سنن النسائي حدیث نمبر: 4513
Sunan an-Nasa'i 4513
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
23: بَابُ : بَيْعِ الْمُلاَمَسَةِ
باب: بیع ملامسہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ , قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ , وَأَبِي الزِّنَادِ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُلَامَسَةِ , وَالْمُنَابَذَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4513]
💡 وضاحت:
۱؎: زمانہ جاہلیت میں منابذہ، ملامسہ، یا کنکری پھینک کر خرید و فروخت کا عام رواج تھا، ان سارے معاملات میں دھوکا، اور مال وقیمت کی تحدید و تعیین نہیں ہوتی تھی، اس لیے یہ معاملات جھگڑے کا سبب ہوتے ہیں یا کسی فریق کے سخت گھاٹے میں پڑ جانے سے اسے سخت تکلیف ہوتی ہے، اس لیے ان سے شریعت اسلامیہ نے منع کر دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 63 (2146)، (تحفة الأشراف: 13827)، موطا امام مالک/البیوع 35 (76)، مسند احمد (2/279، 319، 419، 464، 476، 480، 491، 496، 521، 529) (صحیح)