سنن النسائي حدیث نمبر: 4537
Sunan an-Nasa'i 4537
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
32: بَابُ : بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ
باب: درخت کے پھل کو توڑے ہوئے پھلوں سے بیچنے کا بیان۔
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ , وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يُبَاعَ مَا فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِتَمْرٍ بِكَيْلٍ مُسَمًّى , إِنْ زَادَ لِي وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيَّ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا ، اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت میں موجود پھل کو متعین توڑے ہوئے پھلوں سے بیچنا اس طور پر کہ زیادہ ہوا تو بھی میرا ( یعنی کا ) اور کم ہوا تو بھی میرے ذمہ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4537]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 75 (2172)، صحیح مسلم/البیوع 14(1542)، (تحفة الأشراف: 7522)، مسند احمد (2/5، 64) (صحیح)