سنن النسائي حدیث نمبر: 4413
Sunan an-Nasa'i 4413
کتاب #48: کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
25: بَابُ : ذِكْرِ الْمُتَرَدِّيَةِ فِي الْبِئْرِ الَّتِي لاَ يُوصَلُ إِلَى حَلْقِهَا
باب: گڈھے میں گر جانے والی بکری جس کی گردن نہیں پکڑی جا سکتی کا بیان۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَا تَكُونُ الذَّكَاةُ إِلَّا فِي الْحَلْقِ، وَاللَّبَّةِ؟، قَالَ: " لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لَأَجْزَأَكَ".
ابو العشراء کے والد ( مالک دارمی رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ذبح «ذکاۃ» صرف حلق اور سینے میں ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ” اگر تم اس کی ران میں بھی کونچ دو تو کافی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4413]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2825) ترمذي (1481) ابن ماجه (3184) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأضاحی16(2825)، سنن الترمذی/الصید13(1481)، سنن ابن ماجہ/الذبائح9(3813)، (تحفة الأشراف: 15694)، مسند احمد (4/334)، سنن الدارمی/الأضاحی12 (2015) (ضعیف) (اس کے راوی ’’ابوالعشراء“ مجہول ہیں، لیکن حدیث نمبر 4302 سے اس کے معنی کی تائید ہو رہی ہے)