📖 سنن النسائي (Sunan an-Nasa'i) • تمام کتب ↗

كتاب الضحايا

کتاب: قربانی کے احکام و مسائل

کتاب #48 • کل احادیث: 88
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: بَابُ :
باب:
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ وَهُوَ ابْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ رَأَى هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ فَأَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ، وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ حَتَّى يُضَحِّيَ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے ذی الحجہ کے مہینے کا چاند دیکھا پھر قربانی کرنے کا ارادہ کیا تو وہ اپنے بال اور ناخن قربانی کرنے تک نہ لے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4366]
💡 وضاحت:
۱؎: بال اور ناخن وغیرہ کچھ نہ کاٹے، جمہور کے نزدیک یہ حکم استحبابی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأضاحی 3 (1977)، سنن ابی داود/الضحایا 3 (2791)، سنن الترمذی/الضحایا24(1523)، سنن ابن ماجہ/الضحایا 11 (3150)، (تحفة الأشراف: 18152) مسند احمد 6/289، 301، 311، سنن الدارمی/الأضاحی 2 (1990)، ویأتی برقم: 4367-4369) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَقْلِمْ مِنْ أَظْفَارِهِ، وَلَا يَحْلِقْ شَيْئًا مِنْ شَعْرِهِ فِي عَشْرِ الْأُوَلِ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص قربانی کرنا چاہے تو وہ ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں نہ اپنے ناخن کترے اور نہ بال کٹوائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4367]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ الْأَحْلَافِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: " مَنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَدَخَلَتْ أَيَّامُ الْعَشْرِ، فَلَا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ، وَلَا أَظْفَارِهِ". فَذَكَرْتُهُ لِعِكْرِمَةَ، فَقَالَ: أَلَا يَعْتَزِلُ النِّسَاءَ، وَالطِّيبَ.
تابعی سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ جو شخص قربانی کا ارادہ کرے اور ( ذی الحجہ کے ابتدائی ) دس دن شروع ہو جائیں تو اپنے بال اور اپنے ناخن نہ کترے ، میں نے اس چیز کا ذکر عکرمہ سے کیا تو انہوں نے کہا : وہ عورتوں اور خوشبو سے بھی دور رہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4368]
💡 وضاحت:
۱؎: ان کو اس بابت مرفوع حدیث نہیں پہنچی تھی اس لیے بطور طنز ایسا کہا، ویسے اس کی سند ضعیف ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، شريك القاضي عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
تخریج دارالدعوہ: انظر رقم: 4366 (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ”شریک القاضی“ حافظے کے کمزور ہیں)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ فَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهِ، وَلَا مِنْ بَشَرِهِ شَيْئًا".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہو جائے اور تم میں کا کوئی قربانی کا ارادہ رکھتا ہو تو اسے اپنے بال اور اپنی کھال سے کچھ نہیں چھونا چاہیئے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4369]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4366 (صحیح)
2: بَابُ : مَنْ لَمْ يَجِدِ الأُضْحِيَةَ
باب: جو قربانی نہ پائے تو کیا کرے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، وَذَكَرَ آخَرِينَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: " أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةً أُنْثَى , أَفَأُضَحِّي بِهَا؟، قَالَ: " لَا، وَلَكِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ، وَتُقَلِّمُ أَظْفَارَكَ، وَتَقُصُّ شَارِبَكَ، وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ، فَذَلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا : ” مجھے قربانی کے دن ( دسویں ذی الحجہ ) کو عید منانے کا حکم ہوا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس دن کو اس امت کے لیے عید کا دن بنایا ہے “ ، وہ شخص بولا : اگر میرے پاس سوائے ایک دو دھاری بکری کے کچھ نہ ہو تو آپ کا کیا خیال ہے ؟ کیا میں اس کی قربانی کروں ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں ، بلکہ تم ( قربانی کے دن ) ۱؎ اپنے بال ، ناخن کاٹو ، اپنی مونچھ تراشو اور ناف کے نیچے کے بال کاٹو ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمہاری مکمل قربانی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4370]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: ذی الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے رک جاؤ، اور عید کی نماز پڑھ کر ان کو کاٹو تو تمہیں بھی مکمل قربانی کا ثواب ملے گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأضاحی 1 (2789)، (تحفة الأشراف: 8909)، مسند احمد (2/169) (حسن) (شیخ البانی نے ’’عیسیٰ بن ہلال صوفی‘‘ کو مجہول قرار دے کر اس حدیث کی تضعیف کی ہے۔ جب کہ عیسیٰ بتحقیق ابن حجر ’’صدوق‘‘ ہیں دیکھئے ”أحکام العیدین للفریابی“ تحقیق مساعد الراشد حدیث رقم 2)
3: بَابُ : ذَبْحِ الإِمَامِ أُضْحِيَتَهُ بِالْمُصَلَّى
باب: امام کا اپنی قربانی کا جانور عیدگاہ میں ذبح کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَخْبَرَهُ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَذْبَحُ، أَوْ يَنْحَرُ بِالْمُصَلَّى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ میں ہی ( قربانی کا جانور ) ذبح یا نحر کرتے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4371]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مدینہ میں عید گاہ کے اندر قربانی کرنے کی سہولت میسر تھی تو آپ نے ایسا کیا، اگر آج ایسی سہولت میسر ہو تو عید گاہ کے اندر ایسا کیا جا سکتا ہے، یہ کوئی واجب اور سنت نہیں کہ ہر حال میں ایسا ہی کیا جائے، اس زمانہ میں تو اب شاید کسی دیہات میں بھی یہ سہولت نہ ہو، شہروں میں تو اب ایسا ممکن ہی نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1590 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ يَوْمَ الْأَضْحَى بِالْمَدِينَةِ" , قَالَ: وَقَدْ كَانَ إِذَا لَمْ يَنْحَرْ يَذْبَحُ بِالْمُصَلَّى.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے دن مدینے میں اونٹ نحر ( ذبح ) کیا ، اور جب آپ ( اونٹ ) نحر نہیں کرتے تو عید گاہ میں ذبح کرتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4372]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7719) (صحیح)
4: بَابُ : ذَبْحِ النَّاسِ بِالْمُصَلَّى
باب: عیدگاہ میں قربانی کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ، قَالَ: شَهِدْتُ أَضْحًى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ رَأَى غَنَمًا قَدْ ذُبِحَتْ، فَقَالَ: " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيَذْبَحْ شَاةً مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید الاضحی میں تھا ، آپ نے لوگوں کو نماز عید پڑھائی ، جب نماز مکمل کر لی تو آپ نے دیکھا کہ کچھ بکریاں ( نماز سے پہلے ہی ) ذبح کر دی گئیں ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز عید سے پہلے جس نے ذبح کیا ہے اسے چاہیئے کہ وہ اس کی جگہ دوسری بکری ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا ہے تو وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4373]
💡 وضاحت:
: ۱؎ واضح طور پر باب کے مطابق پچھلی حدیث ہے، مؤلف نے اس حدیث سے اس طرح استدلال کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید گاہ میں ذبح پر کچھ نہیں فرمایا: بلکہ صرف نماز عید سے پہلے ذبح کر دیئے جانے پر اعتراض کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العیدین 23 (985)، الصید 17 (5500)، الأضاحی 12 (5562)، الأیمان 15 (6674)، التوحید 13 (7400)، صحیح مسلم/الأضاحی 1 (1960)، سنن ابن ماجہ/الأضاحی 12 (3152)، (تحفة الأشراف: 3251)، مسند احمد (4/312، 313)، ویأتی عند المؤلف برقم: 4403 (صحیح)
5: بَابُ : مَا نُهِيَ عَنْهُ مِنَ الأَضَاحِي الْعَوْرَاءِ
باب: ممنوع جانوروں میں سے کانے جانور کی قربانی منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى بَنِي أَسَدٍ، عَنْ أَبِي الضَّحَّاكِ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ مَوْلَى بَنِي شَيْبَانَ، قَالَ: قُلْتُ لِلْبَرَاءِ: حَدِّثْنِي عَمَّا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَضَاحِيِّ. قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ، فَقَالَ: " أَرْبَعٌ لَا يَجُزْنَ: الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا، وَالْكَسِيرَةُ الَّتِي لَا تُنْقِي". قُلْتُ: إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ فِي الْقَرْنِ نَقْصٌ، وَأَنْ يَكُونَ فِي السِّنِّ نَقْصٌ. قَالَ: مَا كَرِهْتَهُ فَدَعْهُ، وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ.
ابوالضحاک عبید بن فیروز کہتے ہیں کہ میں نے براء رضی اللہ عنہ سے کہا : مجھے بتائیے کہ کن کن جانوروں کی قربانی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا ہے ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ( اور براء نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور کہا ) میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ سے چھوٹا ہے ، آپ نے فرمایا : ” چار طرح کے جانور جائز نہیں : ایک تو کانا جس کا کانا پن صاف معلوم ہو ، دوسرا بیمار جس کی بیماری واضح ہو ، تیسرا لنگڑا جس کا لنگڑا پن صاف ظاہر ہو ، چوتھا وہ دبلا اور کمزور جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو “ ۔ میں نے کہا : مجھے یہ بھی ناپسند ہے کہ اس کے سینگ میں کوئی نقص عیب ہو یا اس کے دانت میں کوئی کمی ہو ۱؎ ، انہوں نے کہا : جو تمہیں ناپسند ہو اسے چھوڑ دو ، لیکن تم کسی اور کو اس سے مت روکو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4374]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے مراد: سینگ یا دانت میں معمولی سی کمی ہے، اسی لیے اتنی کمی والے جانور کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو تمہیں ناپسند ہو … ورنہ مذکورہ چاروں عیوب کی طرح کسی بھی بڑے عیب کی موجودگی میں جمہور کے نزدیک قربانی جائز نہیں جیسے آدھا سے زیادہ کان کٹا ہوا ہو سینگ ٹوٹی ہوئی، پاؤں کٹا ہوا ہو، اندھا ہو، وغیرہ وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الضحایا 6 (2802)، سنن الترمذی/الضحایا 5 (1497)، سنن ابن ماجہ/الضحایا 8 (3144)، موطا امام مالک/الضحایا 1 (1)، مسند احمد (4/284، 289، 300، 301)، سنن الدارمی/الأضاحی 3 (1993)، ویأتی برقم: 4375، 4376 (صحیح)
6: بَابُ : الْعَرْجَاءِ
باب: لنگڑے جانوروں کی قربانی منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ , وَيَحْيَى، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَأَبُو الْوَلِيدِ، قَالُوا: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ، قَالَ: قُلْتُ لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ: حَدِّثْنِي مَا كَرِهَ، أَوْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَضَاحِيِّ، قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: هَكَذَا بِيَدِهِ، وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبَعَةٌ لَا يَجْزِينَ فِي الْأَضَاحِيِّ: الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا، وَالْكَسِيرَةُ الَّتِي لَا تُنْقِي". قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ نَقْصٌ فِي الْقَرْنِ، وَالْأُذُنِ، قَالَ: فَمَا كَرِهْتَ مِنْهُ فَدَعْهُ، وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ.
عبید بن فیروز کہتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے کہا : مجھے بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کن کن جانوروں کی قربانی ناپسند تھی ، یا آپ ان سے منع فرماتے تھے ؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ( اور اس طرح انہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا ، اور میرا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے چھوٹا ہے ) : ” چار جانوروں کی قربانی درست اور صحیح نہیں ہے : کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو ، بیمار جس کی بیماری واضح ہو ، لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو ، اور دبلا اور کمزور جس میں گودا نہ ہو “ ، انہوں نے کہا : مجھے ناپسند ہے کہ اس جانور کے سینگ اور کان میں کوئی عیب ہو ، انہوں نے کہا : جو تمہیں ناپسند ہو اسے چھوڑ دو لیکن کسی اور کو اس سے مت روکو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4375]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
7: بَابُ : الْعَجْفَاءِ
باب: کمزور اور دبلے جانوروں کی قربانی منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , وَذَكَرَ آخَرَ، وَقَدَّمَهُ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ، وَأَصَابِعِي أَقْصَرُ مِنْ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُشِيرُ أُصْبُعِهِ، يَقُولُ: " لَا يَجُوزُ مِنَ الضَّحَايَا: الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ عَرَجُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لَا تُنْقِي".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ، انہوں نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کیا اور میری انگلیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے چھوٹی ہیں ، انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے آپ فرما رہے تھے : ” قربانی کے جانوروں میں یہ جانور جائز نہیں ہیں : کانا جس کا کانا پن صاف معلوم ہو ، لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو ، بیمار جس کی بیماری صاف ظاہر ہو رہی ہو اور دبلا اور کمزور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4376]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4374 (صحیح)
8: بَابُ : الْمُقَابَلَةِ وَهِيَ مَا قُطِعَ طَرَفُ أُذُنِهَا
باب: سامنے سے کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ، وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِمُقَابَلَةٍ، وَلَا مُدَابَرَةٍ، وَلَا بَتْرَاءَ، وَلَا خَرْقَاءَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم ( جانوروں کے ) آنکھ اور کان دیکھ لیں اور کسی ایسے جانور کی قربانی نہ کریں جس کا کان سامنے سے کٹا ہو ، یا جس کا کان پیچھے سے کٹا ہو ، اور نہ دم کٹے جانور کی ، اور نہ ایسے جانور کی جس کے کان میں سوراخ ہوں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4377]
قال الشيخ الألباني: ضعيف لكن جملة الاستشراف صحيحة
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2804) ترمذي (1498) ابن ماجه (3142) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الضحایا 6 (2804)، سنن الترمذی/الضحایا6(1498)، سنن ابن ماجہ/الضحایا 8 (3142)، (تحفة الأشراف: 10125)، مسند احمد (1/80، 108، 128، 149)، سنن الدارمی/الأضاحی3(1995)، ویأتی فیما یلی: 4378-4380 (ضعیف) (اس کے راوی ’’ابواسحاق‘‘ مختلط اور مدلس ہیں، نیز ’’شریح‘‘ سے ان کا سماع نہیں ہے، اس لیے سند میں انقطاع بھی ہے، مگر مطلق کان ناک دیکھ بھال کر لینے کا حکم صحیح ہے، دیکھئے حدیث نمبر 4381، اور حاشیہ نمبر حدیث 4374)
9: بَابُ : الْمُدَابَرَةِ وَهِيَ مَا قُطِعَ مِنْ مُؤَخَّرِ أُذُنِهَا
باب: پیچھے سے کان کٹے جانور کی قربانی منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ أَبُو إِسْحَاق: وَكَانَ رَجُلَ صِدْقٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ، وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِعَوْرَاءَ، وَلَا مُقَابَلَةٍ، وَلَا مُدَابَرَةٍ، وَلَا شَرْقَاءَ، وَلَا خَرْقَاءَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جانوروں کے ) آنکھ اور کان دیکھ لینے کا حکم دیا ، اور یہ کہ ہم کسی ایسے جانور کی قربانی نہ کریں جو کانا ہو ، جس کا کان سامنے سے کٹا ہو ، یا جس کا کان پیچھے سے کٹا ہو ، اور نہ کسی ایسے جانور کی جس کے کان چرے ہوئے ہوں ، اور نہ ایسے جانور کی جس کے کان میں سوراخ ہو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4378]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2804) ترمذي (1498) ابن ماجه (3142) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (ضعیف)
10: بَابُ : الْخَرْقَاءِ وَهِيَ الَّتِي تُخْرَقُ أُذُنُهَا
باب: کٹے پھٹے کان والے جانور کی قربانی منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَاصِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُضَحِّيَ بِمُقَابَلَةٍ، أَوْ مُدَابَرَةٍ، أَوْ شَرْقَاءَ، أَوْ خَرْقَاءَ، أَوْ جَدْعَاءَ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامنے اور پیچھے سے کان کٹے ہوئے جانور ، اور پھٹے کان والے جانور اور چرے ہوئے کان والے جانور اور ایسے جانور جن کے کان میں سوراخ ہو اور کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی کرنے سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4379]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2804) ترمذي (1498) ابن ماجه (3142) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4377 (ضعیف)
11: بَابُ : الشَّرْقَاءِ وَهِيَ مَشْقُوقَةُ الأُذُنِ
باب: پھٹے کان والے جانور کی قربانی منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُضَحَّى بِمُقَابَلَةٍ، وَلَا مُدَابَرَةٍ، وَلَا شَرْقَاءَ، وَلَا خَرْقَاءَ، وَلَا عَوْرَاءَ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سامنے سے اور پیچھے سے کان کٹے ہوئے ، اور کان چرے ہوئے اور کان پھٹے ہوئے اور کانے جانوروں کی قربانی نہ کی جائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4380]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2804) ترمذي (1498) ابن ماجه (3142) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4377 (ضعیف)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , أَنَّ سَلَمَةَ وَهُوَ ابْنُ كُهَيْلٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ، وَالْأُذُنَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آنکھ اور کان دیکھ لینے کا حکم دیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4381]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الضحایا 9 (1503)، سنن ابن ماجہ/الضحایا 8 (3143)، (تحفة الأشراف: 1064)، مسند احمد (1/104) سنن الدارمی/الأضاحی 3 (1994) (حسن صحیح)
12: بَابُ : الْعَضْبَاءِ
باب: ٹوٹی سینگ والے جانور کی قربانی منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفَيَانَ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جُرَيِّ بْنِ كُلَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضَحَّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ". فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: نَعَمْ، إِلَّا عَضَبَ النِّصْفِ، وَأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ ٹوٹے جانور کو ذبح کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ ( راوی قتادہ کہتے ہیں ) : میں نے اس کا ذکر سعید بن مسیب سے کیا تو انہوں نے کہا : ہاں ، جس جانور کا آدھا سینگ یا اس سے زیادہ ٹوٹا ہو ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4382]
💡 وضاحت:
۱؎: سعید بن مسیب کا قول قتادہ نے نقل کیا ہے اور قتادہ مدلس ہیں لیکن انہوں نے سعید بن المسیب سے اپنی بات نقل کی ہے تو اس طرح حدیث بیان کرنے کی صراحت کر دی ہے، اس لیے سعید بن المسیب کے قول کی روایت صحیح ہے اس سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ سینگ ٹوٹے جانور کی قربانی جائز نہ ہونے کی بات اس جانور کے بارے میں ہے جس کا سینگ آدھے سے زیادہ ٹوٹا ہو، نیز دیکھئیے حاشیہ حدیث نمبر: ۴۳۷۴۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الضحایا6(2805)، سنن الترمذی/الضحایا9(1504)، سنن ابن ماجہ/الضحایا8(3145)، (تحفة الأشراف: 10031)، مسند احمد (1/83، 101، 109، 127، 129، 137) (ضعیف) (اس کے راوی ’’جری‘‘ لین الحدیث ہیں، لیکن سعید بن المسیب کے قول کی سند صحیح ہے کیونکہ اس میں ’’جری‘‘ نہیں ہیں)
13: بَابُ : الْمُسِنَّةِ وَالْجَذَعَةِ
باب: مسنہ اور جذعہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ وَهُوَ ابْنُ أَعْيَنَ، وَأَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي النُّفَيْلِيَّ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ , فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صرف مسنہ ذبح کرو سوائے اس کے کہ اس کی قربانی تم پر گراں اور مشکل ہو تو تم بھیڑ میں سے جذعہ ذبح کر دو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4383]
💡 وضاحت:
۱؎: «مُسِنّہ» : وہ جانور ہے جس کے دودھ کے دانت ٹوٹ چکے ہوں، اور یہ اونٹ میں عموماً اس وقت ہوتا ہے جب وہ پانچ سال پورے کر کے چھٹے میں داخل ہو گیا ہو، اور گائے اور بیل میں اس وقت ہوتا ہے جب وہ دو سال پورے کر کے تیسرے میں داخل ہو گئے ہوں، اور بکری اور بھیڑ میں اس وقت ہوتا ہے جب وہ ایک سال پورا کر کے دوسرے میں داخل ہو جائیں، اور جذعہ اس دنبہ یا بھیڑ کو کہتے ہیں جو سال بھر کا ہو چکا ہو، (محققین اہل لغت اور شارحین حدیث کا یہی صحیح قول ہے، دیکھئیے مرعاۃ شرح مشکاۃ المصابیح) لیکن یہاں «مسنہ» سے مراد «مسنۃ من المعز» (یعنی دانت والی بکری) مراد ہے، کیونکہ اس کے مقابلے میں «جذعۃ من الضان» (ایک سال کا دنبا) لایا گیا ہے، یعنی: دانت والی بکری ہی جائز ہے، جس کے سامنے والے دو دانت ٹوٹ چکے ہوں ایک سال کی بکری جائز نہیں، ہاں اگر دانت والی بکری میسر نہ ہو تو ایک سال کا دنبہ جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأضاحی 2 (1962)، سنن ابی داود/الضحایا 5 (2797)، سنن ابن ماجہ/الضحایا 7 (3141)، (تحفة الأشراف: 2715)، مسند احمد (3/312، 327) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ غَنَمًا يُقَسِّمُهَا عَلَى صَحَابَتِهِ، فَبَقِيَ عَتُودٌ، فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " ضَحِّ بِهِ أَنْتَ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو آپس میں تقسیم کرنے کے لیے بکریاں دیں ، صرف ایک سال کی بکری بچ رہی ۔ اس کا ذکر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ۔ تو آپ نے فرمایا : ” تم اسے ذبح کر لو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4384]
💡 وضاحت:
۱؎: «عتود» ایک سال کی بکری کو کہتے ہیں۔ «جذعہ» بھی اسی معنی میں ہے، پس اگلی دونوں روایتوں میں جو «جذعہ» کا لفظ ہے اس کا مطلب ہے «جذعۃ من المعز» یعنی بکری کا ایک سالہ بچہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ یا ابوبردہ رضی اللہ عنہما کو مجبوری کے تحت ایک سال کی بکری کی اجازت خصوصی طور سے دی تھی ورنہ قربانی میں اصل دانتا ہوا جانور ہی جائز ہے جیسا کہ حدیث نمبر: ۴۲۸۳ میں گزرا۔ ۲؎: تم اسے ذبح کر لو یعنی صرف تمہارے لیے جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوکالة 1 (2300)، الشرکة 12 (2500)، الأضاحی 7 (5555)، صحیح مسلم/الأضاحي 1 (1965)، سنن الترمذی/الأضاحي 7 (1500)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 7 (3138)، (تحفة الأشراف: 9955)، مسند احمد (4/149، 152)، سنن الدارمی/الأضاحی 4 (1997)، ویأتی فیما یلی: 4385، 4386 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيل وَهُوَ الْقَنَّادُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ ضَحَايَا، فَصَارَتْ لِي جَذَعَةٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , صَارَتْ لِي جَذَعَةٌ؟ فَقَالَ: " ضَحِّ بِهَا".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان قربانی کے جانور تقسیم کیے ، میرے حصے میں ایک جذعہ آیا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے حصے میں تو ایک جذعہ آیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” تم اسی کی قربانی کر لو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4385]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأضاحي 2 (5547)، صحیح مسلم/الأضاحي 2 (1965)، سنن الترمذی/الأضاحي 7 (100م)، (تحفة الأشراف: 9910) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ أَضَاحِيَّ، فَأَصَابَنِي جَذَعَةٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَصَابَتْنِي جَذَعَةٌ، فَقَالَ: " ضَحِّ بِهَا".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان قربانی کے جانور تقسیم کیے ، تو مجھے ایک جذعہ ملا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے تو ایک جذعہ ملا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” تم اسی کی قربانی کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4386]
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: " ضَحَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَذَعٍ مِنَ الضَّأْنِ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جذعہ یعنی ایک سال کی بھیڑ کی قربانی کی ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4387]
💡 وضاحت:
۱؎: اولاً تو اس کے راوی معاذ بن عبداللہ بذات خود صدوق ہونے کے باوجود روایت میں وہم کا شکار ہو جایا کرتے تھے، تو ممکن ہے کہ «جذعۃ من المعز» یا صرف «جذعۃ» ہو اور انہوں نے وہم سے «جذعۃ من الضان» کر دیا ہو، ثانیاً: ہو سکتا ہے کہ یہ مجبوری کی صورت میں ہو، بہرحال بعض علماء اس حدیث اور اگلی دونوں حدیثوں سے استدلال کرتے ہوئے بغیر مجبوری کے بھی ایک سالہ دنبہ کی قربانی کو جائز قرار دیتے ہیں اور «مسنہ» والی حدیث کو استحباب پر محمول کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9969) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنِ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ , فَحَضَرَ الْأَضْحَى، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا يَشْتَرِي الْمُسِنَّةَ بِالْجَذَعَتَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ، فَقَالَ لَنَا رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , فَحَضَرَ هَذَا الْيَوْمُ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَطْلُبُ الْمُسِنَّةَ بِالْجَذَعَتَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْجَذَعَ يُوفِي مِمَّا يُوفِي مِنْهُ الثَّنِيُّ".
کلیب کہتے ہیں کہ ہم سفر میں تھے کہ عید الاضحی کا وقت آ گیا ، تو ہم میں سے کوئی دو دو یا تین تین جذعوں ( ایک سالہ بھیڑوں ) کے بدلے ایک مسنہ خریدنے لگا ، تو مزینہ کے ایک شخص نے ہم سے کہا : ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ یہی دن آ گیا ( یعنی عید الاضحی ) تو ہم میں سے کوئی دو یا تین جذعے دے کر مسنہ خریدنے لگا ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جذعہ سے بھی وہی حق ادا ہو سکتا ہے جو «ثنی» یعنی مسنہ سے ہوتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4388]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک تو بقول ابن المدینی عاصم بن کلیب جب روایت میں منفرد ہوں تو ان کی روایت سے استدلال جائز نہیں، دوسرے: ممکن ہے کہ «الجذع» سے مراد «الجذع من الضان» بھیڑ کا ایک سالہ بچہ ہو، بکری کا نہیں، تاکہ حدیث نمبر ۴۳۸۳ سے مطابقت ہو سکے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15664)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأضاحی 5 (2799)، سنن ابن ماجہ/الضحایا7 (3140)، مسند احمد (5/368) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْأَضْحَى بِيَوْمَيْنِ نُعْطِي الْجَذَعَتَيْنِ بِالثَّنِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْجَذَعَةَ تُجْزِئُ مَا تُجْزِئُ مِنْهُ الثَّنِيَّةُ".
کلیب ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا : ہم عید الاضحی سے دو دن پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، ہم دو جذعے دے کر «ثنیہ» یعنی مسنہ لے رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جذعہ بھی اس کام کے لیے کافی ہے جس کے لیے «ثنیہ» یعنی مسنہ کافی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4389]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
14: بَابُ : الْكَبْشِ
باب: مینڈھے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ"، قَالَ أَنَسٌ: وَأَنَا أُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی قربانی کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈھوں کی قربانی کرتا تھا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4390]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ بطور استحباب ہے (ورنہ ایک جانور ایک گھر کی طرف سے کافی ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو کبھی سو سو اونٹ ذبح کر دیا کرتے تھے، تو اس سے وجوب پر کسی نے استدلال نہیں کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1009) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4391]
💡 وضاحت:
۱؎: چتکبرے یعنی سفید اور کالا یا کالا اور لال رنگ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 398) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ، وَسَمَّى وَكَبَّرَ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے مینڈھوں کی جن کے سینگ برابر تھے قربانی کی ، انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور «بسم اللہ واللہ اکبر» کہا اور اپنا ( دایاں ) پاؤں ان کی گردن کے پہلو پر رکھا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4392]
💡 وضاحت:
۱؎: جانور کو قبلہ رخ لٹا کر اس کی گردن کے دائیں پہلو پر ذبح کرنے والا اپنا دایاں پاؤں رکھے گا اس سے جانور پر مکمل قابو حاصل ہو جاتا ہے، اور جانور زیادہ حرکت نہیں کر پاتا جو اسی کے لیے بہتر ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأضاحي 14 (5565)، صحیح مسلم/الأضاحی 3 (1966)، سنن الترمذی/الأضاحي 2 (1494)، (تحفة الأشراف: 1427)، مسند احمد (3/99، 115، 170، 178، 189، 211، 214، 222، 255، 258، 267، 272، 279، 281)، سنن الدارمی/الأضاحی1 (1988) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أَضْحَى، وَانْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا"، مُخْتَصَرٌ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے دن خطبہ دیا اور دو چتکبرے مینڈھوں کے پاس آئے پھر انہیں ذبح کیا ( مختصر ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4393]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1589 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفَ كَأَنَّهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا، وَإِلَى جُذَيْعَةٍ مِنَ الْغَنَمِ فَقَسَمَهَا بَيْنَنَا".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر آپ ( گویا کہ ان کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ) قربانی کے دن ( نماز عید کے بعد ) دو چتکبرے مینڈھوں کی طرف مڑے ، انہیں ذبح کیا ، اور بکری کے ایک ریوڑ کی طرف گئے اور انہیں ہمارے درمیان تقسیم کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4394]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/القسامة (الحدود) 9 (1679)، سنن الترمذی/الأضاحی21(1520)، (تحفة الأشراف: 11683) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: " ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ، فَحِيلٍ يَمْشِي فِي سَوَادٍ، وَيَأْكُلُ فِي سَوَادٍ، وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے موٹے دنبہ کی قربانی کی جو چلتا تھا سیاہی میں کھاتا تھا سیاہی میں اور دیکھتا تھا سیاہی میں ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4395]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کا پاؤں، اس منہ اور اس کی آنکھیں سب سیاہ (کالے) تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، سنده ضعيف، ابو داود (2796) ترمذي (1496) ابن ماجه (3128) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأضاحی4(2796)، سنن الترمذی/الضحایا4(1496)، سنن ابن ماجہ/الضحایا4(3128) (تحفة الأشراف: 4297) (صحیح)
15: بَابُ : مَا تُجْزِئُ عَنْهُ الْبَدَنَةُ فِي الضَّحَايَا
باب: اونٹ کی قربانی کتنے لوگوں کی طرف سے کافی ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْعَلُ فِي قَسْمِ الْغَنَائِمِ عَشْرًا مِنَ الشَّاءِ بِبَعِيرٍ". قَالَ شُعْبَةُ: وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنِّي سَمِعْتُهُ مِنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، وَحَدَّثَنِي بِهِ سُفْيَانُ عَنْهُ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت کی تقسیم کے وقت دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر رکھتے تھے ۔ شعبہ کہتے ہیں : مجھے غالب یقین یہی ہے کہ میں نے اسے سعید بن مسروق ( سفیان ثوری کے والد ) سے سنا ہے اور اسے مجھ سے سفیان نے ان سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا ، واللہ اعلم ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4396]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4302 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ غَزْوَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنٍ يَعْنِي ابْنَ وَاقِدٍ، عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَ النَّحْرُ، فَاشْتَرَكْنَا فِي الْبَعِيرِ عَنْ عَشْرَةٍ، وَالْبَقَرَةِ عَنْ سَبْعَةٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ قربانی کا دن آ گیا ، ہم ایک اونٹ میں دس دس لوگ اور ایک گائے میں سات سات لوگ شریک ہوئے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4397]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کچھ علماء قربانی میں اونٹ میں دس آدمیوں کی شرکت کو جائز قرار دیتے ہیں، جب کہ جمہور علماء صحیح مسلم میں مروی جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث (حج ۶۱، ۶۲) کی بنیاد پر اونٹ میں بھی صرف سات آدمیوں کی شرکت کے قائل ہیں، حالانکہ دونوں (جابر و ابن عباس رضی اللہ عنہم کی) حدیثوں کا محمل اور مصداق الگ الگ ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث قربانی میں شرکت کے سلسلے میں ہے جب کہ جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہدی (حج کی قربانی) سے متعلق ہے، دونوں (قربانی و ہدی) کو ایک دوسرے پر قیاس کرنے کی وجہ سے علماء میں مذکورہ اختلاف واقع ہوا ہے، دونوں حدیثوں میں تطبیق کی یہی صورت ہے کہ دونوں کا محل الگ الگ ہے، (یعنی قربانی میں اونٹ دس کی طرف سے کافی ہے اور ہدی میں صرف سات کی طرف سے) علامہ شوکانی نے یہی بات لکھی ہے (کمافی نیل الا ٔوطار)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج66(905)، والأضاحی8(1501)، سنن ابن ماجہ/الأضاحی5(3131)، مسند احمد 1/275 (صحیح)
16: بَابُ : مَا تُجْزِئُ عَنْهُ الْبَقَرَةُ فِي الضَّحَايَا
باب: ایک گائے میں کتنے لوگوں کی طرف سے قربانی کافی ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " كُنَّا نَتَمَتَّعُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَذْبَحُ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَنَشْتَرِكُ فِيهَا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج ) تمتع کر رہے تھے تو ہم سات لوگوں کی طرف سے ایک گائے ذبح کرتے اور اس میں شریک ہوتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4398]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 62(1318)، سنن ابی داود/الأضاحی7(2807)، (تحفة الأشراف: 2435)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 66 (904)، موطا امام مالک/الضحایا 5 (9)، مسند احمد (3/318)، سنن الدارمی/الأضاحی 5 1998) (صحیح)
17: بَابُ : ذَبْحِ الضَّحِيَّةِ قَبْلَ الإِمَامِ
باب: امام سے پہلے قربانی کے جانور کے ذبح کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبِي، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ. ح وَأَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، فَذَكَرَ أَحَدُهُمَا مَا لَمْ يَذْكُرِ الْآخَرُ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَضْحَى، فَقَالَ: " مَنْ وَجَّهَ قِبْلَتَنَا، وَصَلَّى صَلَاتَنَا، وَنَسَكَ نُسُكَنَا، فَلَا يَذْبَحْ حَتَّى يُصَلِّيَ"، فَقَامَ خَالِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي عَجَّلْتُ نُسُكِي لِأُطْعِمَ أَهْلِي، وَأَهْلَ دَارِي، أَوْ أَهْلِي، وَجِيرَانِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعِدْ ذِبْحًا آخَرَ"، قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقَ لَبَنٍ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، قَالَ: " اذْبَحْهَا فَإِنَّهَا خَيْرُ نَسِيكَتَيْكَ، وَلَا تَقْضِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی کے دن کھڑے ہو کر فرمایا : ” جس نے ہمارے قبلے کی طرف رخ کیا ، ہماری جیسی نماز پڑھی اور قربانی کی تو وہ جب تک نماز نہ پڑھ لے ذبح نہ کرے ۔ یہ سن کر میرے ماموں کھڑے ہوئے اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے قربانی میں جلدی کر دی تاکہ میں اپنے بال بچوں اور گھر والوں - یا اپنے گھر والوں اور پڑوسیوں - کو کھلا سکوں ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دوبارہ قربانی کرو “ ، انہوں نے عرض کیا : میرے پاس بکری کا ایک چھوٹا بچہ ۲؎ ہے جو مجھے گوشت والی دو بکریوں سے زیادہ عزیز ہے ، آپ نے فرمایا : ” تم اسی کو ذبح کرو ، یہ ان دو کی قربانی سے بہتر ہے ، لیکن تمہارے بعد جذعے کی قربانی کسی کی طرف سے کافی نہیں ہو گی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4399]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: امام سے پہلے یعنی عید الاضحی کی نماز سے پہلے قربانی کا کیا حکم ہے؟ ۲؎: «عناق لبن» سے مراد وہ بکری جو ابھی ایک سال کی نہیں ہوئی ہو، اور حدیث نمبر ۴۳۸۴ میں اسی تناظر میں «عتود» کا لفظ آیا ہے، جس کے معنی ہیں بکری کا وہ بچہ جو ایک سال ہو چکا ہو مگر دانتا ہوا نہ ہو، اور دونوں کا خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ دونوں قسم کے جانوروں کی قربانی کی اجازت صرف مذکورہ دونوں صحابہ کے لیے دی گئی، اور عام حالات میں عام مسلمانوں کے لیے صرف دانتا جانور ہی جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1564 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا، وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ"، فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَتَعَجَّلْتُ فَأَكَلْتُ، وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي، وَجِيرَانِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ"، قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقًا جَذَعَةً، خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، فَهَلْ تُجْزِئُ عَنِّي؟، قَالَ: " نَعَمْ، وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ قربانی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید کے بعد ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا : ” جس نے ہماری جیسی نماز پڑھی اور ہماری جیسی قربانی کی تو اس نے قربانی کی اور جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کی تو وہ گوشت کی بکری ہے ۱؎ یہ سن کر ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! میں نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ہی قربانی کر چکا ہوں ، دراصل میں نے سمجھا کہ آج کا دن کھانے پینے کا دن ہے ، تو میں نے جلدی کی اور کھایا اور اپنے بال بچوں نیز پڑوسیوں کو کھلایا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تو گوشت کی بکری ہے “ ۔ وہ بولے : میرے پاس بکری کا ایک چھوٹا بچہ ہے جو گوشت کی ان دو بکریوں سے بہتر ہے ، کیا وہ میرے لیے کافی ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے کافی نہیں ہو گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4400]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کے لیے قربانی کا ثواب نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1564 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ: " مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ"، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ، فَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ، كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَهُ، قَالَ: عِنْدِي جَذَعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، فَرَخَّصَ لَهُ، فَلَا أَدْرِي أَبَلَغَتْ رُخْصَتُهُ مَنْ سِوَاهُ، أَمْ لَا، ثُمَّ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فرمایا : ” جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہے ، اسے چاہیئے کہ پھر سے قربانی کرے “ ، ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ ایسا دن ہے کہ جس میں ہر ایک کی گوشت کی خواہش ہوتی ہے ، اور پھر انہوں نے پڑوسیوں کا حال بیان کیا ، گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تصدیق فرمائی ۔ انہوں نے کہا : میرے پاس بکری کا ایک چھوٹا بچہ ہے جو مجھے گوشت والی دو بکریوں سے زیادہ ہے ، تو انہیں اس کی رخصت دی گئی ، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ یہ رخصت دوسروں کے لیے ہے یا نہیں ؟ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف گئے اور انہیں ذبح کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4401]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1589 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى. ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ: أَنَّهُ ذَبَحَ قَبْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ"، قَالَ: عِنْدِي عَنَاقُ جَذَعَةٍ , هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مُسِنَّتَيْنِ، قَالَ: " اذْبَحْهَا". فِي حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَجِدُ إِلَّا جَذَعَةً؟ فَأَمَرَهُ أَنْ يَذْبَحَ.
ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ذبح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوبارہ ذبح کرنے کا حکم دیا ۔ انہوں نے عرض کیا : میرے پاس ایک سالہ بکری کا بچہ ہے جو مجھے دو مسنہ سے زیادہ پسند ہے ، آپ نے فرمایا : ” اسی کو ذبح کر دو “ ۔ عبیداللہ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے کہا : میرے پاس ایک جذعہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے تو آپ نے انہیں اسی کو ذبح کرنے کا حکم دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4402]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11722)، موطا امام مالک/الضحایا 3 (4)، مسند احمد (3/466 و4/45)، سنن الدارمی/الأضاحی7 (2006) (صحیح الإسناد) (یہ حدیث براء رضی الله عنہ سے متفق علیہ ثابت ہے، خود مؤلف کے یہاں 1564 اور 4400 پر گزری ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ، قَالَ: ضَحَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَضْحًى ذَاتَ يَوْمٍ، فَإِذَا النَّاسُ قَدْ ذَبَحُوا ضَحَايَاهُمْ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَآهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ ذَبَحُوا قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ كَانَ لَمْ يَذْبَحْ حَتَّى صَلَّيْنَا، فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دن کچھ قربانیاں کیں ، تو ہم نے دیکھا کہ لوگ نماز عید سے پہلے ہی اپنے جانور ذبح کر چکے ہیں ، جب آپ فارغ ہو کر لوٹے تو انہیں دیکھا کہ وہ نماز عید سے پہلے ہی ذبح کر چکے ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے نماز عید سے پہلے ذبح کیا تو اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا یہاں تک کہ ہم نے نماز عید پڑھ لی تو وہ اللہ کے نام پر ذبح کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4403]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4373 (صحیح)
18: بَابُ : إِبَاحَةِ الذَّبْحِ بِالْمَرْوَةِ
باب: دھاردار پتھر سے ذبح کرنا جائز ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ: أَنَّهُ أَصَابَ أَرْنَبَيْنِ، وَلَمْ يَجِدْ حَدِيدَةً يَذْبَحُهُمَا بِهِ، فَذَكَّاهُمَا بِمَرْوَةٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي اصْطَدْتُ أَرْنَبَيْنِ , فَلَمْ أَجِدْ حَدِيدَةً أُذَكِّيهِمَا بِهِ فَذَكَّيْتُهُمَا بِمَرْوَةٍ , أَفَآكُلُ؟، قَالَ: " كُلْ".
محمد بن صفوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں دو خرگوش ملے انہیں کوئی لوہا نہ ملا جس سے وہ انہیں ذبح کرتے تو انہیں پتھر سے ذبح کر دیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور کہا : اللہ کے رسول ! میں نے دو خرگوش شکار کئے مجھے کوئی لوہا نہ مل سکا جس سے میں انہیں ذبح کرتا تو میں نے ان کو ایک تیز دھار والے پتھر سے ذبح کر دیا ، کیا میں انہیں کھاؤں ؟ آپ نے فرمایا : ” کھاؤ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4404]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4318 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاضِرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ الْبَاهِلِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّ ذِئْبًا نَيَّبَ فِي شَاةٍ، فَذَبَحُوهَا بِالْمَرْوَةِ، فَرَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَكْلِهَا".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بھیڑیئے نے ایک بکری کے جسم میں دانت گاڑ دیے لوگوں نے اسے پتھر سے ذبح کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت دے دی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4405]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الذبائح 5 (3176)، (تحفة الأشراف: 3718)، مسند احمد (5/183) ویأتی عند المؤلف برقم 4412(صحیح) (اس کے راوی ’’حاضر‘‘ لین الحدیث ہیں، لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح ہے)
19: بَابُ : إِبَاحَةِ الذَّبْحِ بِالْعُودِ
باب: لکڑی سے ذبح کرنا جائز ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ , عَنْ خَالِدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُرِّيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرْسِلُ كَلْبِي فَآخُذُ الصَّيْدَ فَلَا أَجِدُ مَا أُذَكِّيهِ بِهِ، فَأَذْبَحُهُ بِالْمَرْوَةِ، وَبِالْعَصَا؟، قَالَ: " أَنْهِرِ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں اپنا کتا چھوڑتا ، اور شکار کو پا لیتا ہوں ، میں پھر کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جس سے میں ذبح کروں تو کیا میں دھاردار پتھر اور لکڑی سے ذبح کر سکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا : ” جس چیز سے چاہو خون بہاؤ اور اس پر اللہ کا نام لو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4406]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4309 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , فَلَقِيتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ فَحَدَّثَنِي، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: " كَانَتْ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ نَاقَةٌ تَرْعَى فِي قِبَلِ أُحُدٍ، فَعُرِضَ لَهَا , فَنَحَرَهَا بِوَتَدٍ، فَقُلْتُ لِزَيْدٍ: وَتَدٌ مِنْ خَشَبٍ، أَوْ حَدِيدٍ؟، قَالَ: لَا، بَلْ خَشَبٌ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَأَلَهُ , فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص کی ایک اونٹنی تھی ، جو احد پہاڑ کی طرف چرتی تھی ، اسے عارضہ لاحق ہو گیا ، تو اس نے اسے کھونٹی سے ذبح کر دیا ۔ میں نے زید بن اسلم سے کہا : لکڑی کی کھونٹی یا لوہے کی ؟ کہا : لوہا نہیں ، بلکہ لکڑی کی کھونٹی سے ، پھر اس انصاری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے پوچھا تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4407]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4184) (صحیح الإسناد)
20: بَابُ : النَّهْىِ عَنِ الذَّبْحِ، بِالظُّفْرِ
باب: ناخن سے ذبح کرنا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ، فَكُلْ إِلَّا بِسِنٍّ، أَوْ ظُفُرٍ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس چیز سے ( جانور کا ) خون بہہ جائے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ ، سوائے اس کے جو دانت اور ناخن سے ذبح کیا گیا ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4408]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4302 (صحیح)
21: بَابُ : فِي الذَّبْحِ بِالسِّنِّ
باب: دانت سے ذبح کرنا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا، وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَكُلُوا مَا لَمْ يَكُنْ سِنًّا، أَوْ ظُفُرًا، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، أَمَّا السِّنُّ: فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ: فَمُدَى الْحَبَشَةِ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم کل دشمنوں سے ملیں گے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں ، تو آپ نے فرمایا : ” جس چیز سے ( جانور کا ) خون بہہ جائے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ) تو اسے کھاؤ ، جب تک کہ وہ آلہ دانت یا ناخن نہ ہو ، اور جلد ہی تمہیں اس سلسلے میں بتاؤں گا ، رہا دانت تو وہ ہڈی ہے اور رہا ناخن تو وہ حبشہ والوں کی چھری ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4409]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
22: بَابُ : الأَمْرِ بِإِحْدَادِ الشَّفْرَةِ
باب: چھری تیز کرنے کا حکم۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: اثْنَتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو باتیں یاد کی ہیں ، آپ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے تم پر ہر چیز میں احسان ( اچھا سلوک کرنا ) فرض کیا ہے ، تو جب تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو ، اور جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو ، اور تم میں سے ہر ایک کو چاہیئے کہ اپنی چھری تیز کر لے اور اپنے جانور کو آرام پہنچائے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4410]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے اسلام میں کسی بھی جاندار کے ساتھ احسان (اچھا برتاؤ کرنے) کا ثبوت ملتا ہے، پس جو مذہب جانوروں کے ساتھ ذبح کی حالت میں بھی احسان کا داعی ہے وہ انسانی جانوں کے ساتھ کیسے سلوک کا حکم دے گا واضح ہے۔ سبق لیں اسلام پر تشدد کا الزام لگانے والے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصید 11 (1955)، سنن ابی داود/الأضاحی 12 (2815)، سنن الترمذی/الدیات 14(1409)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 3 (3170)، (تحفة الأشراف: 4817)، مسند احمد (4/123، 124، 125)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 4416- 4419 (صحیح)
23: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي نَحْرِ مَا يُذْبَحُ وَذَبْحِ مَا يُنْحَرُ
باب: ذبح والے جانور کو نحر کرنے اور نحر والے جانور کو ذبح کرنے کی اجازت۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ أَحْمَدَ الْعَسْقَلَانِيُّ عَسْقَلَانُ بَلْخٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: " نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلْنَاهُ".
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک گھوڑا ذبح کیا پھر ہم نے اسے کھایا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4411]
💡 وضاحت:
۱؎: گھوڑا نحر کیے جانے والے جانوروں میں سے نہیں ہے پھر بھی آپ کے سامنے نحر کیا گیا، اس سے ذبح کیے جانے والے جانورں کو نحر کرنے کا جواز ثابت ہوتا ہے، تو اس کے برعکس سے جائز ہو گا یعنی ذبح کئے جانے والے جانورں کو نحر بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ صرف جواز کی صورت ہے، زیادہ اچھا یہی ہے کہ نحر کئے جانے والے جانورں کو پہلے نحر ہی کیا جائے، اور پھر ذبح کیا جائے اور ذبح کئے جانے والے جانوروں کو ذبح کرنا ہی افضل ہے، (ذبح کئے جانے والے جانور جیسے: بکری، دنبہ، بھیڑ، مینڈھا، مرغی، اور نحر کئے جانے والے جانور جیسے: گائے، بیل، گھوڑا اور اونٹ) نحر میں پہلے دھاردار ہتھیار سے جانور کے سینے کے اوپری حصہ کے سوراخ میں مارا جاتا ہے، جب سارا خون نکل کر جانور ساکت ہو جاتا ہے تب گرا کر ذبح کیا جاتا ہے، نحر کے ذریعہ بڑے جانور پر آسانی سے قابو پا لیا جاتا ہے اس لیے ان کے حق میں نحر مشروع ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصید 24(5510)، 27(5519)، صحیح مسلم/الصید6(1942)، سنن ابن ماجہ/الذبائح12(3190)، (تحفة الأشراف: 15746)، مسند احمد (6/345، 346، 353)، سنن الدارمی/الأضاحی22 (2035)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 4425، 4426 (صحیح)
24: بَابُ : ذَكَاةِ الَّتِي قَدْ نَيَّبَ فِيهَا السَّبُعُ
باب: جس جانور میں درندہ دانت گاڑ دے ہو اسے ذبح کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ حَاضِرَ بْنَ الْمُهَاجِرِ الْبَاهِلِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: " أَنَّ ذِئْبًا نَيَّبَ فِي شَاةٍ، فَذَبَحُوهَا بِمَرْوَةٍ، فَرَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَكْلِهَا".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بھیڑیئے نے ایک بکری میں دانت گاڑ دئیے ، لوگوں نے اسے دھاردار پتھر سے ذبح کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت دی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4412]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4405 (صحیح) (اس کے راوی ”حاضر بن مہاجر“ لین الحدیث ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
25: بَابُ : ذِكْرِ الْمُتَرَدِّيَةِ فِي الْبِئْرِ الَّتِي لاَ يُوصَلُ إِلَى حَلْقِهَا
باب: گڈھے میں گر جانے والی بکری جس کی گردن نہیں پکڑی جا سکتی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَا تَكُونُ الذَّكَاةُ إِلَّا فِي الْحَلْقِ، وَاللَّبَّةِ؟، قَالَ: " لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لَأَجْزَأَكَ".
ابو العشراء کے والد ( مالک دارمی رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ذبح «ذکاۃ» صرف حلق اور سینے میں ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ” اگر تم اس کی ران میں بھی کونچ دو تو کافی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4413]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2825) ترمذي (1481) ابن ماجه (3184) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأضاحی16(2825)، سنن الترمذی/الصید13(1481)، سنن ابن ماجہ/الذبائح9(3813)، (تحفة الأشراف: 15694)، مسند احمد (4/334)، سنن الدارمی/الأضاحی12 (2015) (ضعیف) (اس کے راوی ’’ابوالعشراء“ مجہول ہیں، لیکن حدیث نمبر 4302 سے اس کے معنی کی تائید ہو رہی ہے)
26: بَابُ : ذِكْرِ الْمُنْفَلِتَةِ الَّتِي لاَ يُقْدَرُ عَلَى أَخْذِهَا
باب: بدک کر بھاگ جانے والے جانور جس کو پکڑنا ممکن نہ ہو کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ رَافِعٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا، وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى؟، قَالَ: " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَكُلْ مَا خَلَا السِّنَّ، وَالظُّفُرَ"، قَالَ: فَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهْبًا فَنَدَّ بَعِيرٌ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ: " إِنَّ لِهَذِهِ النَّعَمِ، أَوْ قَالَ: الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا , فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم کل دشمن سے ملیں گے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں ، آپ نے فرمایا : ” دانت اور ناخن کے علاوہ جس کسی آلہ سے ( جانور کا ) خون بہہ جائے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ “ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ اونٹ اور غنیمت کا مال ملا ، ان میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ گیا ، ایک شخص نے اسے تیر مارا ، جس سے وہ رک گیا ، آپ نے فرمایا : ” ان جانوروں میں ، یا یوں فرمایا : ان اونٹوں میں ، جنگل کے وحشی جانوروں کی طرح بعض بدکنے والے ہوتے ہیں تو جو تم کو ان میں سے کوئی ( پکڑنے میں ) تھکا دے ، تو اس کے ساتھ اسی طرح کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4414]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4302 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا، وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى؟، قَالَ: " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَكُلْ لَيْسَ السِّنَّ، وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ، أَمَّا السِّنُّ: فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ: فَمُدَى الْحَبَشَةِ"، وَأَصَبْنَا نَهْبَةَ إِبِلٍ، أَوْ غَنَمٍ فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَإِذَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا شَيْءٌ فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ کل دشمن سے ملیں گے ، اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں ، آپ نے فرمایا : ” جس آلہ سے خون بہہ جائے اور وہ دانت ناخن نہ ہو اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ ، اور جلد ہی میں تمہیں اس کا سبب بتاتا ہوں ، رہا دانت تو وہ ہڈی ہے اور رہا ناخن تو وہ حبشہ والوں کی چھری ہے “ ، پھر مال غنیمت میں ہمیں کچھ بکریاں یا اونٹ ملے ، ان میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ گیا ، ایک شخص نے ایک تیر اسے مارا جس سے وہ رک گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان اونٹوں میں کچھ جنگلی وحشیوں کی طرح بدکنے والے ہیں ، لہٰذا جب تم کو ان میں سے کوئی تھکا دے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4415]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4302 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ إِذَا ذَبَحَ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان ( اچھا سلوک کرنا ) فرض کیا ہے ، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح کرو اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو اور جب تم ذبح کرو تو اپنی چھری کو تیز کر لیا کرو اور ذبیحہ کو ( ذبح کرتے وقت ) آرام پہنچاؤ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4416]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4410 (صحیح)
27: بَابُ : حُسْنِ الذَّبْحِ
باب: ذبیحہ کو اچھی طرح ذبح کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے احسان ( اچھے سلوک اور برتاؤ ) کو ہر چیز میں فرض کیا ہے ، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح کرو ، اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح کرو ، اور تم اپنی چھریاں تیز کر لیا کرو اور جانور کو ( ذبح کرتے وقت ) آرام پہنچاؤ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4417]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4410 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَيْنِ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، ثُمَّ لِيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر دو باتیں یاد رکھیں ہیں ، آپ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان ( اچھے سلوک اور برتاؤ ) فرض کیا ہے ، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح کرو ، اور جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح کرو اور تم اپنی چھریاں تیز کر لو تاکہ تم اپنے جانور کو آرام دے سکو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4418]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4410 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ. ح وَأَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ، لِيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو چیزیں ہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کی ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان ( اچھے سلوک اور برتاؤ ) کو فرض کیا ہے ، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح کرو ، اور جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح کرو ۔ تم اپنی چھریاں تیز کر لو اور جانور کو آرام دو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4419]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4410 (صحیح)
28: بَابُ : وَضْعِ الرِّجْلِ عَلَى صَفْحَةِ الضَّحِيَّةِ
باب: قربانی کے جانور کے پہلو پر (ذبح کے وقت) پاؤں رکھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ: " ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، يُكَبِّرُ، وَيُسَمِّي، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ، وَاضِعًا عَلَى صِفَاحِهِمَا قَدَمَهُ". قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْهُ؟، قَالَ: نَعَمْ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ دار دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی ، آپ «اللہ اکبر» اور «بسم اللہ» پڑھ رہے تھے ، میں نے دیکھا کہ آپ انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کر رہے ہیں اور اپنا پاؤں ان ( کی گردن ) کے پہلو پر رکھے ہوئے ہیں ۔ ( شعبہ کہتے ہیں ) میں قتادہ نے عرض کیا : کیا آپ نے اسے انس سے سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4420]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأضاحي 9 (5558)، صحیح مسلم/الأضاحي 3 (1966)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 1 (3120)، (تحفة الأشراف: 1250)، مسند احمد (3/99، 115، 118، 183، 222، 255، 272، 278، سنن الدارمی/الأضاحي 1 (1988)، ویأتي عند المؤلف 4421، 4422) (صحیح)
29: بَابُ : تَسْمِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى الضَّحِيَّةِ
باب: ذبح کے وقت «بسم اللہ» پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَاصِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، وَكَانَ يُسَمِّي، وَيُكَبِّرُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ، وَاضِعًا رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے ذبح کرتے اور آپ «بسم اللہ» پڑھتے اور تکبیر بلند کرتے ۱؎ ، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ سے انہیں ذبح کر رہے ہیں اور آپ کا پیر ان ( کی گردن ) کے پہلو پر ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4421]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی «بسم اللہ، اللہ اکبر» کہتے تھے، «بسم اللہ الرحمن الرحیم» نہیں کہتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4420 (صحیح)
30: بَابُ : التَّكْبِيرِ عَلَيْهَا
باب: جانور ذبح کے وقت «اللہ اکبر» کہنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، عَنِ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَقَدْ" رَأَيْتُهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ، وَاضِعًا عَلَى صِفَاحِهِمَا قَدَمَهُ، يُسَمِّي، وَيُكَبِّرُ , كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ کو یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ سے دو سینگ دار اور چتکبرے مینڈھے ذبح کر رہے ہیں ، اور آپ کا پیر ان ( کی گردن ) کے پہلو پر ہے ۔ آپ ( ذبح کرتے ہوئے ) «بسم اللہ ، اللہ اکبر» کہہ رہے ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4422]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4420 (صحیح)
31: بَابُ : ذَبْحِ الرَّجُلِ أُضْحِيَتَهُ بِيَدِهِ
باب: اپنے ہاتھ سے قربانی کا جانور ذبح کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ: " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ، يَطَؤُ عَلَى صِفَاحِهِمَا، وَيَذْبَحُهُمَا، وَيُسَمِّي، وَيُكَبِّرُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھوں کی قربانی کی جو سینگ دار اور چتکبرے تھے ۔ آپ ان ( کی گردن ) کے پہلو پر قدم رکھ کر انہیں ذبح کر رہے تھے اور «بسم اللہ ، اللہ اکبر» کہہ رہے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4423]
💡 وضاحت:
۱؎: زیادہ بہتر یہی ہے کہ اپنی قربانی خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرے، لیکن جائز یہ بھی ہے کہ دوسرے سے کروائے، جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأضاحي 3 (1966)، (تحفة الأشراف: 1191) (صحیح)
32: بَابُ : ذَبْحِ الرَّجُلِ غَيْرَ أُضْحِيَتِهِ
باب: دوسروں کی قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ بَعْضَ بُدْنِهِ بِيَدِهِ، وَنَحَرَ بَعْضَهَا غَيْرُهُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنی بعض اونٹنیوں کو نحر کیا اور بعض کو دوسروں نے نحر کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4424]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2626) (صحیح)
33: بَابُ : نَحْرِ مَا يُذْبَحُ
باب: ذبح کیے جانے والے جانور کو نحر کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: " نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلْنَاهُ"، وَقَالَ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ: فَأَكَلْنَا لَحْمَهُ. خَالَفَهُ عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ.
اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک گھوڑا نحر کیا اور اسے کھایا ۔ قتیبہ نے ( «فاکلناہ» کے بجائے ) «فاکلنا لحمہ» ” پھر ہم نے اس کا گوشت کھایا “ کہا ۔ عبدہ بن سلیمان نے سفیان کی مخالفت کی ہے اور اسے یوں روایت کیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4425]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4411 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: " ذَبَحْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا، وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ فَأَكَلْنَاهُ".
اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک گھوڑا ذبح کیا ، ہم مدینے میں تھے پھر ہم نے اسے کھایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4426]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی «نحرنا» کی جگہ «ذبحنا» ہے، اور ہشام کے اکثر شاگردوں کی روایت «نحرنا» ہی کی ہے، صرف عبدہ کی روایت میں «ذبحنا» ہے اسی اختلاف الفاظ سے استدلال کرتے ہوئے مؤلف نے یہ باب باندھا ہے بہرحال نحر و ذبح دونوں جائز ہیں، مقصد خون بہانا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4411 (صحیح)
34: بَابُ : مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے والوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ ابْنِ حَيَّانَ يَعْنِي مَنْصُورًا، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَلِيًّا، هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ إِلَيْكَ بِشَيْءٍ دُونَ النَّاسِ؟ , فَغَضِبَ عَلِيٌّ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، وَقَالَ: مَا كَانَ يُسِرُّ إِلَيَّ شَيْئًا دُونَ النَّاسِ، غَيْرَ أَنَّهُ حَدَّثَنِي، بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، وَأَنَا وَهُوَ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ مَنَارَ الْأَرْضِ".
عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو چھوڑ کر آپ کو کوئی راز کی بات بتاتے تھے ؟ اس پر علی رضی اللہ عنہ غصہ ہو گئے یہاں تک کہ ان کا چہرہ لال پیلا ہو گیا اور کہا : آپ لوگوں کو چھوڑ کر مجھے کوئی بات راز کی نہیں بتاتے تھے ، سوائے اس کے کہ آپ نے مجھے چار باتیں بتائیں ، میں اور آپ ایک گھر میں تھے ، آپ نے فرمایا : ” اللہ اس پر لعنت کرے جس نے اپنے والد ( ماں یا باپ ) پر لعنت کی ، اللہ اس پر بھی لعنت کرے جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا ، اللہ اس پر لعنت کرے جس نے کسی بدعتی کو پناہ دی ۱؎ ، اور اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے جس نے زمین کی حد کے نشانات بدل ڈالے “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4427]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کی تائید و حمایت کی اور بدعت سے خوش ہوا۔ ۲؎: مثلاً دو آدمیوں کی زمین کو الگ کرنے والے نشانات بدلے، اور اس سے مقصد دوسری کی زمین میں سے کچھ ہتھیا لینا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأضاحي 8 (1978)، (تحفة الأشراف: 10152) مسند احمد (1/108، 118، 152) (صحیح)
35: بَابُ : النَّهْىِ عَنِ الأَكْلِ، مِنْ لُحُومِ الأَضَاحِي بَعْدَ ثَلاَثٍ وَعَنْ إِمْسَاكِه
باب: تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانا اور اسے رکھ چھوڑنا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے روکا ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4428]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ پابندی شروع شروع میں تھی، پھر گوشت رکھنے کی اجازت دے دی گئی، جیسا کہ اگلے باب میں ہے، یہ حالات و ظروف کے لحاظ سے ہے، اگر لوگوں کو گوشت کی زیادہ حاجت ہے تو ذخیرہ اندوزی صحیح نہیں، بصورت دیگر صحیح ہے۔ (دیکھئیے حدیث نمبر ۴۴۳۴)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأضاحی 5 (1970)، (تحفة الأشراف: 6946)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأضاحی 16 (5574)، سنن الترمذی/الأضاحی 13 (1509)، مسند احمد (2/9، 16، 34، 81، 135) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ غُنْدَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ عَوْفٍ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ فِي يَوْمِ عِيدٍ، بَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ صَلَّى بِلَا أَذَانٍ، وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَنْهَى أَنْ يُمْسِكَ أَحَدٌ مِنْ نُسُكِهِ شَيْئًا فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ".
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام ابو عبید کہتے ہیں کہ میں نے علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کو عید کے دن دیکھا ، انہوں نے خطبے سے پہلے نماز شروع کی اور بلا اذان اور بلا اقامت پڑھی ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منع فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی تین دن سے زیادہ اپنی قربانی میں سے کوئی چیز روکے رکھے ، ( یعنی اسے چاہیئے کہ بانٹ دے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4429]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10332)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأضاحی 16 (5573)، صحیح مسلم/الضحایا 5 (1969)، مسند احمد (3/317، 378، 388) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا عُبَيْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَاكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا لُحُومَ نُسُكِكُمْ فَوْقَ ثَلَاثٍ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں منع فرمایا ہے کہ تم تین دن سے زیادہ اپنی قربانی کا گوشت کھاؤ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4430]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
36: بَابُ : الإِذْنِ فِي ذَلِكَ
باب: قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے کی اجازت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ، ثُمَّ قَالَ: " كُلُوا، وَتَزَوَّدُوا، وَادَّخِرُوا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ، پھر فرمایا : ” کھاؤ ، توشہ ( زاد سفر ) بناؤ اور ذخیرہ کر کے رکھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4431]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأضاحی 5 (1972)، (تحفة الأشراف: 2936)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 124 (1719)، موطا امام مالک/الضحایا 4 (6)، مسند احمد (3/325، 344) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ خَبَّابٍ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَبَّابٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِ أَهْلُهُ لَحْمًا مِنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ، فَقَالَ: مَا أَنَا بِآكِلِهِ حَتَّى أَسْأَلَ، فَانْطَلَقَ إِلَى أَخِيهِ لِأُمِّهِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، وَكَانَ بَدْرِيًّا , فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ بَعْدَكَ أَمْرٌ نَقْضًا لِمَا كَانُوا نُهُوا عَنْهُ مِنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ".
عبداللہ بن خباب سے روایت ہے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ایک سفر سے آئے تو ان کے گھر والوں نے انہیں قربانی کے گوشت میں سے کچھ پیش کیا ، انہوں نے کہا : میں اسے نہیں کھا سکتا جب تک کہ معلوم نہ کر لوں ، چنانچہ وہ اپنے اخیافی بھائی قتادہ بن نعمان کے پاس گئے ( وہ بدری صحابی تھے ) اور ان سے اس بارے میں پوچھا ؟ انہوں نے کہا : تمہارے بعد نیا حکم ہوا جس سے تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے پر سے پابندی ہٹ گئی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4432]
💡 وضاحت:
۱؎: اخیافی بھائی وہ بھائی، بہن جن کی ماں ایک ہو اور باپ الگ الگ ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازی 12 (3997)، الأضاحی 16(5568)، (تحفة الأشراف: 11072)، موطا امام مالک/الضحایا 4 (8) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَقَدِمَ قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، وَكَانَ أَخَا أَبِي سَعِيدٍ لِأُمِّهِ، وَكَانَ بَدْرِيًّا، فَقَدَّمُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَلَيْسَ قَدْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ فِيهِ أَمْرٌ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَأْكُلَهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَأْكُلَهُ، وَنَدَّخِرَهُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے روکا ہے ، پھر قتادہ رضی اللہ عنہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور وہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے اخیافی بھائی اور بدری صحابی تھے ، ابوسعید نے قتادہ کو ( گوشت ) پیش کیا ، تو وہ بولے : کیا اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا نہیں ہے ؟ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا : اس سلسلہ میں ایک نیا حکم آیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تین دن سے زیادہ اسے کھانے سے روکا تھا ، پھر ہمیں اسے کھانے اور ذخیرہ کرنے کی رخصت دی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4433]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (شاذ) (اس سے پہلے والی حدیث جو صحیح بخاری میں بھی ہے) میں کھانے سے رکنے سے والے ابوسعید خدری رضی الله عنہ ہیں اور اجازت کی روایت کرنے والے قتادہ رضی الله عنہ ہیں اور اس حدیث میں کھانے سے رکنے والے قتادہ ہیں اور اجازت کی روایت کرنے والے ابوسعید خدری رضی الله عنہ ہیں، جو صحیح بخاری میں ہے وہی زیادہ صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُبَيْدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ، عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، وَلْتَزِدْكُمْ زِيَارَتُهَا خَيْرًا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ، فَكُلُوا مِنْهَا، وَأَمْسِكُوا مَا شِئْتُمْ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَشْرِبَةِ فِي الْأَوْعِيَةِ، فَاشْرَبُوا فِي أَيِّ وِعَاءٍ شِئْتُمْ، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا". وَلَمْ يَذْكُرْ مُحَمَّدٌ: وَأَمْسِكُوا.
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تم لوگوں کو تین چیزوں سے روکا تھا : قبروں کی زیارت کرنے سے ، اب ان کی زیارت کرو ، اس زیارت سے تم میں خیر و بھلائی بڑھنی چاہیئے ، میں نے تمہیں تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے روکا تھا ، لیکن اب کھاؤ اور جتنا چاہو روک کر رکھو ، میں نے تمہیں کچھ برتنوں میں پینے سے روکا تھا لیکن اب جس برتن میں چاہو پیو ، لیکن کوئی نشہ لانے والی چیز نہ پیو ۔ محمد بن معدان کی روایت میں «امسکوا» ” روک کر رکھنے “ کا ذکر نہیں ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4434]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 2034 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، عَنْ الْأَحْوَصِ بْنِ جَوَّابٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ، وَعَنِ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ، وَعَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَكُلُوا مِنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ مَا بَدَا لَكُمْ، وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا، وَمَنْ أَرَادَ زِيَارَةَ الْقُبُورِ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْآخِرَةَ، وَاشْرَبُوا، وَاتَّقُوا كُلَّ مُسْكِرٍ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تمہیں تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے ، مشکیزے کے علاوہ کسی برتن میں نبیذ بنانے سے اور قبروں کی زیارت کرنے سے روکا تھا ۔ لیکن اب تم جب تک چاہو قربانی کا گوشت کھاؤ اور سفر کے لیے توشہ بناؤ اور ذخیرہ کرو ، اور جو قبروں کی زیارت کرنا چاہے ( تو کرے ) اس لیے کہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے اور ہر مشروب پیو لیکن نشہ لانے والی چیز سے بچو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4435]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1976)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5654) (صحیح) (اس کے راوی ’’ابواسحاق‘‘ مدلس اور مختلط ہیں، لیکن پچھلی سند سے تقویف پا کر صحیح ہے)
37: بَابُ : الاِدِّخَارِ مِنَ الأَضَاحِي
باب: قربانی کے گوشت کی ذخیرہ اندوزی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَفَّتْ دَافَّةٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الْأَضْحَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُوا، وَادَّخِرُوا ثَلَاثًا"، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَنْتَفِعُونَ مِنْ أَضَاحِيِّهِمْ، يَجْمُلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ، وَيَتَّخِذُونَ مِنْهَا الْأَسْقِيَةَ، قَالَ: " وَمَا ذَاكَ"؟، قَالَ: الَّذِي نَهَيْتَ مِنْ إِمْسَاكِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ، قَالَ: " إِنَّمَا نَهَيْتُ لِلدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ كُلُوا، وَادَّخِرُوا، وَتَصَدَّقُوا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اعرابیوں ( دیہاتیوں ) کی ایک جماعت عید الاضحی کے دن مدینے آئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھاؤ اور تین دن تک ذخیرہ کر کے رکھو “ ، اس کے بعد لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! لوگ اپنی قربانی سے فائدہ اٹھاتے تھے ، ان کی چربی اٹھا کر رکھ لیتے اور ان کی کھالوں سے مشکیں بناتے تھے ۔ آپ نے فرمایا : ” تو اب کیا ہوا ؟ “ وہ بولا : جو آپ نے قربانی کے گوشت جمع کر کے رکھنے سے روک دیا ، آپ نے فرمایا : ” میں نے تو صرف اس جماعت کی وجہ سے روکا تھا جو مدینے آئی تھی ، کھاؤ ، ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4436]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأضاحی 5 (1971)، سنن ابی داود/الضحایا 10 (2812)، (تحفة الأشراف: 17901)، موطا امام مالک/الضحایا 4 (7)، مسند احمد (6/51)، سنن الدارمی/الأضاحی6 (2002) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ؟، قَالَتْ: نَعَمْ , أَصَابَ النَّاسَ شِدَّةٌ، فَأَحَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ، ثُمَّ قَالَت: لَقَدْ رَأَيْتُ آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُونَ الْكُرَاعَ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ، قُلْتُ: مِمَّ ذَاكَ؟ فَضَحِكَتْ، فَقَالَتْ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزٍ مَأْدُومٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عابس کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر عرض کیا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرماتے تھے ؟ بولیں : ہاں ، لوگ سخت محتاج اور ضروت مند تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ مالدار لوگ غریبوں کو کھلائیں ، پھر بولیں : میں نے آل محمد ( گھر والوں ) کو دیکھا کہ وہ لوگ پائے پندرہ دن بعد کھاتے تھے ، میں نے کہا : یہ کس وجہ سے ؟ وہ ہنسیں اور بولیں : محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے کبھی بھی تین دن تک سالن روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل کے پاس تشریف لے گئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4437]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأطعمة 27 (5423)، 37 (5438)، الأضاحی 16 (5570)، صحیح مسلم/الزہد 1 (2970)، سنن الترمذی/الأضاحی 14 (1511)، سنن ابن ماجہ/الضحایا 16 (1511)، الأطعمة 30 (3159)، (تحفة الأشراف: 16165)، مسند احمد (6/102، 127، 136، 187، 209) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ؟، قَالَتْ: " كُنَّا نَخْبَأُ الْكُرَاعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا، ثُمَّ يَأْكُلُهُ".
عابس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے قربانی کے گوشت کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک ایک مہینے تک قربانی کے پائے رکھ چھوڑتے ، پھر آپ اسے کھاتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4438]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِمْسَاكِ الْأُضْحِيَّةِ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، ثُمَّ قَالَ: كُلُوا، وَأَطْعِمُوا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت اٹھا کر رکھنے سے منع فرمایا پھر فرمایا : ” کھاؤ اور لوگوں کو کھلاؤ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4439]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4295)، مسند احمد (3/57) (صحیح)
38: بَابُ : ذَبَائِحِ الْيَهُودِ
باب: یہود کے ذبیحے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُغِيرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ، قَالَ: " دُلِّيَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ فَالْتَزَمْتُهُ، قُلْتُ: لَا أُعْطِي أَحَدًا مِنْهُ شَيْئًا، فَالْتَفَتُّ , فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَسَّمُ".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ خیبر کے دن چربی کی ایک مشک لٹکی ہوئی ہاتھ آئی ، میں اس سے لپٹ گیا ، میں نے کہا : اس میں سے میں کسی کو کچھ نہیں دوں گا ، پھر میں مڑا تو دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے ہیں ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4440]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس چربی کو لینے سے منع نہیں کیا، حالانکہ وہ یہودیوں کے ذبیحہ سے نکلی ہوئی تھی، جس سے ثابت ہوا کہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کا ذبیحہ جائز ہے، (سورۃ المائدہ آیت: ۵، میں بھی اس کی صراحت ہے) مگر شرط یہ ہے کہ ذبح اسلامی طریقہ پر کیا گیا ہو، ان کا مشینی ذبیحہ جائز نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الخمس 20 (3153)، المغازي 38 (4214)، الصید 22 (5508)، صحیح مسلم/الجہاد 25 (1772)، سنن ابی داود/الجھاد 137 (2702)، (تحفة الأشراف: 9656)، مسند احمد (4/86 و5/55، 56)، سنن الدارمی/السیر57(2542) (صحیح)
39: بَابُ : ذَبِيحَةِ مَنْ لَمْ يُعْرَفْ
باب: نامعلوم اور گمنام شخص کے ذبیحہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَعْرَابِ كَانُوا يَأْتُونَا بِلَحْمٍ، وَلَا نَدْرِي أَذَكَرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، أَمْ لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ وَكُلُوا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ اعرابی ( دیہاتی ) ہمارے پاس گوشت لاتے تھے ، ہمیں نہیں معلوم ہوتا کہ آیا انہوں نے اس پر اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ اس پر اللہ کا نام لو اور کھاؤ “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4441]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ اس بابت خواہ مخواہ کا شک و شبہہ صحیح اور درست نہیں ہے، إلا یہ کہ پختہ طریقے سے ثابت ہو جائے کہ اس ذبیحہ پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد النسائي (تحفة الأشراف: 17256) (صحیح)
40: بَابُ : تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَلاَ تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ }
باب: آیت کریمہ: ”جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے مت کھاؤ“ (الأنعام: ۱۲۱) کی تفسیر۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ أَبِي وَكِيعٍ وَهُوَ هَارُونُ بْنُ عَنْتَرَةَ , عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ سورة الأنعام آية 121، قَالَ: " خَاصَمَهُمُ الْمُشْرِكُونَ، فَقَالُوا: مَا ذَبَحَ اللَّهُ فَلَا تَأْكُلُوهُ، وَمَا ذَبَحْتُمْ أَنْتُمْ أَكَلْتُمُوهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما آیت کریمہ : «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم اللہ عليه» ” جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے مت کھاؤ “ ( الأنعام : ۱۲۱ ) کے بارے میں کہتے ہیں : ( یہ اس وقت اتری جب ) کفار و مشرکین نے مسلمانوں سے بحث کی تو کہا : جسے اللہ ذبح کرتا ہے ( یعنی مر جائے ) تو اسے تم نہیں کھاتے ہو اور جسے تم خود ذبح کرتے ہو اسے کھاتے ہو ؟ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4442]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 6325) (صحیح الإسناد)
41: بَابُ : النَّهْىِ عَنِ الْمُجَثَّمَةِ
باب: «مجثمہ» (جس جانور کو باندھ کر نشانہ لگا کر مارنے اور اس کو کھانے) کی حرمت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَحِلُّ الْمُجَثَّمَةُ".
ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «مجثمة‏» حلال نہیں ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4443]
💡 وضاحت:
۱؎: «مجثمة‏» یعنی وہ جانور جس کو باندھ کر نشانہ لگا کر مسلسل تیر مارا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4331 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَنَسٍ عَلَى الْحَكَمِ يَعْنِي ابْنَ أَيُّوبَ، فَإِذَا أُنَاسٌ يَرْمُونَ دَجَاجَةً فِي دَارِ الْأَمِيرِ، فَقَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ".
ہشام بن زید کہتے ہیں کہ میں انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم ( حکم بن ایوب ) کے یہاں گیا تو دیکھا کہ چند لوگ امیر کے گھر میں ایک مرغی کو نشانہ بنا کر مار رہے ہیں ، تو انس رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ جانوروں کو باندھ کر اس طرح مارا جائے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4444]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصید 25 (5513)، صحیح مسلم/الصید 12 (1956)، سنن ابی داود/الأضاحی 12 (2816)، سنن ابن ماجہ/الذبائح10 (3186)، (تحفة الأشراف: 1630)، مسند احمد (3/117، 171، 180، 191) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ الْهَادِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُنَاسٍ وَهُمْ يَرْمُونَ كَبْشًا بِالنَّبْلِ، فَكَرِهَ ذَلِكَ، وَقَالَ: " لَا تَمْثُلُوا بِالْبَهَائِمِ".
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر چند لوگوں کے پاس سے ہوا ۔ وہ ایک مینڈھے کو تیر مار رہے تھے ، آپ نے اسے پسند نہیں کیا اور فرمایا : ” جانوروں کا مثلہ نہ کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4445]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 529) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنِ اتَّخَذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت بھیجی جس نے ایسی چیز کو نشانہ بنایا جو جاندار ہو ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4446]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی نشانہ بازی کے مقصد سے نشانہ بنایا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصید 25 (5515)، صحیح مسلم/الصید 11(1958)، (تحفة الأشراف: 7054)، مسند احمد 1/338 و2/13، 43، 60، 86، 103، 141)، سنن الدارمی/الأضاحی 13 (2016) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ مَثَّلَ بِالْحَيَوَانِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” اللہ تعالیٰ اس پر لعنت فرمائے جو جانوروں کا مثلہ کرے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4447]
💡 وضاحت:
۱؎: کسی جاندار کے ہاتھ پاؤں ناک اور کان وغیرہ اعضاء کو کاٹ کر اس کی شکل و صورت بگاڑ دینے کو مثلہ کہتے ہیں، مثلہ حرام ہے خواہ انسان کا ہو یا جانور کا، اور کسی حلال جانور کو ذبح کرنے کے بعد اس کے گوشت کی بوٹیاں بنانے کی کے مقصد سے اس کے ٹکڑے کرنا مثلہ نہیں ہے، مثلہ میں فقط شبیہ بگاڑ کر پھینک دینا مقصود ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی ایسی چیز کو نشانہ نہ بناؤ جس میں روح اور جان ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4448]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصید 25 (5515م تعلیقًا)، صحیح مسلم/الصید 12 (1957)، (تحفة الأشراف: 5559)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة 1 (1475)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 10 (3187)، مسند احمد (1/216، 274، 280، 285، 291، 340، 345) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْكُوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ایسی چیز کو نشانہ نہ بناؤ جس میں روح اور جان ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4449]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
42: بَابُ : مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا بِغَيْرِ حَقِّهَا
باب: بے مقصد کسی گوریا کو مارنے والے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ صُهَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو يَرْفَعُهُ، قَالَ: " مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا فَمَا فَوْقَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا، سَأَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا حَقُّهَا؟، قَالَ: " حَقُّهَا أَنْ تَذْبَحَهَا فَتَأْكُلَهَا، وَلَا تَقْطَعْ رَأْسَهَا، فَيُرْمَى بِهَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی گوریا ، یا اس سے چھوٹی کسی چڑیا کو بلا وجہ مارا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سلسلے میں سوال کرے گا “ ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! تو اس کا صحیح طریقہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ اسے ذبح کر کے کھائے اور اس کا سر کاٹ کر یوں ہی نہ پھینک دے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4450]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4354 (حسن) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی 999، تراجع الالبانی 458)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصِّيصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ، عَنْ خَلَفٍ يَعْنِي ابْنَ مِهْرَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّرِيدَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا عَبَثًا، عَجَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَقُولُ: يَا رَبِّ , إِنَّ فُلَانًا قَتَلَنِي عَبَثًا، وَلَمْ يَقْتُلْنِي لِمَنْفَعَةٍ".
شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جس نے بلا وجہ کوئی گوریا ماری تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے چلائے گی اور کہے گی : اے میرے رب ! فلاں نے مجھے بلا وجہ مارا مجھے کسی فائدے کے لیے نہیں مارا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4451]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، صالح بن دينار مجهول الحال،وثقه ابن حبان وحده. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4843)، مسند احمد (4/389) (ضعیف) (اس کے راوی صالح بن دینار لین الحدیث ہیں)
43: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ أَكْلِ، لُحُومِ الْجَلاَّلَةِ
باب: «جلّالہ» (گندگی اور نجاست کھانے والے جانور) کا گوشت کھانے کی ممانعت۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ مَرَّةً: عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ مَرَّةً: عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، وَعَنِ الْجَلَّالَةِ، وَعَنْ رُكُوبِهَا، وَعَنْ أَكْلِ لَحْمِهَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت سے اور «جلالہ» پر سواری کرنے اور اس کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4452]
💡 وضاحت:
۱؎: عبداللہ بن عمرو یعنی اگر راوی نے «محمد» کے بعد «عن أبیہ» کہا تھا تو «عبد الله بن عمرو» کی روایت ہو گی، اور اگر «عن جدہ» کہا تھا تو «عمرو بن العاص» کی روایت ہو گی، ابوداؤد میں بغیر شک کے «عمرو بن شعیب عن أبیہ، عن جدہ» ہے، یعنی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما، مزی نے اس کو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما ہی کی مسند ذکر کیا ہے۔ «جلالہ» : وہ جانور جو صرف نجاست یا اکثر نجاست کھاتا ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأطعمة 34 (3811)، (تحفة الأشراف: 8726)، مسند احمد (2/219) (حسن)
44: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ لَبَنِ الْجَلاَّلَةِ
باب: «جلّالہ» (گندگی کھانے والے جانور) کا دودھ پینے کی ممانعت۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُجَثَّمَةِ، وَلَبَنِ الْجَلَّالَةِ، وَالشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مجثمہ» ( جو جانور باندھ کر نشانہ لگا کر مار ڈلا گیا ہو ) سے ، «جلالہ» ( گندگی کھانے والے جانور ) کے دودھ سے ، اور مشک کے منہ سے منہ لگا کر پینے سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4453]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأشربة 14 (3719)، والأطعمة 25 (3786)، سنن الترمذی/الأطعمة 24 (1826)، (تحفة الأشراف: 6190)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأشربة 24 (5629)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 20 (3421)، مسند احمد 1/226، 241، 339، 293، 321، 339)، سنن الدارمی/الأضاحي 13 (2018) (صحیح)
← پچھلی کتاب #47 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #49 →