سنن النسائي حدیث نمبر: 4624
Sunan an-Nasa'i 4624
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
65: بَابُ : بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً
باب: ذی روح کو ذی روح کے بدلے ادھار بیچنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , وَخَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ , قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , وأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى , قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ , عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ سَمُرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً".
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی روح کے بدلے ذی روح کو ادھار بیچنے سے منع فرمایا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4624]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب ادھار کی صورت طرفین سے ہو اور اگر کسی ایک جانب سے ہو تو بیع جائز ہے (دیکھئیے: صحیح بخاری کتاب البیوع باب ۱۰۸)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 15 (3356)، سنن الترمذی/البیوع 21 (1237)، سنن ابن ماجہ/التجارات 56 (2270)، (تحفة الأشراف: 4583)، مسند احمد 5/12، 21، 19، 22، سنن الدارمی/البیوع 30 (2606) (صحیح)