سنن النسائي حدیث نمبر: 4563
Sunan an-Nasa'i 4563
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
42: بَابُ : بَيْعِ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ
باب: کھجور کے بدلے کھجور بیچنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي زُرْعَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " التَّمْرُ بِالتَّمْرِ , وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ , وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ , وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ يَدًا بِيَدٍ , فَمَنْ زَادَ , أَوِ ازْدَادَ , فَقَدْ أَرْبَى , إِلَّا مَا اخْتَلَفَتْ أَلْوَانُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھجور کے بدلے کھجور ، گیہوں کے بدلے گی ہوں ، جَو کے بدلے جَو اور نمک کے بدلے نمک میں خرید و فروخت نقدا نقد ہے ، جس نے زیادہ دیا ، یا زیادہ لیا تو اس نے سود لیا ، سوائے اس کے کہ جنس بدل جائے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4563]
💡 وضاحت:
۱؎: سود صرف انہی چار چیزوں میں کمی زیادتی میں نہیں ہے، بلکہ اگلی حدیث میں دو اور چیزوں کا تذکرہ ہے، نیز صرف انہی چھ کی بیع میں تفاضل سود نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کی ہر چیز میں موجود ہے سوائے ان چیزوں کے جن کو شریعت نے مستثنیٰ کر دیا ہے جیسے: جانور، پس ایک اونٹ کے بدلے دو اونٹ بیچ سکتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساقاة 15 (البیوع36) (1588)، (تحفة الأشراف: 14921)، مسند احمد (2/232) (صحیح)