سنن النسائي حدیث نمبر: 4686
Sunan an-Nasa'i 4686
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
96: بَابُ : الرَّجُلِ يَبِيعُ السِّلْعَةَ فَيَسْتَحِقُّهَا مُسْتَحِقٌّ
باب: ایک شخص سامان بیچے پھر اس کا مالک کوئی اور نکلے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا، وَمَنْ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا".
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی عورت کی شادی دو ولیوں نے کر دی تو وہ ان میں پہلے شوہر کی ہو گی ، اور جس نے کوئی چیز دو آدمیوں سے بیچی تو وہ چیز ان میں سے پہلے کی ہو گی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4686]
💡 وضاحت:
۱؎: پہلے ولی کے ذریعے ہونے والے نکاح کا اعتبار ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/النکاح 22 (2088)، سنن الترمذی/النکاح 20 (1110)، سنن ابن ماجہ/التجارات 21 (2191)، الأحکام 19 (2344)، (تحفة الأشراف: 4582)، مسند احمد (5/8، 11، 12، 18، 22)، سنن الدارمی/النکاح 15 (2240) (ضعیف) (قتادہ اور حسن بصری دونوں مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے)