سنن النسائي حدیث نمبر: 4389
Sunan an-Nasa'i 4389
کتاب #48: کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
13: بَابُ : الْمُسِنَّةِ وَالْجَذَعَةِ
باب: مسنہ اور جذعہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْأَضْحَى بِيَوْمَيْنِ نُعْطِي الْجَذَعَتَيْنِ بِالثَّنِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْجَذَعَةَ تُجْزِئُ مَا تُجْزِئُ مِنْهُ الثَّنِيَّةُ".
کلیب ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا : ہم عید الاضحی سے دو دن پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، ہم دو جذعے دے کر «ثنیہ» یعنی مسنہ لے رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جذعہ بھی اس کام کے لیے کافی ہے جس کے لیے «ثنیہ» یعنی مسنہ کافی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4389]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)