📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل (كتاب البيوع) 🏷️ باب: باب: کنکری پھینک کر بیع کرنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 4522 Sunan an-Nasa'i 4522
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
27: بَابُ : بَيْعِ الْحَصَاةِ
باب: کنکری پھینک کر بیع کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزِّنَادِ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری کی بیع اور دھوکے کی بیع سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4522]
💡 وضاحت:
۱؎: کنکری کی بیع کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کہے: میں تمہاری طرف جب کنکری پھینک دوں تو بیع ہو گئی، یہ ممنوع اس لیے ہے کہ کنکری پھینکنے تک کی جو مدت بیع کے اثبات کے لیے رکھی گئی ہے وہ مجہول ہے، یا پھر یوں کہے کہ میں کنکری پھینکتا ہوں جس مال پر کنکری گرے وہی بیچنا ہے تو یہ بھی صحیح نہیں، کیونکہ اس صورت میں بھی مال مجہول ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/البیوع 2 (1513)، سنن ابی داود/البیوع 25 (3376)، سنن الترمذی/البیوع 17 (1230)، سنن ابن ماجہ/التجارات 23 (2194)، مسند احمد (2/250، 436، 376، 439، 496، سنن الدارمی/البیوع 20 (2596) (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #4522
4520 4521 4522 4523 4524
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ