سنن النسائي حدیث نمبر: 4672
Sunan an-Nasa'i 4672
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
92: بَابُ : مَا اسْتُثْنِيَ
باب: مذکورہ بالا حکم سے مستثنیٰ کتے کا بیان۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , قَالَ: أَنْبَأَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ , إِلَّا كَلْبِ صَيْدٍ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا مُنْكَرٌ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے ، اور بلی کی قیمت سے منع فرمایا سوائے شکاری کتے کے ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : یہ حدیث منکر ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4672]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ ثقہ راویوں کی روایت میں «إلا کلب صید» کا ذکر نہیں ہے، اس کے رواۃ ”حجاج“ مختلط، اور ”ابوالزبیر“ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (4300) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 355
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 4300 (صحیح) (لیکن ’’إلا کلب صید‘‘ کا جملہ صحیح نہیں ہے، اور یہ جملہ صحیح مسلم میں بھی نہیں ہے)