سنن النسائي حدیث نمبر: 4530
Sunan an-Nasa'i 4530
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
29: بَابُ : شِرَاءِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا
باب: پھل کو پکنے سے پہلے اس شرط پر خریدنا کہ وہ اسے فوراً توڑ لے اور اسے پکنے کے وقت تک درخت پر باقی نہ رکھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنْ ابْنِ الْقَاسِم , قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ , عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهِيَ" , قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَا تُزْهِيَ؟ , قَالَ: " حَتَّى تَحْمَرَّ" , وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَأَيْتَ إِنْ مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ فَبِمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ خوش رنگ ہو جائیں ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! یہ خوش رنگ ہونا کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” یہاں تک کہ لال ہو جائیں “ اور فرمایا : ” دیکھو ! اگر اللہ تعالیٰ پھلوں کو روک دے ( پکنے سے پہلے گر جائیں ) تو تم میں کوئی اپنے بھائی کا مال کس چیز کے بدلے لے گا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4530]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب خریدار سے توڑنے کی شرط نہ لگائی گئی ہو، اگر فوری طور پر توڑ لینے کی شرط لگائی ہو تو اب یہ خریدار کی وجہ سے ہے کہ وہی اپنی قیمت کے بدلے اسی سودے پر راضی ہو گیا۔ اب بیچنے والے کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے، اور نہ ہی پھلوں کے کسی آفت کے شکار ہونے کا خطرہ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 58 (1488)، البیوع 87، 3198، 2208)، صحیح مسلم/البیوع 24 (المساقاة3) (1555)، (تحفة الأشراف: 733)، سنن ابن ماجہ/التجارات 32 (2217)، موطا امام مالک/البیوع 8 (11)، مسند احمد (3/115) (صحیح)