہ ہیں)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمَّةٍ لَهُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ، فَكُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہاری اولاد سب سے پاکیزہ کمائی ہے ، لہٰذا تم اپنی اولاد کی کمائی میں سے کھاؤ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4455]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظرما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَوَلَدُهُ مِنْ كَسْبِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے پاکیزہ کھانا وہ ہے جو آدمی اپنی کمائی سے کھائے اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4456]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/التجارات 1 (2137)، (تحفة الأشراف: 15961)، مسند احمد (6/42، 220) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے پاکیزہ کھانا وہ ہے جو آدمی اپنی کمائی سے کھائے اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4457]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
2: بَابُ : اجْتِنَابِ الشُّبُهَاتِ فِي الْكَسْبِ
باب: کمائی میں شکوک و شبہات سے دور رہنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَوَاللَّهِ لَا أَسْمَعُ بَعْدَهُ أَحَدًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِكَ أُمُورًا مُشْتَبِهَاتٍ"، وَرُبَّمَا قَالَ: " وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِكَ أُمُورًا مُشْتَبِهَةً"، قَالَ: " وَسَأَضْرِبُ لَكُمْ فِي ذَلِكَ، مَثَلًا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَمَى حِمًى، وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا حَرَّمَ، وَإِنَّهُ مَنْ يَرْتَعُ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُخَالِطَ الْحِمَى"، وَرُبَّمَا قَالَ: " إِنَّهُ مَنْ يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُرْتِعَ فِيهِ، وَإِنَّ مَنْ يُخَالِطُ الرِّيبَةَ يُوشِكُ أَنْ يَجْسُرَ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ( اللہ کی قسم ، میں آپ سے سن لینے کے بعد کسی سے نہیں سنوں گا ) آپ فرما رہے تھے : ” حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے ، ان دونوں کے بیچ کچھ شبہ والی چیزیں ہیں “ ( یا آپ نے «مشتبہات» کے بجائے «مشتبھۃً» کہا ۱؎ ) - اور فرمایا : ” میں تم سے اس سلسلے میں ایک مثال بیان کرتا ہوں : اللہ تعالیٰ نے ایک چراگاہ بنائی تو اللہ کی چراگاہ یہ محرمات ہیں ، جو جانور بھی اس چراگاہ کے پاس چرے گا قریب ہے کہ وہ اس میں داخل ہو جائے “ یا یوں فرمایا : ” جو بھی اس چراگاہ کے جانور پاس چرائے گا قریب ہے کہ وہ جانور اس میں سے میں چر لے ۔ اور جو مشکوک کام کرے تو قریب ہے کہ وہ ( حرام کام کرنے کی ) جرات کر بیٹھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4458]
💡 وضاحت:
۱؎: گویا دنیاوی چیزیں تین طرح کی ہیں: حلال، حرام اور مشتبہ (شک و شبہہ والی چیزیں) پس حلال چیزیں وہ ہیں جو کتاب و سنت میں بالکل واضح ہیں جیسے دودھ، شہد، میوہ، گائے اور بکری وغیرہ، اسی طرح حرام چیزیں بھی کتاب و سنت میں واضح ہیں جیسے شراب، زنا، قتل اور جھوٹ وغیرہ اور مشتبہ وہ ہے جو کسی حد تک حلال سے اور کسی حد تک حرام سے، یعنی دونوں سے مشابہت رکھتی ہو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے راستہ میں ایک کھجور پڑی ہوئی دیکھی تو فرمایا کہ اگر اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہو سکتی ہے تو میں اسے کھا لیتا۔ اس لیے مشتبہ امر سے اپنے آپ کو بچا لینا ضروری ہے، کیونکہ اسے اپنانے کی صورت میں حرام میں پڑنے کا خطرہ ہے، نیز شبہ والی چیز میں پڑتے پڑتے آدمی حرام میں پڑنے اور اسے اپنانے کی جرات و جسارت کر سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الإیمان 39 (52)، البیوع2 (2051)، صحیح مسلم/البیوع 40 المساقاة 20 (1599)، سنن ابی داود/المساقاة 3 (3329، 3330)، سنن الترمذی/المساقاة 1 (1205)، سنن ابن ماجہ/الفتن 14 (2984)، (تحفة الأشراف: 11624)، مسند احمد (4/267، 269، 270، 271، 274، 275)، سنن الدارمی/البیوع 1 (2573)، ویأتی عند المؤلف فی الأشربة50 (برقم 5713) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ مَا يُبَالِي الرَّجُلُ مِنْ أَيْنَ أَصَابَ الْمَالَ مِنْ حَلَالٍ، أَوْ حَرَامٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی کو اس بات کی فکر و پروا نہ ہو گی کہ اسے مال کہاں سے ملا ، حلال طریقے سے یا حرام طریقے سے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4459]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 23 (2083)، (تحفة الأشراف: 13016)، مسند احمد (2/435، 452، 505)، سنن الدارمی/البیوع 5 (2578) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَأْكُلُونَ الرِّبَا، فَمَنْ لَمْ يَأْكُلْهُ أَصَابَهُ مِنْ غُبَارِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ سود کھائیں گے اور جس نے اسے نہیں کھایا ، اس پر بھی اس کا غبار پڑ کر رہے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4460]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3331) ابن ماجه (2278) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع 3 (3331)، سنن ابن ماجہ/التجارات 58 (2278)، (تحفة الأشراف: 12241)، مسند احمد 2/494 (ضعیف) (حسن بصری کا ابوہریرہ رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے، نیز ’’سعید‘‘ لین الحدیث ہیں)
3: بَابُ : التِّجَارَةِ
باب: تجارت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ تَغْلِبَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ، أَنْ يَفْشُوَ الْمَالُ، وَيَكْثُرَ، وَتَفْشُوَ التِّجَارَةُ، وَيَظْهَرَ الْعِلْمُ، وَيَبِيعَ الرَّجُلُ الْبَيْعَ، فَيَقُولَ: لَا حَتَّى أَسْتَأْمِرَ تَاجِرَ بَنِي فُلَانٍ، وَيُلْتَمَسَ فِي الْحَيِّ الْعَظِيمِ الْكَاتِبُ فَلَا يُوجَدُ".
عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ مال و دولت کا پھیلاؤ ہو جائے گا اور بہت زیادہ ہو جائے گا ، تجارت کو ترقی ہو گی ، علم اٹھ جائے گا ۱؎ ، ایک شخص مال بیچے گا ، پھر کہے گا : نہیں ، جب تک میں فلاں گھرانے کے سوداگر سے مشورہ نہ کر لوں ، اور ایک بڑی آبادی میں کاتبوں کی تلاش ہو گی لیکن وہ نہیں ملیں گے “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4461]
💡 وضاحت:
۱؎: اکثر نسخوں میں «يظهر العلم» ہے، اور بعض نسخوں میں «يظهر الجهل» ہے، یعنی لوگوں کے دنیاوی امور و معاملات میں مشغول ہونے کے سبب جہالت پھیل جائے گی، اور دوسری احادیث کے سیاق کو دیکھتے ہوئے «يظهر العلم» کا معنی یہاں علم کے اٹھ جانے یا ختم ہو جانے کے ہوں گے، واللہ اعلم۔ ۲؎: یعنی ایسے کاتبوں کی تلاش جو عدل و انصاف سے کام لیں اور ناحق کسی کا مال لینے کی ان کے اندر حرص و لالچ نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، الحسن البصري و يونس بن عبيد عنعنا. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10712) (صحیح)
4: بَابُ : مَا يَجِبُ عَلَى التُّجَّارِ مِنَ التَّوْقِيَةِ فِي مُبَايَعَتِهِمْ
باب: خرید و فروخت میں تاجروں کو کس بات سے دور رہنا ضروری ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ، مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَذَبَا، وَكَتَمَا مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا".
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو جدا ہونے تک ( مال کے بیچنے اور نہ بیچنے کے بارے میں ) اختیار حاصل ہے ، اگر سچ بولیں گے اور ( عیب و ہنر کو ) صاف صاف بیان کر دیں گے تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ہو گی ، اور اگر جھوٹ بولیں گے اور عیب کو چھپائیں گے تو ان کی خرید و فروخت کی برکت جاتی رہے گی “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4462]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: تجار کو اپنی خرید و فروخت کے معاملے میں جھوٹ سے بچنا چاہیئے، تبھی تجارت میں برکت ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 19 (2079)، 22 (2082)، 42 (2108)، 44 (2110)، 46 (2114)، صحیح مسلم/البیوع 1 (1532)، سنن ابی داود/البیوع 53 (3459)، سنن الترمذی/البیوع 26 (1246)، (تحفة الأشراف: 3427)، مسند احمد (3/402، 403، 434)، سنن الدارمی/البیوع 15 (2589)، ویأتي عند المؤلف برقم 4469 (صحیح)
5: بَابُ : الْمُنْفِقِ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ
باب: جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنے والے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ"، فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: خَابُوا، وَخَسِرُوا، قَالَ: " الْمُسْبِلُ إِزَارَهُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ، وَالْمَنَّانُ عَطَاءَهُ".
ابوذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین لوگ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ بات چیت کرے گا ، اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ہی انہیں گناہوں سے پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا “ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت پڑھی ۱؎ تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ لوگ ناکام ہو گئے اور خسارے میں پڑ گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے تہبند کو ٹخنے سے نیچے لٹکانے والا ۲؎ ، جھوٹی قسم کھا کر اپنے سامان کو بیچنے والا ، دے کر باربار احسان جتانے والا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4463]
💡 وضاحت:
۱؎: اس آیت سے مراد سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ۷۷ ہے جو اس طرح ہے «ولا يكلمهم الله ولا ينظر إليهم يوم القيامة ولا يزكيهم ولهم عذاب أليم» (سورة آل عمران: 77)۔ ۲؎: کسی کسی روایت میں «خیلاء» کا لفظ آیا ہے یعنی تکبر اور گھمنڈ سے ٹخنے سے نیچے ازار (تہبند) لٹکانے والا لیکن یہ وعید ہر حالت پر ہے چاہے ازار (تہبند) تکبر سے لٹکائے یا بغیر تکبر کے اور تکبر سے کا لفظ کوئی احترازی لفظ نہیں ہے، ٹخنے سے نیچے لٹکانے میں بہرحال تکبر و غرور کی کیفیت پیدا ہو ہی جاتی ہے اس لیے کسی روایت میں «خیلاء» کا لفظ آیا ہے۔ تکبر کے ساتھ مزید گناہ ہو گا اور عام حالت میں یہ کبیرہ گناہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 2564 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، الَّذِي لَا يُعْطِي شَيْئًا إِلَّا مَنَّهُ، وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْكَذِبِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہیں دیکھے گا ، اور نہ انہیں گناہوں سے پاک کرے گا ، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے : وہ شخص جو کوئی بھی چیز دیتا ہے تو احسان جتاتا ہے ، جو غرور اور گھمنڈ سے تہبند لٹکاتا ہے اور جو جھوٹ بول کر اپنا سامان بیچتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4464]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 2564 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ، ثُمَّ يَمْحَقُ".
ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” تم لوگ خرید و فروخت میں کثرت سے قسم کھانے سے بچو ، اس لیے کہ ( قسم کھانے سے ) سامان تو بک جاتا ہے ، لیکن برکت ختم جاتی رہتی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4465]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساقاة 27 (البیوع) 48 (1607)، سنن ابن ماجہ/التجارات 30 (2209)، (تحفة الأشراف: 12129)، مسند احمد (5/297، 298، 301) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْحَلِفُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ، مَمْحَقَةٌ لِلْكَسْبِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم کھانے سے سامان بک تو جاتا ہے ، لیکن کمائی ( کی برکت ) ختم ہو جاتی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4466]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 26 (2087)، صحیح مسلم/المساقاة 27 (البیوع 48) (1606)، سنن ابی داود/البیوع 6 (3335)، (تحفة الأشراف: 1331)، مسند احمد (2/235، 242، 413) (صحیح)
6: بَابُ : الْحَلِفِ الْوَاجِبِ لِلْخَدِيعَةِ فِي الْبَيْعِ
باب: خرید و فروخت میں دھوکہ میں ڈال دینے والی قسم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالطَّرِيقِ يَمْنَعُ ابْنَ السَّبِيلِ مِنْهُ، وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا لِدُنْيَا إِنْ أَعْطَاهُ مَا يُرِيدُ وَفَّى لَهُ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يَفِ لَهُ، وَرَجُلٌ سَاوَمَ رَجُلًا عَلَى سِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ لَهُ بِاللَّهِ لَقَدْ أُعْطِيَ بِهَا كَذَا وَكَذَا فَصَدَّقَهُ الْآخَرُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین لوگ ہیں قیامت کے دن اللہ ان کی طرف نہیں دیکھے گا اور نہ انہیں گناہوں سے پاک کرے گا ، ان کے لیے درد ناک عذاب ہے : ایک شخص وہ ہے جو راستے میں فاضل پانی کا مالک ہو اور مسافر کو دینے سے منع کرے ، ایک وہ شخص جو دنیا کی خاطر کسی امام ( خلیفہ ) کے ہاتھ پر بیعت کرے ، اگر وہ اس کا مطالبہ پورا کر دے تو عہد بیعت کو پورا کرے اور مطالبہ پورا نہ کرے تو عہد بیعت کو پورا نہ کرے ، ایک وہ شخص جو عصر بعد کسی شخص سے کسی سامان پر مول تول کرے اور اس کے لیے اللہ کی قسم کھائے کہ یہ اتنے اتنے میں لیا گیا تھا تو دوسرا ( یعنی خریدنے والا ) اسے سچا جانے ( حالانکہ اس نے اس سے کم قیمت میں خریدی تھی ) ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4467]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے عصر کے بعد کے وقت خرید و فروخت میں جھوٹی قسم کھانے پر وعید ہے، اس سے جہاں یہ حکم ثابت ہوا وہیں پر عصر کے بعد کی فضیلت ثابت ہوئی، اس وقت رب کی مرضی کے خلاف اس طرح کا اقدام جس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و تقدیس کا سہارا لے کر آدمی دنیاوی ترقی کا خواہش معیوب ہے، جب کہ جھوٹ بول کر اور جھوٹی گواہی کے ذریعہ مقاصد حاصل کرنا ہر وقت معیوب اور غلط ہے، عصر بعد مزید شناعت و برائی ہے، شاید یہ وقت بازار کی بھیڑ اور اس میں لوگوں کے ریل پیل کا ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الشہادات 22 (2672)، الأحکام 48 (7212)، صحیح مسلم/الإیمان46(108)، سنن ابی داود/البیوع 62 (3474)، (تحفة الأشراف: 12338)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/السیر 35 (1595)، سنن ابن ماجہ/التجارات 30 (2207)، الجہاد 42 (2870)، مسند احمد (2/253، 480) (صحیح)
7: بَابُ : الأَمْرِ بِالصَّدَقَةِ لِمَنْ لَمْ يَعْتَقِدِ الْيَمِينَ بِقَلْبِهِ فِي حَالِ بَيْعِهِ
باب: خرید و فروخت کے وقت دل سے قسم نہ کھانے والے کو صدقہ کرنے کا حکم۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: كُنَّا بِالْمَدِينَةِ نَبِيعُ الْأَوْسَاقَ وَنَبْتَاعُهَا، وَنُسَمِّي أَنْفُسَنَا السَّمَاسِرَةَ، وَيُسَمِّينَا النَّاسُ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ لَنَا مِنَ الَّذِي سَمَّيْنَا بِهِ أَنْفُسَنَا، فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ، إِنَّهُ يَشْهَدُ بَيْعَكُمُ الْحَلِفُ، وَاللَّغْوُ، فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ".
قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم مدینے میں ( غلوں سے بھرے ) وسق خریدتے اور بیچتے تھے ، اور ہم اپنا نام «سمسار» ( دلال ) رکھتے تھے ، لوگ بھی ہمیں اسی نام سے پکارتے تھے ، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس نکل کر آئے اور ہمارا ایسا نام رکھا جو ہمارے رکھے ہوئے نام سے بہتر تھا ، اور فرمایا : ” اے تاجروں کی جماعت ! تمہاری خرید و فروخت میں قسم اور لغو باتیں آ جاتی ہیں ، لہٰذا تم اس میں صدقہ کو ملا دیا کرو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4468]
💡 وضاحت:
۱؎: خرید و فروخت کے وقت زبان سے «لا واللہ» اور «بلیٰ واللہ» ، اللہ کی قسم، قسم اللہ کی ایمان سے وغیرہ وغیرہ جیسے قسمیہ الفاظ جو نکل جاتے ہیں ان کا شمار یمین لغو (بیکار قسم) میں ہوتا ہے، ان کا کفارہ صدقہ کرنا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 3828 (صحیح)
8: بَابُ : وُجُوبِ الْخِيَارِ لِلْمُتَبَايِعَيْنِ قَبْلَ افْتِرَاقِهِمَا
باب: خرید و فروخت کرنے والے جب تک جدا نہ ہوں دونوں کے لیے حق اختیار کے باقی رہنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ، مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، فَإِنْ بَيَّنَا وَصَدَقَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا، مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا".
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خریدنے اور بیچنے والے جب تک جدا نہ ہو جائیں دونوں کو اختیار رہتا ہے ۱؎ ، اگر وہ عیب بیان کر دیں اور سچ بولیں تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ہو گی ، اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور عیب چھپائیں تو ان کی بیع کی برکت ختم ہو جاتی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4469]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: بیع کو فسخ (کالعدم) کر دینے کا اختیار دونوں فریق کو صرف اسی مجلس تک ہوتا ہے جس مجلس میں بیع کا معاملہ طے ہوا ہو، مجلس ختم ہو جانے کے بعد دونوں کا اختیار ختم ہو جاتا ہے اب معاملہ فریق ثانی کی رضا مندی پر ہو گا اگر وہ راضی نہ ہوا تو بیع نافذ رہے گی۔ الا یہ کہ معاملہ کے اندر کسی اور وقت تک کی شرط رکھی گئی ہو۔ تو اس وقت تک اختیار باقی رہے گا (دیکھئیے اگلی حدیث)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4462 (صحیح)
9: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى نَافِعٍ فِي لَفْظِ حَدِيثِهِ
باب: نافع کی حدیث کے الفاظ میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ، مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خریدنے اور بیچنے والا جب تک الگ الگ نہ ہو جائیں دونوں کو اپنے ساتھی پر اختیار رہتا ہے ، سوائے اس بیع کے جس میں اختیار کی شرط ہو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4470]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: وہ معاملہ جس میں طرفین سے یہ طے ہو کہ فلان تاریخ تک یا اتنے دن تک معاملہ کو ختم کرنے کا اختیار رہے گا، اس معاملہ میں مقررہ مدت تک حق اختیار اور حاصل رہے گا، باقی دیگر معاملات میں صرف معاملہ کی مجلس ختم ہونے تک اختیار رہے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/البیوع 10 (1531)، سنن ابی داود/البیوع 53 (3454)، (تحفة الأشراف: 8341)، مسند احمد (1/56) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ، مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، أَوْ يَكُونَ خِيَارًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خرید و فروخت کرنے والوں کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ الگ الگ نہ ہوں ، یا پھر اختیار کی شرط ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4471]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/البیوع 10 (1531م)، (تحفة الأشراف: 8180)، مسند احمد (2/54) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحْرِزٌ بُنُ الْوَضَّاحُ , عَنْ إِسْمَاعِيل , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُتَبَايِعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا , إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْبَيْعُ كَانَ عَنْ خِيَارٍ , فَإِنْ كَانَ الْبَيْعُ عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خرید و فروخت کرنے والوں کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ الگ نہ ہوں ، سوائے اس کے کہ بیع اختیار کی شرط کے ساتھ ہوئی ہو ، لہٰذا اگر بیع اختیار کی شرط کے ساتھ ہوئی ہے تو بیع ہو جاتی ہے “ ( البتہ اختیار باقی رہتا ہے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4472]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد النسائي (تحفة الأشراف: 7506) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَمْلَى عَلَيَّ نَافِعٌ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَبَايَعَ الْبَيِّعَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا , أَوْ يَكُونَ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ , فَإِنْ كَانَ عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب دو آدمی بیع کریں تو ان میں سے ہر ایک کو اپنی بیع کا اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں الگ تھلگ نہ ہوں ، یا پھر ان کی بیع میں اختیار کی شرط ہو ، تو اگر بیع میں شرط اختیار ہو تو بیع ہو جاتی ہے ( لیکن حق اختیار باقی رہتا ہے ) “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4473]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/البیوع 10 (1531)، (تحفة الأشراف: 7779) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا سَعيِدٌ، عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا , أَوْ يَقُولَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ اخْتَرْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیع کرنے والے دونوں کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ الگ تھلگ نہ ہوں ، یا پھر ان میں سے ایک دوسرے سے کہے کہ اختیار کی شرط کر لو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4474]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4470 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَفْتَرِقَا , أَوْ يَكُونَ بَيْعَ خِيَارٍ" , وَرُبَّمَا قَالَ نَافِعٌ: أَوْ يَقُولَ: " أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ اخْتَرْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیع کرنے والے دونوں کو اختیار رہتا ہے جب تک الگ تھلگ نہ ہوں ، یا پھر وہ اختیاری خرید و فروخت ہو “ ۔ نافع کی بعض روایتوں میں یوں ہے «‏أو يقول أحدهما للآخر اختر» ” یا ان میں سے ایک دوسرے سے یہ کہے : بیع میں اختیار کی شرط کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4475]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَفْتَرِقَا , أَوْ يَكُونَ بَيْعَ خِيَارٍ" , وَرُبَّمَا قَالَ نَافِعٌ: " أَوْ يَقُولَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ اخْتَرْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیع کرنے والے دونوں اختیار کے ساتھ رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ الگ تھلگ ہو جائیں ، یا بیع خیار ( اختیاری بیع ) کے ساتھ ہو “ ۔ کبھی کبھی نافع نے یوں کہا : ” «أو يقول أحدهما للآخر اختر» یا یہ کہ ان میں سے ایک دوسرے سے کہے : بیع بالخیار کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4476]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 45 (2112)، صحیح مسلم/البیوع 10 (1531)، سنن ابن ماجہ/التجارات 17 (2181)، (تحفة الأشراف: 8272)، مسند احمد (2/19) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ حَتَّى يَفْتَرِقَا" , وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: " مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا وَكَانَا جَمِيعًا أَوْ يُخَيِّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ , فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ , فَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب دو آدمی آپس میں خریدیں اور بیچیں تو ان میں سے ہر ایک کو اس وقت تک اختیار ہوتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں ، اور ایک دوسری بار نافع نے ( «حتى يفترقا» کے بجائے ) «ما لم يتفرقا» کہا ، حالانکہ وہ دونوں ایک جگہ تھے ، یا یہ کہ ان میں سے ایک دوسرے کو اختیار دیدے ، لہٰذا اگر ان میں سے ایک دوسرے کو اختیار دیدے اور وہ دونوں اس ( شرط خیار ) پر بیع کر لیں تو بیع ہو جائے گی ، اب اگر وہ دونوں بیع کرنے کے بعد جدا ہو جائیں اور ان میں سے کسی ایک نے بیع ترک نہ کی تو بیع ہو جائے گی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4477]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ , يَقُولُ: سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمُتَبَايِعَيْنِ بِالْخِيَارِ فِي بَيْعِهِمَا مَا لَمْ يَفْتَرِقَا , إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْبَيْعُ خِيَارًا" , قَالَ نَافِعٌ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا يُعْجِبُهُ فَارَقَ صَاحِبَهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خرید و فروخت کرنے والے دونوں اپنی بیع کے سلسلے میں اس وقت تک اختیار کے ساتھ رہتے ہیں جب تک وہ جدا نہ ہوں ، سوائے اس کے کہ وہ بیع خیار ( اختیاری خرید و فروخت ) ہو “ ۔ نافع کہتے ہیں : چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کوئی ایسی چیز خریدتے جو دل کو بھا گئی ہو تو صاحب معاملہ سے ( فوراً ) جدا ہو جاتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4478]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/البیوع 10 (1531)، سنن الترمذی/البیوع 26 (1245)، (تحفة الأشراف: 8522) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُتَبَايِعَانِ لَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا , إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خرید و فروخت کرنے والے دونوں کے درمیان اس وقت تک بیع پوری نہیں ہوتی جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں ، سوائے بیع خیار کے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4479]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
10: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ فِي لَفْظِ هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث کے الفاظ میں عبداللہ بن دینار پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , عَنْ إِسْمَاعِيل , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ بَيِّعَيْنِ لَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا , إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیچنے اور خریدنے والے دونوں کے درمیان اس وقت تک بیع پوری نہیں ہوتی جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں ، سوائے بیع خیار کے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4480]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/البیوع 10 (1531)، (تحفة الأشراف: 7131) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ , عَنْ شُعَيْبٍ , عَنْ اللَّيْثِ , عَنْ ابْنِ الْهَادِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كُلُّ بَيِّعَيْنِ فَلَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا , إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” بیچنے اور خریدنے والے دونوں کے درمیان اس وقت تک بیع پوری نہیں ہوتی جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں ، سوائے بیع خیار کے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4481]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7265)، ویأتي عند المؤلف برقم: 4483) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ بَيِّعَيْنِ لَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا , إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیچنے اور خریدنے والے دونوں کے درمیان اس وقت تک بیع پوری نہیں ہوتی جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں ، سوائے بیع خیار کے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4482]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 46 (2113)، (تحفة الأشراف: 7155)، مسند احمد (2/135) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ بَكْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كُلُّ بَيِّعَيْنِ لَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا , إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” بیچنے اور خریدنے والے دونوں کے درمیان اس وقت تک بیع پوری نہیں ہوتی جب تک دونوں جدا نہ ہو جائیں ، سوائے بیع خیار کے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4483]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4481 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ , عَنْ بَهْزِ بْنِ أَسَدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ بَيِّعَيْنِ فَلَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا , إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیچنے اور خریدنے والے دونوں کے درمیان اس وقت تک بیع پوری نہیں ہوتی جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں ، سوائے بیع خیار کے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4484]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7195)، مسند احمد (2/15) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا , أَوْ يَكُونَ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو اختیار رہتا ہے جب تک کہ وہ جدا نہ ہو جائیں ، إلا یہ کہ وہ بیع خیار ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4485]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7173)، مسند احمد (2/9) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ سَمُرَةَ , أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا , أَوْ يَأْخُذَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنَ الْبَيْعِ مَا هَوِيَ , وَيَتَخَايَرَانِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ".
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو اختیار رہتا ہے جب تک کہ وہ جدا نہ ہوں یا ان میں سے ہر ایک بیع کو اپنی مرضی کے مطابق لے اور وہ تین بار اختیار لیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4486]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، قتادة عنعن. وحديث ابن ماجه (2183) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/التجارات 17 (2183)، (تحفة الأشراف: 4600)، مسند احمد (5/12، 17، 21، 22، 23) (ضعیف) (اس کے رواة ’’قتادہ‘‘ اور ’’حسن بصری‘‘ دونوں مدلس ہیں اور ”عنعنہ“ سے روایت کیے ہوئے ہیں، نیز سمرہ رضی الله عنہ سے حسن کے سماع میں بھی اختلاف ہے، مگر اس حدیث کا پہلا ٹکڑا پہلی حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا هَمَّامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ سَمُرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا , وَيَأْخُذْ أَحَدُهُمَا مَا رَضِيَ مِنْ صَاحِبِهِ أَوْ هَوِيَ".
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو اختیار ہوتا ہے جب تک کہ وہ جدا نہ ہوں اور ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے راضی نہ ہو جائے ، یا خواہش پوری نہ کر لے ( یعنی بیع خیار تک ) “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4487]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، قتادة عنعن. وحديث ابن ماجه (2183) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (ضعیف)
11: بَابُ : وُجُوبِ الْخِيَارِ لِلْمُتَبَايِعَيْنِ قَبْلَ افْتِرَاقِهِمَا بِأَبْدَانِهِمَا
باب: بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو ایک دوسرے سے جسمانی طور پر جدا ہونے تک بیع کے توڑنے کے سلسلے میں اختیار حاصل ہونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُتَبَايِعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا , إِلَّا أَنْ يَكُونَ صَفْقَةَ خِيَارٍ , وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَ صَاحِبَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خریدنے اور بیچنے والے دونوں کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں ، سوائے اس کے کہ وہ بیع خیار ہو ، اور ( کسی فریق کے لیے ) یہ حلال نہیں کہ وہ اپنے صاحب معاملہ سے اس اندیشے سے جدا ہو کہ کہیں وہ بیع فسخ کر دے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4488]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ جدائی سے مراد جسمانی جدائی ہے، یعنی دونوں کی مجلس بدل جائے، نہ کہ مجلس ایک ہی ہو اور بات چیت کا موضوع بدل جائے جیسا کہ بعض علماء کا خیال ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع 53 (3456)، سنن الترمذی/البیوع26(1247)، (تحفة الأشراف: 8797)، مسند احمد (2/183) (حسن)
12: بَابُ : الْخَدِيعَةِ فِي الْبَيْعِ
باب: خرید و فروخت میں دھوکہ کھا جانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَجُلًا ذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا بِعْتَ فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ" , فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا بَاعَ , يَقُولُ: لَا خِلَابَةَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ وہ بیع میں دھوکہ کھا جاتا ہے تو آپ نے اس سے فرمایا : ” جب تم بیچو تو کہہ دیا کرو : فریب اور دھوکہ دھڑی نہ ہو ، چنانچہ وہ شخص جب کوئی چیز بیچتا تو کہتا : دھوکہ دھڑی نہیں “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4489]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ کہہ دینے سے اسے اختیار حاصل ہو جاتا اگر بعد میں اسے پتہ چل جائے کہ اس کے ساتھ چالبازی کی گئی ہے تو وہ اسے فسخ کر سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 48 (2117)، الاستقراض 19 (2407)، الخصومات 3 (2414)، الحیل 7 (6964)، صحیح مسلم/البیوع 12 (1533)، سنن ابی داود/البیوع 68 (3500)، (تحفة الأشراف: 7229)، موطا امام مالک/البیوع 46 (98) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ رَجُلًا كَانَ فِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ كَانَ يُبَايِعُ , وَأَنَّ أَهْلَهُ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , احْجُرْ عَلَيْهِ , فَدَعَاهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُ , فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ , قَالَ: " إِذَا بِعْتَ فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص کم عقلی کا شکار تھا اور تجارت کرتا تھا ، اس کے گھر والوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : اللہ کے نبی ! آپ اسے تجارت کرنے سے روک دیجئیے ، تو آپ نے اسے بلایا اور اسے اس سے روکا ، اس نے کہا : اللہ کے نبی ! میں تجارت سے باز نہیں آ سکتا ، تو آپ نے فرمایا : ” جب بیچو تو کہو : فریب و دھوکہ نہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4490]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع 68 (3501)، سنن الترمذی/البیوع 28 (1250)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 24 (2354)، (تحفة الأشراف: 1175)، مسند احمد (3/217) (صحیح)
13: بَابُ : الْمُحَفَّلَةِ
باب: جانور کے تھن میں دودھ روک کر اسے بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا بَاعَ أَحَدُكُمُ الشَّاةَ أَوِ اللَّقْحَةَ , فَلَا يُحَفِّلْهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی جب بکری یا اونٹنی بیچے تو اس کے تھن میں دودھ روک کر نہ رکھے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4491]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ ایسے جانور کو اگر بیچا جائے گا تو خریدار کے ساتھ دھوکہ ہو گا اور کسی کو دھوکہ دینا صحیح نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 14846)، مسند احمد 2/273، 481 (صحیح)
14: بَابُ : النَّهْىِ عَنِ الْمُصَرَّاةِ
باب: «مصراۃ» (تھن باندھے جانور) کی بیع منع ہے «مصراۃ»: اس اونٹنی یا بکری کو کہتے ہیں: جس کے تھن کو باندھ دیا جاتا ہے اور دو تین دن اسے دوہنا ترک کر دیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا دودھ اکٹھا ہوتا رہتا ہے، خریدنے والا اس کا دودھ زیادہ دیکھ کر اس کی قیمت بڑھا دیتا ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَلَقَّوْا الرُّكْبَانَ لِلْبَيْعِ , وَلَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ , مَنِ ابْتَاعَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ , فَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا , وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرُدَّهَا رَدَّهَا وَمَعَهَا صَاعُ تَمْرٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آگے جا کر تجارتی قافلے سے مت ملو ۱؎ اور اونٹنیوں اور بکریوں کو ان کے تھنوں میں دودھ روک کر نہ رکھو ۲؎ ، اگر کسی نے ایسا جانور خرید لیا تو اسے اختیار ہے چاہے تو اسے رکھ لے اور چاہے تو اسے لوٹا دے اور ( لوٹاتے وقت ) اس کے ساتھ ایک صاع کھجور دیدے “ ۳؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4492]
💡 وضاحت:
۱؎: چونکہ باہر سے آنے والے تاجر کو بازار کی قیمت کا صحیح علم نہیں ہے اس لیے بازار میں پہنچنے سے پہلے اس سے سامان خریدنے میں تاجر کو دھوکہ ہو سکتا ہے، اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاجروں کے بازار میں پہنچنے سے پہلے ان سے مل کر ان کا سامان خریدنے سے منع فرما دیا ہے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو تاجر کو اختیار حاصل ہو گا بیع کے نفاذ اور عدم نفاذ کے سلسلہ میں۔ ۲؎: تھن میں دو یا تین دن تک دودھ چھوڑے رکھنے اور نہ دوہنے کو «تصریہ» کہتے ہیں تاکہ اونٹنی یا بکری دودھاری سمجھی جائے اور جلد اور اچھے پیسوں میں بک جائے۔ ۳؎: تاکہ وہ اس دودھ کا بدل بن سکے جو خریددار نے دوہ لیا ہے، نیز واضح رہے کہ کسی ثابت شدہ حدیث کی تردید یہ کہہ کر نہیں کی جا سکتی کہ کسی مخالف اصل سے اس کا ٹکراؤ ہے یا اس میں مثلیت نہیں پائی جا رہی ہے اس لیے عقل اسے تسلیم نہیں کرتی، بلکہ شریعت سے جو چیز ثابت ہو وہی اصل ہے اور اس پر عمل واجب ہے، اسی طرح حدیث مصراۃ ان احادیث میں سے ہے جو صحیح اور ثابت شدہ ہیں لہٰذا کسی قیل و قال کے بغیر اس پر عمل واجب ہے۔ کسی قیاس سے اس کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13722) مسند احمد (2/242، 243) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ , قَالَ: حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ , عَنْ ابْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَإِنْ رَضِيَهَا إِذَا حَلَبَهَا فَلْيُمْسِكْهَا , وَإِنْ كَرِهَهَا فَلْيَرُدَّهَا وَمَعَهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کوئی ایسا جانور خریدا جس کا دودھ اس کے تھن میں روک رکھا گیا ہو تو جب اسے دو ہے اور اس پر راضی ہو جائے تو چاہیئے کہ اسے روک لے اور اگر اسے وہ ناپسند ہو تو اسے لوٹا دے اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی دیدے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4493]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 65 (2148 تعلیقًا)، صحیح مسلم/البیوع 4 (1524)، (تحفة الأشراف: 14629)، مسند احمد (2/463) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ مُحَمَّدٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ ابْتَاعَ مُحَفَّلَةً أَوْ مُصَرَّاةً , فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ , إِنْ شَاءَ أَنْ يُمْسِكَهَا أَمْسَكَهَا , وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرُدَّهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ لَا سَمْرَاءَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کوئی «محفلہ» یا «مصراۃ» ( دودھ تھن میں روکے ہوئے جانور کو ) خریدا تو اسے تین دن تک اختیار ہے ، اگر وہ اسے روکے رکھنا چاہے تو روک لے اور اگر لوٹانا چاہے تو اسے لوٹا دے اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی دے ، گیہوں کا دینا ضروری نہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4494]
قال الشيخ الألباني: صحيح م خ نحوه دون ثلاثة أيام
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/البیوع 4 (1524)، (تحفة الأشراف: 14435)، مسند احمد (2/284) (صحیح) (’’ثلاثة أيام‘‘ تین دن کی تحدید ثابت نہیں ہے، تفصیل کے لیے دیکھئے: سنن ابن ماجہ 2239، وسنن ابی داود 3444 (اس میں تصحیح کر لیں) وتراجع الالبانی 337)
15: بَابُ : الْخَرَاجِ بِالضَّمَانِ
باب: نفع اسی کا ہے جو مال کا ضامن ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , وَوَكِيعٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ «خراج» ( نفع ) مال کی ضمانت سے جڑا ہوا ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4495]
💡 وضاحت:
۱؎: مثلاً خریدار نے ایک غلام خریدا اسی دوران غلام نے کچھ کمائی کی پھر غلام میں کچھ نقص اور عیب نکل آیا تو خریدار نے اسے بیچنے والے کو لوٹا دیا اس کے کمائی کا حقدار خریدار ہو گا بیچنے والا نہیں کیونکہ غلام کے کھو جانے یا بھاگ جانے کی صورت میں خریدار ہی اس کا ضامن ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع 73 (3509)، سنن الترمذی/البیوع 53 (1285)، سنن ابن ماجہ/التجارات 43 (2242)، (تحفة الأشراف: 16755)، مسند احمد (6/49، 208، 237) (حسن)
16: بَابُ : بَيْعِ الْمُهَاجِرِ لِلأَعْرَابِيِّ
باب: مہاجر (شہری) اعرابی (دیہاتی) کا مال بیچے کیسا ہے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ , عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّلَقِّي , وَأَنْ يَبِيعَ مُهَاجِرٌ لِلْأَعْرَابِيِّ , وَعَنِ التَّصْرِيَةِ , وَالنَّجْشِ , وَأَنْ يَسْتَامَ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ , وَأَنْ تَسْأَلَ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر نکل کر سامان خریدنے سے ، مہاجر ( شہری ) کو دیہاتی کا مال بیچنے سے ۱؎ ، جانوروں کے تھن میں قیمت بڑھانے کے مقصد سے دودھ چھوڑنے سے ، خود خریدنا مقصود نہ ہو لیکن دوسرے کو ٹھگانے کے لیے بڑھ بڑھ کر قیمت لگانے سے اور اپنے بھائی کے مول پر بھاؤ بڑھانے سے اور اپنی سوکن ۲؎ کے لیے طلاق کا مطالبہ کرنے سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4496]
💡 وضاحت:
۱؎: «تلقی» (شہر سے باہر جا کر بازار آنے والے تاجر کا مال خریدنے) میں نیز دیہات سے شہر کے بازار میں مال لانے والے سے بازار سے پہلے ہی مال خرید لینے میں اس طرح کے دونوں تاجروں نیز شہر کے عام باشندوں کو بھی نقصان کا اندیشہ ہے اس لیے اس طرح کی خریداری سے منع کر دیا گیا ہے تاجر کا نقصان اس طرح ہو سکتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ بازار میں سامان کا بھاؤ زیادہ ہو اور تاجر کا نقصان ہو جائے اور شہر کے باشندوں کا نقصان اس طرح ہو گا کہ درمیان میں ایک اور واسطہ ہو جانے کے سبب سامان کا بھاؤ زیادہ ہو جائے۔ ۲؎: یعنی ہونے والی سوکن، اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنی کسی بیوی کی موجودگی میں کسی دوسری عورت کو نکاح کا پیغام دے تو وہ عورت اس سے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے دینے کی شرط رکھے، یہ ممنوع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: الشروط 8 (2723)، 11(2727)، النکاح 53 (5152)، القدر 4 (6601)، صحیح مسلم/النکاح 6 (1413)، البیوع 4 (1515)، (تحفة الأشراف: 13411) (صحیح)
17: بَابُ : بَيْعِ الْحَاضِرِ لِلْبَادِي
باب: شہری دیہاتی کا مال بیچے یہ کیسا ہے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ , قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ , وَإِنْ كَانَ أَبَاهُ أَوْ أَخَاهُ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ شہری دیہاتی کا سامان بیچے ، گرچہ وہ اس کا باپ یا بھائی ہی کیوں نہ ہو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4497]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع 47 (3440)، (تحفة الأشراف: 525) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ نُوحٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا يُونُسُ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: " نُهِينَا أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ , وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ أَوْ أَبَاهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس بات سے روکا گیا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان بیچے ، گرچہ وہ اس کا بھائی یا باپ ہی کیوں نہ ہو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4498]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 70 (2161)، صحیح مسلم/البیوع 6 (1523)، سنن ابی داود/البیوع 47 (3440م)، (تحفة الأشراف: 525، 1454) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: " نُهِينَا أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس بات سے روکا گیا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان بیچے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4499]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ , دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے ، لوگوں کو چھوڑ دو ، اللہ تعالیٰ ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ رزق ( روزی ) فراہم کرتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4500]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2872)، مسند احمد (3/307، 312، 312، 386، 392) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَلَقَّوْا الرُّكْبَانَ لِلْبَيْعِ , وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ , وَلَا تَنَاجَشُوا , وَلَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تجارتی قافلے سے ( مال ) خریدنے کے لیے باہر نکل کر نہ ملو ، اور تم میں سے کوئی دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے ، نہ بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے کا کام کرو اور نہ شہری دیہاتی کا سامان بیچے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4501]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 64 (2150)، صحیح مسلم/البیوع 4 (1515)، سنن ابی داود/البیوع 48 (3443)، (تحفة الأشراف: 13802)، موطا امام مالک/البیوع 45 (96)، مسند احمد (2/379، 465) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ بْنِ أَعْيَنَ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ نَهَى عَنِ النَّجْشِ وَالتَّلَقِّي , وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے سے ، شہری کا باہر جا کر دیہاتی سے مال لینے سے اور اس بات سے منع فرمایا کہ شہری دیہاتی کا سامان بیچے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4502]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفردہ بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8264)، مسند احمد (2/7، 42، 63، 153، 156) (صحیح)
18: بَابُ : التَّلَقِّي
باب: آگے بڑھ کر تجارتی قافلے سے ملنا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: قُلْتُ: لِأَبِي أُسَامَةَ , أَحَدَّثَكُمْ عُبَيْدُ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَلَقِّي الْجَلْبِ حَتَّى يَدْخُلَ بِهَا السُّوقَ"؟. فَأَقَرَّ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ , وَقَالَ: نَعَمْ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارتی قافلے سے آگے جا کر ملنے سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4503]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7872)، مسند احمد (2/7، 22، 63، 91) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: قُلْتُ: لِأَبِي أُسَامَةَ , أَحَدَّثَكُمْ عُبَيْدُ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَلَقِّي الْجَلْبِ حَتَّى يَدْخُلَ بِهَا السُّوقَ"؟. فَأَقَرَّ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ , وَقَالَ: نَعَمْ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ آگے جا کر قافلے سے ملا جائے یہاں تک کہ وہ خود بازار آئے ( اور وہاں کا نرخ ( بھاؤ ) معلوم کر لے ) ۔ ابواسامہ نے اس کی تصدیق کی اور کہا : جی ہاں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4503M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7872)، مسند احمد (2/7، 22، 63، 91) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ , وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ" , قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا قَوْلُهُ حَاضِرٌ لِبَادٍ؟ , قَالَ: لَا يَكُونُ لَهُ سِمْسَارٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی آگے جا کر تجارتی قافلے سے ملے ، اور کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان بیچے ، ( راوی طاؤس کہتے ہیں : ) میں نے ابن عباس سے کہا : اس قول ” کوئی شہری دیہاتی کا سامان نہ بیچے “ کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے کہا : یعنی شہری دلال نہ بنے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4504]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 68 (2158)، 71 (2163)، الإجارة 14 (2274)، صحیح مسلم/البیوع 6 (1521)، سنن ابی داود/البیوع 47 (3439)، سنن ابن ماجہ/التجارات 15 (2177)، (تحفة الأشراف: 5706)، مسند احمد (1/368) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ الْقُرْدُوسِيُّ , أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ سِيرِينَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَلَقَّوْا الْجَلْبَ , فَمَنْ تَلَقَّاهُ فَاشْتَرَى مِنْهُ , فَإِذَا أَتَى سَيِّدُهُ السُّوقَ فَهُوَ بِالْخِيَارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آگے جا کر تجارتی قافلے سے نہ ملو ، جو اس سے جا کر ملا اور اس سے کوئی چیز خرید لی ، جب اس کا مالک بازار آئے تو اسے اختیار ہو گا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4505]
💡 وضاحت:
۱؎: چاہے تو پہلی قیمت پر جو باہر نکل کر لگائی تھی فروخت کر دے یا بازار کی قیمت پر۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/البیوع 5 (1519)، (تحفة الأشراف: 14538)، مسند احمد (2/284، 403، 488) (صحیح)
19: بَابُ : سَوْمِ الرَّجُلِ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ
باب: مسلمان بھائی کے دام پر دام لگانا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَبِيعَنَّ حَاضِرٌ لِبَادٍ , وَلَا تَنَاجَشُوا , وَلَا يُسَاوِمْ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ , وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ , وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا وَلِتُنْكَحَ , فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال ہرگز نہ بیچے ، اور نہ بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے کا کام کرو ، اور نہ آدمی اپنے ( مسلمان ) بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ لگائے ، اور نہ ( مسلمان ) بھائی کی شادی کے پیغام پر پیغام بھیجے اور نہ عورت اپنی سوکن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ جو اس کے برتن میں ہے اسے بھی اپنے لیے انڈیل لے ( یعنی جو اس کی قسمت میں تھا وہ اسے مل جائے ) بلکہ ( بلا مطالبہ و شرط ) نکاح کرے ، کیونکہ اسے وہی ملے گا جو اس کی قسمت میں اللہ تعالیٰ نے لکھا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4506]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الشروط 11 (2723)، صحیح مسلم/النکاح 6 (1413)، (تحفة الأشراف: 13271)، ویأتي عند المؤلف: 4511) مسند احمد (2/274، 487) (صحیح)
20: بَابُ : بَيْعِ الرَّجُلِ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ
باب: (مسلمان) بھائی کی بیع پر بیع کرنا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مَالِكٍ , وَاللَّيْثُ , وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَبِيعُ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی اپنے ( مسلمان ) بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4507]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 3240 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ حَتَّى يَبْتَاعَ , أَوْ يَذَرَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے یہاں تک کہ وہ اسے خرید لے یا چھوڑ دے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4508]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8112) (صحیح)
21: بَابُ : النَّجْشِ
باب: فرضی بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ النَّجْشِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرضی بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے سے منع فرمایا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4509]
💡 وضاحت:
۱؎: «نجش» : ایک چیز کا خریدنا مقصود نہ ہو لیکن دوسرے کو ٹھگانے کے لیے قیمت بڑھا دینا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحیل 6 (6963)، صحیح مسلم/البیوع 4 (1516)، سنن ابن ماجہ/التجارات 14 (2173)، (تحفة الأشراف: 8348)، موطا امام مالک/البیوع 45 (97)، مسند احمد (2/7، 63، 91، 156)، سنن الدارمی/البیوع 33 (2609) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ الزُّهْرِيِّ , أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ , وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ , وَلَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ , وَلَا تَنَاجَشُوا , وَلَا يَزِيدُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ , وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ الْأُخْرَى لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” آدمی اپنے ( کسی مسلمان ) بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے ، اور نہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان بیچے ، اور نہ بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے کا کام کرے ، اور نہ آدمی اپنے بھائی کی بیع پر اضافہ کرے ( کہ میں اس سامان کا تو اتنا اتنا مزید دوں گا ) اور نہ کوئی عورت سوکن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ جو اس کے برتن میں ہے اسے اپنے برتن میں انڈیل لے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4510]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13171) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ , وَلَا تَنَاجَشُوا , وَلَا يَزِيدُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ , وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَكْفِئَ بِهِ مَا فِي صَحْفَتِهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے ، اور نہ کوئی فرضی بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے کا کام کرے ، اور نہ آدمی اپنے بھائی کی بیع پر اضافہ کرے ، اور نہ عورت اپنی سوکن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ جو اس کے برتن میں ہے اسے اپنے میں انڈیل لے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4511]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4506 (صحیح)
22: بَابُ : الْبَيْعِ فِيمَنْ يَزِيدُ
باب: اس شخص کے ہاتھ بیچنا جو قیمت زیادہ دے یعنی نیلامی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ , وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَخْضَرُ بْنُ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَاعَ قَدَحًا وَحِلْسًا فِيمَنْ يَزِيدُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالا اور ایک کمبل نیلام کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4512]
💡 وضاحت:
۱؎: انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث سند کے لحاظ سے ضعیف ہے، مگر خرید و فروخت کے معاملات میں حرمت کی جو بنیاد ہے بیع مزایدہ (نیلام) پر صادق نہیں آتی، کیونکہ اس معاملہ میں بیچنے والے کی رائے کسی بھاؤ پر حتمی اور آخری نہیں اس لیے دوسرے خریدار کو بھاؤ بڑھا کر سودا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الزکاة 26 (1641)، سنن الترمذی/البیوع10(1218)، سنن ابن ماجہ/التجا رات25(2198)، (تحفة الأشراف: 978)، مسند احمد (3/100، 114، 126) (ضعیف) 1؎ (اس کے راوی ’’ابوبکر حنفی‘‘ مجہول ہیں)
23: بَابُ : بَيْعِ الْمُلاَمَسَةِ
باب: بیع ملامسہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ , قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ , وَأَبِي الزِّنَادِ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُلَامَسَةِ , وَالْمُنَابَذَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4513]
💡 وضاحت:
۱؎: زمانہ جاہلیت میں منابذہ، ملامسہ، یا کنکری پھینک کر خرید و فروخت کا عام رواج تھا، ان سارے معاملات میں دھوکا، اور مال وقیمت کی تحدید و تعیین نہیں ہوتی تھی، اس لیے یہ معاملات جھگڑے کا سبب ہوتے ہیں یا کسی فریق کے سخت گھاٹے میں پڑ جانے سے اسے سخت تکلیف ہوتی ہے، اس لیے ان سے شریعت اسلامیہ نے منع کر دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 63 (2146)، (تحفة الأشراف: 13827)، موطا امام مالک/البیوع 35 (76)، مسند احمد (2/279، 319، 419، 464، 476، 480، 491، 496، 521، 529) (صحیح)
24: بَابُ : تَفْسِيرِ ذَلِكَ
باب: بیع ملامسہ و منابذہ کی تفسیر۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاق , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ عُقَيْلٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُلَامَسَةِ لَمْسِ الثَّوْبِ لَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ , وَعَنِ الْمُنَابَذَةِ وَهِيَ طَرْحُ الرَّجُلِ ثَوْبَهُ إِلَى الرَّجُلِ بِالْبَيْعِ قَبْلَ أَنْ يُقَلِّبَهُ أَوْ يَنْظُرَ إِلَيْهِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسہ سے منع فرمایا ، اور وہ یہ ہے کہ آدمی کپڑے کو چھو لے اسے اندر سے دیکھے بغیر ( اور بیع ہو جائے ) اور منابذہ سے منع فرمایا ، اور منابذہ یہ ہے کہ آدمی اپنا کپڑا دوسرے کی طرف بیع کے ساتھ پھینکے اس سے پہلے کہ وہ اسے الٹ پلٹ کر دیکھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4514]
💡 وضاحت:
۱؎: دور جاہلیت میں اس طرح کپڑا چھو کر یا پھینک کر بغیر دیکھے بیع کر لیتے اور ایجاب و قبول نہ ہوتا، اس سے منع کیا گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 63 (2144)، اللباس 20 (5820)، 21(5822)، صحیح مسلم/البیوع 1 (1512)، سنن ابی داود/البیوع 25 (3379)، (تحفة الأشراف: 4087)، مسند احمد (3/6، 59، 66، 68، 71، 95)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 4518 (صحیح)
25: بَابُ : بَيْعِ الْمُنَابَذَةِ
باب: بیع منابذہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ , عَنْ ابْنِ وَهْبٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُلَامَسَةِ , وَالْمُنَابَذَةِ فِي الْبَيْعِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4515]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ عَنِ الْمُلَامَسَةِ , وَالْمُنَابَذَةِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کی بیع ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4516]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 63 (2147)، الإستئذان 42 (6284)، سنن ابی داود/البیوع 25 (3377، 3378)، سنن ابن ماجہ/التجارات 12 (2170)، (تحفة الأشراف: 4154)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4519، 5343) (صحیح)
26: بَابُ : تَفْسِيرِ ذَلِكَ
باب: ملامسہ اور منابذہ کی شرح و تفسیر۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى بْنِ بَهْلُولٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ , عَنْ الزُّبَيْدِيِّ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدًا , يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُلَامَسَةِ , وَالْمُنَابَذَةِ , وَالْمُلَامَسَةُ: أَنْ يَتَبَايَعَ الرَّجُلَانِ بِالثَّوْبَيْنِ تَحْتَ اللَّيْلِ يَلْمِسُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمَا ثَوْبَ صَاحِبِهِ بِيَدِهِ , وَالْمُنَابَذَةُ: أَنْ يَنْبِذَ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ الثَّوْبَ وَيَنْبِذَ الْآخَرُ إِلَيْهِ الثَّوْبَ فَيَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع منابذہ اور ملامسہ سے منع فرمایا ، ملامسہ یہ ہے کہ دو آدمی رات کو دو کپڑوں کی بیع کریں ، ہر ایک دوسرے کا کپڑا چھو لے ۔ منابذہ یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کی طرف کپڑا پھینکے اور دوسرا اس کی طرف کپڑا پھینکے اور اسی بنیاد پر بیع کر لیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4517]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13261) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ صَالِحٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , أَنَّ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُلَامَسَةِ , وَالْمُلَامَسَةُ: لَمْسُ الثَّوْبِ لَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ , وَعَنِ الْمُنَابَذَةِ , وَالْمُنَابَذَةُ: طَرْحُ الرَّجُلِ ثَوْبَهُ إِلَى الرَّجُلِ قَبْلَ أَنْ يُقَلِّبَهُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملامسہ سے منع فرمایا ۔ اور ملامسہ یہ ہے کہ کپڑے کو چھولے اس کی طرف دیکھے نہیں ، اور منابذہ سے منع فرمایا ، منابذہ یہ ہے کہ آدمی کپڑا دوسرے آدمی کی طرف پھینکے اور وہ اسے الٹ کر نہ دیکھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4518]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4514 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسَتَيْنِ , وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ , أَمَّا الْبَيْعَتَانِ: فَالْمُلَامَسَةُ وَالْمُنَابَذَةُ , وَالْمُنَابَذَةُ: أَنْ يَقُولَ: إِذَا نَبَذْتُ هَذَا الثَّوْبَ فَقَدْ وَجَبَ يَعْنِي الْبَيْعَ , وَالْمُلَامَسَةُ: أَنْ يَمَسَّهُ بِيَدِهِ وَلَا يَنْشُرَهُ وَلَا يُقَلِّبَهُ إِذَا مَسَّهُ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کے لباس اور دو قسم کی بیع سے منع فرمایا ہے ، رہی دو قسم کی بیع تو وہ ملامسہ اور منابذہ ہیں ۔ منابذہ یہ ہے کہ وہ کہے : جب میں اس کپڑے کو پھینکوں تو بیع واجب ہو گئی ، اور ملامسہ یہ ہے کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے چھولے اور جب چھولے تو اسے پھیلائے نہیں اور نہ اسے الٹ پلٹ کرے تو بیع واجب ہو گئی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4519]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4516 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ , قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسَتَيْنِ , وَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ , عَنِ الْمُنَابَذَةِ , وَالْمُلَامَسَةِ , وَهِيَ بُيُوعٌ كَانُوا يَتَبَايَعُونَ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ، اور ہمیں دو قسم کی بیع منابذہ اور ملامسہ سے روکا ، اور یہ دونوں ایسی بیع ہیں جنہیں زمانہ جاہلیت میں لوگ کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4520]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 6809)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأطعمة 19 (3774) (صحیح) (سند میں جعفر اور زہری کے درمیان انقطاع ہے، مگر پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ , حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ , قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ , عَنْ خُبَيْبٍ , عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ , أَمَّا الْبَيْعَتَانِ فَالْمُنَابَذَةُ وَالْمُلَامَسَةُ , وَزَعَمَ أَنَّ الْمُلَامَسَةَ: أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ أَبِيعُكَ ثَوْبِي بِثَوْبِكَ وَلَا يَنْظُرُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا إِلَى ثَوْبِ الْآخَرِ وَلَكِنْ يَلْمِسُهُ لَمْسًا , وَأَمَّا الْمُنَابَذَةُ: أَنْ يَقُولُ: أَنْبِذُ مَا مَعِي وَتَنْبِذُ مَا مَعَكَ لِيَشْتَرِيَ أَحَدُهُمَا مِنِ الْآخَرِ , وَلَا يَدْرِي كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا كَمْ مَعَ الْآخَرِ وَنَحْوًا مِنْ هَذَا الْوَصْفِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی بیع سے منع فرمایا ، رہی دونوں بیع تو وہ منابذہ اور ملامسہ ہیں اور ملامسہ یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کہے : میں تمہارے کپڑے سے اپنا کپڑا بیچ رہا ہوں اور ان میں کوئی دوسرے کے کپڑے کو نہ دیکھے بلکہ صرف اسے چھولے ، رہی منابذہ تو وہ یہ ہے کہ وہ کہے : جو میرے پاس ہے میں اسے پھینک رہا ہوں اور جو تمہارے پاس ہے اسے تم پھینکو تاکہ ان میں سے ایک دوسرے کی چیز خرید لے حالانکہ ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ دوسرے کے پاس کتنا اور کس قسم کا کپڑا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4521]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المواقیت 30 (584)، اللباس 20 (5819، 5820)، صحیح مسلم/البیوع 1 (1511)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 147 (1248)، (تحفة الأشراف: 12265)، مسند احمد (2/477، 496، 510) (صحیح)
27: بَابُ : بَيْعِ الْحَصَاةِ
باب: کنکری پھینک کر بیع کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزِّنَادِ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری کی بیع اور دھوکے کی بیع سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4522]
💡 وضاحت:
۱؎: کنکری کی بیع کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کہے: میں تمہاری طرف جب کنکری پھینک دوں تو بیع ہو گئی، یہ ممنوع اس لیے ہے کہ کنکری پھینکنے تک کی جو مدت بیع کے اثبات کے لیے رکھی گئی ہے وہ مجہول ہے، یا پھر یوں کہے کہ میں کنکری پھینکتا ہوں جس مال پر کنکری گرے وہی بیچنا ہے تو یہ بھی صحیح نہیں، کیونکہ اس صورت میں بھی مال مجہول ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/البیوع 2 (1513)، سنن ابی داود/البیوع 25 (3376)، سنن الترمذی/البیوع 17 (1230)، سنن ابن ماجہ/التجارات 23 (2194)، مسند احمد (2/250، 436، 376، 439، 496، سنن الدارمی/البیوع 20 (2596) (صحیح)
28: بَابُ : بَيْعِ الثَّمَرِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهُ
باب: پھلوں کو پختگی ظاہر ہونے سے پہلے نہ بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ , نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تک پختگی ظاہر نہ ہو جائے پھلوں کی بیع نہ کرو “ ، آپ نے بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو ( اس سے ) منع فرمایا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4523]
💡 وضاحت:
۱؎: پھلوں کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے اگر ان کو درخت پر بیچ دیا گیا تو بہت ممکن ہے کہ پختگی ظاہر ہونے سے پہلے آندھی طوفان آئے اور سارے یا اکثر پھل برباد ہو جائیں اور خریدار کا نقصان ہو جائے، اور پختگی ظاہر ہونے کے بعد اگر آندھی طوفان آئے بھی تو کم پھل برباد ہوں گے، نیز پختہ پھل اگر گر بھی گئے تو خریدار کی قیمت بھر پیسہ نکل آئے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/التجارات 32 (2214)، (تحفة الأشراف: 8302)، مسند احمد (2/ 123) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پختگی ظاہر ہونے سے پہلے پھل بیچنے سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4524]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/البیوع 13 (1534)، (تحفة الأشراف: 6832)، مسند احمد (2/8) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ , وَأَنَا أَسْمَعُ: عَنْ ابْنِ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي يُونُسُ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ , وَأَبُو سَلَمَةَ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ , وَلَا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ" , قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ مِثْلِهِ سَوَاءً.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھل نہ بیچو جب تک اس کی پختگی ظاہر نہ ہو جائے ، اور نہ ( کھجور کے ) درخت کے پھل کا اندازہ کر کے ( درخت سے توڑی ہوئی ) کھجوروں کو بیچو “ ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں : مجھ سے سالم بن عبداللہ نے اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جیسی صورت سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4525]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/البیوع 13 (1538)، سنن ابن ماجہ/التجارات 32 (2215)، (تحفة الأشراف: 13328)، وحدیث ابن شہاب قد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 87 (2199 تعلیقًا)، صحیح مسلم/البیوع 13 (1538)، (تحفة الأشراف: 6984)، مسند احمد (3/262، 363، وانظر حدیث رقم: 4523 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ , قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا , يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ".
طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا : ہمارے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر فرمایا : ” پھل مت بیچو یہاں تک کہ اس کی پختگی ظاہر ہو جائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4526]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7105) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ عَطَاءٍ , سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ , وَالْمُزَابَنَةِ , وَالْمُحَاقَلَةِ , وَأَنْ يُبَاعَ الثَّمَرُ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ , وَأَنْ لَا يُبَاعَ إِلَّا بِالدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ , وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مخابرہ ، مزابنہ ، محاقلہ سے ، اور پکنے سے پہلے پھل بیچنے سے منع فرمایا ، اور پھلوں کو درہم و دینار کے سوا کسی اور چیز کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا ، اور بیع عرایا میں رخصت دی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4527]
💡 وضاحت:
۱؎: «مخابرہ» : بیل میں لگی ہوئی انگور کو کشمش (توڑی ہوئی خشک انگور) سے بیچنا، یا کھیت کو اس طرح بٹائی پر دینا کہ پیداوار کٹنے کے وقت کھیت کا مالک یہ کہے کہ فلاں حصے میں جو پیداوار ہے وہ میں لوں گا، ایسا اکثر ہوتا ہے کہ ایک ہی کھیت کے مختلف حصوں میں مختلف انداز سے اچھی یا خراب پیداوار ہوتی ہے، اور کھیت کا مالک اچھی والی پیداوار لینا چاہتا ہے، یہ جھگڑے فساد یا دوسرے فریق کے نقصان کا سبب ہے، اس لیے بٹائی کے اس معاملہ سے روکا گیا، ہاں مطلق پیداوار کے آدھے یا تہائی پر بٹائی کا معاملہ صحیح ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں کیا تھا۔ ۲؎ «مزابنہ» : درخت پر لگے ہوئے پھل کو توڑے ہوئے پھل کے معینہ مقدار سے بیچنے کو «مزابنہ» کہتے ہیں۔ «محاقلہ» : کھیت میں لگی ہوئی فصل کا اندازہ کر کے اسے غلّہ سے بیچنا۔ «عرایا» : «عرایا» یہ ہے کہ باغ کا مالک ایک یا دو درخت کے پھل کسی مسکین کو کھانے کے لیے مفت دیدے اور باغ کے اندر اس کے آنے جانے سے تکلیف ہو تو مالک اس درخت کے پھلوں کا اندازہ کر کے مسکین سے خرید لے اور اس کے بدلے تازہ تر یا خشک کھجور اس کے حوالے کر دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 3910 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ عَطَاءٍ , وَأَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ , وَالْمُزَابَنَةِ , وَالْمُحَاقَلَةِ , وَبَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يُطْعَمَ , إِلَّا الْعَرَايَا".
جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مخابرہ ، مزابنہ ، محاقلہ اور کھانے کے لائق ہونے سے پہلے درخت پر لگے پھلوں کو بیچنے سے منع فرما ، یا سوائے بیع عرایا کے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4528]
💡 وضاحت:
۱؎: بیع عرایا کا استثناء بیع مزابنہ سے ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 3910 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يُطْعَمَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور بیچنے سے منع فرمایا جب تک کہ وہ کھانے کے لائق نہ ہو جائے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4529]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2985)، مسند احمد (3/357، 372) (صحیح)
29: بَابُ : شِرَاءِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا
باب: پھل کو پکنے سے پہلے اس شرط پر خریدنا کہ وہ اسے فوراً توڑ لے اور اسے پکنے کے وقت تک درخت پر باقی نہ رکھے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنْ ابْنِ الْقَاسِم , قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ , عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهِيَ" , قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَا تُزْهِيَ؟ , قَالَ: " حَتَّى تَحْمَرَّ" , وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَأَيْتَ إِنْ مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ فَبِمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ خوش رنگ ہو جائیں ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! یہ خوش رنگ ہونا کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” یہاں تک کہ لال ہو جائیں “ اور فرمایا : ” دیکھو ! اگر اللہ تعالیٰ پھلوں کو روک دے ( پکنے سے پہلے گر جائیں ) تو تم میں کوئی اپنے بھائی کا مال کس چیز کے بدلے لے گا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4530]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب خریدار سے توڑنے کی شرط نہ لگائی گئی ہو، اگر فوری طور پر توڑ لینے کی شرط لگائی ہو تو اب یہ خریدار کی وجہ سے ہے کہ وہی اپنی قیمت کے بدلے اسی سودے پر راضی ہو گیا۔ اب بیچنے والے کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے، اور نہ ہی پھلوں کے کسی آفت کے شکار ہونے کا خطرہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الزکاة 58 (1488)، البیوع 87، 3198، 2208)، صحیح مسلم/البیوع 24 (المساقاة3) (1555)، (تحفة الأشراف: 733)، سنن ابن ماجہ/التجارات 32 (2217)، موطا امام مالک/البیوع 8 (11)، مسند احمد (3/115) (صحیح)
30: بَابُ : وَضْعِ الْجَوَائِحِ
باب: ناگہانی آفت سے ہونے والے خسارے کے معاوضے (بدلے) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ , فَلَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم نے اپنے ( مسلمان ) بھائی سے پھل بیچے پھر اچانک ان پر کوئی آفت آ گئی تو تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم اس سے کچھ لو ، آخر تم کس چیز کے بدلے میں ناحق اپنے ( مسلمان ) بھائی کا مال لو گے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4531]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس طرح کے حادثہ میں بیچنے والے کے اوپر لازم ہے کہ خریدار کا جتنا نقصان (خسارہ) ہوا ہے اتنے کی وہ بھرپائی کر دے ورنہ وہ مسلمان بھائی کا مال کھا لینے کا مرتکب گردانا جائے گا، اور یہ اس صورت میں ہے جب پھل ابھی پکے نہ ہوئے ہوں، یا بیچنے والے نے ابھی خریدار کو مکمل قبضہ نہ دیا ہو، ورنہ پھل کے پک جانے اور قبضہ دے دینے کے بعد بیچنے والے کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے، اس طرح کا معاملہ ایک آدمی کے ساتھ پیش آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے والے سے بھر پائی کرانے کی بجائے عام لوگوں سے خریدار پر صدقہ و خیرات کرنے کی اپیل کی جیسا کہ حدیث نمبر: ۴۵۳۴ میں آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساقاة 3 (البیوع24) (1554)، سنن ابی داود/البیوع 60 (3470)، سنن ابن ماجہ/التجارات 33 (2219)، (تحفة الأشراف: 2798)، سنن الدارمی/البیوع 22 (2598) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ , أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ جُرَيْجٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ بَاعَ ثَمَرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ , فَلَا يَأْخُذْ مِنْ أَخِيهِ , وَذَكَرَ شَيْئًا عَلَى مَا يَأْكُلُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے پھل بیچے پھر ان پر کوئی آفت آ گئی تو وہ اپنے بھائی سے ( کچھ ) نہ لے ، آخر تم کس چیز کے بدلے میں اپنے مسلمان بھائی کا مال کھاؤ گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4532]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ حُمَيْدٍ وَهُوَ الْأَعْرَجُ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ , عَنْ جَابِرٍ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ الْجَوَائِحَ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آفتوں کا نقصان دلوایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4533]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساقاة 3 (البیوع24) (1554)، سنن ابی داود/البیوع 24 (3374)، (تحفة الأشراف: 2270)، مسند احمد (3/309) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ بُكَيْرٍ , عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا , فَكَثُرَ دَيْنُهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ" , فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ , فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کے پھلوں پر جسے اس نے خرید رکھا تھا کوئی آفت آ گئی ، چنانچہ اس پر بہت سارا قرض ہو گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے خیرات دو “ ، تو لوگوں نے اسے خیرات دی ، لیکن خیرات اتنی اکٹھا نہ ہوئی جس سے اس کے تمام قرض کی ادائیگی ہو جاتی تو آپ نے ( اس کے قرض خواہوں سے ) کہا : ” جو پا گئے ہو وہ لے لو ، اس کے علاوہ اب کچھ اور دینا لینا نہیں ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4534]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ گویا مصیبت میں تمہاری طرف سے اس کے ساتھ رعایت و مدد ہے۔ اس واقعہ میں پھلوں پر آفت آنے کا معاملہ پھلوں کے پک جانے کے بعد بیچنے پر ہوا تھا، اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے والے سے بھرپائی کرانے کے بجائے عام لوگوں سے خیرات دینے کی اپیل کی، اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرض خواہ بقیہ قرض سے ہاتھ دھو لیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب حاکم موجودہ مال کو قرض خواہوں کے درمیان بقدر حصہ تقسیم کر دے پھر بھی اس شخص کے ذمہ قرض خواہوں کا قرض باقی رہ جائے تو ایسی صورت میں قرض خواہ اسے تنگ کرنے، قید کرنے اور قرض کی ادائیگی پر مزید اصرار کرنے کے بجائے اسے مال کی فراہمی تک مہلت دے۔ حدیث کا مفہوم یہی ہے اور قرآن کی اس آیت «وإن کان ذوعسرۃ فنظرۃ إلی میسرۃ» کے مطابق بھی ہے کیونکہ کسی کے مفلس (دیوالیہ) ہو جانے سے قرض خواہوں کے حقوق ضائع نہیں ہوتے، رہی اس حدیث کی یہ بات کہ اس کے علاوہ اب تم کو کچھ نہیں ملے گا تو یہ اس آدمی کے ساتھ خاص ہو سکتا ہے، کیونکہ اصولی بات وہی ہے جو اوپر گزری۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساقاة 4 (البیوع25) (1556)، سنن ابی داود/البیوع 60 (3469)، سنن الترمذی/الزکاة 24 (655)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 25 (2356)، (تحفة الأشراف: 4270)، مسند احمد (3/56، 58)، ویأتي عند المؤلف في باب 95 برقم: 4682 (صحیح)
31: بَابُ : بَيْعِ الثَّمَرِ سِنِينَ
باب: کئی سال تک کے لیے پھل بیچ دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيكٍ , قَالَ قُتَيْبَةُ: عَتِيكٌ بِالْكَافِ وَالصَّوَابُ عَتِيقٌ , عَنْ جَابِرٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ سِنِينَ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سال تک کے لیے پھل بیچنے سے منع فرمایا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4535]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ اس کی کوئی ضمانت نہیں کہ اگلے سالوں میں پھل آئیں گے یا نہیں، اور پھل نہ آنے کی صورت میں خریدار کا گھاٹا ہی گھاٹا ہے اس طرح کی بیع کو بیع غرر یعنی دھوکے کی بیع کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم /البیوع 16 (1536)، سنن ابی داود/البیوع 24 (3374)، سنن ابن ماجہ/التجارات 33 (2218)، (تحفة الأشراف: 2269)، مسند احمد (3/309)، ویأتی عند المؤلف برقم: 4631) (صحیح)
32: بَابُ : بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ
باب: درخت کے پھل کو توڑے ہوئے پھلوں سے بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وقَالَ وقَالَ ابْنُ عُمَرَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت کے پھل ( کھجور ) توڑے ہوئے پھلوں ( کھجور ) سے بیچنے سے منع فرمایا ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : مجھ سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عرایا میں اجازت عطا فرمائی ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4536]
💡 وضاحت:
۱؎: عرایا: عریا کی شکل یہ ہوتی تھی کہ باغ کا مالک کسی غریب ومسکین کو درختوں کے درمیان سے کوئی درخت صدقہ کر دیتا تھا، تو ایسے میں اگر مسکین اور اس کے بال بچوں کے باغ میں باربار آنے جانے سے مالک کو تکلیف ہوتی ہو تو اس کو یہ اجازت دی گئی کہ اس درخت پر لگے پھل (تر کھجور) کے بدلے توڑی ہوئی کھجور کا اندازہ لگا کر دیدے، یہ ضرورت کے تحت خاص اجازت ہے۔ عام حالات میں اس طرح کی بیع جائز نہیں۔
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4524، وحدیث زید بن ثابت وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 75 (2173)، 82 (2184، 2188)، 84 (2192)، المساقاة 17 (2380)، صحیح مسلم/البیوع 14 (1539)، سنن الترمذی/البیوع 63 (1300، 1302)، سنن ابن ماجہ/التجارات 55 (2268، 2269)، (تحفة الأشراف: 3723، موطا امام مالک/البیوع 9 (14)، مسند احمد (2/5، 8، 5/182، 186، 188، 190)، سنن الدارمی/البیوع 24 (2600)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4540، 4542- 4545) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ , وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يُبَاعَ مَا فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِتَمْرٍ بِكَيْلٍ مُسَمًّى , إِنْ زَادَ لِي وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيَّ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا ، اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت میں موجود پھل کو متعین توڑے ہوئے پھلوں سے بیچنا اس طور پر کہ زیادہ ہوا تو بھی میرا ( یعنی کا ) اور کم ہوا تو بھی میرے ذمہ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4537]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 75 (2172)، صحیح مسلم/البیوع 14(1542)، (تحفة الأشراف: 7522)، مسند احمد (2/5، 64) (صحیح)
33: بَابُ : بَيْعِ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ
باب: درخت پر لگے انگور کو سوکھے انگور (منقیٰ یا کشمش) سے بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ , وَالْمُزَابَنَةُ: بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا , وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا ، مزانبہ درخت پر لگے کھجور کو توڑے ہوئے کھجور سے ناپ کر بیچنا ، اور بیل پر لگے تازہ انگور کو توڑے ہوئے انگور ( کشمش ) سے ناپ کر بیچنا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4538]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 75 (2171)، 82 (2185)، صحیح مسلم/البیوع 14 (1542)، (تحفة الأشراف: 8360)، موطا امام مالک/البیوع 13(23)، مسند احمد (2/7، 63) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ , عَنْ طَارِقٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ , قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ , وَالْمُزَابَنَةِ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ اور مزانبہ سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4539]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 3921(صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عرایا میں اجازت دی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4540]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4536 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ: عَنْ ابْنِ وَهْبٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا بِالتَّمْرِ وَالرُّطَبِ".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عرایا میں خشک کھجور کو تر کھجور سے بیچنے کی اجازت دی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4541]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع 20 (3362)، (تحفة الأشراف: 3705) (صحیح)
34: بَابُ : بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا تَمْرًا
باب: عاریت والی بیع میں اندازہ کر کے خشک کھجور دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا تُبَاعُ بِخِرْصِهَا".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاریت والی بیع میں اجازت دی کہ ( اس کی تازہ کھجوروں کو ) اندازہ کر کے ( توڑی ہوئی ) کھجوروں کے بدلے بیچی ( جا سکتی ) ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4542]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4536 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِخِرْصِهَا تَمْرًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عریہ کی اجازت دی کہ اس ( کی تازہ کھجوروں کو ) اندازہ لگا کر کے خشک کھجوروں کے بدلے بیچی ( جا سکتی ) ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4543]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4536 (صحیح)
35: بَابُ : بَيْعِ الْعَرَايَا بِالرُّطَبِ
باب: عاریت والی بیع میں تازہ کھجور دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ صَالِحٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِالرُّطَبِ وَبِالتَّمْرِ , وَلَمْ يُرَخِّصْ فِي غَيْرِ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاریت والی بیع میں اجازت دی کہ وہ توڑی ہوئی تازہ اور سوکھی کھجور سے بیچی جا سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ کسی اور چیز میں رخصت نہیں دی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4544]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4536 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخِرْصِهَا فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ , أَوْ مَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاریت والی بیع میں ( یہ ) اجازت دی کہ پانچ وسق یا پانچ وسق سے کم کھجور اندازہ لگا کر کے بیچی جائے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4545]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اوپر جو عاریت والی بیع میں یہ اجازت موجود ہے کہ درخت پر لگی کھجور کو توڑی ہوئی تازہ اور سوکھی کھجور کے بدلے بیچ سکتے ہیں، یہ ایک ضرورت کے تحت اجازت ہے، اور بات ضرورت کی ہے تو پانچ وسق سے یہ ضرورت پوری ہو جاتی ہے، اس لیے صرف پانچ وسق تک کی اجازت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 83 (2190)، المساقاة 17 (2382)، صحیح مسلم/البیوع 14 (1541)، سنن ابی داود/البیوع 21 (3364)، سنن الترمذی/البیوع 63 (1301)، موطا امام مالک/البیوع 9 (14)، (تحفة الأشراف: 14943)، مسند احمد (2/237) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ , وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخِرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا".
سہیل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل بیچنے سے منع فرمایا جب تک کہ پک نہ جائیں اور بیع عرایا میں اجازت دی کہ اندازہ لگا کر کے بیچا جائے ، تاکہ کچی کھجور والے تازہ کھجور کھا سکیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4546]
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قوله حتى يبدو صلاحه
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 83 (2191)، المساقاة 17 (2384)، صحیح مسلم/البیوع 14 (1540)، سنن ابی داود/البیوع 20 (3363)، سنن الترمذی/البیوع 64 (1303)، (تحفة الأشراف: 4646)، مسند احمد (4/2) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ , أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ , وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَاهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ , إِلَّا لِأَصْحَابِ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ أَذِنَ لَهُمْ".
رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا ، یعنی : درخت کے پھل کو توڑے ہوئے پھل سے بیچنا ، سوائے اصحاب عرایا کے ، آپ نے انہیں اس کی اجازت دی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4547]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظرما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ , قَالُوا: " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا".
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تخمینہ ( اندازہ ) لگا کر کے عاریت والی بیع کی اجازت دی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4548]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4546 (صحیح)
36: بَابُ : اشْتِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ
باب: تازہ کھجور کے بدلے خشک کھجور خریدنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ , عَنْ سَعْدٍ , قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ؟ , فَقَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ: " أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟" , قَالُوا: نَعَمْ ," فَنَهَى عَنْهُ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تازہ کھجوروں کے بدلے خشک کھجور بیچنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے اپنے اردگرد موجود لوگوں سے سوال کیا : جب تازہ کھجور سوکھ جاتی ہے تو کیا کم ہو جاتی ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، تو آپ نے اس سے منع فرمایا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4549]
💡 وضاحت:
۱؎: اگر کسی کے پاس خشک کھجوریں ہوں اور وہ تازہ کھجوریں کھانا چاہتا ہے تو ایک دوسرے کے بدلے برابر یا کم و بیش کے حساب سے خرید و فروخت کرنے کی بجائے خشک کھجوروں کو پیسوں سے فروخت کر دے، پھر ان پیسوں سے تازہ کھجوریں خرید لے، ایک حدیث میں اس کی صراحت ہے (دیکھئیے نمبر ۴۵۵۷)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع 18 (3360)، سنن الترمذی/البیوع 14 (1225)، سنن ابن ماجہ/التجارات 45 (2464)، (تحفة الأشراف: 3854)، موطا امام مالک/البیوع 12 (22)، مسند احمد 1/175، 179 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ زَيْدٍ , عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ , فَقَالَ: " أَيَنْقُصُ إِذَا يَبِسَ؟" , قَالُوا: نَعَمْ ," فَنَهَى عَنْهُ".
سعد بن مالک ( سعد بن ابی وقاص ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوکھی کھجور کے بدلے تازہ کھجور بیچنے کے متعلق سوال کیا گیا ؟ تو آپ نے فرمایا : ” کیا تازہ کھجور سوکھنے پر کم ہو جائے گی ؟ “ لوگوں نے کہا : جی ہاں ، تو آپ نے اس سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4550]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
37: بَابُ : بَيْعِ الصُّبْرَةِ مِنَ التَّمْرِ لاَ يُعْلَمُ مَكِيلُهَا بِالْكَيْلِ الْمُسَمَّى مِنَ التَّمْرِ
باب: بے ناپی کھجور کے ڈھیر کو ناپی ہوئی کھجور سے بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الصُّبْرَةِ مِنَ التَّمْرِ لَا يُعْلَمُ مَكِيلُهَا بِالْكَيْلِ الْمُسَمَّى مِنَ التَّمْرِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے ناپی کھجور کے ڈھیر کو ناپی ہوئی کھجور سے بیچنے سے منع فرمایا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4551]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: دونوں کھجوریں خشک ہوں جن کو برابر برابر کے حساب سے بیچ سکتے ہیں، مگر دونوں کی ناپ معلوم ہونی چاہیئے، کیونکہ ایسی چیزوں کی خرید و فروخت میں کم و بیش ہونا جائز نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/البیوع 9 (1530)، (تحفة الأشراف: 2820) (صحیح)
38: بَابُ : بَيْعِ الصُّبْرَةِ مِنَ الطَّعَامِ بِالصُّبْرَةِ مِنَ الطَّعَامِ
باب: اناج کے ڈھیر کو اناج کے ڈھیر کے بدلے بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُبَاعُ الصُّبْرَةُ مِنَ الطَّعَامِ بِالصُّبْرَةِ مِنَ الطَّعَامِ , وَلَا الصُّبْرَةُ مِنَ الطَّعَامِ بِالْكَيْلِ الْمُسَمَّى مِنَ الطَّعَامِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اناج کا ڈھیر اناج کے ڈھیر سے نہیں بیچا جائے گا ۱؎ ، اور نہ ہی اناج کا ڈھیر ناپے اناج سے ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4552]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ دونوں کی مقدار معلوم نہیں، تو ہو سکتا ہے کہ ایک زیادہ ہو اور ایک کم، جب کہ تفاضل (کمی زیادتی) جائز نہیں۔ ۲؎: کیونکہ گرچہ ایک ڈھیر کی مقدار معلوم ہے مگر دوسرے کی معلوم نہیں، تو ہو سکتا ہے کہ کمی زیادتی ہو جائے، جو جائز نہیں، یہ اس صورت میں ہے جب دونوں ڈھیروں کی جنس ایک ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
39: بَابُ : بَيْعِ الزَّرْعِ بِالطَّعَامِ
باب: اناج کے بدلے کھڑی کھیتی (فصل) بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُزَابَنَةِ , أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ وَإِنْ كَانَ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلًا , وَإِنْ كَانَ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلًا , وَإِنْ كَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ , نَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا ہے ” مزابنہ یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ میں لگے پھل کو بیچے ، اگر وہ کھجور ہو تو نپی ہوئی کھجور سے بیچے ، اور اگر انگور ہو تو اسے نپے ہوئے خشک انگور ( منقیٰ یا کشمش ) سے بیچے ، اور اگر کھڑی کھیتی ( فصل ) ہو تو اسے نپے ہوئے اناج سے بیچے “ ۔ آپ نے ان تمام اقسام کی بیع سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4553]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 91 (2205)، صحیح مسلم/البیوع 14 (1542)، سنن ابن ماجہ/التجارات 54 (2265)، (تحفة الأشراف: 8273)، مسند احمد (2/123) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ , وَالْمُزَابَنَةِ , وَالْمُحَاقَلَةِ , وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ قَبْلَ أَنْ يُطْعَمَ , وَعَنْ بَيْعِ ذَلِكَ إِلَّا بِالدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مخابرہ ، مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ، اور کھانے کے لائق ہونے سے پہلے کھجور کو بیچنے سے ، اور اسے سوائے دینار اور درہم کے کسی اور چیز سے بیچنے سے ( منع فرمایا ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4554]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 3910 (صحیح)
40: بَابُ : بَيْعِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ
باب: پکنے سے پہلے بالی کو بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلَةِ حَتَّى تَزْهُوَ , وَعَنِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ وَيَأْمَنَ الْعَاهَةَ , نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کھجور کے بیچنے سے یہاں تک کہ وہ خوش رنگ ہو جائے ، اور بالی کے بیچنے سے یہاں تک کہ وہ سفید پڑ جائے ( یعنی پک جائے ) اور آفت سے محفوظ ہو جائے ۔ آپ نے بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو روکا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4555]
💡 وضاحت:
۱؎: اس طرح کی بیع میں بھی وہی بات ہے جو پھلوں کے پکنے سے پہلے ان کی بیع میں ہے، یعنی ہو سکتا ہے کہ کھیتی پکنے سے کسی آسمانی آفت کا شکار ہو جائے، تو خریدار کا گھاٹا ہی گھاٹا ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/البیوع 13 (1535)، سنن ابی داود/البیوع 23 (3368)، سنن الترمذی/البیوع 15 (1227)، (تحفة الأشراف: 7515)، مسند احمد (2/5) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , أَنَّ رَجُلًا مَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا لَا نَجِدُ الصَّيْحَانِيَّ وَلَا الْعِذْقَ بِجَمْعِ التَّمْرِ حَتَّى نَزِيدَهُمْ؟ , فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِعْهُ بِالْوَرِقِ , ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ".
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کے رسول ! ہم «صیحانی» ( نامی کھجور ) اور «عذق» ( نامی کھجور ) ردی کھجور کے بدلے نہیں پاتے جب تک کہ ہم زیادہ نہ دیں ، تو آپ نے فرمایا : ” اسے درہم سے بیچ دو پھر اس سے ( «صیحانی» اور «عذق» کو ) خرید لو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4556]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، سليمان الأعمش وحبيب بن أبى ثابت عنعنا. و حديث البخاري (2201.2202) ومسلم (1593) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 355
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15566) (صحیح) (اس کے رواة ’’اعمش‘‘ اور ’’حبیب‘‘ دونوں مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
41: بَابُ : بَيْعِ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ مُتَفَاضِلاً
باب: کھجور کے بدلے کھجور کمی زیادتی کے ساتھ بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ , قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ , عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى خَيْبَرَ , فَجَاءَ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا؟" , قَالَ: لَا , وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِصَاعَيْنِ , وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَفْعَلْ , بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ , ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا".
ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خیبر کا عامل بنایا ، وہ «جنیب» ( نامی عمدہ قسم کی ) کھجور لے کر آیا تو آپ نے فرمایا : ” کیا خیبر کی ساری کھجوریں اسی طرح ہیں ؟ “ وہ بولا : نہیں ، اللہ کی قسم ! ہم یہ کھجور دو صاع کے بدلے ایک صاع یا تین صاع کے بدلے دو صاع لیتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسا نہ کرو ، گھٹیا اور ردی کھجوروں کو درہم ( پیسوں ) سے بیچ دو ، پھر درہم سے «جنیب» خرید لو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4557]
💡 وضاحت:
۱؎: یہی معاملہ ہر طرح کے پھلوں اور غلوں میں کرنا چاہیئے، اگر کسی کو گھٹیا اور ردی قسم کے بدلے اچھے قسم کا پھل یا غلہ چاہیئے تو وہ قیمت سے خریدے، بدلے میں نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/لبیوع 89 (2201، 2202)، الوکالة 3 (2302، 2303)، المغازي 39 (42، 4244)، الاعتصام 20(7350-7351)، صحیح مسلم/المساقاة 18 (البیوع 39) (1593)، (تحفة الأشراف: 4044)، موطا امام مالک /البیوع 12 (21)، مسند احمد (3/45، 47)، سنن الدارمی/البیوع 40 (4245) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , وَإِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنْ خَالِدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِتَمْرٍ رَيَّانَ , وَكَانَ تَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْلًا فِيهِ يُبْسٌ , فَقَالَ: " أَنَّى لَكُمْ هَذَا؟" , قَالُوا: ابْتَعْنَاهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا , فَقَالَ: " لَا تَفْعَلْ , فَإِنَّ هَذَا لَا يَصِحُّ , وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ , وَاشْتَرِ مِنْ هَذَا حَاجَتَكَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس «ریان» ( نامی عمدہ ) کھجوریں لائی گئیں اور آپ کی «بعل» نامی ( گھٹیا قسم کی ) سوکھی کھجور تھی تو آپ نے فرمایا : ” تمہارے پاس یہ کھجوریں کہاں سے آئیں ؟ “ لوگوں نے کہا : ہم نے اپنی دو صاع کھجوروں کے بدلے اسے ایک صاع خریدی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسا نہ کرو ، اس لیے کہ یہ چیز صحیح نہیں ، البتہ تم اپنی کھجوریں بیچ دو اور پھر اس نقدی سے اپنی ضرورت کی دوسری کھجوریں خریدو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4558]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ , قَالَ: كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَبِيعُ الصَّاعَيْنِ بِالصَّاعِ , فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ، وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ وَلَا دِرْهَمًا بِدِرْهَمَيْنِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ردی کھجوریں ملتی تھیں تو ہم دو صاع دے کر ایک صاع ( اچھی کھجوریں ) خرید لیتے تھے ، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا : ” کھجور کے دو صاع ایک صاع کے بدلے ، گیہوں کے دو صاع ایک صاع کے بدلے اور دو درہم ایک درہم کے بدلے نہ لیے جائیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4559]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 20 (2080)، صحیح مسلم/البیوع 39 (المساقاة 18) (1595)، سنن ابن ماجہ/التجارات 48 (2256)، (تحفة الأشراف: 4422)، مسند احمد (3/48، 49، 50، 51، 55) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ حَمْزَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ يَحْيَى , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ , قَالَ: كُنَّا نَبِيعُ تَمْرَ الْجَمْعِ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ , وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ , وَلَا دِرْهَمَيْنِ بِدِرْهَمٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ دو صاع ردی کھجوروں کے بدلے ایک صاع ( عمدہ قسم کی کھجوریں ) لیتے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک صاع کھجور کے بدلے دو صاع کھجور ، ایک صاع گیہوں کے بدلے دو صاع گی ہوں ، اور ایک درہم کے بدلے دو درہم لینا جائز نہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4560]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ حَمْزَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى , قَالَ: حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْغَافِرِ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ , قَالَ: أَتَى بِلَالٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ , فَقَالَ: " مَا هَذَا؟" , قَالَ: اشْتَرَيْتُهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوِّهْ , عَيْنُ الرِّبَا لَا تَقْرَبْهُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس برنی نامی کھجور لائے ، تو آپ نے فرمایا : ” یہ کیا ہے ؟ “ وہ بولے : یہ میں نے ایک صاع دو صاع دے کر خریدی ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ” افسوس ! یہ تو عین سود ہے ، اس کے نزدیک مت جانا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4561]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوکالة 11 (2312)، صحیح مسلم/المساقاة 8 (البیوع39) (1594)، (تحفة الأشراف: 4246)، مسند احمد (3/62) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ , أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ , وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ , وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ , وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سونا ، چاندی کے بدلے سود ہے ، سوائے اس کے کہ نقدا نقد ہو ، کھجور کھجور کے بدلے سود ہے ، سوائے اس کے کہ نقدا نقد ہو ، گی ہوں گیہوں کے بدلے سود ہے ، سوائے اس کے کہ نقدا نقد ہو ، جو جو کے بدلے سود ہے ، سوائے اس کے کہ نقدا نقد ہو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4562]
💡 وضاحت:
۱؎: اس روایت میں چار ہی چیزوں کا ذکر ہے لیکن ابوسعید رضی اللہ عنہ کی جو صحیحین میں وارد حدیث میں دو چیزوں چاندی اور نمک کا اضافہ ہے، اس طرح ان چھ چیزوں میں «تفاضل» (کمی بیشی) اور «نسیئہ» (ادھار) جائز نہیں ہے، اگر ایک ہاتھ سے دے اور دوسرے ہاتھ سے لے تو جائز اور صحیح ہے اور اگر ایک طرف سے بھی ادھار ہو تو یہ سود ہو جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 54 (2134)، 74 (2170)، 76 (2174)، صحیح مسلم/البیوع 37 (المساقاة15) (1586)، سنن ابی داود/البیوع 12 (3348)، سنن الترمذی/البیوع 24 (1243)، سنن ابن ماجہ/التجارات 50 (2260)، (تحفة الأشراف: 10630)، موطا امام مالک/البیوع 17 (38)، مسند احمد (1/24، 35، 45)، سنن الدارمی/البیوع 41 (262) (صحیح)
42: بَابُ : بَيْعِ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ
باب: کھجور کے بدلے کھجور بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي زُرْعَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " التَّمْرُ بِالتَّمْرِ , وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ , وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ , وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ يَدًا بِيَدٍ , فَمَنْ زَادَ , أَوِ ازْدَادَ , فَقَدْ أَرْبَى , إِلَّا مَا اخْتَلَفَتْ أَلْوَانُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھجور کے بدلے کھجور ، گیہوں کے بدلے گی ہوں ، جَو کے بدلے جَو اور نمک کے بدلے نمک میں خرید و فروخت نقدا نقد ہے ، جس نے زیادہ دیا ، یا زیادہ لیا تو اس نے سود لیا ، سوائے اس کے کہ جنس بدل جائے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4563]
💡 وضاحت:
۱؎: سود صرف انہی چار چیزوں میں کمی زیادتی میں نہیں ہے، بلکہ اگلی حدیث میں دو اور چیزوں کا تذکرہ ہے، نیز صرف انہی چھ کی بیع میں تفاضل سود نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کی ہر چیز میں موجود ہے سوائے ان چیزوں کے جن کو شریعت نے مستثنیٰ کر دیا ہے جیسے: جانور، پس ایک اونٹ کے بدلے دو اونٹ بیچ سکتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساقاة 15 (البیوع36) (1588)، (تحفة الأشراف: 14921)، مسند احمد (2/232) (صحیح)
43: بَابُ : بَيْعِ الْبُرِّ بِالْبُرِّ
باب: گیہوں کے بدلے گیہوں بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَلْقَمَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتِيكٍ , قَالَا: جَمَعَ الْمَنْزِلُ بَيْنَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , وَمُعَاوِيَةَ , حَدَّثَهُمْ عُبَادَةُ , قَالَ: " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ , وَالْوَرِقِ بِالْوَرِقِ , وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ , وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ , وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ , قَالَ أَحَدُهُمَا: وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ , وَلَمْ يَقُلْهُ الْآخَرُ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ , وَأَمَرَنَا أَنْ نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ , وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ , وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ , وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْنَا , قَالَ أَحَدُهُمَا: فَمَنْ زَادَ , أَوِ ازْدَادَ , فَقَدْ أَرْبَى".
مسلم بن یسار اور عبداللہ بن عتیک کہتے ہیں کہ ایک دن عبادہ بن صامت اور معاویہ رضی اللہ عنہما اکٹھا ہوئے ، عبادہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے کو سونے کے بدلے ، چاندی کو چاندی کے بدلے ، گیہوں کو گیہوں کے بدلے ، جَو کو جَو کے بدلے اور کھجور کو کھجور کے بدلے ( ان میں سے ایک نے کہا : نمک کو نمک کے بدلے ، دوسرے نے یہ نہیں کہا ) بیچنے سے منع کیا ، مگر برابر برابر اور نقدا نقد ، اور ہمیں حکم دیا کہ ہم سونا چاندی کے بدلے ، چاندی سونے کے بدلے ، گیہوں جو کے بدلے ، جَو گیہوں کے بدلے نقداً نقد بیچیں جیسے بھی ہم چاہیں ۱؎ ان ( دونوں تابعی راویوں ) میں سے ایک نے یہ بھی کہا : ” جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو اس نے سود لیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4564]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کمی زیادتی کے ساتھ بیچ سکتے ہیں جب جنس مختلف ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/التجارات 48 (2254)، (تحفة الأشراف: 5113)، مسند احمد (5/320)، انظرأیضا حدیث رقم: 4565، 4566 (صحیح)
44: بَابُ : بَيْعِ الشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ
باب: جَو کے بدلے جَو بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ , عَنْ ابْنِ سِيرِينَ , قَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ وَقَدْ كَانَ يُدْعَى ابْنَ هُرْمُزَ , قَالَ: جَمَعَ الْمَنْزِلُ بَيْنَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , وَبَيْنَ مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَهُمْ عُبَادَةُ , قَالَ: " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ , وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ , وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ , وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ , وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ , قَالَ أَحَدُهُمَا: وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ , وَلَمْ يَقُلْهُ الْآخَرُ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ قَالَ أَحَدُهُمَا: مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى , وَلَمْ يَقُلْهُ الْآخَرُ , وَأَمَرَنَا أَنْ نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ , وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ , وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ , وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْنَا".
مسلم بن یسار اور عبداللہ بن عبید ( ابن عتیک ) ( ان کو ابن ہرمز بھی کہا جاتا ہے ) بیان کرتے ہیں کہ عبادہ بن صامت اور معاویہ رضی اللہ عنہما ایک جگہ اکٹھا ہوئے ، عبادہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے حدیث بیان کی کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا سونے کے بدلے ، چاندی چاندی کے بدلے ، کھجور کھجور کے بدلے ، گیہوں گی ہوں کے بدلے اور جَو جَو کے بدلے ( ان دونوں راویوں میں سے ایک نے کہا : ) نمک نمک کے بدلے ، ( دوسرے نے یہ نہیں کہا ) بیچنے سے منع کیا مگر برابر برابر ، نقدا نقد ( ان میں سے ایک نے کہا : ) جس نے زیادہ دیا یا زیادہ طلب کیا ، اس نے سود لیا ، ( اسے دوسرے ( راوی ) نے نہیں کہا ) اور ہمیں حکم دیا کہ ہم سونا چاندی کے بدلے ، چاندی سونے کے بدلے ، گیہوں جَو کے بدلے اور جَو گیہوں کے بدلے بیچیں ، نقدا نقد جس طرح چاہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4565]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ , عَنْ مُحَمَّدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَا: جَمَعَ الْمَنْزِلُ بَيْنَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , وَبَيْنَ مُعَاوِيَةَ , فَقَالَ عُبَادَةُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ , وَالْوَرِقَ بِالْوَرِقِ , وَالْبُرَّ بِالْبُرِّ , وَالشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ , وَالتَّمْرَ بِالتَّمْرِ , قَالَ أَحَدُهُمَا: وَالْمِلْحَ بِالْمِلْحِ , وَلَمْ يَقُلِ الْآخَرُ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ , قَالَ أَحَدُهُمَا: مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى , وَلَمْ يَقُلِ الْآخَرُ وَأَمَرَنَا أَنْ نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ , وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ , وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ , وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْنَا , فَبَلَغَ هَذَا الْحَدِيثُ مُعَاوِيَةَ فَقَامَ , فَقَالَ: مَا بَالُ رِجَالٍ يُحَدِّثُونَ أَحَادِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَحِبْنَاهُ وَلَمْ نَسْمَعْهُ مِنْهُ , فَبَلَغَ ذَلِكَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ , فَقَامَ فَأَعَادَ الْحَدِيثَ , فَقَالَ: لَنُحَدِّثَنَّ بِمَا سَمِعْنَاهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" , وَإِنْ رَغِمَ مُعَاوِيَةُ. خَالَفَهُ قَتَادَةُ رَوَاهُ , عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ , عَنْ عُبَادَةَ.
مسلم بن یسار اور عبداللہ بن عبید کہتے ہیں کہ عبادہ بن صامت اور معاویہ رضی اللہ عنہما ایک جگہ اکٹھا ہوئے تو عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ہم سونا سونے کے بدلے ، چاندی چاندی کے بدلے ، گیہوں گیہوں کے بدلے ، جَو جَو کے بدلے اور کھجور کھجور کے بدلے بیچیں مگر نقدا نقد اور برابر برابر ( ان دونوں راویوں میں سے کسی ایک نے کہا : ) اور نمک نمک کے بدلے ، ( یہ دوسرے نے نہیں کہا اور پھر ان میں سے ایک نے کہا : ) جس نے زیادہ دیا یا زیادہ کا مطالبہ کیا تو اس نے سود کا کام کیا ، ( یہ دوسرے نے نہیں کہا ) اور آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم سونا چاندی سے ، چاندی سونے سے ، گیہوں جَو سے اور جَو گیہوں سے نقدا نقد بیچیں ، جس طرح چاہیں ( یعنی کم و زیادتی ) ۔ جب یہ حدیث معاویہ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کھڑے ہو کر کہا : کیا بات ہے آخر لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی حدیثیں بیان کرتے ہیں جو ہم نے نہیں سنیں حالانکہ ہم بھی آپ کی صحبت میں رہے ، یہ بات عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو وہ کھڑے ہوئے اور دوبارہ حدیث بیان کی اور بولے : ہم تو اسے ضرور بیان کریں گے جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے گرچہ معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ ناپسند ہو ۔ قتادہ نے اس حدیث کو اس کے برعکس مسلم بن یسار سے ، انہوں نے ابوالاشعث سے انہوں نے عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4566]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4564 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ , عَنْ عَبْدَةَ , عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ , عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , وَكَانَ بَدْرِيًّا وَكَانَ بَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنْ لَا يَخَافَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ , أَنَّ عُبَادَةَ قَامَ خَطِيبًا , فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ , إِنَّكُمْ قَدْ أَحْدَثْتُمْ بُيُوعًا لَا أَدْرِي مَا هِيَ أَلَا إِنَّ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ تِبْرُهَا وَعَيْنُهَا , وَإِنَّ الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ تِبْرُهَا وَعَيْنُهَا , وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الْفِضَّةِ بِالذَّهَبِ يَدًا بِيَدٍ , وَالْفِضَّةُ أَكْثَرُهُمَا , وَلَا تَصْلُحُ النَّسِيئَةُ أَلَا إِنَّ الْبُرَّ بِالْبُرِّ , وَالشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ مُدْيًا بِمُدْيٍ , وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الشَّعِيرِ بِالْحِنْطَةِ يَدًا بِيَدٍ , وَالشَّعِيرُ أَكْثَرُهُمَا , وَلَا يَصْلُحُ نَسِيئَةً أَلَا وَإِنَّ التَّمْرَ بِالتَّمْرِ مُدْيًا بِمُدْيٍ , حَتَّى ذَكَرَ الْمِلْحَ مُدًّا بِمُدٍّ , فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ( وہ بدری صحابی ہیں ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی کہ وہ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے ) کہ وہ خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور کہا : لوگو ! تم نے خرید و فروخت سے متعلق بعض ایسی چیزیں ایجاد کر لی ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ وہ کیا ہیں ؟ سنو ! سونا سونے کے بدلے ، برابر برابر وزن کا ہو ، ڈلا ہو یا سکہ ، چاندی چاندی کے بدلے برابر برابر وزن ڈالا ہو یا سکہ ، اور کوئی حرج نہیں ( یعنی ) چاندی کو سونے سے نقدا نقد بیچنے میں جب کہ چاندی زیادہ ہو ، البتہ اس میں «نسیئہ» ( ادھار ) درست نہیں ، سنو ! گیہوں گیہوں کے بدلے ، اور جَو جَو کے بدلے برابر برابر ہو ، البتہ جَو گیہوں کے بدلے نقدا نقد بیچنے میں کوئی حرج نہیں جب جَو زیادہ ہو لیکن «نسیئہ» ( ادھار ) درست نہیں ، سنو ! کھجور کھجور کے بدلے برابر برابر ہو یہاں تک کہ انہوں نے ذکر کیا کہ نمک ( نمک کے بدلے ) برابر برابر ہو ، جس نے زیادہ دیا ، یا زیادہ کا مطالبہ کیا تو اس نے سود لیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4567]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساقاة 15 (البیوع 36) (1587)، سنن ابی داود/البیوع 12 (3349)، سنن الترمذی/البیوع 23 (1240)، (تحفة الأشراف: 5089)، مسند احمد (5/314، 320) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ , عَنْ مُسْلِمٍ الْمَكِّيِّ , عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ , عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ تِبْرُهُ وَعَيْنُهُ وَزْنًا بِوَزْنٍ , وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ تِبْرُهُ وَعَيْنُهُ وَزْنًا بِوَزْنٍ , وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ , وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ , وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ , وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ سَوَاءً بِسَوَاءٍ , مِثْلًا بِمِثْلٍ , فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى" , وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ لَمْ يَذْكُرِ ابْنُ يَعْقُوبَ , وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سونا سونے کے بدلے ، ڈلا ہو یا سکہ ، برابر برابر ہو ، چاندی چاندی کے بدلے ڈالا ہو یا سکہ ، برابر برابر ہو ، نمک نمک کے بدلے ، کھجور کھجور کے بدلے ، گیہوں گیہوں کے بدلے اور جَو جَو کے بدلے برابر برابر اور یکساں ہو ، لہٰذا جو زیادہ دے یا زیادہ کا مطالبہ کرے تو اس نے سود لیا “ ۔ یہ الفاظ محمد بن المثنیٰ کے ہیں ، ابراہیم بن یعقوب نے ” جَو جَو کے بدلے “ کا ذکر نہیں کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4568]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظرما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيٍّ , أَنَّ أَبَا الْمُتَوَكِّلِ مَرَّ بِهِمْ فِي السُّوقِ , فَقَامَ إِلَيْهِ قَوْمٌ أَنَا مِنْهُمْ , قَالَ: " قُلْنَا أَتَيْنَاكَ لِنَسْأَلَكَ عَنِ الصَّرْفِ؟ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ , قَالَ لَهُ رَجُلٌ: مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ؟ , قَالَ: لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ غَيْرُهُ , قَالَ: فَإِنَّ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ , وَالْوَرِقَ بِالْوَرِقِ , قَالَ سُلَيْمَانُ: أَوْ قَالَ: وَالْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ , وَالْبُرَّ بِالْبُرِّ , وَالشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ , وَالتَّمْرَ بِالتَّمْرِ , وَالْمِلْحَ بِالْمِلْحِ , سَوَاءً بِسَوَاءٍ , فَمَنْ زَادَ عَلَى ذَلِكَ , أَوِ ازْدَادَ , فَقَدْ أَرْبَى , وَالْآخِذُ وَالْمُعْطِي فِيهِ سَوَاءٌ".
سلیمان بن علی سے روایت ہے کہ بازار میں ان کے پاس سے ابوالمتوکل کا گزر ہوا ، تو کچھ لوگ ان کے پاس گئے ، ان لوگوں میں میں بھی تھا ، ہم نے کہا : ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ سے بیع صرف ۱؎ کے بارے میں پوچھیں ، تو انہوں نے کہا : میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو ( کہتے ) سنا ، ( اس پر ) ایک شخص نے ان سے کہا : آپ کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ابوسعید رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے ؟ انہوں نے کہا : میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ان ( ابوسعید رضی اللہ عنہ ) کے علاوہ کوئی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا : سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے اور گیہوں گیہوں کے بدلے ، جَو جَو کے بدلے ، کھجور کھجور کے بدلے ، نمک نمک کے بدلے برابر برابر ہو ، اب جو اس میں زیادہ دے یا زیادہ کا مطالبہ کرے تو اس نے سود کا کام کیا ، اور سود لینے اور دینے والے ( جرم میں ) دونوں برابر ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4569]
💡 وضاحت:
۱؎: سونا چاندی کو سونا چاندی کے بدلے نقدا بیچنا بیع صرف ہے، اور اسی کو «بیع اثمان» بھی کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساقاة 15 (البیوع36) (1587)، (تحفة الأشراف: 4255)، مسند احمد (3/49، 66، 97) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , قَالَ: قَالَ إِسْمَاعِيل: حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ جَابِرٍ. ح وَأَنْبَأَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ إِسْمَاعِيل , قَالَ: حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ جَابِرٍ , عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الذَّهَبُ الْكِفَّةُ بِالْكِفَّةِ" , وَلَمْ يَذْكُرْ يَعْقُوبُ: الْكِفَّةُ بِالْكِفَّةِ , فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: إِنَّ هَذَا لَا يَقُولُ شَيْئًا , قَالَ عُبَادَةُ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَكُونَ بِأَرْضٍ يَكُونُ بِهَا مُعَاوِيَةُ , إِنِّي أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” سونا ایک پلڑا دوسرے پلڑے کے برابر ہو “ ، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ بات تو میرے سمجھ میں نہیں آتی ، تو عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! مجھے پروا نہیں اگر میں اس سر زمین میں نہ رہوں جہاں معاویہ رضی اللہ عنہ رہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4570]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5084)، مسند احمد (5/319) (صحیح)
45: بَابُ : بَيْعِ الدِّينَارِ بِالدِّينَارِ
باب: دینار کو دینار سے بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي تَمِيمٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ , وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ , لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دینار کے بدلے دینار اور درہم کے بدلے درہم ہو تو ان دونوں میں کمی زیادتی نہ ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4571]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساقاة 15 (البیوع 36) (1588)، (تحفة الأشراف: 13384)، موطا امام مالک/البیوع 16 (29)، مسند احمد (2/379، 485) (صحیح)
46: بَابُ : بَيْعِ الدِّرْهَمِ بِالدِّرْهَمِ
باب: درہم کو درہم سے بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَكِّيِّ , عَنْ مُجَاهِدٍ , قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرُ: " الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ , وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ , لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا , هَذَا عَهْدُ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا".
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دینار کے بدلے دینار ، درہم کے بدلے درہم کی بیع میں کمی زیادتی جائز نہیں ، یہ ہم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4572]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آپ نے اس کا ہمیں حکم دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7398) (صحیح) (مجاہد کا عمر رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے اس لیے سند میں انقطاع ہے، مگر پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ , وَزْنًا بِوَزْنٍ , مِثْلًا بِمِثْلٍ , وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ , وَزْنًا بِوَزْنٍ , مِثْلًا بِمِثْلٍ , فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ , فَقَدْ أَرْبَى".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سونے کے بدلے سونا ، برابر برابر اور یکساں ہو گا ، اور چاندی کے بدلے چاندی برابر برابر اور یکساں ہو گی ، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ کا مطالبہ کیا تو اس نے سود کا کام کیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4573]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساقاة 15(البیوع36) (1588)، سنن ابن ماجہ/التجارات 48 (2255)، (تحفة الأشراف: 132625)، مسند احمد (2/261، 282، 437) (صحیح)
47: بَابُ : بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ
باب: سونا کے بدلے سونا بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ , وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ , وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ , وَلَا تَبِيعُوا مِنْهَا شَيْئًا غَائِبًا بِنَاجِزٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سونا سونے کے بدلے نہ بیچو مگر برابر برابر ، اور ان میں سے ایک کا دوسرے پر اضافہ نہ کرو ، اور چاندی کے بدلے چاندی مت بیچو مگر برابر برابر اور ان میں سے کسی کو نقد کے بدلے ادھار نہ بیچو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4574]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 78 (2177)، صحیح مسلم/البیوع 35 (المساقاة14) (1584)، سنن الترمذی/البیوع 24 (1241)، (تحفة الأشراف: 4385)، موطا امام مالک/البیوع 16(30)، مسند احمد 3/4، 51، 53، 61، 73، 97) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ , وَإِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ: بَصُرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ النَّهْيَ عَنِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ , وَالْوَرِقِ بِالْوَرِقِ , إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ , مِثْلًا بِمِثْلٍ , وَلَا تَبِيعُوا غَائِبًا بِنَاجِزٍ , وَلَا تُشِفُّوا أَحَدَهُمَا عَلَى الْآخَرِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے سونے کے بدلے سونا اور چاندی کے بدلے چاندی بیچنے سے روکا ہے ، سوائے اس کے کہ وہ برابر ہوں ، اور ( ان میں سے ) کسی نقد کے بدلے ادھار نہ بیچو ، اور نہ ہی ان میں سے ایک کا دوسرے پر اضافہ کرو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4575]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , أَنَّ مُعَاوِيَةَ بَاعَ سِقَايَةً مِنْ ذَهَبٍ , أَوْ وَرِقٍ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهَا , فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا , إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ".
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے پینے کا برتن جو سونے یا چاندی کا تھا اس سے زائد وزن کے بدلے بیچا تو ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کی بیع سے منع فرماتے ہوئے سنا ، سوائے اس کے کہ وہ برابر برابر ہوں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4576]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10953)، موطا امام مالک/البیوع 16 (33)، مسند احمد (6/448) (صحیح)
48: بَابُ : بَيْعِ الْقِلاَدَةِ فِيهَا الْخَرَزُ وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ
باب: سونا اور نگینے جڑے ہار کو سونے کے بدلے بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ أَبِي شُجَاعٍ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ , عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ , عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ , قَالَ: اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلَادَةً فِيهَا ذَهَبٌ , وَخَرَزٌ بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا , فَفَصَّلْتُهَا فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا , فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " لَا تُبَاعُ حَتَّى تُفَصَّلَ".
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ خیبر کے دن میں نے ایک ہار جس میں سونا اور نگینے لگے ہوئے تھے ، بارہ دینار میں خریدا ، پھر میں نے انہیں الگ کیا تو اس میں لگا ہوا سونا بارہ دینار سے زیادہ کا تھا ، اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ” جب تک الگ کر لیا جائے اسے نہ بیچا جائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4577]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساقاة 17 (البیوع 38) (1591)، سنن ابی داود/البیوع 13(3352)، سنن الترمذی/البیوع 32 (1255)، (تحفة الأشراف: 11027)، مسند احمد (6/21، 22) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ , عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ , عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ , قَالَ: أَصَبْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلَادَةً فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهَا , فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " افْصِلْ بَعْضَهَا مِنْ بَعْضٍ , ثُمَّ بِعْهَا".
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے خیبر کے دن ایک ہار ملا جس میں سونا اور نگینے تھے ، میں نے اسے بیچنا چاہا ، اس کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ” ایک کو دوسرے سے الگ کر دو پھر بیچو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4578]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
49: بَابُ : بَيْعِ الْفِضَّةِ بِالذَّهَبِ نَسِيئَةً
باب: سونے کے بدلے چاندی ادھار بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ , قَالَ: بَاعَ شَرِيكٌ لِي وَرِقًا بِنَسِيئَةٍ فَجَاءَنِي فَأَخْبَرَنِي , فَقُلْتُ: هَذَا لَا يَصْلُحُ , فَقَالَ: قَدْ وَاللَّهِ بِعْتُهُ فِي السُّوقِ وَمَا عَابَهُ عَلَيَّ أَحَدٌ , فَأَتَيْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ , فَسَأَلْتُهُ , فَقَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَبِيعُ هَذَا الْبَيْعَ , فَقَالَ: " مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ , وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَهُوَ رِبًا" , ثُمَّ قَالَ لِي: ائْتِ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ , فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ , فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ.
ابومنہال کہتے ہیں کہ شریک نے کچھ چاندی ادھار بیچی ، پھر میرے پاس کر مجھے بتایا تو میں نے کہا : یہ درست نہیں ، انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے تو اسے بازار میں بیچا ہے ، لیکن کسی نے اسے غلط نہیں کہا ، چنانچہ میں براء بن عازب رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا : مدینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور ہم اسی طرح سے بیچا کرتے تھے ، تو آپ نے فرمایا : ” جب تک نقدا نقد ہو تو کوئی حرج نہیں ، لیکن ادھار ہو تو یہ سود ہے “ ، پھر انہوں نے مجھ سے کہا : زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ ، میں نے ان کے پاس جا کر معلوم کیا تو انہوں نے بھی اسی جیسا بتایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4579]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 8 (2060، 2061)، (2180، 2181)، الشرکة 10(2497، 2498)، مناقب الأنصار 51 (3939، 3940)، صحیح مسلم/المساقاة 16 (البیوع 37) (1589)، (تحفة الأشراف: 1788)، مسند احمد (4/289، 368، 371، 372، 274) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ , وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ , أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ , يَقُولُ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ , وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ , فَقَالَا: كُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَأَلْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّرْفِ؟ , فَقَالَ: " إِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ , وَإِنْ كَانَ نَسِيئَةً فَلَا يَصْلُحُ".
ابومنہال کہتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم دونوں تاجر تھے ، ہم نے آپ سے بیع صرف ( اثمان کی خرید و فروخت ) کے بارے میں پوچھا ، تو آپ نے فرمایا : ” اگر وہ نقدا نقد ہو تو کوئی حرج نہیں اور اگر ادھار ہو تو یہ صحیح نہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4580]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ , عَنْ مُحَمَّدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ حَبِيبٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ , قَالَ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ عَنِ الصَّرْفِ؟ , فَقَالَ: سَلْ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَإِنَّهُ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ , فَسَأَلْتُ زَيْدًا: فَقَالَ: سَلْ الْبَرَاءَ فَإِنَّهُ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ , فَقَالَا جَمِيعًا: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا".
ابومنہال کہتے ہیں کہ میں نے بیع صرف کے بارے میں براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے پوچھا ، تو انہوں نے کہا : زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے معلوم کر لو ، وہ مجھ سے بہتر ہیں اور زیادہ جاننے والے ہیں ۔ چنانچہ میں نے زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا : براء رضی اللہ عنہ سے معلوم کرو وہ مجھ سے بہتر ہیں اور زیادہ جاننے والے ہیں ، تو ان دونوں نے کہا : ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کے بدلے چاندی ادھار بیچنے سے روکا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4581]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4579 (صحیح)
50: بَابُ : بَيْعِ الْفِضَّةِ بِالذَّهَبِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْفِضَّةِ
باب: چاندی سونے سے اور سونا چاندی سے بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
وَفِيمَا قُرِئَ عَلَيْنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاق , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ , وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ , إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ , وَأَمَرَنَا أَنْ نَبْتَاعَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْنَا , وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْنَا".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے بدلے چاندی اور سونے کے بدلے سونا بیچنے سے منع فرمایا ، مگر برابر برابر ، اور ہمیں حکم دیا کہ چاندی کے بدلے سونا جیسے چاہیں خریدیں اور سونے کے بدلے چاندی جیسے چاہیں ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4582]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کمی و زیادتی کے ساتھ بشرطیکہ نقدا ہو ادھار نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 77 (2175)، 81 (2182)، صحیح مسلم/البیوع 37 (المساقاة16) (1590)، (تحفة الأشراف: 11681)، مسند احمد (3/38، 39) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ الْحَرَّانِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِيعَ الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ إِلَّا عَيْنًا بِعَيْنٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ , وَلَا نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ , إِلَّا عَيْنًا بِعَيْنٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَبَايَعُوا الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْتُمْ , وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْتُمْ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ہم چاندی کے بدلے چاندی بیچیں مگر نقدا نقد اور برابر برابر ، اور سونے کے بدلے سونا بیچیں مگر نقدا نقد اور برابر برابر ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چاندی کے بدلے سونا اور سونے کے بدلے چاندی جیسے چاہو بیچو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4583]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کمی و زیادتی کے ساتھ بشرطیکہ نقداً ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ , سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ , يَقُولُ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا رِبًا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سود تو صرف ادھار میں ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4584]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے، یا اسی طرح ہم جنس غلہ جات کی نقداً خرید و فروخت میں اگر کمی بیشی ہو تو سود نہیں ہے، سود تو اسی وقت ہے جب معاملہ ادھار کا ہو، امام نووی نیز دیگر علماء کہتے ہیں کہ اہل اسلام کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس حدیث کے ظاہر پر عمل نہیں ہے، کچھ لوگ اسے منسوخ کہتے ہیں اور کچھ تاویل کرتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اجناس مختلفہ میں سود صرف ادھار کی صورت میں ہے، پچھلی حدیثوں میں صراحت ہے کہ تفاضل میں سود ہے، اس لیے حدیث کو منسوخ ماننا ضروری ہے، یا اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باہم مختلف اجناس کی خرید و فروخت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں اگر نقداً ہو، سود تو ادھار میں ہے۔ اس حدیث کو منسوخ ماننا، یا یہ تاویل اس لیے بھی ضروری ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرھم کو تفاضل والی حدیث پہنچ گئی تو انہوں نے اس حدیث کے مطابق فتوی دینے سے رجوع کر لیا (کما حققہ العلماء)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 79 (2178، 2179)، صحیح مسلم/البیوع 39 (المساقاة18) (1596)، سنن ابن ماجہ/التجارات 49 (2257)، (تحفة الأشراف: 94)، مسند احمد (5/200، 202، 204، 206، 209)، سنن الدارمی/البیوع 42 (2622) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ , يَقُولُ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَرَأَيْتَ هَذَا الَّذِي تَقُولُ , أَشَيْئًا وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , أَوْ شَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ , قَالَ: مَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , وَلَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَكِنْ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَخْبَرَنِي , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا : آپ جو یہ باتیں کہتے ہیں ، کیا آپ نے انہیں کتاب اللہ ( قرآن ) میں پایا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : نہ تو میں نے انہیں کتاب اللہ ( قرآن ) میں پایا ہے اور نہ ہی انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، لیکن اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سود تو صرف ادھار میں ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4585]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح) (لیکن یہ حکم منسوخ ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى , عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ , فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ إِنِّي أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ؟ , قَالَ: " لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا , مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں بقیع میں اونٹ بیچتا ، چنانچہ میں دینار سے بیچتا تھا اور درہم لیتا تھا ، پھر میں ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں آپ سے کچھ معلوم کرنا چاہتا ہوں ، میں بقیع میں اونٹ بیچتا ہوں تو دینار سے بیچتا اور درہم لیتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا : ” کوئی حرج نہیں ، اگر تم اسی دن کے بھاؤ سے لے لو جب تک کہ جدا نہ ہو اور تمہارے درمیان ایک دوسرے کا کچھ باقی نہ ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4586]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع 14 (3354، 3355)، سنن الترمذی/البیوع 24 (1242)، سنن ابن ماجہ/التجارات51(2262)، (تحفة الأشراف: 7053، 18685)، مسند احمد (2/33، 59، 83، 89، 101، 139، سنن الدارمی/البیوع 43 (2623)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4587-4589، 4591-4593) (ضعیف) (اس روایت کا مرفوع ہونا ضعیف ہے، صحیح یہ ہے کہ یہ ابن عمر رضی الله عنہما کا اپنا واقعہ ہے، ضعیف ہونے کی وجہ سماک ہیں جو حافظہ کے کمزور ہیں، انہیں اختلاط بھی ہوتا تھا، بس موقوف کو مرفوع بنا دیا جب کہ ان کے دوسرے ساتھیوں نے موقوفاً ہی روایت کی ہے)
51: بَابُ : أَخْذِ الْوَرِقِ مِنَ الذَّهَبِ وَالذَّهَبِ مِنَ الْوَرِقِ وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ ابْنِ عُمَرَ فِيهِ
باب: سونے کے بدلے چاندی اور چاندی کے بدلے سونا لینے کا بیان اور اس سلسلے میں ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ , عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ ابْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ , أَوِ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ , فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ , فَقَالَ: " إِذَا بَايَعْتَ صَاحِبَكَ فَلَا تُفَارِقْهُ وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ لَبْسٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں چاندی کے بدلے سونا یا سونے کے بدلے چاندی بیچتا تھا ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، میں نے آپ کو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم اپنے ساتھی سے بیچو تو اس سے الگ نہ ہو جب تک تمہارے اور اس کے درمیان کوئی چیز باقی رہے ( یعنی حساب بے باق کر کے الگ ہو ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4587]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (ضعیف)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , قَالَ: أَنْبَأَنَا مُوسَى بْنُ نَافِعٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: " أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَأْخُذَ الدَّنَانِيرَ مِنَ الدَّرَاهِمِ , وَالدَّرَاهِمَ مِنَ الدَّنَانِيرِ".
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ وہ اس چیز کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ درہم ٹھیرا کر دینار اور دینار ٹھیرا کر درہم لیں ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4588]
💡 وضاحت:
۱؎: سعید بن جبیر سے اسی سند سے نمبر ۴۵۹۲ پر جو روایت ہے وہی زیادہ صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4586 (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا مُؤَمَّلٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي هَاشِمٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ: " أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا يَعْنِي فِي قَبْضِ الدَّرَاهِمِ مِنَ الدَّنَانِيرِ , وَالدَّنَانِيرِ مِنَ الدَّرَاهِمِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے یعنی دینار طے کر کے کر درہم لینے اور درہم طے کر کے کر دینار لینے میں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4589]
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4586 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الْهُذَيْلِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ: " فِي قَبْضِ الدَّنَانِيرِ مِنَ الدَّرَاهِمِ أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُهَا إِذَا كَانَ مِنْ قَرْضٍ".
ابراہیم نخعی سے روایت ہے کہ درہم طے کر کے کر دینار لینے کو وہ ناپسند کرتے تھے جب وہ قرض کے طور پر ہوں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4590]
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 355
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18418) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مُوسَى أَبِي شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: " أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا وَإِنْ كَانَ مِنْ قَرْضٍ".
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے خواہ قرض کے طور پر ہو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4591]
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4586 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ نَافِعٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ بِمِثْلِهِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: كَذَا وَجَدْتُهُ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ.
اس سند سے بھی سعید بن جبیر سے اسی طرح مروی ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : میں نے اس مقام میں اسے اسی طرح پایا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4592]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی سعید کی پہلی روایت سے متضاد، اس سے گویا وہ ضعف کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4586 (صحیح)
52: بَابُ : أَخْذِ الْوَرِقِ مِنَ الذَّهَبِ
باب: سونے کے بدلے چاندی لینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى , عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ , عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ إِنِّي أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ بِالدَّنَانِيرِ , وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ؟ , قَالَ: " لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَ بِسِعْرِ يَوْمِهَا , مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا : ٹھہریے ! میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں ؟ میں بقیع میں دینار کے بدلے اونٹ بیچتا ہوں اور درہم لیتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر اسی دن کے بھاؤ سے لو تو کوئی حرج نہیں جب تک کہ تم ایک دوسرے سے الگ نہ ہو اور تمہارے درمیان ایک دوسرے پر کچھ باقی ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4593]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4586 (ضعیف)
53: بَابُ : الزِّيَادَةِ فِي الْوَزْنِ
باب: تول (وزن) میں زیادہ کر دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ , عَنْ شُعْبَةَ , قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: " لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ , دَعَا بِمِيزَانٍ فَوَزَنَ لِي وَزَادَنِي".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو آپ نے ترازو منگا کر اس سے مجھے تول کر دیا اور مجھے اس سے کچھ زیادہ دیا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4594]
💡 وضاحت:
۱؎: اگر بغیر شرط کے خریداری (یا قرض دار) اپنی طرف سے قیمت میں زیادہ کر دے تو اس کو علماء نے مستحب قرار دیا ہے، اور اس کو خفیہ صدقہ سے تعبیر کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 59 (443)، الوکالة 8 (2309)، الاستقراض 7 (2394)، الہبة 32 (3603، 3604)، صحیح مسلم/المسافرین 11 (715)، سنن ابی داود/البیوع 11(3341)، (تحفة الأشراف: 2578)، مسند احمد (3/299، 302، 363) سنن الدارمی/البیوع 46 (2626) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ مِسْعَرٍ , عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: " قَضَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَادَنِي".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا قرض دیا اور مجھے مزید دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4595]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
54: بَابُ : الرُّجْحَانِ فِي الْوَزْنِ
باب: جھکتا ہوا تولنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ , قَالَ: جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَفَةُ الْعَبْدِيُّ بَزًّا مِنْ هَجَرَ , فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِمِنًى وَوَزَّانٌ يَزِنُ بِالْأَجْرِ , فَاشْتَرَى مِنَّا سَرَاوِيلَ , فَقَالَ لِلْوَزَّانِ: " زِنْ وَأَرْجِحْ".
سوید بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور مخرفہ عبدی رضی اللہ عنہ مقام ہجر سے کپڑا لائے ، ہم منیٰ میں تھے کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے ، وہاں ایک تولنے والا تھا جو اجرت پر تول رہا تھا ، تو آپ نے ہم سے پاجامہ خریدا اور تولنے والے سے فرمایا : ” جھکتا ہوا تولو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4596]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع 7 (3336)، سنن الترمذی/البیوع 66(1305)، سنن ابن ماجہ/التجارات 34(2220)، اللباس 12 (3579)، (تحفة الأشراف: 4810)، مسند احمد (4/352)، سنن الدارمی/البیوع 47 (2627) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , عَنْ مُحَمَّدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَفْوَانَ , قَالَ: " بِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرَاوِيلَ قَبْلَ الْهِجْرَةِ فَأَرْجَحَ لِي".
ابوصفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت سے قبل پاجامے بیچے تو آپ نے میرے لیے جھکتی ہوئی تول تولی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4597]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ الْمُلَائِيِّ , عَنْ سُفْيَانَ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو نُعَيْمٍ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ حَنْظَلَةَ , عَنْ طَاوُسٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمِكْيَالُ عَلَى مِكْيَالِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ , وَالْوَزْنُ عَلَى وَزْنِ أَهْلِ مَكَّةَ" , وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «مکیال» ( ناپنے کا آلہ ) مدینے والوں کا معتبر ہے اور وزن اہل مکہ کا معتبر ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4598]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (2521 ب) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 355
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 2521/م (صحیح)
55: بَابُ : بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى
باب: اپنی ملکیت اور قبضہ میں لینے سے پہلے غلہ بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ , عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے غلہ خریدا تو وہ اسے اس وقت تک نہ بیچے جب تک اسے مکمل طور پر اپنی تحویل میں نہ لے لے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4599]
💡 وضاحت:
۱؎: خرید و فروخت میں شریعت اسلامیہ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ خریدی ہوئی چیز کو خریدار جب تک بیچنے والے سے مکمل طور پر اپنی تحویل میں نہ لے لے دوسرے سے نہ بیچے، اور یہ تحویل و تملک اور قبضہ ہر چیز پر اسی چیز کے حساب سے ہو گا، نیز اس سلسلے میں ہر علاقہ کے عرف (رسم رواج) کا اعتبار بھی ہو گا کہ وہاں کس چیز پر کیسے قبضہ مانا جاتا ہے، البتہ منقولہ چیزوں کے سلسلے میں شریعت نے ایک عام اصول برائے مکمل قبضہ یہ بتایا ہے کہ اس چیز کو بیچنے والے کی جگہ سے خریدار اپنی جگہ میں منتقل کر لے، یا ناپنے والی چیز کو ناپ لے اور تولنے والی چیز کو تول لے، اور اندازہ والی چیز کی جگہ بدل لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 51 (2126)، 54(2135)، 55 (2136)، صحیح مسلم/البیوع 8 (1526)، سنن ابی داود/البیوع 67 (3492)، سنن ابن ماجہ/التجارات 37 (2226)، (تحفة الأشراف: 8327)، موطا امام مالک/البیوع 19 (40)، مسند احمد (1/56، 62)، سنن الدارمی/البیوع 25 (2602) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے غلہ خریدا تو اسے اس وقت تک نہ بیچے جب تک اس کو اپنی تحویل میں نہ لے لے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4600]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7251)، موطا امام مالک/البیوع 19 (41) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا قَاسِمٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِيعُهُ حَتَّى يَكْتَالَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اناج خریدے تو اسے اس وقت تک نہ بیچے جب تک اسے ناپ نہ لے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4601]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 54 (2132)، 55 (2135)، صحیح مسلم/البیوع 8 (1525)، سنن ابی داود/البیوع 67 (3496)، (تحفة الأشراف: 5707)، مسند احمد (1/252، 256، 368، 369)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4603، 4604 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ عَمْرٍو , عَنْ طَاوُسٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ , وَالَّذِي قَبْلَهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سے سنا ، ( اس سے پہلی والی روایت میں «حتى يقبضه» کے الفاظ ہیں ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4602]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 55 (2135)، صحیح مسلم/البیوع 8 (1525)، سنن ابی داود/البیوع 67 (3497)، سنن الترمذی/البیوع 56 (1291)، سنن ابن ماجہ/التجارات 37 (2227)، (تحفة الأشراف: 5736)، مسند احمد (1/215، 221، 270، 285) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ , عَنْ طَاوُسٍ , قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ , يَقُولُ: أَمَّا الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُسْتَوْفَى الطَّعَامُ".
طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا : ناپ تول کر لینے سے جس چیز کے پہلے بیچنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا وہ غلہ ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4603]
💡 وضاحت:
۱؎: غلہ تو ہے ہی، غلہ کی طرح منتقل کی جانے والی، ناپنے اور تولے جانے والی دیگر چیزوں کے بارے میں بھی یہی حکم ہو گا، جیسا کہ خود ابن عباس رضی اللہ عنہما کا خیال ہے، دیکھئیے اگلی روایت۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4601 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِيعُهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ" , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَحْسَبُ أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی گیہوں خریدے تو اسے نہ بیچے جب تک اس کو اپنی تحویل میں نہ لے لے “ ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ ہر چیز گیہوں ہی کی طرح ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4604]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4601 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ , قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ , عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مَوْهَبٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ , عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَبِعْ طَعَامًا حَتَّى تَشْتَرِيَهُ وَتَسْتَوْفِيَهُ" ‏.‏
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اناج ( غلہ ) مت بیچو جب تک اسے خرید نہ لو اور ناپ نہ لو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4605]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3430)، مسند احمد (3/402، 403) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ , وَأَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ذَلِكَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمَةَ الْجُشَمِيِّ , عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
اس سند سے بھی حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4606]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3429) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , عَنْ حِزَامِ بْنِ حَكِيمٍ , قَالَ: قَالَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ: ابْتَعْتُ طَعَامًا مِنْ طَعَامِ الصَّدَقَةِ , فَرَبِحْتُ فِيهِ قَبْلَ أَنْ أَقْبِضَهُ , فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ: " لَا تَبِعْهُ حَتَّى تَقْبِضَهُ".
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے صدقے کے اناج میں سے خریدا تو اسے اپنی تحویل میں لینے سے پہلے ہی مجھے اس میں نفع ملا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا ، تو آپ نے فرمایا : ” جب تک تحویل میں نہ لے لو اسے مت بیچو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4607]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3424) (صحیح)
56: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ بَيْعِ، مَا اشْتُرِيَ مِنَ الطَّعَامِ بِكَيْلٍ حَتَّى يُسْتَوْفَى
باب: جو اناج ناپ کر خریدا جائے، اسے پورا اپنی تحویل میں لے لینے سے پہلے بیچنے کی ممانعت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ , عَنْ ابْنِ وَهْبٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ عُبَيْدٍ , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى أَنْ يَبِيعَ أَحَدٌ طَعَامًا اشْتَرَاهُ بِكَيْلٍ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی ناپ کر خریدا ہوا اناج بیچے جب تک کہ اسے پورا پورا اپنی تحویل میں نہ لے لے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4608]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3495) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 355
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع 67 (3495)، (تحفة الأشراف: 7375)، مسند احمد (2/111) (صحیح)
57: بَابُ : بَيْعِ مَا يُشْتَرَى مِنَ الطَّعَامِ جُزَافًا قَبْلَ أَنْ يُنْقَلَ مِنْ مَكَانِهِ .
باب: اندازہ لگا کر خریدا ہوا اناج اس کی جگہ سے منتقل کرنے سے پہلے بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ , قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , قَالَ: " كُنَّا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَاعُ الطَّعَامَ , فَيَبْعَثُ عَلَيْنَا مَنْ يَأْمُرُنَا بِانْتِقَالِهِ مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي ابْتَعْنَا فِيهِ إِلَى مَكَانٍ سِوَاهُ قَبْلَ أَنْ نَبِيعَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اناج خریدتے تھے ، پھر آپ ایک شخص کو ہمارے پاس بھیجتے جو ہمیں حکم دیتا کہ اسے اس جگہ سے کسی دوسری جگہ منتقل کر لے جہاں سے ہم نے خریدا ہے قبل اس کے کہ ہم اسے فروخت کریں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4609]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/البیوع 8 (1527)، سنن ابی داود/البیوع 67 (3493)، (تحفة الأشراف: 8371)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 54 (2131)، 56 (2137)، سنن ابن ماجہ/التجارات 31 (2222)، موطا امام مالک/البیوع 19 (42)، مسند احمد (1/56، 112) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ: " أَنَّهُمْ كَانُوا يَبْتَاعُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَعْلَى السُّوقِ جُزَافًا , فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ فِي مَكَانِهِ حَتَّى يَنْقُلُوهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں بازار کی اونچی جگہ پر ڈھیر خریدا کرتے تھے تو آپ نے انہیں اسے اسی جگہ بیچنے سے روکا جب تک کہ وہ اسے منتقل نہ کر لیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4610]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 72 (2167)، سنن ابی داود/البیوع 67 (3494)، (تحفة الأشراف: 8154) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ نَافِعٍ , أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُمْ: " أَنَّهُمْ كَانُوا يَبْتَاعُونَ الطَّعَامَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرُّكْبَانِ , فَنَهَاهُمْ أَنْ يَبِيعُوا فِي مَكَانِهِمُ الَّذِي ابْتَاعُوا فِيهِ حَتَّى يَنْقُلُوهُ إِلَى سُوقِ الطَّعَامِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں لوگ سواروں سے اناج ( غلہ ) خریدتے تھے تو آپ نے انہیں اسی جگہ بیچنے سے روکا جہاں انہوں نے اسے خریدا تھا ، یہاں تک کہ وہ اسے غلہ منڈی منتقل کر لیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4611]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8425) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: " رَأَيْتُ النَّاسَ يُضْرَبُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَرَوْا الطَّعَامَ جُزَافًا , أَنْ يَبِيعُوهُ حَتَّى يُؤْوُوهُ إِلَى رِحَالِهِمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کی پٹائی اس بات پر ہوتی تھی کہ جب وہ اناج اندازہ لگا کر خریدیں تو اسے گھر تک لانے سے پہلے ہی فروخت کر دیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4612]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحدود 42 (6852)، صحیح مسلم/البیوع 8 (1527)، سنن ابی داود/البیوع 67 (3498)، (تحفة الأشراف: 6933)، مسند احمد (2/7، 150) (صحیح)
58: بَابُ : الرَّجُلِ يَشْتَرِي الطَّعَامَ إِلَى أَجَلٍ وَيَسْتَرْهِنُ الْبَائِعَ مِنْهُ بِالثَّمَنِ رَهْنًا
باب: ایک شخص ایک مدت تک کے لیے ادھار اناج (غلہ) خرید لے اور بیچنے والا قیمت کے بدلے کوئی چیز گروی رکھ لے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ , عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ وَرَهَنَهُ دِرْعَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے کچھ مدت تک کے لیے ادھار اناج خریدا اور اس کے پاس اپنی زرہ رہن رکھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4613]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 14 (2068)، 33 (2096)، 88 (2200)، السلم 5 (2251)، 6 (2252)، الاستقراض 1 (2386)، الرہن 2 (2509)، 5 (2513)، الجہاد 89 (2916)، المغازي 86 (4467)، صحیح مسلم/البیوع 45 (المساقاة 24) (1603)، سنن ابن ماجہ/الرہون 1 (الأحکام62) (2436)، (تحفة الأشراف: 15948)، مسند احمد (6/42، 160، 230، 237)، ویأتي عند المؤلف 4654 (صحیح)
59: بَابُ : الرَّهْنِ فِي الْحَضَرِ
باب: حضر (حالت اقامت) میں (کسی چیز کے) گروی رکھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّهُ مَشَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ , قَالَ: " وَلَقَدْ رَهَنَ دِرْعًا لَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ , وَأَخَذَ مِنْهُ شَعِيرًا لِأَهْلِهِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کی ایک روٹی اور بودار چربی لے گئے ، اور آپ نے اپنی زرہ مدینے کے ایک یہودی کے پاس گروی رکھ دی تھی اور اپنے گھر والوں کے لیے اس سے جَو لیے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4614]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 14 (2069)، الرہون 1 (2508)، سنن الترمذی/البیوع 7 (1215)، سنن ابن ماجہ/الرہون 1 (الأحکام62) (2437)، (تحفہ الأشراف: 1355)، مسند احمد (3/133، 208، 232) (صحیح)
60: بَابُ : بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَ الْبَائِعِ
باب: بیچنے والے کے پاس غیر موجود چیز کے بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ , عَنْ يَزِيدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ , وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ , وَلَا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ".
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ادھار اور بیع ایک ساتھ جائز نہیں ۱؎ ، اور نہ ہی ایک بیع میں دو شرطیں درست ہیں ۲؎ ، اور نہ اس چیز کی بیع درست ہے جو سرے سے تمہارے پاس ہو ہی نہ “ ۳؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4615]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کی صورت یہ ہے کہ بیچنے والا خریدار کے ہاتھ آٹھ سو کا سامان ایک ہزار روپے کے بدلے اس شرط پر بیچے کہ بیچنے والا خریدار کو ایک ہزار روپے بطور قرض دے گا (دیکھئیے باب رقم ۷۰) گویا بیع کی اگر یہ شکل نہ ہوتی تو بیچنے والا خریدار کو قرض نہ دیتا اور اگر قرض کا وجود نہ ہوتا تو خریدار یہ سامان نہ خریدتا۔ ۲؎: مثلاً کوئی کہے کہ یہ غلام میں نے تجھ سے ایک ہزار نقد اور دو ہزار ادھار میں بیچا (دیکھئیے باب رقم ۷۲) یہ ایسی بیع ہے جو دو شرطں ہیں یا مثلاً کوئی یوں کہے کہ میں نے تم سے اپنا یہ کپڑا اتنے اتنے میں اس شرط پر بیچا کہ اس کا دھلوانا اور سلوانا میرے ذمہ ہے۔ ۳؎: بیچنے والے کے پاس جو چیز موجود نہیں ہے اسے بیچنے سے اس لیے روک دیا گیا ہے کہ اس میں دھوکہ دھڑی کا خطرہ ہے جیسے کوئی شخص اپنے بھاگے ہوئے غلام یا اونٹ بیچے جب کہ ان دونوں کے واپسی کی ضمانت بیچنے والا نہیں دے سکتا البتہ ایسی چیز کی بیع جو اپنی صفت کے اعتبار سے خریدار کے لیے بالکل واضح ہو جائز ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع سلم کی اجازت دی ہے باوجود یہ کہ بیچی جانے والی چیز بیچنے والے کے پاس بروقت موجود نہیں ہوتی۔ (کیونکہ چیز کے سامنے آنے کے بعد اختلاف اور جھگڑا پیدا ہو سکتا ہے)۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع 7 (3504)، سنن الترمذی/البیوع 19 (1234)، سنن ابن ماجہ/التجارات 20 (2188)، (تحفة الأشراف: 8664)، مسند احمد (2/178)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4634، 4635 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ , عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، قَالَ: عُثْمَانُ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ سَيْفٍ , عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ عَلَى رَجُلٍ بَيْعٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس چیز کا بیچنا آدمی کے لیے جائز نہیں جس کا وہ مالک نہ ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4616]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطلاق 7 (2190)، (تحفة الأشراف: 8804)، مسند احمد (2/189، 190) (حسن، صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ , عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ , عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ , قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , يَأْتِينِي الرَّجُلُ فَيَسْأَلُنِي الْبَيْعَ لَيْسَ عِنْدِي أَبِيعُهُ مِنْهُ , ثُمَّ أَبْتَاعُهُ لَهُ مِنَ السُّوقِ , قَالَ: " لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ".
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : اللہ کے رسول ! میرے پاس آدمی آتا ہے اور وہ مجھ سے ایسی چیز خریدنا چاہتا ہے جو میرے پاس نہیں ہوتی ۔ کیا میں اس سے اس چیز کو بیچ دوں اور پھر وہ چیز اسے بازار سے خرید کر دے دوں ؟ آپ نے فرمایا : ” جو چیز تمہارے پاس نہ ہو اسے مت بیچو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4617]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع 70 (3503)، سنن الترمذی/البیوع 19 (1232)، سنن ابن ماجہ/التجارات 20 (2187)، (تحفة الأشراف: 3436)، مسند احمد (3/402، 434) (صحیح)
61: بَابُ : السَّلَمِ فِي الطَّعَامِ
باب: اناج میں بیع سلم کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ , قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى: عَنِ السَّلَفِ , قَالَ: " كُنَّا نُسْلِفُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَبِي بَكْرٍ , وَعُمَرَ فِي الْبُرِّ , وَالشَّعِيرِ , وَالتَّمْرِ إِلَى قَوْمٍ لَا أَدْرِي أَعِنْدَهُمْ أَمْ لَا" , وَابْنُ أَبْزَى , قَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ.
عبداللہ بن ابی مجالد کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفی سے بیع سلم کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں گی ہوں ، جَو اور کھجور میں ایسے لوگوں سے بیع سلم کرتے تھے کہ مجھے نہیں معلوم ، آیا ان کے یہاں یہ چیزیں ہوتی بھی تھیں یا نہیں ۔ اور ابن ابزیٰ نے ( سوال کرنے پر ) اسی طرح کہا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4618]
💡 وضاحت:
۱؎: «سلف» یا «سلم» یہ ہے کہ خریدار بیچنے والے کو سامان کی قیمت پیشگی دے دے اور سامان کی ادائیگی کے لیے ایک میعاد مقرر کر لے، ساتھ ہی سامان کا وزن وصف اور نوعیت وغیرہ متعین ہو۔ (اگلی حدیث دیکھیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/السلم 2 (2242)، 3 (2244، 2245)، 7 (2254، 2255)، سنن ابی داود/البیوع 57 (3464، 3465)، سنن ابن ماجہ/التجارات 59 (2282)، (تحفة الأشراف: 5171)، مسند احمد (4/354) (صحیح)
62: بَابُ : السَّلَمِ فِي الزَّبِيبِ
باب: کشمش میں بیع سلم کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الْمُجَالِدِ , وَقَالَ مَرَّةً: عَبْدُ اللَّهِ , وَقَالَ مَرَّةً: مُحَمَّدٌ , قَالَ: تَمَارَى أَبُو بُرْدَةَ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ فِي السَّلَمِ , فَأَرْسَلُونِي إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى فَسَأَلْتُهُ , فَقَالَ: " كُنَّا نُسْلِمُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَعَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ , وَعَلَى عَهْدِ عُمَرَ فِي الْبُرِّ , وَالشَّعِيرِ , وَالزَّبِيبِ , وَالتَّمْرِ إِلَى قَوْمٍ مَا نُرَى عِنْدَهُمْ" , وَسَأَلْتُ ابْنَ أَبْزَى , فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ.
ابن ابی مجالد بیان کرتے ہیں کہ ابوبردہ اور عبداللہ بن شداد میں سلم کے سلسلے میں بحث ہو گئی تو انہوں نے مجھے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا : ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں گیہوں ، جَو ، کشمش اور کھجور میں بیع سلم کیا کرتے تھے ، ایسے لوگوں سے جن کے پاس ہم یہ چیزیں نہیں پاتے اور ( ابن ابی المجالد کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابزیٰ سے پوچھا تو انہوں نے اسی طرح کہا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4619]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
63: بَابُ : السَّلَفِ فِي الثِّمَارِ
باب: پھلوں میں بیع سلم کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ , قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي التَّمْرِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ , فَنَهَاهُمْ وَقَالَ: " مَنْ أَسْلَفَ سَلَفًا فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ , وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ".
ابوالمنہال کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو لوگ کھجور میں دو تین سال کے لیے بیع سلم کرتے تھے ، آپ نے انہیں روک دیا ، اور فرمایا : ” جو بیع سلم کرے تو مقررہ ناپ ، مقررہ وزن میں مقررہ مدت تک کے لیے کرے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4620]
💡 وضاحت:
۱؎: ناپ وزن اور اس میں یہ تعیین و تحدید اس لیے ہے تاکہ جھگڑے اور اختلاف پیدا ہونے والی بات نہ رہ جائے، اگر مدت نہ معلوم ہو اور وزن اور ناپ نہ متعین ہو تو بیع سلف صحیح نہ ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/السلم 1 (2239)، 2 (2221)، 7 (2253)، صحیح مسلم/المساقاة 25 (البیوع 46) (1604)، سنن ابی داود/البیوع 57 (3463)، سنن الترمذی/البیوع 70 (1311)، سنن ابن ماجہ/التجارات 59 (2280)، (تحفة الأشراف: 5820)، مسند احمد (1/217، 222، 282، 358)، سنن الدارمی/البیوع 45 (2625) (صحیح)
64: بَابُ : اسْتِسْلاَفِ الْحَيَوَانِ وَاسْتِقْرَاضِه
باب: جانور میں بیع سلم یا ادھار معاملہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي رَافِعٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَكْرًا , فَأَتَاهُ يَتَقَاضَاهُ بَكْرَهُ , فَقَالَ لِرَجُلٍ: " انْطَلِقْ فَابْتَعْ لَهُ بَكْرًا" , فَأَتَاهُ , فَقَالَ: مَا أَصَبْتُ إِلَّا بَكْرًا رَبَاعِيًا خِيَارًا , فَقَالَ: " أَعْطِهِ , فَإِنَّ خَيْرَ الْمُسْلِمِينَ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً".
ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے اونٹ کے بچے میں بیع سلم کی ، وہ شخص اپنے نوجوان اونٹ کا تقاضا کرتا ہوا آیا تو آپ نے ایک شخص سے کہا : ” جاؤ ، اس کے لیے نوجوان اونٹ خرید دو “ ، اس نے آپ کے پاس آ کر کہا : مجھے تو سوائے بہترین ، «رباعی» ( جو ساتویں برس میں لگ چکا ہو ) نوجوان اونٹ کے کوئی نہیں ملا ، آپ نے فرمایا : ” اسے وہی دے دو ، اس لیے کہ بہترین مسلمان وہ ہے جو قرض ادا کرنے میں بہتر ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4621]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/البیوع 43 (المساقاة22) (1600)، سنن ابی داود/البیوع 11 (3346)، سنن الترمذی/البیوع 75 (1318)، سنن ابن ماجہ/التجارات 62 (2285)، موطا امام مالک/البیوع 43 (89)، (تحفة الأشراف: 12025)، مسند احمد (6/390)، سنن الدارمی/البیوع 31 (2607) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنٌّ مِنَ الْإِبِلِ فَجَاءَ يَتَقَاضَاهُ , فَقَالَ: " أَعْطُوهُ" , فَلَمْ يَجِدُوا إِلَّا سِنًّا فَوْقَ سِنِّهِ , قَالَ: " أَعْطُوهُ" , فَقَالَ: أَوْفَيْتَنِي , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ ایک شخص کا ایک جوان اونٹ باقی تھا ، وہ آپ کے پاس تقاضا کرتا ہوا آیا تو آپ نے ( صحابہ سے ) فرمایا : ” اسے دے دو “ ، انہیں اس سے زیادہ عمر کے ہی اونٹ ملے تو آپ نے فرمایا : ” اسی کو دے دو “ ، اس نے کہا : آپ نے پورا پورا ادا کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرض کی ادائیگی میں بہتر ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4622]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوکالة 5 (2305)، 6 (2306)، الاستقراض 4 (2390)، 6(2392)، 7 (2393)، 13 (2401) الہبة 23 (2606)، 25(2609)، صحیح مسلم/المساقاة 22 (1601)، (البیوع 43) سنن الترمذی/البیوع 75 (1316، 1317)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 16(الأحکام56) (2322)، (مقتصرا علی قولہ: ’’إن خیارکم۔۔“) حم2/373، 393، 416، 431، 456، 476، 509 ویأتی عند المؤلف برقم4697 مثل ابن ماجہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ , قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ هَانِئٍ , يَقُولُ: سَمِعْتُ عِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ , يَقُولُ: " بِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ , فَقَالَ: " أَجَلْ لَا أَقْضِيكَهَا إِلَّا نَجِيبَةً" , فَقَضَانِي فَأَحْسَنَ قَضَائِي , وَجَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ يَتَقَاضَاهُ سِنَّهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْطُوهُ سِنًّا" , فَأَعْطَوْهُ يَوْمَئِذٍ جَمَلًا , فَقَالَ: " هَذَا خَيْرٌ مِنْ سِنِّي" , فَقَالَ: " خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ قَضَاءً".
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک جوان اونٹ بیچا تو میں آپ کے پاس اس کا تقاضا کرنے آیا ، آپ نے فرمایا : ” میں تو تمہیں بختی ( عمدہ قسم کا اونٹ ) دوں گا “ ، پھر آپ نے مجھے ادا کیا تو بہت اچھا ادا کیا ، اور آپ کے پاس ایک اعرابی ( دیہاتی ) اپنا جوان اونٹ مانگتے ہوئے آیا تو آپ نے فرمایا : ” اسے جوان اونٹ دے دو “ ، تو اس دن ان لوگوں نے اسے ایک بڑا ( مکمل ) اونٹ دیا ، اس نے کہا : یہ تو میرے اونٹ سے بہتر ہے ، آپ نے فرمایا : ” تم میں بہتر وہ ہے جو بہتر طرح سے قرض ادا کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4623]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/التجارات 62 (2286)، (تحفة الأشراف: 9887)، مسند احمد (4/128) (صحیح)
65: بَابُ : بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً
باب: ذی روح کو ذی روح کے بدلے ادھار بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , وَخَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ , قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , وأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى , قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ , عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ سَمُرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً".
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی روح کے بدلے ذی روح کو ادھار بیچنے سے منع فرمایا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4624]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب ادھار کی صورت طرفین سے ہو اور اگر کسی ایک جانب سے ہو تو بیع جائز ہے (دیکھئیے: صحیح بخاری کتاب البیوع باب ۱۰۸)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع 15 (3356)، سنن الترمذی/البیوع 21 (1237)، سنن ابن ماجہ/التجارات 56 (2270)، (تحفة الأشراف: 4583)، مسند احمد 5/12، 21، 19، 22، سنن الدارمی/البیوع 30 (2606) (صحیح)
66: بَابُ : بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ يَدًا بِيَدٍ مُتَفَاضِلاً
باب: ذی روح کو ذی روح کے بدلے کمی زیادتی کے ساتھ نقد بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ , وَلَا يَشْعُرُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ عَبْدٌ , فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِعْنِيهِ" , فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ , ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ أَعَبْدٌ هُوَ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک غلام آیا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کی ، آپ کو یہ علم نہیں تھا کہ یہ غلام ہے ، اتنے میں اسے ڈھونڈتا ہوا اس کا مالک آ پہنچا تو آپ نے فرمایا : ” اسے میرے ہاتھ بیچ دو “ ، چنانچہ آپ نے اسے دو کالے غلاموں کے بدلے خرید لیا ، پھر آپ نے اس کے بعد کسی سے بیعت نہیں لی جب تک کہ اس سے پوچھ نہ لیتے کہ وہ غلام ہے ؟ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4625]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4189 (صحیح)
67: بَابُ : بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ
باب: حمل والے جانور کا حمل بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " السَّلَفُ فِي حَبَلِ الْحَبَلَةِ رِبًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حمل والے جانور کے حمل کی بیع سلم کرنا سود ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4626]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5440) مسند احمد (1/240) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ کے حمل کو بیچنے سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4627]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/التجارات 24 (2197)، (تحفة الأشراف: 7062)، مسند احمد (2/10) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ کے حمل کو بیچنے سے منع فرمایا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4628]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ بیع زمانہ جاہلیت میں رائج تھی، آدمی اس شرط پر اونٹ خریدتا تھا کہ جب اونٹنی بچہ جنے گی پھر بچے کا بچہ ہو گا تب وہ اس اونٹ کے پیسے دے گا تو ایسی خرید و فروخت سے روک دیا گیا ہے، کیونکہ اس میں دھوکہ ہے، یہ بیع غرر (دھوکہ والی بیع) کی قبیل سے ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/البیوع 3 (1514)، (تحفة الأشراف: 8296) (صحیح)
68: بَابُ : تَفْسِيرِ ذَلِكَ
باب: حمل والے جانور کا حمل بیچنے کی تفسیر و وضاحت۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ , قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ , وَكَانَ بَيْعًا يَتَبَايَعُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ , كَانَ الرَّجُلُ يَبْتَاعُ جَزُورًا إِلَى أَنْ تُنْتِجَ النَّاقَةُ , ثُمَّ تُنْتِجُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ کے حمل کی بیع سے منع فرمایا اور یہ ایسی بیع تھی جو جاہلیت کے لوگ کیا کرتے تھے ، ایک شخص اونٹ خریدتا اور پیسے دینے کا وعدہ اس وقت تک کے لیے کرتا جب وہ اونٹنی جنے اور پھر اس کا بچہ جنے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4629]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 61 (2143)، سنن ابی داود/البیوع 25 (3380)، (تحفة الأشراف: 8370)، موطا امام مالک/البیوع 26 (62)، مسند احمد (1/56، 63) (صحیح)
69: بَابُ : بَيْعِ السِّنِينَ
باب: کئی سال کی بیع کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سال کی بیع کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4630]
💡 وضاحت:
۱؎: باغ کے پھل کئی سال کے لیے بیچنا، یہ بھی بیع غرر (دھوکہ والی خرید و فروخت) کی قبیل سے ہے، اس میں خریدار کے لیے دھوکہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2768) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ , عَنْ سُلَيْمَانَ وَهُوَ ابْنُ عَتِيقٍ , عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سال کی بیع کرنے سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4631]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4535 (صحیح)
70: بَابُ : الْبَيْعِ إِلَى الأَجَلِ الْمَعْلُومِ
باب: متعینہ مدت تک کے لیے ادھار بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عِكْرِمَةُ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَيْنِ قِطْرِيَّيْنِ , وَكَانَ إِذَا جَلَسَ فَعَرِقَ فِيهِمَا ثَقُلَا عَلَيْهِ , وَقَدِمَ لِفُلَانٍ الْيَهُودِيِّ بَزٌّ مِنْ الشَّأْمِ , فَقُلْتُ: لَوْ أَرْسَلْتَ إِلَيْهِ فَاشْتَرَيْتَ مِنْهُ ثَوْبَيْنِ إِلَى الْمَيْسَرَةِ , فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ , فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتُ مَا يُرِيدُ مُحَمَّدٌ , إِنَّمَا يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِمَالِي أَوْ يَذْهَبَ بِهِمَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَذَبَ قَدْ عَلِمَ أَنِّي مِنْ أَتْقَاهُمْ لِلَّهِ وَآدَاهُمْ لِلْأَمَانَةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو قطری چادریں تھیں ، جب آپ بیٹھتے اور ان میں پسینہ آتا تو وہ بھاری ہو جاتیں ، ایک یہودی کا شام سے کپڑا آیا تو میں نے عرض کیا : اگر آپ اس کے پاس کسی کو بھیج کر تاوقت سہولت ( قیمت ادا کرنے کے وعدہ پر ) دو کپڑے خرید لیتے تو بہتر ہوتا ، چنانچہ آپ نے اس کے پاس ایک شخص کو بھیجا ، اس ( یہودی ) نے کہا : مجھے معلوم ہے محمد کیا چاہتے ہیں ، وہ تو میرا مال ہضم کرنا چاہتے ہیں ، یا یہ دونوں چادروں کو ہضم کرنا چاہتے ہیں ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نے جھوٹ کہا ، اسے معلوم ہے کہ میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور سب سے زیادہ امانت کا ادا کرنے والا ہوں “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4632]
💡 وضاحت:
۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کی بیع پر اعتراض نہیں کیا، بلکہ اس یہودی کے پاس اس کے لیے آدمی بھیجا، اسی سے باب پر استدلال ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/البیوع 7 (1213)، (تحفة الأشراف: 17400)، مسند احمد (6/147) (صحیح)
71: بَابُ : سَلَفٍ وَبَيْعٍ وَهُوَ أَنْ يَبِيعَ السِّلْعَةَ عَلَى أَنْ يُسْلِفَهُ سَلَفًا
باب: سلف اور بیع ایک ساتھ کرنا (یعنی بیچنے والا ایک چیز بیچے اس شرط پر کہ خریدار اس کو قرض دے)۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ , عَنْ خَالِدٍ , عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ سَلَفٍ وَبَيْعٍ , وَشَرْطَيْنِ فِي بَيْعٍ وَرِبْحِ , مَا لَمْ يُضْمَنْ".
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلف اور بیع ایک ساتھ کرنے ، ایک بیع میں دو شرطیں لگانے ، اور اس چیز کے نفع لینے سے منع فرمایا جس کے تاوان کا وہ ذمے دار ( ضامن ) نہ ہو ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4633]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس چیز کو بیچنا جو ابھی پہلے بیچنے والے سے خریدار کے قبضے میں آئی بھی نہ ہو، اور نہ ہی اس کے اوصاف (وزن، ناپ اور نوعیت) معلوم ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8692) (حسن صحیح)
72: بَابُ : شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ
باب: ایک بیع میں دو شرط لگانا یعنی کوئی یہ کہے کہ میں تم سے اس شرط پر یہ سامان بیچ رہا ہوں کہ اگر ایک مہینہ میں قیمت ادا کر دو گے تو اتنے روپے کا ہے اور دو مہینہ میں ادا کرو گے تو اتنے کا۔۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ أَبِيهِ , حَتَّى ذَكَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ , وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ , وَلَا رِبْحُ , مَا لَمْ يُضْمَنْ".
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سلف ( قرض ) اور بیع ایک ساتھ جائز نہیں ، اور نہ ایک بیع میں دو شرطیں ، اور نہ ہی ایسی چیز کا نفع جس کے تاوان کی ذمے داری نہ ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4634]
💡 وضاحت:
۱؎: اور دونوں میں سے کسی ایک پر بات طے نہ ہو، اور اگر کسی ایک پر بات طے ہو جائے تو پھر بیع حلال اور جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4615 (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَلَفٍ وَبَيْعٍ , وَعَنْ شَرْطَيْنِ فِي بَيْعٍ وَاحِدٍ , وَعَنْ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ , وَعَنْ رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ".
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلف ( قرض ) اور بیع ایک ساتھ کرنے سے ، ایک ہی بیع میں دو شرطیں لگانے سے ، اور اس چیز کے بیچنے سے جو تمہارے پاس موجود نہ ہو اور ایسی چیز کے نفع سے جس کے تاوان کی ذمہ داری نہ ہو ، ( ان سب سے ) منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4635]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4615 (حسن صحیح)
73: بَابُ : بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ
باب: ایک بیع میں دو بیع کرنا یعنی یہ کہے کہ میں ایک چیز تم سے بیچ رہا ہوں اگر نقد لو گے تو سو درہم میں اور ادھار لو گے تو دو سو درہم میں۔۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں دو بیع کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4636]
💡 وضاحت:
۱؎: اور دونوں میں کسی بات پر اتفاق نہ ہو سکا ہو، اگر کسی ایک پر اتفاق ہو گیا تو پھر یہ بیع حلال اور جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15112)، مسند احمد (2/432، 475) (حسن صحیح)
74: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ بَيْعِ الثُّنْيَا، حَتَّى تُعْلَمَ
باب: استثنائی بیع کی ممانعت کہ اس کی مقدار معلوم ہو کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ , وَالْمُزَابَنَةِ , وَالْمُخَابَرَةِ , وَعَنِ الثُّنْيَا إِلَّا أَنْ تُعْلَمَ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ ، مزابنہ ، مخابرہ سے اور بیع میں استثناء کرنے سے سوائے اس کے کہ مقدار معلوم ہو منع فرمایا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4637]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی درخت کے پھل بیچتے وقت کچھ غیر معلوم پھل الگ کرنے سے منع فرمایا، اگر الگ کئے ہوئے پھلوں کی مقدار طے ہو تو یہ معاملہ جائز ہے، لیکن یہ مقدار اتنی بھی نہ ہو کہ بیچے ہوئے پھل کی مقدار انتہائی کم رہ جائے، جس سے خریدار کو گھاٹا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 3911 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ , وأَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ , وَالْمُزَابَنَةِ , وَالْمُخَابَرَةِ , وَالْمُعَاوَمَةِ , وَالثُّنْيَا , وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ ، مزابنہ ، مخابرہ ، معاومہ ( کئی سالوں کی بیع ) اور بیع میں الگ کرنے سے منع فرمایا اور بیع عرایا ( عاریت والی بیع ) میں رخصت دی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4638]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/البیوع 16 (1536)، سنن ابی داود/البیوع 34 (3404)، سنن الترمذی/البیوع 55 (1313)، سنن ابن ماجہ/التجارات 54 (2266)، (تحفة الأشراف: 2666)، مسند احمد (3/313، 356، 364) (صحیح)
75: بَابُ : النَّخْلِ يُبَاعُ أَصْلُهَا وَيَسْتَثْنِي الْمُشْتَرِي ثَمَرَهَا
باب: کھجور کے درخت بیچے جائیں اور خریدار اس کے پھل کی شرط لگا دے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا امْرِئٍ أَبَّرَ نَخْلًا , ثُمَّ بَاعَ أَصْلَهَا , فَلِلَّذِي أَبَّرَ ثَمَرُ النَّخْلِ , إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو بھی کوئی کھجور کے درخت کی پیوند کاری کرے پھر اس درخت کو بیچے تو درخت کا پھل پیوند کاری کرنے والے کا ہو گا ، سوائے اس کے کہ خریدنے والا پھل کی شرط لگا لے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4639]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ معاملہ ہر قسم کی کھیتی کے بیچنے میں ہو گا، کیونکہ کھیتی میں بیچنے والا خرچ کیا ہوتا ہے، کھجور میں تو تابیر (پیوند کاری) سے پہلے بیچنے والے کا کچھ خرچ نہیں ہوتا ہے اس لیے تابیر (پیوند کاری) کی شرط لگائی گئی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 90 (2203)، 92 (2206)، المساقاة 17 (2379)، الشروط 2 (2716)، صحیح مسلم/البیوع 15 (1543)، سنن ابن ماجہ/التجارات 31 (2210)، (تحفة الأشراف: 8274)، موطا امام مالک/البیوع 7 (9)، مسند احمد (2/6، 9، 4، 5، 63، 78) (صحیح)
76: بَابُ : الْعَبْدِ يُبَاعُ وَيَسْتَثْنِي الْمُشْتَرِي مَالَهُ
باب: غلام بیچا جائے اور خریدار اس کے مال کی شرط لگا دے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ ابْتَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ , إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ , وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ , إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی تابیر ( پیوند کاری ) ہو جانے کے بعد ( کھجور کا ) درخت خریدے تو اس کا پھل بائع کا ہو گا سوائے اس کے کہ خریدار شرط لگا دے ، اور جو غلام بیچے اور اس کے پاس مال ہو تو اس کا مال بائع کا ہو گا سوائے اس کے کہ خریدار شرط لگا دے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4640]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/البیوع 15 (1543)، سنن ابی داود/البیوع 44 (3433)، سنن ابن ماجہ/التجارات 31 (2211)، (تحفة الأشراف: 6819) (صحیح)
77: بَابُ : الْبَيْعِ يَكُونُ فِيهِ الشَّرْطُ فَيَصِحُّ الْبَيْعُ وَالشَّرْطُ
باب: بیع میں جائز شرط ہو تو بیع اور شرط دونوں صحیح ہیں۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا سَعْدَانُ بْنُ يَحْيَى , عَنْ زَكَرِيَّا , عَنْ عَامِرٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَعْيَا جَمَلِي فَأَرَدْتُ أَنْ أُسَيِّبَهُ , فَلَحِقَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَعَا لَهُ , فَضَرَبَهُ فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ , فَقَالَ: " بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ" , قُلْتُ: لَا، قَالَ: " بِعْنِيهِ" , فَبِعْتُهُ بِوُقِيَّةٍ , وَاسْتَثْنَيْتُ حُمْلَانَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ , فَلَمَّا بَلَغْنَا الْمَدِينَةَ أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ وَابْتَغَيْتُ ثَمَنَهُ , ثُمَّ رَجَعْتُ فَأَرْسَلَ إِلَيَّ , فَقَالَ: " أَتُرَانِي إِنَّمَا مَاكَسْتُكَ لِآخُذَ جَمَلَكَ خُذْ جَمَلَكَ وَدَرَاهِمَكَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا ، میرا اونٹ تھک کر چلنے سے عاجز آ گیا ، تو میں نے چاہا کہ اسے چھوڑ دوں ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے آ ملے ، آپ نے اس کے لیے دعا کی اور اسے تھپتھپایا ، اب وہ ایسا چلا کہ اس طرح کبھی نہ چلا تھا ، آپ نے فرمایا : ” اسے ایک اوقیہ ( ۴۰ درہم ) میں مجھ سے بیچ دو “ ، میں نے کہا : نہیں ( بلکہ وہ آپ ہی کا ہے ) ، آپ نے فرمایا : ” اسے مجھ سے بیچ دو “ تو میں نے ایک اوقیہ میں اسے آپ کے ہاتھ بیچ دیا اور مدینے تک اس پر سوار ہو کر جانے کی شرط لگائی ۱؎ ، جب ہم مدینہ پہنچے تو میں اونٹ لے کر آپ کے پاس آیا اور اس کی قیمت چاہی ، پھر میں لوٹا تو آپ نے مجھے بلا بھیجا ، اور فرمایا : ” کیا تم سمجھتے ہو کہ میں نے کم قیمت لگائی تاکہ میں تمہارا اونٹ لے سکوں ، لو اپنا اونٹ بھی لے لو اور اپنے درہم بھی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4641]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ جائز شرط تھی اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر معاملہ کر لیا، یہی باب سے مناسبت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 34 (2097)، الاستقراض 1 (2385)، 18 (2406)، المظالم 26 (2470)، الشروط 4 (2718)، الجہاد 49 (2861)، 113 (2967)، صحیح مسلم/البیوع 42 (المساقاة 21) (715)، الرضاع 16 (715)، سنن ابی داود/البیوع 71 (3505)، سنن الترمذی/البیوع 30 (1253)، (تحفة الأشراف: 2341)، مسند احمد (3/299) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ , عَنْ مُغِيرَةَ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاضِحٍ لَنَا , ثُمَّ ذَكَرْتُ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ , ثُمَّ ذَكَرَ كَلَامًا مَعْنَاهُ , فَأُزْحِفَ الْجَمَلُ فَزَجَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَانْتَشَطَ حَتَّى كَانَ أَمَامَ الْجَيْشِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا جَابِرُ , مَا أَرَى جَمَلَكَ إِلَّا قَدِ انْتَشَطَ" , قُلْتُ: بِبَرَكَتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " بِعْنِيهِ , وَلَكَ ظَهْرُهُ حَتَّى تَقْدَمَ" , فَبِعْتُهُ وَكَانَتْ لِي إِلَيْهِ حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ وَلَكِنِّي اسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ , فَلَمَّا قَضَيْنَا غَزَاتَنَا وَدَنَوْنَا اسْتَأْذَنْتُهُ بِالتَّعْجِيلِ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ , قَالَ: " أَبِكْرًا تَزَوَّجْتَ أَمْ ثَيِّبًا؟" , قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا , يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو أُصِيبَ وَتَرَكَ جَوَارِيَ أَبْكَارًا , فَكَرِهْتُ أَنْ آتِيَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ , فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا , تُعَلِّمُهُنَّ وَتُؤَدِّبُهُنَّ فَأَذِنَ لِي , وَقَالَ لِي: " ائْتِ أَهْلَكَ عِشَاءً" , فَلَمَّا قَدِمْتُ أَخْبَرْتُ خَالِي بِبَيْعِي الْجَمَلَ فَلَامَنِي , فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَوْتُ بِالْجَمَلِ , فَأَعْطَانِي ثَمَنَ الْجَمَلِ وَالْجَمَلَ وَسَهْمًا مَعَ النَّاسِ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے سینچائی کرنے والے اونٹ پر بیٹھ کر جہاد کیا ، پھر انہوں نے لمبی حدیث بیان کی ، پھر ایک چیز کا تذکرہ کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ اونٹ تھک گیا تو اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈانٹا تو وہ تیز ہو گیا یہاں تک کہ سارے لشکر سے آگے نکل گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جابر ! تمہارا اونٹ تو لگ رہا ہے کہ بہت تیز ہو گیا ہے “ ، میں نے عرض کیا : آپ کے ذریعہ سے ہونے والی برکت سے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” اسے ، میرے ہاتھ بیچ دو ۔ البتہ تم ( مدینہ ) پہنچنے تک اس پر سوار ہو سکتے ہو “ ، چنانچہ میں نے اسے بیچ دیا حالانکہ مجھے اس کی سخت ضرورت تھی ۔ لیکن مجھے آپ سے شرم آئی ۔ جب ہم غزوہ سے فارغ ہوئے اور ( مدینے کے ) قریب ہوئے تو میں نے آپ سے جلدی سے آگے جانے کی اجازت مانگی ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے ابھی جلد شادی کی ہے ، آپ نے فرمایا : ” کنواری سے شادی کی ہے یا بیوہ سے ؟ “ میں نے عرض کیا : بیوہ سے ، اللہ کے رسول ! والد صاحب عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما مارے گئے اور انہوں نے کنواری لڑکیاں چھوڑی ہیں ، تو مجھے برا معلوم ہوا کہ میں ان کے پاس ان جیسی ( کنواری لڑکی ) لے کر آؤں ، لہٰذا میں نے بیوہ سے شادی کی ہے جو انہیں تعلیم و تربیت دے گی ، تو آپ نے مجھے اجازت دے دی اور مجھ سے فرمایا : ” اپنی بیوی کے پاس شام کو جانا “ ، جب میں مدینے پہنچا تو میں نے اپنے ماموں کو اونٹ بیچنے کی اطلاع دی ، تو انہوں نے مجھے ملامت کی ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو میں صبح کو اونٹ لے کر آپ کے پاس گیا ، تو آپ نے مجھے اونٹ کی قیمت ادا کی اور اونٹ بھی دے دیا اور ( مال غنیمت میں سے ) ایک حصہ سب لوگوں کے برابر دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4642]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , وَكُنْتُ عَلَى جَمَلٍ , فَقَالَ: " مَا لَكَ فِي آخِرِ النَّاسِ؟" , قُلْتُ: أَعْيَا بَعِيرِي فَأَخَذَ بِذَنَبِهِ ثُمَّ زَجَرَهُ , فَإِنْ كُنْتُ إِنَّمَا أَنَا فِي أَوَّلِ النَّاسِ يُهِمُّنِي رَأْسُهُ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ الْمَدِينَةِ , قَالَ: " مَا فَعَلَ الْجَمَلُ بِعْنِيهِ؟" , قُلْتُ: لَا , بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " لَا , بَلْ بِعْنِيهِ" , قُلْتُ: لَا , بَلْ هُوَ لَكَ , قَالَ: " لَا , بَلْ بِعْنِيهِ , قَدْ أَخَذْتُهُ بِوُقِيَّةٍ ارْكَبْهُ , فَإِذَا قَدِمْتَ الْمَدِينَةَ فَأْتِنَا بِهِ" , فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ جِئْتُهُ بِهِ , فَقَالَ لِبِلَالٍ: " يَا بِلَالُ , زِنْ لَهُ أُوقِيَّةً , وَزِدْهُ قِيرَاطًا" , قُلْتُ: هَذَا شَيْءٌ زَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُفَارِقْنِي , فَجَعَلْتُهُ فِي كِيسٍ فَلَمْ يَزَلْ عِنْدِي حَتَّى جَاءَ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ , فَأَخَذُوا مِنَّا مَا أَخَذُوا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا ، میں ایک اونٹ پر سوار تھا ۔ آپ نے فرمایا : ” کیا وجہ ہے کہ تم سب سے پیچھے میں ہو ؟ “ میں نے عرض کیا : میرا اونٹ تھک گیا ہے ، آپ نے اس کی دم کو پکڑا اور اسے ڈانٹا ، اب حال یہ تھا کہ میں سب سے آگے تھا ، ( ایسا نہ ہو کہ لوگوں کے اونٹ سے آگے بڑھ جائے اس لیے ) مجھے اس کے سر سے ڈر ہو رہا تھا ، تو جب ہم مدینے سے قریب ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اونٹ کا کیا ہوا ؟ اسے میرے ہاتھ بیچ دو “ ، میں نے عرض کیا : نہیں ، بلکہ وہ آپ ہی کا ہے ، اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” نہیں ، اسے میرے ہاتھ بیچ دو “ ، میں نے عرض کیا : نہیں ، بلکہ وہ آپ ہی کا ہے ، آپ نے کہا : ” نہیں ، بلکہ اسے میرے ہاتھ بیچ دو ، میں نے اسے ایک اوقیہ میں لے لیا ، تم اس پر سوار ہو اور جب مدینہ پہنچ جاؤ تو اسے ہمارے پاس لے آنا “ ، جب میں مدینے پہنچا تو اسے لے کر آپ کے پاس آیا ، آپ نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” بلال ! انہیں ایک اوقیہ ( چاندی ) دے دو اور ایک قیراط مزید دے دو “ ، میں نے عرض کیا : یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زیادہ دیا ہے ، ( یہ سوچ کر کہ ) وہ مجھ سے کبھی جدا نہ ہو ، تو میں نے اسے ایک تھیلی میں رکھا ، پھر وہ قیراط میرے پاس برابر رہا یہاں تک کہ حرہ کے دن ۱؎ اہل شام آئے اور ہم سے لوٹ لے گئے جو لے گئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4643]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ واقعہ ۶۳؁ھ میں پیش آیا تھا، اس میں یزید کے لشکر نے مدینے پر چڑھائی کی تھی۔ حرہ کالے پتھروں والی زمین کو کہتے ہیں جو مدینے کے مشرقی اور مغربی علاقہ کی زمین ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الشروط 4 (2718 تعلیقًا)، صحیح مسلم/البیوع 42 (715)، (تحفة الأشراف: 2243)، مسند احمد (3/314) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: أَدْرَكَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكُنْتُ عَلَى نَاضِحٍ لَنَا سَوْءٍ , فَقُلْتُ: لَا يَزَالُ لَنَا نَاضِحُ سَوْءٍ يَا لَهْفَاهُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَبِيعُنِيهِ , يَا جَابِرُ؟" , قُلْتُ: بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ , اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ , قَدْ أَخَذْتُهُ بِكَذَا وَكَذَا , وَقَدْ أَعَرْتُكَ ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ" , فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ هَيَّأْتُهُ , فَذَهَبْتُ بِهِ إِلَيْهِ , فَقَالَ: " يَا بِلَالُ أَعْطِهِ ثَمَنَهُ" , فَلَمَّا أَدْبَرْتُ دَعَانِي فَخِفْتُ أَنْ يَرُدَّهُ , فَقَالَ: " هُوَ لَكَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پایا کہ میں اپنے سینچنے والے اونٹ پر سوار تھا ، میں نے عرض کیا : افسوس ! ہمارے پاس ہمیشہ پانی سینچنے والا اونٹ ہی رہتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جابر ! کیا تم اسے میرے ہاتھ بیچو گے ؟ “ میں نے عرض کیا : یہ تو آپ ہی کا ہے ، اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” اے اللہ ! اس کی مغفرت کر ، اس پر رحم فرما ، میں نے تو اسے اتنے اتنے دام پر لے لیا ہے ، اور مدینے تک اس پر سوار ہو کر جانے کی تمہیں اجازت دی ہے “ ، جب میں مدینے آیا تو اسے تیار کر کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلال ! انہیں اس کی قیمت دے دو “ ، جب میں لوٹنے لگا تو آپ نے مجھے بلایا ، مجھے اندیشہ ہوا کہ آپ اسے لوٹائیں گے ، آپ نے فرمایا : ” یہ تمہارا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4644]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد منكر المتن
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفردہ بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2769) (ضعیف) (سند ضعیف ہے، اور متن منکر ہے، اس لیے کہ اس کے راوی ابو زبیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اس کے متن میں پچھلے متن سے تعارض بھی ہے جو واضح ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: كُنَّا نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى نَاضِحٍ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا , وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ؟" , قُلْتُ: نَعَمْ , هُوَ لَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ , قَالَ: " أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا , وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ؟" , قُلْتُ: نَعَمْ , هُوَ لَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ , قَالَ: " أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا , وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ؟" , قُلْتُ: نَعَمْ , هُوَ لَكَ , قَالَ أَبُو نَضْرَةَ: وَكَانَتْ كَلِمَةً يَقُولُهَا الْمُسْلِمُونَ: افْعَلْ كَذَا وَكَذَا , وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے ، میں سینچائی کرنے والے ایک اونٹ پر سوار تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم اسے میرے ہاتھ اتنے اتنے میں بیچو گے ؟ اللہ تمہیں معاف کرے “ ، میں نے عرض کیا : ہاں ، اللہ کے نبی ! وہ آپ کا ہی ہے ، آپ نے فرمایا : ” کیا تم اسے میرے ہاتھ اتنے اور اتنے میں بیچو گے ؟ اللہ تمہیں معاف کرے “ ، میں نے عرض کیا : ہاں ، اللہ کے نبی ! وہ آپ ہی کا ہے ، آپ نے فرمایا : ” کیا تم اسے میرے ہاتھ اتنے اور اتنے میں بیچو گے ؟ اللہ تمہیں معاف کرے “ ، میں نے عرض کیا : ہاں ، وہ آپ ہی کا ہے ۔ ابونضرہ کہتے ہیں : یہ مسلمانوں کا تکیہ کلام تھا کہ جب کسی سے کہتے : ایسا ایسا کرو تو کہتے : «واللہ یغفر لک» ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4645]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الشروط 4 (2718 تعلیقًا)، صحیح مسلم/الرضاع 16 (715)، سنن ابن ماجہ/التجارات 29 (2205)، (تحفة الأشراف: 3101)، مسند احمد (3/373) (صحیح)
78: بَابُ : الْبَيْعِ يَكُونُ فِيهِ الشَّرْطُ الْفَاسِدُ فَيَصِحُّ الْبَيْعُ وَيَبْطُلُ الشَّرْطُ
باب: بیع میں اگر شرط فاسد ہو تو بیع صحیح ہو جائے گی اور شرط باطل ہو گی۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا , فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " أَعْتِقِيهَا , فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ" , قَالَتْ: فَأَعْتَقْتُهَا , قَالَتْ: فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا , فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا , وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدا تو ان کے گھر والوں نے ولاء ( وراثت ) کی شرط لگائی ، میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ، تو آپ نے فرمایا : ” اسے آزاد کر دو ، کیونکہ ولاء ( وراثت ) اس کا حق ہے جس نے درہم ( روپیہ ) دیا ہے “ ، چنانچہ میں نے انہیں آزاد کر دیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور انہیں ان کے شوہر کے بارے میں اختیار دیا ۱؎ تو بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کی زوجیت میں نہ رہنے کو ترجیح دی ، حالانکہ ان کے شوہر آزاد تھے ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4646]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی چاہیں تو اس شوہر کی زوجیت میں رہیں جن سے غلامی میں نکاح ہوا تھا، اور چاہیں تو ان کی زوجیت میں نہ رہیں۔ ۲؎: صحیح واقعہ یہ ہے کہ وہ اس وقت غلام تھے، اسی لیے تو بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا گیا، اگر وہ آزاد ہوتے تو بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا ہی نہیں جاتا، (دیکھئیے حدیث رقم ۲۶۱۵ و ۳۴۷۹) اس حدیث کی باب سے مناسبت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء والی شرط کو باطل قرار دے کر باقی معاملہ (بریرہ کی بیع کو) صحیح قرار دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله وكان زوجها حرا فإنه شاذ والمحفوظ أنه كان عبدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 3479 (صحیح) (لیکن ”وکان زوجھا حراً“ کا لفظ شاذ ہے، محفوظ روایت یہی ہے کہ بریرہ کے شوہر غلام تھے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ , عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ وَأَنَّهُمُ اشْتَرَطُوا وَلَاءَهَا , فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا , فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ" , وَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ , فَقِيلَ: هَذَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ , فَقَالَ: " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ , وَلَنَا هَدِيَّةٌ" , وَخُيِّرَتْ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے غلامی سے آزاد کرنے کے لیے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدنا چاہا ، لوگوں نے ان کے ولاء ( وراثت ) کی شرط لگائی ، انہوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں خرید کر آزاد کر دو ، کیونکہ ولاء ( وراثت ) کا حق اسی کا ہے جو آزاد کرے “ ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا تو کہا گیا : یہ تو بریرہ پر کیا گیا صدقہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے تحفہ ( ہدیہ ) ہے “ ، اور انہیں ( بریرہ کو ) اختیار دیا گیا ( شوہر کے ساتھ رہنے اور نہ رہنے کا ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4647]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 3484 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنَّ عَائِشَةَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تَعْتِقُهَا , فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ الْوَلَاءَ لَنَا , فَذَكَرَتْ ذَلِكِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ , فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے لونڈی خریدنا چاہی تاکہ اسے آزاد کریں ، تو اس کے گھر والوں ( مالکان ) نے کہا : ہم اسے آپ سے اس شرط پر بیچیں گے کہ ولاء ( حق وراثت ) ہمارا ہو گا ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا : ” تم اس وجہ سے مت رک جانا ، کیونکہ ولاء ( وراثت ) تو اس کے لیے ہے جو آزاد کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4648]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 73 (2169)، المکاتب2(2562)، الفرائض 19 (6751)، 22(6757)، صحیح مسلم/العتق 2 (1504)، سنن ابی داود/الفرائض 12 (2915)، (تحفة الأشراف: 8334)، موطا امام مالک/العتق 10 (18)، مسند احمد (2/28، 113، 153، 156)، وانظر أیضا حدیث رقم: 2615 (صحیح)
79: بَابُ : بَيْعِ الْمَغَانِمِ قَبْلَ أَنْ تُقْسَمَ
باب: تقسیم سے پہلے مال غنیمت بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ , وَعَنِ الْحَبَالَى أَنْ يُوطَأْنَ حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ , وَعَنْ لَحْمِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم ہونے سے پہلے مال غنیمت بیچنے ، حاملہ عورتوں ۱؎ کے ساتھ بچہ کی پیدائش سے پہلے جماع کرنے اور ہر دانت والے درندے کے گوشت ( کھانے ) سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4649]
💡 وضاحت:
۱؎: مال غنیمت میں ملی ہوئی لونڈیاں مراد ہیں، اگر وہ حاملہ ہوں تو ان کو پانے والے مجاہد ان کے بچہ جننے کے بعد ہی ان سے مباشرت کر سکتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 6408) (صحیح)
80: بَابُ : بَيْعِ الْمَشَاعِ
باب: مشترکہ مال بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شِرْكٍ رَبْعَةٍ , أَوْ حَائِطٍ لَا يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ , فَإِنْ بَاعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ حَتَّى يُؤْذِنَهُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شفعہ کا حق ہر چیز میں ہے ، زمین ہو یا کوئی احاطہٰ ( باغ وغیرہ ) ، کسی حصہ دار کے لیے جائز نہیں کہ اپنے دوسرے حصہ دار کی اجازت کے بغیر اپنا حصہ بیچے ، اگر اس نے بیچ دیا تو وہ ( دوسرا حصہ دار ) اس کا زیادہ حقدار ہو گا یہاں تک کہ وہ خود اس کی اجازت دیدے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4650]
💡 وضاحت:
۱؎: «شفعہ» : زمین، باغ گھر وغیرہ میں ایسی ساجھے داری کو کہتے ہیں جس میں کسی فریق کا حصہ متعین نہ ہو کہ ہمارا حصہ یہاں سے یہاں تک ہے اور دوسرے کا حصہ یہاں سے یہاں تک ہے بس مطلق ملکیت میں سب کی ساجھے داری ہو، ایسا ساجھے دار اگر اپنا حصہ بیچنا چاہتا ہے تو دوسرے شریک کو پہلے بتائے، اگر وہ اسی قیمت پر لینے پر راضی ہو جائے تو اسی کا حق ہے، اگر جازت دیدے تب دوسرے سے بیچنا جائز ہو گا، اور اگر اس کی اجازت کے بغیر بیچ دیا تو وہ اس بیع کو قاضی منسوخ کرا سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساقاة 28 (البیوع49) (1608)، سنن ابی داود/البیوع 75 (3513)، (تحفة الأشراف: 2806)، مسند احمد (3/312، 316، 357، 397)، سنن الدارمی/البیوع 83 (2670)، ویأتي عندالمؤلف برقم: 4705 (صحیح)
81: بَابُ : التَّسْهِيلِ فِي تَرْكِ الإِشْهَادِ عَلَى الْبَيْعِ
باب: بیع میں گواہ نہ کرنے کی سہولت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ مَرْوَانَ بْنِ الْهَيْثَمِ بْنِ عِمْرَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ حَمْزَةَ , عَنْ الزُّبَيْدِيِّ , أَنَّ الزُّهْرِيَّ أَخْبَرَهُ , عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، أَنَّ عَمَّهُ حَدَّثَهُ وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَ فَرَسًا مِنْ أَعْرَابِيٍّ وَاسْتَتْبَعَهُ لِيَقْبِضَ ثَمَنَ فَرَسِهِ , فَأَسْرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَبْطَأَ الْأَعْرَابِيُّ وَطَفِقَ الرِّجَالُ يَتَعَرَّضُونَ لِلْأَعْرَابِيِّ , فَيَسُومُونَهُ بِالْفَرَسِ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَهُ , حَتَّى زَادَ بَعْضُهُمْ فِي السَّوْمِ عَلَى مَا ابْتَاعَهُ بِهِ مِنْهُ , فَنَادَى الْأَعْرَابِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ مُبْتَاعًا هَذَا الْفَرَسَ وَإِلَّا بِعْتُهُ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَمِعَ نِدَاءَهُ، فَقَالَ: " أَلَيْسَ قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ؟" , قَالَ: لَا , وَاللَّهِ مَا بِعْتُكَهُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ" , فَطَفِقَ النَّاسُ يَلُوذُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالْأَعْرَابِيِّ وَهُمَا يَتَرَاجَعَانِ وَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ يَقُولُ: هَلُمَّ شَاهِدًا يَشْهَدُ أَنِّي قَدْ بِعْتُكَهُ , قَالَ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ: أَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بِعْتَهُ , قَالَ: فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خُزَيْمَةَ , فَقَالَ: " لِمَ تَشْهَدُ؟" , قَالَ: بِتَصْدِيقِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَةَ خُزَيْمَةَ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ.
صحابی رسول عمارہ بن خزیمہ کے چچا ( خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ ) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی ( دیہاتی ) سے ایک گھوڑا خریدا ، اور اس سے پیچھے پیچھے آنے کو کہا تاکہ وہ اپنے گھوڑے کی قیمت لے لے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے اور اعرابی سست رفتاری سے چلا ، لوگ اعرابی سے پوچھنے لگے اور گھوڑا خریدنے کے لیے ( بڑھ بڑھ کر قیمتیں لگانے لگے ) انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے خرید چکے ہیں ، یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے اس سے زیادہ قیمت لگا دی جتنے پر آپ نے اس سے خریدا تھا ، اعرابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا ، اگر آپ اس گھوڑے کو خریدیں تو ٹھیک ورنہ میں اسے بیچ دوں ، آپ نے جب اس کی پکار سنی تو ٹھہر گئے اور فرمایا : ” کیا میں نے اسے تم سے خریدا نہیں ہے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم ! میں نے اسے آپ سے بیچا نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اسے تم سے خرید چکا ہوں “ ۱؎ ، اب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اعرابی کے اردگرد اکٹھا ہونے لگے ، دونوں تکرار کر رہے تھے ، اعرابی کہنے لگا : ” گواہ لائیے جو گواہی دے کہ میں اسے آپ سے بیچ چکا ہوں “ ، خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اسے بیچ چکے ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ” تم گواہی کیسے دے رہے ہو “ ؟ انہوں نے کہا : آپ کے سچا ہونے پر یقین ہونے کی وجہ سے ۲؎ ، اللہ کے رسول ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4651]
💡 وضاحت:
۱؎: اگر اس خرید و فروخت میں گواہوں کا انتظام کیا گیا ہوتا تو وہ دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گواہ طلب ہی نہیں کرتا، اس نے سوچا کہ گواہ نہ ہونے کا فائدہ اٹھا کر زیادہ قیمت پر بیچ دوں گا، پتہ چلا کہ خرید و فروخت میں گواہی کا ضروری نہیں، ورنہ آپ ضرور اس کا انتظام کرتے۔ ۲؎: چونکہ آپ سچے ہیں اس لیے آپ کا یہ دعویٰ ہی میرے لیے کافی ہے کہ آپ خرید چکے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأقضیة 20 (3607)، (تحفة الأشراف: 15646)، مسند احمد (5/215) (صحیح)
82: بَابُ : اخْتِلاَفِ الْمُتَبَايِعَيْنِ فِي الثَّمَنِ
باب: بیچنے اور خریدنے والے کے درمیان قیمت کے بارے میں اختلاف ہو جانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَال عَبْدُ اللَّهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ , فَهُوَ مَا يَقُولُ رَبُّ السِّلْعَةِ , أَوْ يَتْرُكَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” بیچنے اور خریدنے والے میں اختلاف ہو جائے اور ان میں سے کسی کے پاس گواہ نہ ہو تو اس کی بات کا اعتبار ہو گا جو صاحب مال ( بیچنے والا ) ہے ۱؎ ( اور خریدار کو اسی قیمت پر لینا ہو گا ) یا پھر دونوں بیع ترک کر دیں “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4652]
💡 وضاحت:
۱؎: مگر قسم کھانے کے بعد، جیسا کہ دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے۔ ۲؎: خریدنے اور بیچنے والے کے درمیان قیمت کی تعیین میں اگر اختلاف ہو جائے اور ان کے درمیان کوئی گواہ موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں بیچنے والا قسم کھا کر کہے گا کہ میں نے اس سامان کو اتنے میں نہیں بلکہ اتنے میں بیچا ہے اب خریدار اس کی قسم اور قیمت کی تعیین پر راضی ہے تو بہتر ورنہ بیع کا معاملہ ہی ختم کر دیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع 74 (3511)، (تحفة الأشراف: 9546) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ , وَاللَّفْظُ لإِبْرَاهِيمَ , قَالُوا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ أُمَيَّةَ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ , قَالَ: حَضَرْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , أَتَاهُ رَجُلَانِ تَبَايَعَا سِلْعَةً , فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَخَذْتُهَا بِكَذَا وَبِكَذَا , وَقَالَ هَذَا: بِعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا , فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: أُتِيَ ابْنُ مَسْعُودٍ فِي مِثْلِ هَذَا , فَقَالَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِمِثْلِ هَذَا ," فَأَمَرَ الْبَائِعَ أَنْ يَسْتَحْلِفَ , ثُمَّ يَخْتَارَ الْمُبْتَاعُ , فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ , وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ".
عبدالملک بن عبید کہتے ہیں کہ ہم ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود کے پاس حاضر ہوئے ، ان کے پاس دو آدمی آئے جنہوں نے ایک سامان کی خرید و فروخت کر رکھی تھی ، ان میں سے ایک نے کہا : میں نے اسے اتنے اور اتنے میں لیا ہے ، دوسرے نے کہا : میں نے اسے اتنے اور اتنے میں بیچا ہے تو ابوعبیدہ نے کہا : ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بھی ایسا ہی مقدمہ آیا تو انہوں نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ کے پاس ایسا ہی مقدمہ آیا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بائع کو قسم کھانے کا حکم دیا پھر ( فرمایا : خریدار ) کو اختیار ہے ، چاہے تو اسے لے اور چاہے تو چھوڑ دے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4653]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9611) (صحیح) (پچھلی روایت نیز دیگر متابعات و شواہد کی بنا پر یہ روایت صحیح ہے ورنہ اس کے راوی ’’عبدالملک بن عبید‘‘ مجہول ہیں، اور ’’ابو عبیدہ‘‘ کا اپنے باپ ’’ابن مسعود رضی الله عنہ‘‘ سے سماع نہیں ہے)
83: بَابُ : مُبَايَعَةِ أَهْلِ الْكِتَابِ
باب: اہل کتاب(یہود و نصاریٰ) سے خرید و فروخت کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا بِنَسِيئَةٍ وَأَعْطَاهُ دِرْعًا لَهُ رَهْنًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے ادھار اناج ( غلہ ) خریدا اور اسے اپنی ایک زرہ بطور رہن دی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4654]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4613 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ هِشَامٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ لِأَهْلِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس گھر والوں کی خاطر تیس صاع جَو کے بدلے رہن ( گروی ) رکھی ہوئی تھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4655]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/البیوع 7 (1214)، (تحفة الأشراف: 6228)، مسند احمد (1/236، 300، 361)، سنن الدارمی/البیوع 44 (2624) (صحیح)
84: بَابُ : بَيْعِ الْمُدَبَّرِ
باب: مدبر غلام کو بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " أَلَكَ مَالٌ غَيْرُهُ؟"، قَالَ: لَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي؟" , فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ , فَجَاءَ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا , فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ فَلِأَهْلِكَ , فَإِنْ فَضَلَ مِنْ أَهْلِكَ شَيْءٌ فَلِذِي قَرَابَتِكَ , فَإِنْ فَضَلَ مِنْ ذِي قَرَابَتِكَ شَيْءٌ فَهَكَذَا , وَهَكَذَا وَهَكَذَا , يَقُولُ بَيْنَ يَدَيْكَ , وَعَنْ يَمِينِكَ , وَعَنْ شِمَالِكَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنی عذرہ کے ایک شخص نے اپنا ایک غلام بطور مدبر آزاد ( یعنی مرنے کے بعد آزاد ہونے کی شرط پر ) کر دیا ، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی ، تو آپ نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس اس کے علاوہ کوئی مال ہے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” اس غلام کو مجھ سے کون خریدے گا ؟ “ چنانچہ اسے نعیم بن عبداللہ عدوی رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں خرید لیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ( دراہم ) کو لے کر آئے اور اسے ادا کر دیا ، پھر فرمایا : ” اپنی ذات سے شروع کرو اور اس پر صدقہ کرو ، پھر کچھ بچ جائے تو وہ تمہارے گھر والوں کا ہے ، تمہارے گھر والوں سے بچ جائے تو تمہارے رشتے داروں کے لیے ہے اور اگر تمہارے رشتے داروں سے بھی بچ جائے تو اس طرح اور اس طرح “ ، اپنے سامنے ، اپنے دائیں اور بائیں اشارہ کرتے ہوئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4656]
💡 وضاحت:
۱؎: «مدبر» : وہ غلام ہے جس کا مالک اس سے کہے کہ تم میرے مرنے کے بعد آزاد ہو۔ اگر «مدبّر» کرنے والا مالک محتاج ہو جائے تو اس «مدبّر» غلام کو بیچا جا سکتا ہے، جیسا کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، دیگر روایات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ آدمی محتاج تھا اور اس پر قرض تھا، امام بخاری اور مؤلف نیز دیگر علماء مطلق طور پر «مدبّر» کے بیچنے کو جائز مانتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 2547 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل , قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ: " أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ , يُقَالُ لَهُ: أَبُو مَذْكُورٍ , أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ يُقَالُ لَهُ: يَعْقُوبُ , لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ , فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَنْ يَشْتَرِيهِ؟" , فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ , وَقَالَ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ , فَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَعَلَى عِيَالِهِ , فَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَعَلَى قَرَابَتِهِ , أَوْ عَلَى ذِي رَحِمِهِ , فَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَهَهُنَا , وَهَهُنَا".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابومذکور نامی انصاری نے ایک یعقوب نامی غلام کو مدبر کے طور پر آزاد کیا ، اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہ تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا : ” اسے کون خریدے گا ؟ “ اسے نعیم ابن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں خریدا ، آپ نے اس ( انصاری ) کو وہ ( درہم ) دے کر فرمایا : ” تم میں جب کوئی محتاج ہو تو پہلے اپنی ذات سے شروع کرے ، پھر اگر بچے تو اپنے گھر والوں پر ، پھر اگر بچے تو اپنے رشتے داروں پر ، اور اگر پھر بھی بچ رہے تو ادھر ادھر “ ( یعنی دوسرے فقراء پر خرچ کرے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4657]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الزکاة 13 (997)، سنن ابی داود/العتق 9 (3957)، (تحفة الأشراف: 2667)، مسند احمد (3/301، 369) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , وَابْنُ أَبِي خَالِدٍ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرٍ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاعَ الْمُدَبَّرَ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر ( غلام ) کو بیچ دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4658]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 110 (2230)، سنن ابی داود/العتق 9 (3955)، سنن ابن ماجہ/العتق 1 (الأحکام 94) (2512)، (تحفة الأشراف: 2416)، مسند احمد (3/301، 370، 390)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5420 (صحیح)
85: بَابُ : بَيْعِ الْمُكَاتِبِ
باب: مکاتب غلام کو بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ , فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ , فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونَ لَنَا وَلَاؤُكِ , فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ابْتَاعِي وَأَعْتِقِي , فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ" , ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ , فَمَنِ اشْتَرَطَ شَيْئًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ , فَلَيْسَ لَهُ , وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ , وَشَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں ، اپنی کتابت کے سلسلے میں ان کی مدد چاہتی تھیں ، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : تم اپنے گھر والوں ( مالکوں ) کے پاس لوٹ جاؤ ، اب اگر وہ پسند کریں کہ میں تمہاری مکاتبت ( کی رقم ) ادا کر دوں اور تمہارا ولاء ( حق وراثت ) میرے لیے ہو گا تو میں ادا کر دوں گی ، بریرہ رضی اللہ عنہا نے اس کا تذکرہ اپنے گھر والوں سے کیا تو انہوں نے انکار کیا اور کہا : اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کرنا چاہتی ہیں تو کریں البتہ تمہارا ولاء ( ترکہ ) ہمارے لیے ہو گا ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” انہیں خرید لو ۲؎ اور آزاد کر دو “ ۔ ولاء ( وراثت ) تو اسی کا ہے جس نے آزاد کیا ، پھر آپ نے فرمایا : ” کیا حال ہے ان لوگوں کا جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں نہیں ہیں ، لہٰذا اگر کوئی ایسی شرط لگائے جو اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں نہ ہو ، تو وہ پوری نہ ہو گی گرچہ سو شرطیں لگائی گئی ہوں ، اللہ کی شرط قبول کرنے اور اعتماد کرنے کے لائق ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4659]
💡 وضاحت:
۱؎: «مکاتب» : وہ غلام ہے جس کا مالک اس سے کہے کہ اگر تم اتنی اتنی رقم اتنی مدت میں، یا جب بھی کما کر ادا کر دے تو تم آزاد ہو۔ ۲؎: بریرہ رضی اللہ عنہا نے چونکہ ابھی تک «مکاتبت» (معاہدہ آزادی) کی کوئی قسط ادا نہیں کی تھی، اس لیے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کل رقم ادا کر کے انہیں خرید لیا، یہی باب سے مناسبت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 67 (2155)، المکاتب 2 (2561)، الشروط3(2717)، صحیح مسلم/العتق 2 (1504)، سنن ابی داود/العتق 2 (3929)، سنن الترمذی/الوصایا 7 (2124)، (تحفة الأشراف: 16580)، موطا امام مالک/العتق 10 (17)، مسند احمد (6/81) (صحیح)
86: بَابُ : الْمُكَاتَبِ يُبَاعُ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ مِنْ كِتَابَتِهِ شَيْئًا
باب: مکاتب نے اگر بدل کتابت میں سے کچھ نہ ادا کیا ہو تو اسے بیچا جا سکتا ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ يُونُسُ , وَاللَّيْثُ , أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُمْ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ إِلَيَّ، فَقَالَتْ: يَا عَائِشَةُ , إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ , فَأَعِينِينِي وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا , فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ , وَنَفِسَتْ فِيهَا: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أُعْطِيَهُمْ ذَلِكَ جَمِيعًا وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ , فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا فَعَرَضَتْ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا , وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ , وَيَكُونَ ذَلِكِ لَنَا , فَذَكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ مِنْهَا ابْتَاعِي , وَأَعْتِقِي , فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ" , فَفَعَلَتْ , وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ , فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى , ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ , فَمَا بَالُ النَّاسِ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَنْ , اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ , وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ , قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ , وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا نے آ کر کہا : عائشہ ! میں نے نو اوقیہ کے بدلے اپنے گھر والوں ( مالکوں ) سے مکاتبت کر لی ہے کہ ہر سال ایک اوقیہ دوں گی تو آپ میری مدد کریں ۔ ( اس وقت ) انہوں نے اپنی کتابت میں سے کچھ بھی ادا نہ کیا تھا ۔ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا اور ان میں دلچسپی لے رہی تھیں : جاؤ اپنے لوگوں ( مالکوں ) کے پاس اگر وہ پسند کریں کہ میں انہیں یہ رقم ادا کر دوں اور تمہارا ولاء ( حق وراثت ) میرے لیے ہو گا تو میں ایسا کروں ، بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے لوگوں ( مالکوں ) کے پاس گئیں اور ان کے سامنے یہ بات پیش کی ، تو انہوں نے انکار کیا اور کہا : اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کرنا چاہتی ہیں تو کریں لیکن وہ ولاء ( ترکہ ) ہمارا ہو گا ، اس کا ذکر عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا : ” یہ چیز تمہیں ان سے مانع نہ رکھے ، خریدو اور آزاد کر دو ، ولاء ( ترکہ ) تو اسی کا ہے جس نے آزاد کیا “ ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے اور حمد و ثنا کے بعد فرمایا : ” امابعد ، لوگوں کا کیا حال ہے ، وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں نہیں ہوتیں ، جو ایسی شرط لگائے گا جو اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں نہیں ہے تو وہ باطل ہے گرچہ وہ سو شرطیں ہوں ، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ زیادہ قابل قبول اور اللہ تعالیٰ کی شرط زیادہ لائق بھروسہ ہے ، ولاء ( حق وراثت ) اسی کا ہے جس نے آزاد کیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4660]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
87: بَابُ : بَيْعِ الْوَلاَءِ
باب: ولاء (حق وراثت) کے بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ , وَعَنْ هِبَتِهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء ( وراثت ) کو بیچنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4661]
💡 وضاحت:
۱؎: اگر کسی نے غلام کو آزاد کیا تو اس غلام کے مرنے پر اگر اس کے عصبہ وارث نہ ہوں، تو آزاد کرنے والا عصبہ ہو گا، اور عصبہ والا ترکے کا حقدار ہو گا اسی کو ولاء کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/العتق 3 (1506)، (تحفة الأشراف: 7223)، موطا امام مالک/العتق 10 (20)، مسند احمد (2/9، 79، 107)، سنن الدارمی/البیوع 36 (2614) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ , وَعَنْ هِبَتِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء ( حق وراثت ) بیچنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4662]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7150)، سنن الدارمی/الفرائض 53 (3200) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ , وَعَنْ هِبَتِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء بیچنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4663]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/العتق 3 (1506م)، سنن ابی داود/الفرائض 14 (2919)، سنن الترمذی/البیوع 20 (1236)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 15 (2747)، (تحفة الأشراف: 7189)، مسند احمد (2/79، 107)، سنن الدارمی/الفرائض 53 (3201) (صحیح)
88: بَابُ : بَيْعِ الْمَاءِ
باب: پانی بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ , عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ , عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4664]
💡 وضاحت:
۱؎: مراد نہر اور چشمے وغیرہ کا پانی جو کسی کی ذاتی ملکیت میں نہ ہو، اور اگر پانی پر کسی کا کسی طرح کا خرچ آیا ہو تو ایسے پانی کا بیچنا منع نہیں ہے، جیسے راستوں میں ٹھنڈا پانی، مینرل واٹر وغیرہ بیچنا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2399)، مسند احمد (3/356)، سنن الدارمی/البیوع 69 (2654)، وانظر أیضا حدیث رقم: 4647 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَاللَّفْظُ لَهُ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ , يَقُولُ: سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ عُمَرَ , وَقَالَ مَرَّةً: ابْنَ عَبْدٍ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَنْهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ" , قَالَ قُتَيْبَةُ: لَمْ أَفْقَهْ عَنْهُ بَعْضَ حُرُوفِ أَبِي الْمِنْهَالِ كَمَا أَرَدْتُ.
ایاس بن عمر ( یا ابن عبد ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی بیچنے سے منع فرماتے ہوئے سنا ۔ قتیبہ کہتے ہیں : مجھے ان ( سفیان ) سے ایک مرتبہ ابومنہال کے بعض کلمات سمجھ میں نہیں آئے جیسا میں نے چاہا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4665]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع 63 (3478)، سنن الترمذی/البیوع 44 (1271)، سنن ابن ماجہ/الرہون 18 (الأحکام 79) (2476)، (تحفة الأشراف: 1747)، مسند احمد (3/138) (صحیح)
89: بَابُ : بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ
باب: فاضل پانی بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ , عَنْ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ , عَنْ إِيَاسٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ".
ایاس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاضل پانی کے بیچنے سے منع فرمایا ہے ، وہط کے نگراں نے وہط کا فاضل پانی بیچا تو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے اسے ناپسند کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4666]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , عَنْ حَجَّاجٍ , قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ , أَنَّ أَبَا الْمِنْهَالِ أَخْبَرَهُ , أَنَّ إِيَاسَ بْنَ عَبْدٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: لَا تَبِيعُوا فَضْلَ الْمَاءِ , فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ".
ابومنہال نے خبر دی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ایاس بن عبد رضی اللہ عنہ نے کہا : فاضل پانی مت بیچو ، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاضل پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4667]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4665 (صحیح)
90: بَابُ : بَيْعِ الْخَمْرِ
باب: شراب بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ ابْنِ وَعْلَةَ الْمِصْرِيِّ , أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَمَّا يُعْصَرُ مِنَ الْعِنَبِ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَهْدَى رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَهَا؟" , فَسَارَّ وَلَمْ أَفْهَمْ مَا سَارَّ كَمَا أَرَدْتُ , فَسَأَلْتُ إِنْسَانًا إِلَى جَنْبِهِ , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِمَ سَارَرْتَهُ؟"، قَالَ: أَمَرْتُهُ أَنْ يَبِيعَهَا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا , حَرَّمَ بَيْعَهَا" , فَفَتَحَ الْمَزَادَتَيْنِ حَتَّى ذَهَبَ مَا فِيهِمَا".
ابن وعلہ مصری سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے انگور کے رس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا : ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شراب کی مشکیں تحفہ میں دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” کیا تمہیں علم ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قرار دیا ہے ؟ “ پھر اس نے کانا پھوسی کی - میں اس بات کو اچھی طرح نہیں سمجھ سکا تو میں نے اس کی بغل کے آدمی سے پوچھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا : ” تم نے اس سے کیا کانا پھوسی کی ؟ “ ، وہ بولا : میں نے اس سے کہا کہ وہ اسے بیچ دے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس ذات نے اس کا پینا حرام کیا ہے ، اس نے اس کا بیچنا بھی حرام کیا ہے “ ، تو اس آدمی نے دونوں مشکوں کا منہ کھول دیا یہاں تک کہ جو کچھ اس میں تھا بہہ گیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4668]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساقاة 12 (البیوع 334) (1579)، (تحفة الأشراف: 5823)، موطا امام مالک/الأشربة 5 (12)، مسند احمد (1/230، 244، 323، 358)، سنن الدارمی/البیوع 35 (2613) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ أَبِي الضُّحَى , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " لَمَّا نَزَلَتْ آيَاتُ الرِّبَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ , فَتَلَاهُنَّ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب سود سے متعلق آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور لوگوں کے سامنے ان کی تلاوت کی ، پھر شراب کی تجارت حرام قرار دی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4669]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 73 (459)، البیوع 25 (2084)، 105 (2226)، تفسیر آل عمران 49-52 (4540، 4543)، صحیح مسلم/المساقاة 12 (البیوع 33) (1580)، سنن ابی داود/البیوع 66 (3491)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 7 (3312)، (تحفة الأشراف: 17636)، مسند احمد (6/46، 100، 127، 186، 1890، 287)، سنن الدارمی/البیوع 35 (2612) (صحیح)
91: بَابُ : بَيْعِ الْكَلْبِ
باب: کتا بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنَ عَمْرٍو , قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ , وَمَهْرِ الْبَغِيِّ , وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ".
ابومسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت ، زانیہ عورت کی کمائی اور نجومی کی آمدنی سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4670]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4297 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عِيسَى , قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْيَاءَ حَرَّمَهَا: " وَثَمَنُ الْكَلْبِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی چیزوں کو حرام قرار دیا ، کتے کی قیمت کو ( بھی ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4671]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (صحیح)
92: بَابُ : مَا اسْتُثْنِيَ
باب: مذکورہ بالا حکم سے مستثنیٰ کتے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , قَالَ: أَنْبَأَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ , إِلَّا كَلْبِ صَيْدٍ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا مُنْكَرٌ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے ، اور بلی کی قیمت سے منع فرمایا سوائے شکاری کتے کے ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : یہ حدیث منکر ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4672]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ ثقہ راویوں کی روایت میں «إلا کلب صید» کا ذکر نہیں ہے، اس کے رواۃ حجاج مختلط، اور ابوالزبیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (4300) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 355
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4300 (صحیح) (لیکن ’’إلا کلب صید‘‘ کا جملہ صحیح نہیں ہے، اور یہ جملہ صحیح مسلم میں بھی نہیں ہے)
93: بَابُ : بَيْعِ الْخِنْزِيرِ
باب: سور بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ , وَهُوَ بِمَكَّةَ: " إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ , وَالْمَيْتَةِ , وَالْخِنْزِيرِ , وَالْأَصْنَامِ" , فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ , فَإِنَّهُ يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ , وَيُدَّهَنُ بِهَا الْجُلُودُ , وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ؟ , فَقَالَ: " لَا , هُوَ حَرَامٌ" , وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ , إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا جَمَّلُوهُ , ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اور آپ مکہ میں تھے : اللہ اور اس کے رسول نے شراب ، مردار ، سور اور بتوں کے بیچنے سے منع فرمایا ۔ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! مردے کی چربی کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ اس سے تو کشتیاں چکنی کی جاتی ہیں ، کھالوں میں استعمال ہوتا ہے اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” نہیں ، وہ حرام ہے “ ، اس وقت آپ نے یہ بھی فرمایا : ” اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک و برباد کرے ، اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی حرام کی تھی ، انہوں نے اسے پگھلایا ، پھر بیچا اور اس کی قیمت کھائی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4673]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4261 (صحیح)
94: بَابُ : بَيْعِ ضِرَابِ الْجَمَلِ
باب: اونٹ سے جفتی کی اجرت لینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ ضِرَابِ الْجَمَلِ، وَعَنْ بَيْعِ الْمَاءِ، وَبَيْعِ الْأَرْضِ لِلْحَرْثِ يَبِيعُ الرَّجُلُ أَرْضَهُ وَمَاءَهُ , فَعَنْ ذَلِكَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ سے جفتی کرانے پر اجرت لینے سے ، پانی بیچنے اور زمین کو بٹائی پر دینے سے ۱؎ یعنی آدمی اپنی زمین اور پانی کو بیچ دے تو ان سب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4674]
💡 وضاحت:
۱؎: اس بٹائی سے مراد وہ معاملہ ہے جس میں زمین والا زمین کے کسی خاص حصے کی پیداوار لینا چاہے، کیونکہ آدھے پر بٹائی کا معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اہل خیبر سے کیا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساقاة 8 (البیوع 29) (1565)، (تحفة الأشراف: 2822) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ. ح وَأَنْبَأَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4675]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الإجارة 21 (2284)، دالبیوع 42 (3429)، سنن الترمذی/البیوع 42 (1273)، (تحفة الأشراف: 8233)، مسند احمد (2/14) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ الرُّوَاسِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الصَّعْقِ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَأَلَهُ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّا نُكْرِمُ عَلَى ذَلِكَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنی کلاب کی شاخ بنی صعق کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے کے بارے میں سوال کیا ، تو آپ نے اسے اس سے منع فرمایا ، اس نے کہا : ہمیں تو اس کی وجہ سے تحفے ملتے ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4676]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/البیوع 45 (1274)، (تحفة الأشراف: 1450) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نُعْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ , وَعَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ , وَعَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگانے کی کمائی سے ، کتے کی قیمت سے اور نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4677]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13627)، مسند احمد (2/299) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4678]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4135) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَعَسْبِ الْفَحْلِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت سے اور نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4679]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/البیوع 49 (1279تعلیقًام)، سنن ابن ماجہ/التجارات 9 (2160)، (تحفة الأشراف: 13407)، سنن الدارمی/البیوع 80 (2665) (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، اس لیے کہ ابوحازم نے صحابی کا ذکر نہیں کیا، لیکن پچھلی روایت (رقم 4617) سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)
95: بَابُ : الرَّجُلِ يَبْتَاعُ الْبَيْعَ فَيُفْلِسُ وَيُوجَدُ الْمَتَاعُ بِعَيْنِهِ
باب: سامان خریدنے کے بعد قیمت ادا کرنے سے پہلے آدمی مفلس ہو جائے اور وہ چیز اس کے پاس جوں کی توں موجود ہو تو اس کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا امْرِئٍ أَفْلَسَ ثُمَّ وَجَدَ رَجُلٌ عِنْدَهُ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا , فَهُوَ أَوْلَى بِهِ مِنْ غَيْرِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص ( سامان خریدنے کے بعد ) مفلس ہو گیا ، پھر بیچنے والے کو اس کے پاس اپنا مال بعینہ ملا تو دوسروں کی بہ نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4680]
💡 وضاحت:
۱؎: اس باب کی احادیث کی روشنی میں علماء نے کچھ شرائط کے ساتھ ایسے شخص کو اپنے سامان کا زیادہ حقدار ٹھہرایا ہے جو یہ سامان کسی ایسے شخص کے پاس بعینہٖ پائے جس کا دیوالیہ ہو گیا ہو، وہ شرائط یہ ہیں: (الف) سامان خریدار کے پاس بعینہٖ موجود ہو۔ (ب) پایا جانے والا سامان اس کے قرض کی ادائیگی کے لیے کافی نہ ہو۔ (ج) سامان کی قیمت میں سے کچھ بھی نہ لیا گیا ہو۔ (د) کوئی ایسی رکاوٹ حائل نہ ہو جس سے وہ سامان لوٹایا ہی نہ جا سکے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الاستقراض 14 (2402)، صحیح مسلم/المساقاة 5 (البیوع 26) (1559)، سنن ابی داود/البیوع76(3519، 3520)، سنن الترمذی/البیوع 26 (1262)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 26 (4358، 2359)، (تحفة الأشراف: 14861)، موطا امام مالک/البیوع 42 (88)، مسند احمد (2/228، 247، 249، 258، 410، 468، 474، 508)، سنن الدارمی/البیوع 51 (2632) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ , وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَنْ الرَّجُلِ يُعْدِمُ إِذَا وُجِدَ عِنْدَهُ الْمَتَاعُ بِعَيْنِهِ وَعَرَفَهُ أَنَّهُ لِصَاحِبِهِ الَّذِي بَاعَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے بارے میں جو مفلس ہو جائے اور اس کے پاس بعینہ کسی کا سامان موجود ہو اور وہ اسے پہچان لے فرمایا : ” اس سامان کا مستحق وہ ہے جس نے اسے اس کے ہاتھ بیچا تھا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4681]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا وَكَثُرَ دَيْنُهُ، قالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ"، فَتَصَدَّقُوا عَلَيْهِ وَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص کے پھلوں پر جو اس نے خریدے تھے آفت آ گئی اور اس کا قرض بہت زیادہ ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس پر صدقہ کرو “ ، چنانچہ لوگوں نے اس پر صدقہ کیا ، اس کی مقدار اتنی نہ ہو سکی کہ اس کا قرض پورا ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو تمہیں ملے لے لو ، اس کے علاوہ تمہارے لیے کچھ نہیں “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4682]
💡 وضاحت:
۱؎: جب حاکم موجودہ مال کو قرض خواہوں کے مابین بقدر حصہ تقسیم کر دے پھر بھی اس شخص کے ذمہ قرض خواہوں کا قرض باقی رہ جائے تو ایسی صورت میں قرض خواہ اسے تنگ کرنے، قید کرنے اور قرض کی ادائیگی پر مزید اصرار کرنے کے بجائے اسے مال کی فراہمی تک مہلت دے۔ حدیث کا مفہوم یہی ہے اور قرآن کی اس آیت «وإن کان ذوعسرۃ فنظرۃ إلی میسرۃ» کے مطابق بھی ہے کیونکہ کسی کے مفلس ہو جانے سے قرض خواہوں کے حقوق ضائع نہیں ہوتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انطر حدیث رقم: 4534 (صحیح)
96: بَابُ : الرَّجُلِ يَبِيعُ السِّلْعَةَ فَيَسْتَحِقُّهَا مُسْتَحِقٌّ
باب: ایک شخص سامان بیچے پھر اس کا مالک کوئی اور نکلے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرِ بْنِ سِمَاكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى أَنَّهُ إِذَا وَجَدَهَا فِي يَدِ الرَّجُلِ غَيْرِ الْمُتَّهَمِ فَإِنْ شَاءَ أَخَذَهَا بِمَا اشْتَرَاهَا وَإِنْ شَاءَ اتَّبَعَ سَارِقَهُ". وَقَضَى بِذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ".
اسید بن حضیر بن سماک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ اگر کوئی کسی شخص کے ہاتھ میں اپنی ( چوری کی ہوئی ) چیز پائے اور اس پر چوری کا الزام نہ ہو تو چاہے تو اتنی قیمت ادا کر کے اس سے لے لے جتنے میں اس نے اسے خریدا ہے اور چاہے تو چور کا پیچھا کرے ، یہی فیصلہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے ( بھی ) کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4683]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 150)، مسند احمد (4/226) (صحیح الإسناد) (اسید حضیر کے بجائے صحیح ”اسید بن ظہیر‘‘ ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ ذُؤَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , وَلَقَدْ أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ الْأَنْصَارِيَّ، ثُمَّ أَحَدَ بَنِي حَارِثَةَ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ كَانَ عَامِلًا عَلَى الْيَمَامَةِ , وَأَنَّ مَرْوَانَ كَتَبَ إِلَيْهِ , أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَيْهِ: أَنَّ أَيَّمَا رَجُلٍ سُرِقَ مِنْهُ سَرِقَةٌ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا حَيْثُ وَجَدَهَا، ثُمَّ كَتَبَ بِذَلِكَ مَرْوَانُ إِلَيَّ , فَكَتَبْتُ إِلَى مَرْوَانَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِأَنَّهُ: " إِذَا كَانَ الَّذِي ابْتَاعَهَا مِنَ الَّذِي سَرَقَهَا غَيْرُ مُتَّهَمٍ يُخَيَّرُ سَيِّدُهَا، فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ الَّذِي سُرِقَ مِنْهُ بِثَمَنِهَا، وَإِنْ شَاءَ اتَّبَعَ سَارِقَهُ" , ثُمَّ قَضَى بِذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَعُثْمَانُ، فَبَعَثَ مَرْوَانُ بِكِتَابِي إِلَى مُعَاوِيَةَ , وَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى مَرْوَانَ إِنَّكَ لَسْتَ أَنْتَ وَلَا أُسَيْدٌ تَقْضِيَانِ عَلَيَّ وَلَكِنِّي أَقْضِي فِيمَا وُلِّيتُ عَلَيْكُمَا، فَأَنْفِذْ لِمَا أَمَرْتُكَ بِهِ، فَبَعَثَ مَرْوَانُ بِكِتَابِ مُعَاوِيَةَ، فَقُلْتُ: لَا أَقْضِي بِهِ مَا وُلِّيتُ بِمَا قَالَ مُعَاوِيَةُ.
بنی حارثہ کے ایک فرد اسید بن حضیر انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ یمامہ کے گورنر تھے ، مروان نے ان کو لکھا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا ہے کہ جس کی کوئی چیز چوری ہو جائے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے ، جہاں بھی اسے پائے ، پھر مروان نے یہ بات مجھے لکھی تو میں نے مروان کو لکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ چوری کرنے والے سے ایک ایسے شخص نے کوئی چیز خریدی جس پر چوری کا الزام نہ ہو تو اس چیز کے مالک کو اختیار دیا جائے گا چاہے تو وہ اس کی قیمت دے کر اسے لے لے ( جتنی قیمت اس نے چور کو دی ہے ) اور اگر چاہے تو چور کا پیچھا کرے ، یہی فیصلہ ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم نے کیا ، پھر مروان نے میری یہ تحریر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجی ، معاویہ رضی اللہ عنہ نے مروان کو لکھا : تمہیں اور اسید کو حق نہیں کہ تم دونوں مجھ پر حکم چلاؤ بلکہ تمہارا والی اور امیر ہونے کی وجہ سے میں تم کو حکم کروں گا ، لہٰذا جو حکم میں نے تمہیں دیا ہے ، اس پر عمل کرو ، مروان نے معاویہ رضی اللہ عنہ کی تحریر ( میرے پاس ) بھیجی تو میں نے کہا : جب تک میں حاکم ہوں ان کے حکم کے مطابق فیصلہ نہیں کروں گا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4684]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق کروں گا، معاویہ رضی اللہ عنہ کے حکم کے مطابق نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 156) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ السَّائِبِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الرَّجُلُ أَحَقُّ بِعَيْنِ مَالِهِ إِذَا وَجَدَهُ , وَيَتْبَعُ الْبَائِعُ مَنْ بَاعَهُ".
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی اپنے سامان کا زیادہ حقدار ہے جب کسی کے پاس پائے ، اور بیچنے والا جس کے پاس چیز پائی گئی ہے وہ اپنے بیچنے والے کا پیچھا کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4685]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3531) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 355
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع80(3531)، (تحفة الأشراف: 4595)، مسند احمد (5/13، 18) (ضعیف) (قتادہ اور حسن بصری دونوں مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، اور متن پچھلے متن کا مخالف بھی ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا، وَمَنْ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا".
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی عورت کی شادی دو ولیوں نے کر دی تو وہ ان میں پہلے شوہر کی ہو گی ، اور جس نے کوئی چیز دو آدمیوں سے بیچی تو وہ چیز ان میں سے پہلے کی ہو گی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4686]
💡 وضاحت:
۱؎: پہلے ولی کے ذریعے ہونے والے نکاح کا اعتبار ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/النکاح 22 (2088)، سنن الترمذی/النکاح 20 (1110)، سنن ابن ماجہ/التجارات 21 (2191)، الأحکام 19 (2344)، (تحفة الأشراف: 4582)، مسند احمد (5/8، 11، 12، 18، 22)، سنن الدارمی/النکاح 15 (2240) (ضعیف) (قتادہ اور حسن بصری دونوں مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے)
97: بَابُ : الاِسْتِقْرَاضِ
باب: قرض لینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: اسْتَقْرَضَ مِنِّي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ أَلْفًا فَجَاءَهُ مَالٌ , فَدَفَعَهُ إِلَيَّ، وَقَالَ: " بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، إِنَّمَا جَزَاءُ السَّلَفِ الْحَمْدُ وَالْأَدَاءُ".
عبداللہ بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے چالیس ہزار قرض لیے ، پھر آپ کے پاس مال آیا تو آپ نے مجھے ادا کر دئیے ، اور فرمایا : ” اللہ تعالیٰ تمہیں ، تمہارے گھر والوں اور تمہارے مال میں برکت عطا فرمائے ، قرض کا بدلہ تو شکریہ ادا کرنا اور قرض ادا کرنا ہی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4687]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الصدقات 16 (2424)، (تحفة الأشراف: 5252)، مسند احمد (4/36) (صحیح)
98: بَابُ : التَّغْلِيظِ فِي الدَّيْنِ
باب: قرض کی شناعت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ وَضَعَ رَاحَتَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: " سُبْحَانَ اللَّهِ مَاذَا نُزِّلَ مِنَ التَّشْدِيدِ" , فَسَكَتْنَا وَفَزِعْنَا فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ سَأَلْتُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا التَّشْدِيدُ الَّذِي نُزِّلَ؟ فَقَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَوْ أَنَّ رَجُلًا قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ أُحْيِيَ، ثُمَّ قُتِلَ، ثُمَّ أُحْيِيَ، ثُمَّ قُتِلَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ مَا دَخَلَ الْجَنَّةَ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ دَيْنُهُ".
محمد بن جحش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا ، پھر ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھا ، پھر فرمایا : ” سبحان اللہ ! کتنی سختی نازل ہوئی ہے ؟ “ ہم لوگ خاموش رہے اور ڈر گئے ، جب دوسرا دن ہوا تو میں نے آپ سے پوچھا : اللہ کے رسول ! وہ کیا سختی ہے جو نازل ہوئی ؟ آپ نے فرمایا : ” قسم اس ذات کی ، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر ایک شخص اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے پھر زندہ کیا جائے ، پھر قتل کیا جائے پھر زندہ کیا جائے ، پھر قتل کیا جائے اور اس پر قرض ہو تو وہ جنت میں داخل نہ ہو گا جب تک اس کا قرض ادا نہ ہو جائے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4688]
💡 وضاحت:
۱؎: یا قرض خواہ قرض نہ ادا کرنے پر اپنی رضا مندی کا اظہار کر دے، تو بھی وہ عفو و مغفرت کا مستحق ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11226)، مسند احمد (5/289، 290) (حسن)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سَمْعَانَ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ، فَقَالَ: " أَهَهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ؟" ثَلَاثًا، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مَنَعَكَ فِي الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ أَنْ لَا تَكُونَ أَجَبْتَنِي أَمَا إِنِّي لَمْ أُنَوِّهْ بِكَ إِلَّا بِخَيْرٍ، إِنَّ فُلَانًا لِرَجُلٍ مِنْهُمْ مَاتَ مَأْسُورًا بِدَيْنِهِ".
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک جنازے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، آپ نے تین مرتبہ فرمایا : ” کیا فلاں گھرانے کا کوئی شخص یہاں ہے ؟ “ چنانچہ ایک شخص کھڑا ہوا تو اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پہلی دو مرتبہ میں کون سی چیز رکاوٹ تھی کہ تم نے میرا جواب نہ دیا ، سنو ! میں نے تمہیں صرف بھلائی کے لیے پکارا تھا ، فلاں شخص ان میں کا ایک آدمی جو مر گیا تھا - اپنے قرض کی وجہ سے ( جنت میں جانے سے ) رکا ہوا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4689]
💡 وضاحت:
۱؎: اس لیے اس کے قرض کی ادائیگی کا انتظام کرو یا قرض خواہ کو راضی کر لو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3341) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 355
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع 9 (3341)، (تحفة الأشراف: 4623)، مسند احمد (5/20) (صحیح)
99: بَابُ : التَّسْهِيلِ فِيهِ
باب: قرض کے سلسلے میں نرمی برتنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كَانَتْ مَيْمُونَةُ تَدَّانُ وَتُكْثِرُ، فَقَالَ لَهَا أَهْلُهَا فِي ذَلِكَ وَلَامُوهَا وَوَجَدُوا عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: لَا أَتْرُكُ الدَّيْنَ، وَقَدْ سَمِعْتُ خَلِيلِي وَصَفِيِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ أَحَدٍ يَدَّانُ دَيْنًا فَعَلِمَ اللَّهُ أَنَّهُ يُرِيدُ قَضَاءَهُ إِلَّا أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا".
عمران بن حذیفہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا قرض لیا کرتی تھیں اور کثرت سے لیا کرتی تھیں ، تو ان کے گھر والوں نے اس سلسلے میں ان سے گفتگو کی اور ان کو برا بھلا کہا اور ان پر غصہ ہوئے تو وہ بولیں : میں قرض لینا نہیں چھوڑوں گی ، میں نے اپنے خلیل اور محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو بھی کوئی قرض لیتا ہے اور اللہ کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ قرض ادا کرنے کی فکر میں ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا قرض دنیا میں ادا کر دیتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4690]
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله في الدنيا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (2408) زياد بن عمرو وعمران بن حذيفة لم يوثقهما غير ابن حبان. وحديث ابن ماجه (الأصل: 2409) وسنده حسن يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 355
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الصدقات 10(2408)، (تحفة الأشراف: 18077) (صحیح) (لیکن ’’فی الدنیا‘‘ کا لفظ صحیح نہیں ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَدَانَتْ، فَقِيلَ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , تَسْتَدِينِينَ وَلَيْسَ عِنْدَكِ وَفَاءٌ، قَالَتْ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَخَذَ دَيْنًا وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُؤَدِّيَهُ أَعَانَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ".
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے قرض لیا ، ان سے کہا گیا : ام المؤمنین ! آپ قرض لے رہی ہیں حالانکہ آپ کے پاس ادا کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے ؟ ، عرض کیا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس نے کوئی قرض لیا اور وہ اسے ادا کرنے کی فکر میں ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4691]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18073)، مسند احمد (6/332، 335) (صحیح)
100: بَابُ : مَطْلِ الْغَنِيِّ
باب: قرض کی ادائیگی میں مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ، وَالظُّلْمُ مَطْلُ الْغَنِيِّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم میں سے کوئی شخص مالدار کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی قبول کرے ۱؎ ، اور مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4692]
💡 وضاحت:
۱؎: اپنے ذمہ کا قرض دوسرے کے ذمہ کر دینا یہی حوالہ ہے، مثلاً زید عمرو کا مقروض ہے پھر زید عمرو کا سامنا بکر سے یہ کہہ کر کرا دے کہ اب میرے ذمہ کے قرض کی ادائیگی بکر کے سر ہے اور بکر اسے تسلیم بھی کر لے تو عمرو کو یہ حوالگی قبول کر لینی چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحوالة 1(2288)، سنن الترمذی/البیوع 68 (1308)، (تحفة الأشراف: 13662)، موطا امام مالک/البیوع 40 (84)، مسند احمد (2/ 376، 463، 464) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ وَبْرِ بنِ أَبِي دُلَيْلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ".
شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قرض ادا کرنے میں مالدار کے ٹال مٹول کرنے سے اس کی عزت اور اس کی سزا حلال ہو جاتی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4693]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کی برائی کر سکتا ہے اور حاکم اسے سزا دے سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأقضیة 29 (3628)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 18 (الأحکام 58) (2427)، (تحفة الأشراف: 4838)، مسند احمد (4/222، 388، 389) (حسن)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَبْرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ الطَّائِفِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونِ ابْنِ مُسَيْكَةَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ".
شرید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مالدار کے ٹال مٹول کرنے سے اس کی عزت اور اس کی سزا حلال ہو جاتی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4694]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
101: بَابُ : الْحَوَالَةِ
باب: قرض کسی اور کے حوالہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ، اگر تم میں سے کوئی مالدار آدمی کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی قبول کر لے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4695]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحوالة 1 (2287)، صحیح مسلم/المساقاة 7 (1564)، سنن ابی داود/البیوع 10 (3345)، (تحفة الأشراف: 13803)، موطا امام مالک/البیوع 40 (84)، مسند احمد (2/379، 465)، سنن الدارمی/البیوع 48 (2628) (صحیح)
102: بَابُ : الْكَفَالَةِ بِالدَّيْنِ
باب: قرض کی ضمانت لینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ أُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " إِنَّ عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنًا"، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: أَنَا أَتَكَفَّلُ بِهِ، قَالَ: " بِالْوَفَاءِ"، قَالَ: بِالْوَفَاءِ.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تاکہ آپ اس کا جنازہ پڑھائیں ، آپ نے فرمایا : ” تمہارے اس ساتھی پر قرض ہے “ ، ابوقتادہ نے کہا : میں اس کی ضمانت لیتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پورا ادا کرو گے ؟ “ کہا : ” جی ہاں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4696]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1962 (صحیح)
103: بَابُ : التَّرْغِيبِ فِي حُسْنِ الْقَضَاءِ
باب: قرض اچھی طرح ادا کرنے کی ترغیب کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خِيَارُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں بہتر لوگ وہ ہیں جو قرض اچھی طرح ادا کرتے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4697]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4622 (صحیح)
104: بَابُ : حُسْنِ الْمُعَامَلَةِ وَالرِّفْقِ فِي الْمُطَالَبَةِ
باب: قرض وصول کرنے میں اچھے سلوک اور نرمی برتنے کی فضیلت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ رَجُلًا لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ وَكَانَ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَيَقُولُ لِرَسُولِهِ: خُذْ مَا تَيَسَّرَ، وَاتْرُكْ مَا عَسُرَ، وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ تَعَالَى أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا فَلَمَّا هَلَكَ. قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ: هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ , قَالَ: لَا، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ لِي غُلَامٌ وَكُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ فَإِذَا بَعَثْتُهُ لِيَتَقَاضَى، قُلْتُ لَهُ: خُذْ مَا تَيَسَّرَ وَاتْرُكْ مَا عَسُرَ وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: قَدْ تَجَاوَزْتُ عَنْكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک آدمی نے کبھی کوئی بھلائی کا کام نہیں کیا تھا لیکن وہ لوگوں کو قرض دیا کرتا ، پھر اپنے قاصد سے کہتا : جو قرض آسانی سے واپس ملے اسے لے لو اور جس میں دشواری پیش آئے ، اسے چھوڑ دو اور معاف کر دو ، شاید اللہ تعالیٰ ہماری غلطیوں کو معاف کر دے ، جب وہ مر گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا : کیا تم نے کبھی کوئی خیر کا کام کیا ؟ اس نے کہا : نہیں ، سوائے اس کے کہ میرے پاس ایک لڑکا تھا ، میں لوگوں کو قرض دیتا تھا جب میں اس لڑکے کو تقاضا کرنے کے لیے بھیجتا تو اس سے کہتا کہ جو آسانی سے ملے اسے لے لینا اور جس میں دشواری ہو ، اسے چھوڑ دینا اور معاف کر دینا ، شاید اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کر دے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے تمہیں معاف کر دیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4698]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 12326)، مسند احمد (2/ 361) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ وَكَانَ إِذَا رَأَى إِعْسَارَ الْمُعْسِرِ، قَالَ لِفَتَاهُ: تَجَاوَزْ عَنْهُ لَعَلَّ اللَّهَ تَعَالَى يَتَجَاوَزُ عَنَّا , فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک شخص لوگوں کو قرض دیتا تھا ، جب کسی مفلس ( دیوالیہ ) کی پریشانی دیکھتا تو اپنے آدمی سے کہتا : اسے معاف کر دو ، شاید اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے ، پھر جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملا تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کر دیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4699]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 18 (2087)، الأنبیاء 54 (3480)، صحیح مسلم/المساقاة 6 (1562)، (تحفة الأشراف: 14108) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ إِسْمَاعِيل ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ فَرُّوخَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا كَانَ سَهْلًا مُشْتَرِيًا، وَبَائِعًا وَقَاضِيًا، وَمُقْتَضِيًا الْجَنَّةَ".
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو جنت میں داخل کر دیا جو خریدتے ، بیچتے ، ( قرض ) دیتے اور تقاضا کرتے ہوئے نرمی سے کام لیتا تھا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4700]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/التجارات 28 (2202)، (تحفة الأشراف: 9830)، مسند احمد (1/58، 67، 70) (حسن)
105: بَابُ : الشَّرِكَةِ بِغَيْرِ مَالٍ
باب: مال لگائے بغیر تجارت میں حصہ دار بننے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " اشْتَرَكْتُ أَنَا وَعَمَّارٌ , وَسَعْدٌ , يَوْمَ بَدْرٍ، فَجَاءَ سَعْدٌ بِأَسِيرَيْنِ , وَلَمْ أَجِئْ أَنَا , وَعَمَّارٌ بِشَيْءٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمار ، سعد اور میں نے بدر کے دن حصہ داری کی ، چنانچہ سعد دو قیدی لے کر آئے ، ہم اور عمار کچھ بھی نہیں لائے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4701]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (3969) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 355
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 3969 (ضعیف) (اس کے راوی ’’ابو عبیدہ‘‘ کا اپنے باپ ’’ابن مسعود‘‘ رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے، نیز ’’ابواسحاق‘‘ مدلس اور مختلط ہیں)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ أُتِمَّ مَا بَقِيَ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ایک غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دیا تو جتنا حصہ باقی ہے وہ بھی اسی کے مال سے آزاد ہو گا بشرطیکہ اس کے پاس غلام کی ( بقیہ ) قیمت بھر مال ہو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4702]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث کا تعلق اگلے باب سے ہے، کاتبوں کی غلطی سے یہ اس باب میں درج ہو گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/العتق 1 (1501)، الأیمان 12 (1501)، سنن ابی داود/العتق 6 (3946)، سنن الترمذی/الأحکام 14 (1347)، (تحفة الأشراف: 6935)، مسند احمد (2/ 34) (صحیح)
106: بَابُ : الشَّرِكَةِ فِي الرَّقِيقِ
باب: غلام یا لونڈی میں حصہ داری اور شرکت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ، وَكَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ بِقِيمَةِ الْعَبْدِ فَهُوَ عَتِيقٌ مِنْ مَالِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کیا اور اس کے پاس غلام کی ( بقیہ ) قیمت کے برابر مال ہو تو وہ اس کے مال سے آزاد ہو جائے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4703]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الشرکة 5 (2491)، العتق 4 (2522)، صحیح مسلم/العتق 1 (1501)، سنن ابی داود/العتق 6 (3941)، سنن الترمذی/الأحکام 14 (1346)، (تحفة الأشراف: 7511)، مسند احمد (2/15) (صحیح)
107: بَابُ : الشَّرِكَةِ فِي النَّخِيلِ
باب: کھجور کے درخت میں حصہ داری اور شرکت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّكُمْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ أَوْ نَخْلٌ فَلَا يَبِعْهَا حَتَّى يَعْرِضَهَا عَلَى شَرِيكِهِ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں اگر کسی کے پاس کوئی زمین یا کھجور کا درخت ہو تو اسے نہ بیچے جب تک کہ اپنے حصہ دار و شریک سے نہ پوچھ لے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4704]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے ثابت ہوا کہ درخت یا باغ میں حصہ داری جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الشفعة 1 (2492)، (تحفة الأشراف: 2765)، مسند احمد (2/307) (صحیح)
108: بَابُ : الشَّرِكَةِ فِي الرِّبَاعِ
باب: زمین میں حصہ داری اور شرکت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ شَرِكَةٍ لَمْ تُقْسَمْ رَبْعَةٍ وَحَائِطٍ لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَبِيعَهُ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ، فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ، وَإِنْ بَاعَ وَلَمْ يُؤْذِنْهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مشترک مال جو تقسیم نہ ہوا ہو جیسے زمین یا باغ ، میں شفعہ کا حکم دیا ، اس کے لیے صحیح نہیں کہ وہ اسے بیچے جب تک کہ حصہ دار سے اجازت نہ لے لے ، اگر وہ ( شریک ) چاہے تو اسے لے لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے ، اور اگر اس ( شریک ) سے اس کی اجازت لیے بغیر بیچ دیا تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4705]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4650 (صحیح)
109: بَابُ : ذِكْرِ الشُّفْعَةِ وَأَحْكَامِهَا
باب: شفعہ اور اس کے احکام کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ".
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پڑوسی اپنے پڑوس کا زیادہ حقدار ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4706]
💡 وضاحت:
۱؎: شفعہ وہ استحقاق ہے جس کے ذریعہ شریک اپنے شریک کا وہ حصہ جو دوسرے کی ملکیت میں جا چکا ہے قیمت ادا کر کے حاصل کر سکے، لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ دونوں کی جائیداد اس طرح مشترک ہو کہ دونوں کے حصے کی تعیین نہ ہو، اور دونوں کا راستہ بھی ایک ہو، دیکھئیے حدیث رقم ۴۷۰۸۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الشفعة 2 (2258)، الحیل14(6977)، 15(6978)، سنن ابی داود/البیوع 75 (3516)، سنن ابن ماجہ/الشفعة 3 (الأحکام 87) (2498)، (تحفة الأشراف: 12027)، مسند احمد (6/10، 390) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْضِي لَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا شَرِكَةٌ، وَلَا قِسْمَةٌ إِلَّا الْجُوَارَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ".
شرید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! میری زمین ہے ، جس میں کسی کی حصہ داری اور شرکت نہیں اور نہ ہی پڑوس کے سوا کسی کا حصہ ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پڑوسی اپنے پڑوسی کا زیادہ حقدار ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4707]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الشفعة 2 (2496)، (تحفة الأشراف: 4840)، مسند احمد (4/388، 389، 390) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَعُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ".
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر وہ مال جو تقسیم نہ ہوا ہو ، اس میں شفعہ کا حق ہے ۔ لہٰذا جب حد بندی ہو جائے اور راستہ متعین ہو جائے تو اس میں شفعہ کا حق نہیں “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4708]
💡 وضاحت:
۱؎: حق شفعہ کے سلسلہ میں مناسب اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ حق ایسے دو پڑوسیوں کو حاصل ہو گا جن کے مابین پانی، راستہ وغیرہ مشتر کہوں، دوسری صورت میں یہ حق حاصل نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19583) (صحیح) (یہ حدیث مرسل ہے، اس لیے کہ ابوسلمہ نے یہاں پر واسطہ کا ذکر نہیں کیا، لیکن صحیح بخاری، کتاب الشفعہ (2257) میں ابو سلمہ نے اس حدیث کو جابر (رضی الله عنہ) سے روایت کیا ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنٍ وَهُوَ ابْنُ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ وَالْجِوَارِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ اور پڑوس کے حق کا حکم دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4709]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2687) (صحیح)
← پچھلی کتاب #48 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #50 →