سنن النسائي حدیث نمبر: 4637
Sunan an-Nasa'i 4637
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
74: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ بَيْعِ الثُّنْيَا، حَتَّى تُعْلَمَ
باب: استثنائی بیع کی ممانعت کہ اس کی مقدار معلوم ہو کا بیان۔
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ , وَالْمُزَابَنَةِ , وَالْمُخَابَرَةِ , وَعَنِ الثُّنْيَا إِلَّا أَنْ تُعْلَمَ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ ، مزابنہ ، مخابرہ سے اور بیع میں استثناء کرنے سے سوائے اس کے کہ مقدار معلوم ہو منع فرمایا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4637]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی درخت کے پھل بیچتے وقت کچھ غیر معلوم پھل الگ کرنے سے منع فرمایا، اگر الگ کئے ہوئے پھلوں کی مقدار طے ہو تو یہ معاملہ جائز ہے، لیکن یہ مقدار اتنی بھی نہ ہو کہ بیچے ہوئے پھل کی مقدار انتہائی کم رہ جائے، جس سے خریدار کو گھاٹا ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 3911 (صحیح)