سنن النسائي حدیث نمبر: 4648
Sunan an-Nasa'i 4648
کتاب #49: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
78: بَابُ : الْبَيْعِ يَكُونُ فِيهِ الشَّرْطُ الْفَاسِدُ فَيَصِحُّ الْبَيْعُ وَيَبْطُلُ الشَّرْطُ
باب: بیع میں اگر شرط فاسد ہو تو بیع صحیح ہو جائے گی اور شرط باطل ہو گی۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنَّ عَائِشَةَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تَعْتِقُهَا , فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ الْوَلَاءَ لَنَا , فَذَكَرَتْ ذَلِكِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ , فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے لونڈی خریدنا چاہی تاکہ اسے آزاد کریں ، تو اس کے گھر والوں ( مالکان ) نے کہا : ہم اسے آپ سے اس شرط پر بیچیں گے کہ ولاء ( حق وراثت ) ہمارا ہو گا ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا : ” تم اس وجہ سے مت رک جانا ، کیونکہ ولاء ( وراثت ) تو اس کے لیے ہے جو آزاد کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4648]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 73 (2169)، المکاتب2(2562)، الفرائض 19 (6751)، 22(6757)، صحیح مسلم/العتق 2 (1504)، سنن ابی داود/الفرائض 12 (2915)، (تحفة الأشراف: 8334)، موطا امام مالک/العتق 10 (18)، مسند احمد (2/28، 113، 153، 156)، وانظر أیضا حدیث رقم: 2615 (صحیح)