سنن النسائي حدیث نمبر: 4707
Sunan an-Nasa'i 4707
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
109: بَابُ : ذِكْرِ الشُّفْعَةِ وَأَحْكَامِهَا
باب: شفعہ اور اس کے احکام کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْضِي لَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا شَرِكَةٌ، وَلَا قِسْمَةٌ إِلَّا الْجُوَارَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ".
شرید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! میری زمین ہے ، جس میں کسی کی حصہ داری اور شرکت نہیں اور نہ ہی پڑوس کے سوا کسی کا حصہ ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پڑوسی اپنے پڑوسی کا زیادہ حقدار ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4707]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الشفعة 2 (2496)، (تحفة الأشراف: 4840)، مسند احمد (4/388، 389، 390) (صحیح)