📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل (كتاب البيوع) 🏷️ باب: باب: بیچنے والے کے پاس غیر موجود چیز کے بیچنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 4615 Sunan an-Nasa'i 4615
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
60: بَابُ : بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَ الْبَائِعِ
باب: بیچنے والے کے پاس غیر موجود چیز کے بیچنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ , عَنْ يَزِيدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ , وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ , وَلَا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ".
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ادھار اور بیع ایک ساتھ جائز نہیں ۱؎ ، اور نہ ہی ایک بیع میں دو شرطیں درست ہیں ۲؎ ، اور نہ اس چیز کی بیع درست ہے جو سرے سے تمہارے پاس ہو ہی نہ “ ۳؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4615]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کی صورت یہ ہے کہ بیچنے والا خریدار کے ہاتھ آٹھ سو کا سامان ایک ہزار روپے کے بدلے اس شرط پر بیچے کہ بیچنے والا خریدار کو ایک ہزار روپے بطور قرض دے گا (دیکھئیے باب رقم ۷۰) گویا بیع کی اگر یہ شکل نہ ہوتی تو بیچنے والا خریدار کو قرض نہ دیتا اور اگر قرض کا وجود نہ ہوتا تو خریدار یہ سامان نہ خریدتا۔ ۲؎: مثلاً کوئی کہے کہ یہ غلام میں نے تجھ سے ایک ہزار نقد اور دو ہزار ادھار میں بیچا (دیکھئیے باب رقم ۷۲) یہ ایسی بیع ہے جو دو شرطں ہیں یا مثلاً کوئی یوں کہے کہ میں نے تم سے اپنا یہ کپڑا اتنے اتنے میں اس شرط پر بیچا کہ اس کا دھلوانا اور سلوانا میرے ذمہ ہے۔ ۳؎: بیچنے والے کے پاس جو چیز موجود نہیں ہے اسے بیچنے سے اس لیے روک دیا گیا ہے کہ اس میں دھوکہ دھڑی کا خطرہ ہے جیسے کوئی شخص اپنے بھاگے ہوئے غلام یا اونٹ بیچے جب کہ ان دونوں کے واپسی کی ضمانت بیچنے والا نہیں دے سکتا البتہ ایسی چیز کی بیع جو اپنی صفت کے اعتبار سے خریدار کے لیے بالکل واضح ہو جائز ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع سلم کی اجازت دی ہے باوجود یہ کہ بیچی جانے والی چیز بیچنے والے کے پاس بروقت موجود نہیں ہوتی۔ (کیونکہ چیز کے سامنے آنے کے بعد اختلاف اور جھگڑا پیدا ہو سکتا ہے)۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع 7 (3504)، سنن الترمذی/البیوع 19 (1234)، سنن ابن ماجہ/التجارات 20 (2188)، (تحفة الأشراف: 8664)، مسند احمد (2/178)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4634، 4635 (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #4615
4613 4614 4615 4616 4617

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#4616 أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ عَبَّا...
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس چیز کا بیچن...
#4617 حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ , عَن...
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : اللہ کے رسول ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ