سنن النسائي حدیث نمبر: 4565
Sunan an-Nasa'i 4565
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
44: بَابُ : بَيْعِ الشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ
باب: جَو کے بدلے جَو بیچنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الْمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ , عَنْ ابْنِ سِيرِينَ , قَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ وَقَدْ كَانَ يُدْعَى ابْنَ هُرْمُزَ , قَالَ: جَمَعَ الْمَنْزِلُ بَيْنَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , وَبَيْنَ مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَهُمْ عُبَادَةُ , قَالَ: " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ , وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ , وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ , وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ , وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ , قَالَ أَحَدُهُمَا: وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ , وَلَمْ يَقُلْهُ الْآخَرُ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ قَالَ أَحَدُهُمَا: مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى , وَلَمْ يَقُلْهُ الْآخَرُ , وَأَمَرَنَا أَنْ نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ , وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ , وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ , وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْنَا".
مسلم بن یسار اور عبداللہ بن عبید ( ابن عتیک ) ( ان کو ابن ہرمز بھی کہا جاتا ہے ) بیان کرتے ہیں کہ عبادہ بن صامت اور معاویہ رضی اللہ عنہما ایک جگہ اکٹھا ہوئے ، عبادہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے حدیث بیان کی کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا سونے کے بدلے ، چاندی چاندی کے بدلے ، کھجور کھجور کے بدلے ، گیہوں گی ہوں کے بدلے اور جَو جَو کے بدلے ( ان دونوں راویوں میں سے ایک نے کہا : ) نمک نمک کے بدلے ، ( دوسرے نے یہ نہیں کہا ) بیچنے سے منع کیا مگر برابر برابر ، نقدا نقد ( ان میں سے ایک نے کہا : ) جس نے زیادہ دیا یا زیادہ طلب کیا ، اس نے سود لیا ، ( اسے دوسرے ( راوی ) نے نہیں کہا ) اور ہمیں حکم دیا کہ ہم سونا چاندی کے بدلے ، چاندی سونے کے بدلے ، گیہوں جَو کے بدلے اور جَو گیہوں کے بدلے بیچیں ، نقدا نقد جس طرح چاہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4565]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)