📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل (كتاب البيوع) 🏷️ باب: باب: مکاتب نے اگر بدل کتابت میں سے کچھ نہ ادا کیا ہو تو اسے بیچا جا سکتا ہے۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 4660 Sunan an-Nasa'i 4660
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
86: بَابُ : الْمُكَاتَبِ يُبَاعُ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ مِنْ كِتَابَتِهِ شَيْئًا
باب: مکاتب نے اگر بدل کتابت میں سے کچھ نہ ادا کیا ہو تو اسے بیچا جا سکتا ہے۔
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ يُونُسُ , وَاللَّيْثُ , أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُمْ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ إِلَيَّ، فَقَالَتْ: يَا عَائِشَةُ , إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ , فَأَعِينِينِي وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا , فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ , وَنَفِسَتْ فِيهَا: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أُعْطِيَهُمْ ذَلِكَ جَمِيعًا وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ , فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا فَعَرَضَتْ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا , وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ , وَيَكُونَ ذَلِكِ لَنَا , فَذَكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ مِنْهَا ابْتَاعِي , وَأَعْتِقِي , فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ" , فَفَعَلَتْ , وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ , فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى , ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ , فَمَا بَالُ النَّاسِ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَنْ , اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ , وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ , قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ , وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا نے آ کر کہا : عائشہ ! میں نے نو اوقیہ کے بدلے اپنے گھر والوں ( مالکوں ) سے مکاتبت کر لی ہے کہ ہر سال ایک اوقیہ دوں گی تو آپ میری مدد کریں ۔ ( اس وقت ) انہوں نے اپنی کتابت میں سے کچھ بھی ادا نہ کیا تھا ۔ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا اور ان میں دلچسپی لے رہی تھیں : جاؤ اپنے لوگوں ( مالکوں ) کے پاس اگر وہ پسند کریں کہ میں انہیں یہ رقم ادا کر دوں اور تمہارا ولاء ( حق وراثت ) میرے لیے ہو گا تو میں ایسا کروں ، بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے لوگوں ( مالکوں ) کے پاس گئیں اور ان کے سامنے یہ بات پیش کی ، تو انہوں نے انکار کیا اور کہا : اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کرنا چاہتی ہیں تو کریں لیکن وہ ولاء ( ترکہ ) ہمارا ہو گا ، اس کا ذکر عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا : ” یہ چیز تمہیں ان سے مانع نہ رکھے ، خریدو اور آزاد کر دو ، ولاء ( ترکہ ) تو اسی کا ہے جس نے آزاد کیا “ ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے اور حمد و ثنا کے بعد فرمایا : ” امابعد ، لوگوں کا کیا حال ہے ، وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں نہیں ہوتیں ، جو ایسی شرط لگائے گا جو اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں نہیں ہے تو وہ باطل ہے گرچہ وہ سو شرطیں ہوں ، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ زیادہ قابل قبول اور اللہ تعالیٰ کی شرط زیادہ لائق بھروسہ ہے ، ولاء ( حق وراثت ) اسی کا ہے جس نے آزاد کیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4660]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #4660
4658 4659 4660 4661 4662
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ