سنن النسائي حدیث نمبر: 4564
Sunan an-Nasa'i 4564
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
43: بَابُ : بَيْعِ الْبُرِّ بِالْبُرِّ
باب: گیہوں کے بدلے گیہوں بیچنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَلْقَمَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتِيكٍ , قَالَا: جَمَعَ الْمَنْزِلُ بَيْنَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , وَمُعَاوِيَةَ , حَدَّثَهُمْ عُبَادَةُ , قَالَ: " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ , وَالْوَرِقِ بِالْوَرِقِ , وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ , وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ , وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ , قَالَ أَحَدُهُمَا: وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ , وَلَمْ يَقُلْهُ الْآخَرُ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ , وَأَمَرَنَا أَنْ نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ , وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ , وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ , وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْنَا , قَالَ أَحَدُهُمَا: فَمَنْ زَادَ , أَوِ ازْدَادَ , فَقَدْ أَرْبَى".
مسلم بن یسار اور عبداللہ بن عتیک کہتے ہیں کہ ایک دن عبادہ بن صامت اور معاویہ رضی اللہ عنہما اکٹھا ہوئے ، عبادہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے کو سونے کے بدلے ، چاندی کو چاندی کے بدلے ، گیہوں کو گیہوں کے بدلے ، جَو کو جَو کے بدلے اور کھجور کو کھجور کے بدلے ( ان میں سے ایک نے کہا : نمک کو نمک کے بدلے ، دوسرے نے یہ نہیں کہا ) بیچنے سے منع کیا ، مگر برابر برابر اور نقدا نقد ، اور ہمیں حکم دیا کہ ہم سونا چاندی کے بدلے ، چاندی سونے کے بدلے ، گیہوں جو کے بدلے ، جَو گیہوں کے بدلے نقداً نقد بیچیں جیسے بھی ہم چاہیں ۱؎ ان ( دونوں تابعی راویوں ) میں سے ایک نے یہ بھی کہا : ” جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو اس نے سود لیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4564]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کمی زیادتی کے ساتھ بیچ سکتے ہیں جب جنس مختلف ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/التجارات 48 (2254)، (تحفة الأشراف: 5113)، مسند احمد (5/320)، انظرأیضا حدیث رقم: 4565، 4566 (صحیح)