سنن النسائي حدیث نمبر: 4451
Sunan an-Nasa'i 4451
کتاب #48: کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
42: بَابُ : مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا بِغَيْرِ حَقِّهَا
باب: بے مقصد کسی گوریا کو مارنے والے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصِّيصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ، عَنْ خَلَفٍ يَعْنِي ابْنَ مِهْرَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّرِيدَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا عَبَثًا، عَجَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَقُولُ: يَا رَبِّ , إِنَّ فُلَانًا قَتَلَنِي عَبَثًا، وَلَمْ يَقْتُلْنِي لِمَنْفَعَةٍ".
شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جس نے بلا وجہ کوئی گوریا ماری تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے چلائے گی اور کہے گی : اے میرے رب ! فلاں نے مجھے بلا وجہ مارا مجھے کسی فائدے کے لیے نہیں مارا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4451]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، صالح بن دينار مجهول الحال،وثقه ابن حبان وحده. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4843)، مسند احمد (4/389) (ضعیف) (اس کے راوی صالح بن دینار لین الحدیث ہیں)