سنن النسائي حدیث نمبر: 4469
Sunan an-Nasa'i 4469
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
8: بَابُ : وُجُوبِ الْخِيَارِ لِلْمُتَبَايِعَيْنِ قَبْلَ افْتِرَاقِهِمَا
باب: خرید و فروخت کرنے والے جب تک جدا نہ ہوں دونوں کے لیے حق اختیار کے باقی رہنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ، مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، فَإِنْ بَيَّنَا وَصَدَقَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا، مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا".
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خریدنے اور بیچنے والے جب تک جدا نہ ہو جائیں دونوں کو اختیار رہتا ہے ۱؎ ، اگر وہ عیب بیان کر دیں اور سچ بولیں تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ہو گی ، اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور عیب چھپائیں تو ان کی بیع کی برکت ختم ہو جاتی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4469]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: بیع کو فسخ (کالعدم) کر دینے کا اختیار دونوں فریق کو صرف اسی مجلس تک ہوتا ہے جس مجلس میں بیع کا معاملہ طے ہوا ہو، مجلس ختم ہو جانے کے بعد دونوں کا اختیار ختم ہو جاتا ہے اب معاملہ فریق ثانی کی رضا مندی پر ہو گا اگر وہ راضی نہ ہوا تو بیع نافذ رہے گی۔ الا یہ کہ معاملہ کے اندر کسی اور وقت تک کی شرط رکھی گئی ہو۔ تو اس وقت تک اختیار باقی رہے گا (دیکھئیے اگلی حدیث)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 4462 (صحیح)