سنن النسائي حدیث نمبر: 4512
Sunan an-Nasa'i 4512
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
22: بَابُ : الْبَيْعِ فِيمَنْ يَزِيدُ
باب: اس شخص کے ہاتھ بیچنا جو قیمت زیادہ دے یعنی نیلامی کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ , وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَخْضَرُ بْنُ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَاعَ قَدَحًا وَحِلْسًا فِيمَنْ يَزِيدُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالا اور ایک کمبل نیلام کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4512]
💡 وضاحت:
۱؎: انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث سند کے لحاظ سے ضعیف ہے، مگر خرید و فروخت کے معاملات میں حرمت کی جو بنیاد ہے بیع مزایدہ (نیلام) پر صادق نہیں آتی، کیونکہ اس معاملہ میں بیچنے والے کی رائے کسی بھاؤ پر حتمی اور آخری نہیں اس لیے دوسرے خریدار کو بھاؤ بڑھا کر سودا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الزکاة 26 (1641)، سنن الترمذی/البیوع10(1218)، سنن ابن ماجہ/التجا رات25(2198)، (تحفة الأشراف: 978)، مسند احمد (3/100، 114، 126) (ضعیف) 1؎ (اس کے راوی ’’ابوبکر حنفی‘‘ مجہول ہیں)