سنن النسائي حدیث نمبر: 4385
Sunan an-Nasa'i 4385
کتاب #48: کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
13: بَابُ : الْمُسِنَّةِ وَالْجَذَعَةِ
باب: مسنہ اور جذعہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيل وَهُوَ الْقَنَّادُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ ضَحَايَا، فَصَارَتْ لِي جَذَعَةٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , صَارَتْ لِي جَذَعَةٌ؟ فَقَالَ: " ضَحِّ بِهَا".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان قربانی کے جانور تقسیم کیے ، میرے حصے میں ایک جذعہ آیا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے حصے میں تو ایک جذعہ آیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” تم اسی کی قربانی کر لو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4385]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأضاحي 2 (5547)، صحیح مسلم/الأضاحي 2 (1965)، سنن الترمذی/الأضاحي 7 (100م)، (تحفة الأشراف: 9910) (صحیح)