سنن النسائي حدیث نمبر: 4400
Sunan an-Nasa'i 4400
کتاب #48: کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
17: بَابُ : ذَبْحِ الضَّحِيَّةِ قَبْلَ الإِمَامِ
باب: امام سے پہلے قربانی کے جانور کے ذبح کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا، وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ"، فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَتَعَجَّلْتُ فَأَكَلْتُ، وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي، وَجِيرَانِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ"، قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقًا جَذَعَةً، خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، فَهَلْ تُجْزِئُ عَنِّي؟، قَالَ: " نَعَمْ، وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ قربانی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید کے بعد ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا : ” جس نے ہماری جیسی نماز پڑھی اور ہماری جیسی قربانی کی تو اس نے قربانی کی اور جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کی تو وہ گوشت کی بکری ہے ۱؎ یہ سن کر ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! میں نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ہی قربانی کر چکا ہوں ، دراصل میں نے سمجھا کہ آج کا دن کھانے پینے کا دن ہے ، تو میں نے جلدی کی اور کھایا اور اپنے بال بچوں نیز پڑوسیوں کو کھلایا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تو گوشت کی بکری ہے “ ۔ وہ بولے : میرے پاس بکری کا ایک چھوٹا بچہ ہے جو گوشت کی ان دو بکریوں سے بہتر ہے ، کیا وہ میرے لیے کافی ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے کافی نہیں ہو گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4400]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کے لیے قربانی کا ثواب نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1564 (صحیح)