سنن النسائي حدیث نمبر: 4373
Sunan an-Nasa'i 4373
کتاب #48: کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
4: بَابُ : ذَبْحِ النَّاسِ بِالْمُصَلَّى
باب: عیدگاہ میں قربانی کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ، قَالَ: شَهِدْتُ أَضْحًى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ رَأَى غَنَمًا قَدْ ذُبِحَتْ، فَقَالَ: " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيَذْبَحْ شَاةً مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید الاضحی میں تھا ، آپ نے لوگوں کو نماز عید پڑھائی ، جب نماز مکمل کر لی تو آپ نے دیکھا کہ کچھ بکریاں ( نماز سے پہلے ہی ) ذبح کر دی گئیں ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز عید سے پہلے جس نے ذبح کیا ہے اسے چاہیئے کہ وہ اس کی جگہ دوسری بکری ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا ہے تو وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4373]
💡 وضاحت:
: ۱؎ واضح طور پر باب کے مطابق پچھلی حدیث ہے، مؤلف نے اس حدیث سے اس طرح استدلال کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید گاہ میں ذبح پر کچھ نہیں فرمایا: بلکہ صرف نماز عید سے پہلے ذبح کر دیئے جانے پر اعتراض کیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العیدین 23 (985)، الصید 17 (5500)، الأضاحی 12 (5562)، الأیمان 15 (6674)، التوحید 13 (7400)، صحیح مسلم/الأضاحی 1 (1960)، سنن ابن ماجہ/الأضاحی 12 (3152)، (تحفة الأشراف: 3251)، مسند احمد (4/312، 313)، ویأتی عند المؤلف برقم: 4403 (صحیح)