سنن النسائي حدیث نمبر: 4683
Sunan an-Nasa'i 4683
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
96: بَابُ : الرَّجُلِ يَبِيعُ السِّلْعَةَ فَيَسْتَحِقُّهَا مُسْتَحِقٌّ
باب: ایک شخص سامان بیچے پھر اس کا مالک کوئی اور نکلے۔
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرِ بْنِ سِمَاكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى أَنَّهُ إِذَا وَجَدَهَا فِي يَدِ الرَّجُلِ غَيْرِ الْمُتَّهَمِ فَإِنْ شَاءَ أَخَذَهَا بِمَا اشْتَرَاهَا وَإِنْ شَاءَ اتَّبَعَ سَارِقَهُ". وَقَضَى بِذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ".
اسید بن حضیر بن سماک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ اگر کوئی کسی شخص کے ہاتھ میں اپنی ( چوری کی ہوئی ) چیز پائے اور اس پر چوری کا الزام نہ ہو تو چاہے تو اتنی قیمت ادا کر کے اس سے لے لے جتنے میں اس نے اسے خریدا ہے اور چاہے تو چور کا پیچھا کرے ، یہی فیصلہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے ( بھی ) کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4683]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 150)، مسند احمد (4/226) (صحیح الإسناد) (اسید حضیر کے بجائے صحیح ”اسید بن ظہیر‘‘ ہے)