سنن النسائي حدیث نمبر: 4634
Sunan an-Nasa'i 4634
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
72: بَابُ : شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ
باب: ایک بیع میں دو شرط لگانا یعنی کوئی یہ کہے کہ میں تم سے اس شرط پر یہ سامان بیچ رہا ہوں کہ اگر ایک مہینہ میں قیمت ادا کر دو گے تو اتنے روپے کا ہے اور دو مہینہ میں ادا کرو گے تو اتنے کا۔۔
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ أَبِيهِ , حَتَّى ذَكَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ , وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ , وَلَا رِبْحُ , مَا لَمْ يُضْمَنْ".
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سلف ( قرض ) اور بیع ایک ساتھ جائز نہیں ، اور نہ ایک بیع میں دو شرطیں ، اور نہ ہی ایسی چیز کا نفع جس کے تاوان کی ذمے داری نہ ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4634]
💡 وضاحت:
۱؎: اور دونوں میں سے کسی ایک پر بات طے نہ ہو، اور اگر کسی ایک پر بات طے ہو جائے تو پھر بیع حلال اور جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 4615 (حسن صحیح)