📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل (كتاب البيوع) 🏷️ باب: باب: بیچنے اور خریدنے والے کے درمیان قیمت کے بارے میں اختلاف ہو جانے کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 4652 Sunan an-Nasa'i 4652
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
82: بَابُ : اخْتِلاَفِ الْمُتَبَايِعَيْنِ فِي الثَّمَنِ
باب: بیچنے اور خریدنے والے کے درمیان قیمت کے بارے میں اختلاف ہو جانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَال عَبْدُ اللَّهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ , فَهُوَ مَا يَقُولُ رَبُّ السِّلْعَةِ , أَوْ يَتْرُكَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” بیچنے اور خریدنے والے میں اختلاف ہو جائے اور ان میں سے کسی کے پاس گواہ نہ ہو تو اس کی بات کا اعتبار ہو گا جو صاحب مال ( بیچنے والا ) ہے ۱؎ ( اور خریدار کو اسی قیمت پر لینا ہو گا ) یا پھر دونوں بیع ترک کر دیں “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4652]
💡 وضاحت:
۱؎: مگر قسم کھانے کے بعد، جیسا کہ دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے۔ ۲؎: خریدنے اور بیچنے والے کے درمیان قیمت کی تعیین میں اگر اختلاف ہو جائے اور ان کے درمیان کوئی گواہ موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں بیچنے والا قسم کھا کر کہے گا کہ میں نے اس سامان کو اتنے میں نہیں بلکہ اتنے میں بیچا ہے اب خریدار اس کی قسم اور قیمت کی تعیین پر راضی ہے تو بہتر ورنہ بیع کا معاملہ ہی ختم کر دیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع 74 (3511)، (تحفة الأشراف: 9546) (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #4652
4650 4651 4652 4653 4654

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#4653 أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ...
عبدالملک بن عبید کہتے ہیں کہ ہم ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود کے پاس حاضر ہوئے ، ان کے پاس دو آدمی آئ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ