سنن النسائي حدیث نمبر: 4489
Sunan an-Nasa'i 4489
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
12: بَابُ : الْخَدِيعَةِ فِي الْبَيْعِ
باب: خرید و فروخت میں دھوکہ کھا جانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَجُلًا ذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا بِعْتَ فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ" , فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا بَاعَ , يَقُولُ: لَا خِلَابَةَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ وہ بیع میں دھوکہ کھا جاتا ہے تو آپ نے اس سے فرمایا : ” جب تم بیچو تو کہہ دیا کرو : فریب اور دھوکہ دھڑی نہ ہو ، چنانچہ وہ شخص جب کوئی چیز بیچتا تو کہتا : دھوکہ دھڑی نہیں “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4489]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ کہہ دینے سے اسے اختیار حاصل ہو جاتا اگر بعد میں اسے پتہ چل جائے کہ اس کے ساتھ چالبازی کی گئی ہے تو وہ اسے فسخ کر سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 48 (2117)، الاستقراض 19 (2407)، الخصومات 3 (2414)، الحیل 7 (6964)، صحیح مسلم/البیوع 12 (1533)، سنن ابی داود/البیوع 68 (3500)، (تحفة الأشراف: 7229)، موطا امام مالک/البیوع 46 (98) (صحیح)