سنن النسائي حدیث نمبر: 4594
Sunan an-Nasa'i 4594
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
53: بَابُ : الزِّيَادَةِ فِي الْوَزْنِ
باب: تول (وزن) میں زیادہ کر دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ , عَنْ شُعْبَةَ , قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: " لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ , دَعَا بِمِيزَانٍ فَوَزَنَ لِي وَزَادَنِي".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو آپ نے ترازو منگا کر اس سے مجھے تول کر دیا اور مجھے اس سے کچھ زیادہ دیا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4594]
💡 وضاحت:
۱؎: اگر بغیر شرط کے خریداری (یا قرض دار) اپنی طرف سے قیمت میں زیادہ کر دے تو اس کو علماء نے مستحب قرار دیا ہے، اور اس کو خفیہ صدقہ سے تعبیر کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 59 (443)، الوکالة 8 (2309)، الاستقراض 7 (2394)، الہبة 32 (3603، 3604)، صحیح مسلم/المسافرین 11 (715)، سنن ابی داود/البیوع 11(3341)، (تحفة الأشراف: 2578)، مسند احمد (3/299، 302، 363) سنن الدارمی/البیوع 46 (2626) (صحیح)