سنن النسائي حدیث نمبر: 4692
Sunan an-Nasa'i 4692
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
100: بَابُ : مَطْلِ الْغَنِيِّ
باب: قرض کی ادائیگی میں مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ، وَالظُّلْمُ مَطْلُ الْغَنِيِّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم میں سے کوئی شخص مالدار کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی قبول کرے ۱؎ ، اور مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4692]
💡 وضاحت:
۱؎: اپنے ذمہ کا قرض دوسرے کے ذمہ کر دینا یہی حوالہ ہے، مثلاً زید عمرو کا مقروض ہے پھر زید عمرو کا سامنا بکر سے یہ کہہ کر کرا دے کہ اب میرے ذمہ کے قرض کی ادائیگی بکر کے سر ہے اور بکر اسے تسلیم بھی کر لے تو عمرو کو یہ حوالگی قبول کر لینی چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحوالة 1(2288)، سنن الترمذی/البیوع 68 (1308)، (تحفة الأشراف: 13662)، موطا امام مالک/البیوع 40 (84)، مسند احمد (2/ 376، 463، 464) (صحیح)