سنن النسائي حدیث نمبر: 4569
Sunan an-Nasa'i 4569
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
44: بَابُ : بَيْعِ الشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ
باب: جَو کے بدلے جَو بیچنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيٍّ , أَنَّ أَبَا الْمُتَوَكِّلِ مَرَّ بِهِمْ فِي السُّوقِ , فَقَامَ إِلَيْهِ قَوْمٌ أَنَا مِنْهُمْ , قَالَ: " قُلْنَا أَتَيْنَاكَ لِنَسْأَلَكَ عَنِ الصَّرْفِ؟ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ , قَالَ لَهُ رَجُلٌ: مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ؟ , قَالَ: لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ غَيْرُهُ , قَالَ: فَإِنَّ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ , وَالْوَرِقَ بِالْوَرِقِ , قَالَ سُلَيْمَانُ: أَوْ قَالَ: وَالْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ , وَالْبُرَّ بِالْبُرِّ , وَالشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ , وَالتَّمْرَ بِالتَّمْرِ , وَالْمِلْحَ بِالْمِلْحِ , سَوَاءً بِسَوَاءٍ , فَمَنْ زَادَ عَلَى ذَلِكَ , أَوِ ازْدَادَ , فَقَدْ أَرْبَى , وَالْآخِذُ وَالْمُعْطِي فِيهِ سَوَاءٌ".
سلیمان بن علی سے روایت ہے کہ بازار میں ان کے پاس سے ابوالمتوکل کا گزر ہوا ، تو کچھ لوگ ان کے پاس گئے ، ان لوگوں میں میں بھی تھا ، ہم نے کہا : ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ سے بیع صرف ۱؎ کے بارے میں پوچھیں ، تو انہوں نے کہا : میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو ( کہتے ) سنا ، ( اس پر ) ایک شخص نے ان سے کہا : آپ کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ابوسعید رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے ؟ انہوں نے کہا : میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ان ( ابوسعید رضی اللہ عنہ ) کے علاوہ کوئی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا : سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے اور گیہوں گیہوں کے بدلے ، جَو جَو کے بدلے ، کھجور کھجور کے بدلے ، نمک نمک کے بدلے برابر برابر ہو ، اب جو اس میں زیادہ دے یا زیادہ کا مطالبہ کرے تو اس نے سود کا کام کیا ، اور سود لینے اور دینے والے ( جرم میں ) دونوں برابر ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4569]
💡 وضاحت:
۱؎: سونا چاندی کو سونا چاندی کے بدلے نقدا بیچنا بیع صرف ہے، اور اسی کو «بیع اثمان» بھی کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساقاة 15 (البیوع36) (1587)، (تحفة الأشراف: 4255)، مسند احمد (3/49، 66، 97) (صحیح)