سنن النسائي حدیث نمبر: 4450
Sunan an-Nasa'i 4450
کتاب #48: کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
42: بَابُ : مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا بِغَيْرِ حَقِّهَا
باب: بے مقصد کسی گوریا کو مارنے والے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ صُهَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو يَرْفَعُهُ، قَالَ: " مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا فَمَا فَوْقَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا، سَأَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا حَقُّهَا؟، قَالَ: " حَقُّهَا أَنْ تَذْبَحَهَا فَتَأْكُلَهَا، وَلَا تَقْطَعْ رَأْسَهَا، فَيُرْمَى بِهَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی گوریا ، یا اس سے چھوٹی کسی چڑیا کو بلا وجہ مارا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سلسلے میں سوال کرے گا “ ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! تو اس کا صحیح طریقہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ اسے ذبح کر کے کھائے اور اس کا سر کاٹ کر یوں ہی نہ پھینک دے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4450]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 4354 (حسن) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی 999، تراجع الالبانی 458)