سنن النسائي حدیث نمبر: 4643
Sunan an-Nasa'i 4643
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
77: بَابُ : الْبَيْعِ يَكُونُ فِيهِ الشَّرْطُ فَيَصِحُّ الْبَيْعُ وَالشَّرْطُ
باب: بیع میں جائز شرط ہو تو بیع اور شرط دونوں صحیح ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , وَكُنْتُ عَلَى جَمَلٍ , فَقَالَ: " مَا لَكَ فِي آخِرِ النَّاسِ؟" , قُلْتُ: أَعْيَا بَعِيرِي فَأَخَذَ بِذَنَبِهِ ثُمَّ زَجَرَهُ , فَإِنْ كُنْتُ إِنَّمَا أَنَا فِي أَوَّلِ النَّاسِ يُهِمُّنِي رَأْسُهُ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ الْمَدِينَةِ , قَالَ: " مَا فَعَلَ الْجَمَلُ بِعْنِيهِ؟" , قُلْتُ: لَا , بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " لَا , بَلْ بِعْنِيهِ" , قُلْتُ: لَا , بَلْ هُوَ لَكَ , قَالَ: " لَا , بَلْ بِعْنِيهِ , قَدْ أَخَذْتُهُ بِوُقِيَّةٍ ارْكَبْهُ , فَإِذَا قَدِمْتَ الْمَدِينَةَ فَأْتِنَا بِهِ" , فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ جِئْتُهُ بِهِ , فَقَالَ لِبِلَالٍ: " يَا بِلَالُ , زِنْ لَهُ أُوقِيَّةً , وَزِدْهُ قِيرَاطًا" , قُلْتُ: هَذَا شَيْءٌ زَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُفَارِقْنِي , فَجَعَلْتُهُ فِي كِيسٍ فَلَمْ يَزَلْ عِنْدِي حَتَّى جَاءَ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ , فَأَخَذُوا مِنَّا مَا أَخَذُوا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا ، میں ایک اونٹ پر سوار تھا ۔ آپ نے فرمایا : ” کیا وجہ ہے کہ تم سب سے پیچھے میں ہو ؟ “ میں نے عرض کیا : میرا اونٹ تھک گیا ہے ، آپ نے اس کی دم کو پکڑا اور اسے ڈانٹا ، اب حال یہ تھا کہ میں سب سے آگے تھا ، ( ایسا نہ ہو کہ لوگوں کے اونٹ سے آگے بڑھ جائے اس لیے ) مجھے اس کے سر سے ڈر ہو رہا تھا ، تو جب ہم مدینے سے قریب ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اونٹ کا کیا ہوا ؟ اسے میرے ہاتھ بیچ دو “ ، میں نے عرض کیا : نہیں ، بلکہ وہ آپ ہی کا ہے ، اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” نہیں ، اسے میرے ہاتھ بیچ دو “ ، میں نے عرض کیا : نہیں ، بلکہ وہ آپ ہی کا ہے ، آپ نے کہا : ” نہیں ، بلکہ اسے میرے ہاتھ بیچ دو ، میں نے اسے ایک اوقیہ میں لے لیا ، تم اس پر سوار ہو اور جب مدینہ پہنچ جاؤ تو اسے ہمارے پاس لے آنا “ ، جب میں مدینے پہنچا تو اسے لے کر آپ کے پاس آیا ، آپ نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” بلال ! انہیں ایک اوقیہ ( چاندی ) دے دو اور ایک قیراط مزید دے دو “ ، میں نے عرض کیا : یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زیادہ دیا ہے ، ( یہ سوچ کر کہ ) وہ مجھ سے کبھی جدا نہ ہو ، تو میں نے اسے ایک تھیلی میں رکھا ، پھر وہ قیراط میرے پاس برابر رہا یہاں تک کہ حرہ کے دن ۱؎ اہل شام آئے اور ہم سے لوٹ لے گئے جو لے گئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4643]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ واقعہ ۶۳ھ میں پیش آیا تھا، اس میں یزید کے لشکر نے مدینے پر چڑھائی کی تھی۔ حرہ کالے پتھروں والی زمین کو کہتے ہیں جو مدینے کے مشرقی اور مغربی علاقہ کی زمین ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الشروط 4 (2718 تعلیقًا)، صحیح مسلم/البیوع 42 (715)، (تحفة الأشراف: 2243)، مسند احمد (3/314) (صحیح)