سنن النسائي حدیث نمبر: 4555
Sunan an-Nasa'i 4555
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
40: بَابُ : بَيْعِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ
باب: پکنے سے پہلے بالی کو بیچنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلَةِ حَتَّى تَزْهُوَ , وَعَنِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ وَيَأْمَنَ الْعَاهَةَ , نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کھجور کے بیچنے سے یہاں تک کہ وہ خوش رنگ ہو جائے ، اور بالی کے بیچنے سے یہاں تک کہ وہ سفید پڑ جائے ( یعنی پک جائے ) اور آفت سے محفوظ ہو جائے ۔ آپ نے بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو روکا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4555]
💡 وضاحت:
۱؎: اس طرح کی بیع میں بھی وہی بات ہے جو پھلوں کے پکنے سے پہلے ان کی بیع میں ہے، یعنی ہو سکتا ہے کہ کھیتی پکنے سے کسی آسمانی آفت کا شکار ہو جائے، تو خریدار کا گھاٹا ہی گھاٹا ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/البیوع 13 (1535)، سنن ابی داود/البیوع 23 (3368)، سنن الترمذی/البیوع 15 (1227)، (تحفة الأشراف: 7515)، مسند احمد (2/5) (صحیح)