سنن النسائي حدیث نمبر: 4545
Sunan an-Nasa'i 4545
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
35: بَابُ : بَيْعِ الْعَرَايَا بِالرُّطَبِ
باب: عاریت والی بیع میں تازہ کھجور دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخِرْصِهَا فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ , أَوْ مَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاریت والی بیع میں ( یہ ) اجازت دی کہ پانچ وسق یا پانچ وسق سے کم کھجور اندازہ لگا کر کے بیچی جائے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4545]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اوپر جو عاریت والی بیع میں یہ اجازت موجود ہے کہ درخت پر لگی کھجور کو توڑی ہوئی تازہ اور سوکھی کھجور کے بدلے بیچ سکتے ہیں، یہ ایک ضرورت کے تحت اجازت ہے، اور بات ضرورت کی ہے تو پانچ وسق سے یہ ضرورت پوری ہو جاتی ہے، اس لیے صرف پانچ وسق تک کی اجازت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 83 (2190)، المساقاة 17 (2382)، صحیح مسلم/البیوع 14 (1541)، سنن ابی داود/البیوع 21 (3364)، سنن الترمذی/البیوع 63 (1301)، موطا امام مالک/البیوع 9 (14)، (تحفة الأشراف: 14943)، مسند احمد (2/237) (صحیح)