سنن النسائي حدیث نمبر: 4384
Sunan an-Nasa'i 4384
کتاب #48: کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
13: بَابُ : الْمُسِنَّةِ وَالْجَذَعَةِ
باب: مسنہ اور جذعہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ غَنَمًا يُقَسِّمُهَا عَلَى صَحَابَتِهِ، فَبَقِيَ عَتُودٌ، فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " ضَحِّ بِهِ أَنْتَ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو آپس میں تقسیم کرنے کے لیے بکریاں دیں ، صرف ایک سال کی بکری بچ رہی ۔ اس کا ذکر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ۔ تو آپ نے فرمایا : ” تم اسے ذبح کر لو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4384]
💡 وضاحت:
۱؎: «عتود» ایک سال کی بکری کو کہتے ہیں۔ «جذعہ» بھی اسی معنی میں ہے، پس اگلی دونوں روایتوں میں جو «جذعہ» کا لفظ ہے اس کا مطلب ہے «جذعۃ من المعز» یعنی بکری کا ایک سالہ بچہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ یا ابوبردہ رضی اللہ عنہما کو مجبوری کے تحت ایک سال کی بکری کی اجازت خصوصی طور سے دی تھی ورنہ قربانی میں اصل دانتا ہوا جانور ہی جائز ہے جیسا کہ حدیث نمبر: ۴۲۸۳ میں گزرا۔ ۲؎: ”تم اسے ذبح کر لو“ یعنی صرف تمہارے لیے جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوکالة 1 (2300)، الشرکة 12 (2500)، الأضاحی 7 (5555)، صحیح مسلم/الأضاحي 1 (1965)، سنن الترمذی/الأضاحي 7 (1500)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 7 (3138)، (تحفة الأشراف: 9955)، مسند احمد (4/149، 152)، سنن الدارمی/الأضاحی 4 (1997)، ویأتی فیما یلی: 4385، 4386 (صحیح)