سنن النسائي حدیث نمبر: 4506
Sunan an-Nasa'i 4506
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
19: بَابُ : سَوْمِ الرَّجُلِ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ
باب: مسلمان بھائی کے دام پر دام لگانا منع ہے۔
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَبِيعَنَّ حَاضِرٌ لِبَادٍ , وَلَا تَنَاجَشُوا , وَلَا يُسَاوِمْ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ , وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ , وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا وَلِتُنْكَحَ , فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال ہرگز نہ بیچے ، اور نہ بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے کا کام کرو ، اور نہ آدمی اپنے ( مسلمان ) بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ لگائے ، اور نہ ( مسلمان ) بھائی کی شادی کے پیغام پر پیغام بھیجے اور نہ عورت اپنی سوکن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ جو اس کے برتن میں ہے اسے بھی اپنے لیے انڈیل لے ( یعنی جو اس کی قسمت میں تھا وہ اسے مل جائے ) بلکہ ( بلا مطالبہ و شرط ) نکاح کرے ، کیونکہ اسے وہی ملے گا جو اس کی قسمت میں اللہ تعالیٰ نے لکھا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4506]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الشروط 11 (2723)، صحیح مسلم/النکاح 6 (1413)، (تحفة الأشراف: 13271)، ویأتي عند المؤلف: 4511) مسند احمد (2/274، 487) (صحیح)