سنن النسائي حدیث نمبر: 4562
Sunan an-Nasa'i 4562
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
41: بَابُ : بَيْعِ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ مُتَفَاضِلاً
باب: کھجور کے بدلے کھجور کمی زیادتی کے ساتھ بیچنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ , أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ , وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ , وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ , وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سونا ، چاندی کے بدلے سود ہے ، سوائے اس کے کہ نقدا نقد ہو ، کھجور کھجور کے بدلے سود ہے ، سوائے اس کے کہ نقدا نقد ہو ، گی ہوں گیہوں کے بدلے سود ہے ، سوائے اس کے کہ نقدا نقد ہو ، جو جو کے بدلے سود ہے ، سوائے اس کے کہ نقدا نقد ہو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4562]
💡 وضاحت:
۱؎: اس روایت میں چار ہی چیزوں کا ذکر ہے لیکن ابوسعید رضی اللہ عنہ کی جو صحیحین میں وارد حدیث میں دو چیزوں چاندی اور نمک کا اضافہ ہے، اس طرح ان چھ چیزوں میں «تفاضل» (کمی بیشی) اور «نسیئہ» (ادھار) جائز نہیں ہے، اگر ایک ہاتھ سے دے اور دوسرے ہاتھ سے لے تو جائز اور صحیح ہے اور اگر ایک طرف سے بھی ادھار ہو تو یہ سود ہو جائے گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 54 (2134)، 74 (2170)، 76 (2174)، صحیح مسلم/البیوع 37 (المساقاة15) (1586)، سنن ابی داود/البیوع 12 (3348)، سنن الترمذی/البیوع 24 (1243)، سنن ابن ماجہ/التجارات 50 (2260)، (تحفة الأشراف: 10630)، موطا امام مالک/البیوع 17 (38)، مسند احمد (1/24، 35، 45)، سنن الدارمی/البیوع 41 (262) (صحیح)