كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
کتاب: فضائل و مناقب
کتاب #50 • کل احادیث: 374
|
1: باب فِي فَضْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى مِنْ وَلَدِ إِبْرَاهِيمَ إِسْمَاعِيل، وَاصْطَفَى مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل بَنِي كِنَانَةَ، وَاصْطَفَى مِنْ بَنِي كِنَانَةَ قُرَيْشًا، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
واثلہ بن اسقع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے اسماعیل علیہ السلام کا انتخاب فرمایا ۱؎ اور اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے بنی کنانہ کا ، اور بنی کنانہ میں سے قریش کا ، اور قریش میں سے بنی ہاشم کا ، اور بنی ہاشم میں سے میرا انتخاب فرمایا ” ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3605]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح مسلم میں اگلی حدیث کی طرح یہ ٹکڑا نہیں ہے، یہ محم بن مصعب کی روایت سے ہے جو کثیر الغلط ہیں، اس لیے یہ ضعیف ہے، معنی کے لحاظ سے بھی یہ ٹکڑا صحیح نہیں ہے، اس سے دوسرے ان انبیاء کی نسب کی تنقیص لازم آتی ہے، جو اسحاق علیہ السلام کی نسل سے ہیں، اس کے بعد والے اجزاء میں اس طرح کی کوئی بات نہیں اس حدیث سے نبی کریم محمد بن عبداللہ عبدالمطلب کے سلسلہ نسب کے شروع سے اخیر تک اشرف نسب ہونے پر روشنی پڑتی ہے، نبی قوم کے اشرف نسب ہی میں مبعوث ہوتا ہے، تاکہ کسی کے لیے کسی بھی مرحلے میں اس کی اعلیٰ نسبی اس نبی پر ایمان لانے میں رکاوٹ نہ بن سکے، یہ بھی اللہ کی اپنے بندوں پر ایک طرح کی مہربانی ہی ہے کہ اس کے اپنے وقت کے نبی پر ایمان لانے میں کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ سی بات رکاوٹ نہ بن سکے، «فالحمدللہ الرحمن الرحیم» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح دون الاصطفاء الأول، الصحيحة (302)، ويأتى برقم (3869)، (3687) // أي في صحيح سنن الترمذي - باختصار السند - برقم (2855 / 1 - 3869)، ضعيف الجامع الصغير (1553) //
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الفضائل 1 (2276) (تحفة الأشراف: 11741)، مسند احمد (4/107) (صحیح) (پہلا فقرہ إن الله اصطفى من ولد إبراهيم إسماعيل کے علاوہ بقیہ حدیث صحیح ہے، اس سند میں محمد بن مصعب صدوق کثیر الغلط راوی ہیں، اور آگے آنے والی حدیث میں یہ پہلا فقرہ نہیں ہے، اس لیے یہ ضعیف ہے، الصحیحة 302)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل، وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ، وَاصْطَفَى هَاشِمًا مِنْ قُرَيْشٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
واثلہ بن اسقع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے کنانہ کا انتخاب فرمایا اور کنانہ سے قریش کا اور قریش میں سے ہاشم کا اور بنی ہاشم میں سے میرا انتخاب فرمایا ” ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3606]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (302)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح) (الصحیحة 302)
|
|
|
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنَّ قُرَيْشًا جَلَسُوا فَتَذَاكَرُوا أَحْسَابَهُمْ بَيْنَهُمْ فَجَعَلُوا مَثَلَكَ مَثَلَ نَخْلَةٍ فِي كَبْوَةٍ مِنَ الْأَرْضِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ , فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِهِمْ مِنْ خَيْرِ فِرَقِهِمْ , وَخَيْرِ الْفَرِيقَيْنِ، ثُمَّ تَخَيَّرَ الْقَبَائِلَ فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِ قَبِيلَةٍ، ثُمَّ تَخَيَّرَ الْبُيُوتَ فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِ بُيُوتِهِمْ، فَأَنَا خَيْرُهُمْ نَفْسًا وَخَيْرُهُمْ بَيْتًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ هُوَ ابْنُ نَوْفَلٍ.
عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! قریش کے لوگ بیٹھے اور انہوں نے قریش میں اپنے حسب کا ذکر کیا تو آپ کی مثال کھجور کے ایک ایسے درخت سے دی جو کسی کوڑے خانہ پر ( اگا ) ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ، اس نے اس میں سے دو گروہوں کو پسند کیا ، اور مجھے ان میں سب سے اچھے گروہ ( یعنی اولاد اسماعیل ) میں پیدا کیا ، پھر اس نے قبیلوں کو چنا اور مجھے بہتر قبیلے میں سے کیا ، پھر گھروں کو چنا اور مجھے ان گھروں میں سب سے بہتر گھر میں کیا ، تو میں ذاتی طور پر بھی ان میں سب سے بہتر ہوں اور گھرانے کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3607]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف نقد الكتاني (31 - 32)، الضعيفة (3073) // ضعيف الجامع الصغير (1605) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3607) إسناده ضعيف ¤ يزيد: ضعيف (تقدم:114) و انظر الحديث الآتي:3608
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، وانظر مایأتي (تحفة الأشراف: 5130) (ضعیف) (سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، قَالَ: جَاءَ الْعَبَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَأَنَّهُ سَمِعَ شَيْئًا، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: مَنْ أَنَا؟ فَقَالُوا: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْكَ السَّلَامُ، قَالَ: " أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ، ثُمَّ جَعَلَهُمْ فِرْقَتَيْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ فِرْقَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ قَبِيلَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ بَيْتًا، وَخَيْرِهِمْ نَفْسًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ، وَرُوِي عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ.
مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں کہ عباس رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، گویا انہوں نے کوئی چیز سنی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا : ” میں کون ہوں ؟ “ لوگوں نے کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں سلامتی ہو آپ پر ، آپ نے فرمایا : ” میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں ، اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو مجھے ان کے سب سے بہتر مخلوق میں کیا ، پھر ان کے دو گروہ کئے تو مجھے ان کے بہتر گروہ میں کیا ، پھر انہیں قبیلوں میں بانٹا تو مجھے ان کے سب سے بہتر قبیلہ میں کیا ، پھر ان کے کئی گھر کیے تو مجھے ان کے سب سے بہتر گھر میں کیا اور شخصی طور پر بھی مجھے ان میں سب سے بہتر بنایا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- جس طرح اسماعیل بن ابی خالد نے یزید بن ابی زیاد سے اور یزید بن ابی زیاد نے عبداللہ بن حارث کے واسطہ سے عباس بن عبدالمطلب سے روایت کی ہے اسی طرح سفیان ثوری نے بھی یزید بن ابی زیاد سے روایت کی ہے ( وہ یہی روایت ہے ) ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3608]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الضعيفة (3073)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3608) إسناده ضعيف / تقدم:3532
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 3532 (ضعیف)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى وَجَبَتْ لَكَ النُّبُوَّةُ؟ قَالَ: " وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ مَيْسَرَةَ الْفَجْرِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! نبوت آپ کے لیے کب واجب ہوئی ؟ تو آپ نے فرمایا : ” جب آدم روح اور جسم کے درمیان تھے “ ۱؎ ۔ ( یعنی ان کی پیدائش کی تیاری ہو رہی تھی ) ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- اس باب میں میسرہ فجر سے بھی روایت آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3609]
💡 وضاحت:
۱؎: یہی وہ مشہور حدیث ہے جس کی تشریح میں اہل بدعت حد سے زیادہ غلو کا شکار ہوئے ہیں حتیٰ کہ دیگر انبیاء علیہم السلام کی تنقیص تک بات جا پہنچی ہے، حالانکہ اس میں صرف اتنی بات بیان ہوئی ہے کہ آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے میرے لیے نبوت کا فیصلہ (بطور تقدیر) کر دیا گیا تھا، ظاہر بات ہے کہ کسی کے لیے کسی بات کا فیصلہ روز ازل میں اللہ نے لکھ دیا تھا، اور روز ازل آدم علیہ السلام پیدائش سے پہلے، اس حدیث کے ثابت الفاظ یہی ہیں باقی دوسرے الفاظ ثابت نہیں ہیں جیسے «کنت نبیا وآدم بین الماء والطین» ”میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم ابھی اور مٹی کے درمیان تھے“ اسی طرح «کنت نبیا ولاماء ولا طین» ”میں اس وقت نبی تھا جب نہ پانی تھا نہ مٹی، یعنی تخلیق کائنات سے پہلے ہی میں نبی تھا“ ان الفاظ کے بارے میں علماء محدثین نے «لا اصل لہ» فرمایا ہے، یعنی ان الفاظ کے ساتھ اس حدیث کی کوئی صحیح کیا غلط سند تک نہیں اللہ غلو سے بچائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (1856)، المشكاة (5758)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 15397) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ خُرُوجًا إِذَا بُعِثُوا، وَأَنَا خَطِيبُهُمْ إِذَا وَفَدُوا، وَأَنَا مُبَشِّرُهُمْ إِذَا أَيِسُوا، لِوَاءُ الْحَمْدِ يَوْمَئِذٍ بِيَدِي، وَأَنَا أَكْرَمُ وَلَدِ آدَمَ عَلَى رَبِّي وَلَا فَخْرَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب لوگ ( قبروں سے ) اٹھائے جائیں گے تو میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس سے زمین شق ہو گی اور جب وہ دربار الٰہی میں آئیں گے تو میں ان کا خطیب ہوں گا ، اور جب وہ مایوس اور ناامید ہو جائیں گے تو میں انہیں خوشخبری سنانے والا ہوں گا ، حمد کا پرچم اس دن میرے ہاتھ میں ہو گا ، اور میں اپنے رب کے نزدیک اولاد آدم میں سب سے بہتر ہوں اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3610]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (5765) // ضعيف الجامع الصغير (1309) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3610) إسناده ضعيف ¤ ليث ضعيف (تقدم: 218)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 831) (ضعیف) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ , فَأُكْسَى الْحُلَّةً مِنْ حُلَلِ الْجَنَّةِ، ثُمَّ أَقُومُ عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْخَلَائِقِ يَقُومُ ذَلِكَ الْمَقَامَ غَيْرِي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس سے زمین شق ہو گی پھر مجھے جنت کے جوڑوں میں سے ایک جوڑا پہنایا جائے گا ، پھر میں عرش کے داہنی جانب کھڑا ہوں گا ، میرے علاوہ وہاں مخلوق میں سے کوئی اور کھڑا نہیں ہو سکے گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3611]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (5766) // ضعيف الجامع الصغير (1311) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3611) إسناده ضعيف ¤ أبو خالد الدالاني يزيد مدلس وعنعن (د 202) و أحاديث مسلم (196، 2278) وغيره تغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 13556) (ضعیف) (سند میں حسین بن یزید کوفی، لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْثَّوْرِيُّ، عَنْ لَيْثٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، حَدَّثَنِي كَعْبٌ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَلُوا اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوَسِيلَةُ؟ قَالَ: " أَعْلَى دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ لَا يَنَالُهَا إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ أَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ ". قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَكَعْبٌ لَيْسَ هُوَ بِمَعْرُوفٍ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَى عَنْهُ غَيْرَ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ سے میرے لیے وسیلہ کا سوال کرو ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وسیلہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ جنت کا سب سے اونچا درجہ ہے جسے صرف ایک ہی شخص پا سکتا ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں گا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے ، ¤ ۲- کعب غیر معروف شخص ہیں ، ہم لیث بن سلیم کے علاوہ کسی اور کو نہیں جانتے ہیں جس نے ان سے روایت کی ہو ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3612]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں مذکورہ ”وسیلہ“ سے وہی وسیلہ مراد ہے، جس کی دعا ایک امتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہر اذان کے بعد کرتا ہے، «اللہم آت محمد الوسیلۃ» ”اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ عطا فرما“ اس حدیث میں آپ نے جو امت کو اپنے لیے وسیلہ طلب کرنے کے لیے فرمایا خود ہی اس طلب کو اذان کی بعد والی دعا میں کر دیا، اذان سے باہر بھی آدمی نہ دعا کر سکتا ہے، یہ دعا کرنے سے خود آدمی کو دعا کا ثواب ملا کرے گا، آپ کو تو وسیلہ عطا کیا جانے والا ہی ہے، اسی لیے آپ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ اس سے سرفراز ہونے والا میں ہی ہوں گا تو یقیناً آپ ہی ہوں گے، اس حدیث سے آپ کی فضیلت واضح طور پر ظاہر ہو رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (5767)، وهو الآتى (3876)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 14295) (صحیح) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف، اور کعب مدنی مجہول راوی ہیں، لیکن حدیث نمبر 3614 سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
|
|
|
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ كُنْتُ إِمَامَ النَّبِيِّينَ وَخَطِيبَهُمْ وَصَاحِبَ شَفَاعَتِهِمْ غَيْرُ فَخْرٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انبیاء میں میری مثال ایک ایسے آدمی کی ہے جس نے ایک گھر بنایا اور اسے بہت اچھا بنایا ، مکمل اور نہایت خوبصورت بنایا ، لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ، لوگ اس میں پھرتے تھے اور اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر تعجب کرتے تھے اور کہتے تھے ، کاش اس اینٹ کی جگہ بھی پوری ہو جاتی ، تو میں نبیوں میں ایسے ہی ہوں جیسی خالی جگہ کی یہ اینٹ ہے “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3613]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث منجملہ ان احادیث کے ہے جن سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ آپ ہی آخری نبی ہیں، آپ کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہے، تو فرمایا کہ ”میں وہ آخری اینٹ ہوں اب اس اینٹ کے جگہ پر جانے کے بعد کسی اور اینٹ کی ضرورت ہی کیا رہ گئے شاعر نے اس حدیث کی کیا خوب ترجمانی کی ہے: قصر ہدیٰ کے آخری پتھر ہیں مصطفی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح تخريج فقه السيرة (141)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3613ب) إسناده ضعيف / جه 4314 ¤ عبدالله بن محمد بن عقيل ضعيف (تقدم: 997) و أحاديث البخاري (3340، 3361، 4712) و مسلم (194) وغيرهما تغني عنه . و انظر الحديث السابق (الأصل:2434) وسنده صحيح متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ كُنْتُ إِمَامَ النَّبِيِّينَ وَخَطِيبَهُمْ وَصَاحِبَ شَفَاعَتِهِمْ غَيْرُ فَخْرٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
اور اسی سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا : ” جب قیامت کا دن ہو گا تو میں نبیوں کا امام اور ان کا خطیب ہوں گا اور ان کی شفاعت کرنے والا ہوں گا اور ( اور اس پر مجھے ) کوئی گھمنڈ نہیں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3613M]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث منجملہ ان احادیث کے ہے جن سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ آپ ہی آخری نبی ہیں، آپ کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہے، تو فرمایا کہ ”میں وہ آخری اینٹ ہوں اب اس اینٹ کے جگہ پر جانے کے بعد کسی اور اینٹ کی ضرورت ہی کیا رہ گئے شاعر نے اس حدیث کی کیا خوب ترجمانی کی ہے: قصر ہدیٰ کے آخری پتھر ہیں مصطفی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح تخريج فقه السيرة (141)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3613ب) إسناده ضعيف / جه 4314 ¤ عبدالله بن محمد بن عقيل ضعيف (تقدم: 997) و أحاديث البخاري (3340، 3361، 4712) و مسلم (194) وغيرهما تغني عنه . و انظر الحديث السابق (الأصل:2434) وسنده صحيح متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُّ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، أَخْبَرَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ، سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا لِيَ الْوَسِيلَةَ فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، وَمَنْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ عَلَيْهِ الشَّفَاعَةُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ مُحَمَّدٌ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ هَذَا قُرَشِيٌّ مِصْرِيٌّ مَدَنِيٌّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ شَامِيٌّ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جب تم مؤذن کی آواز سنو تو وہی کہو جو مؤذن کہتا ہے ۱؎ پھر میرے اوپر صلاۃ ( درود ) بھیجو کیونکہ جس نے میرے اوپر ایک بار درود بھیجا تو اللہ اس پر دس بار اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا ، پھر میرے لیے وسیلہ مانگو کیونکہ وہ جنت میں ایک ( ایسا بلند ) درجہ ہے جس کے لائق اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندہ ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ بندہ میں ہی ہوں اور جس نے میرے لیے ( اللہ سے ) وسیلہ مانگا تو اس کے لیے میری شفاعت حلال ہو گئی “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : اس سند میں مذکور عبدالرحمٰن بن جبیر قرشی ، مصری اور مدنی ہیں اور نفیر کے پوتے عبدالرحمٰن بن جبیر شامی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3614]
💡 وضاحت:
۱؎: سوائے «حي على الصلاة، حي على الفلاح» کے اس جواب میں کہا جائے گا، «لا حول ولا قوة إلا بالله» مطلب یہ ہے کہ مؤذن جو صلاۃ و فلاح کے لیے پکار رہا ہے، تو اس پکار کا جواب ہم بندے بغیر اللہ کے عطا کردہ طاقت و توفیق کے نہیں دے سکتے، یعنی صلاۃ میں نہیں حاضر ہو سکتے جب تک کہ اللہ کی مدد اور توفیق نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (242)، التعليق على بداية السول (20 / 52)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصلاة 7 (348)، سنن ابی داود/ الصلاة 36 (523)، سنن النسائی/الأذان 37 (679) (تحفة الأشراف: 8871)، و مسند احمد (2/168) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ يَوْمَئِذٍ آدَمُ فَمَنْ سِوَاهُ إِلَّا تَحْتَ لِوَائِي، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور میرے ہاتھ میں حمد کا پرچم ہو گا اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں ، اور آدم اور آدم کے علاوہ جتنے بھی نبی ہوں گے سب میرے پرچم کے نیچے ہوں گے ، اور میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس کے لیے زمین شق ہو گی ، اور سب سے پہلے قبر سے میں اٹھوں گا اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس حدیث میں ایک واقعہ مذکور ہے ، ¤ ۲- اسے اسی سند سے ابونضرہ سے روایت ہے ، وہ اسے ابن عباس رضی الله عنہما کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3615]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ تمام باتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر انبیاء پر فضیلت پر دلالت کرتی ہیں۔ گھمنڈ اس لیے نہیں کہ یہ سب کچھ اللہ عزوجل کے خاص فضل و انعام سے ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (4308)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3615) إسناده ضعيف / تقدم:3148
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 3148 (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَلَسَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْتَظِرُونَهُ، قَالَ: فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا دَنَا مِنْهُمْ سَمِعَهُمْ يَتَذَاكَرُونَ فَسَمِعَ حَدِيثَهُمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَجَبًا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اتَّخَذَ مِنْ خَلْقِهِ خَلِيلًا اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا، وَقَالَ آخَرُ: مَاذَا بِأَعْجَبَ مِنْ كَلَامِ مُوسَى كَلَّمَهُ تَكْلِيمًا، وَقَالَ آخَرُ: فَعِيسَى كَلِمَةُ اللَّهِ وَرُوحُهُ، وَقَالَ آخَرُ: آدَمُ اصْطَفَاهُ اللَّهُ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ، فَسَلَّمَ، وَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُ كَلَامَكُمْ وَعَجَبَكُمْ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلُ اللَّهِ وَهُوَ كَذَلِكَ، وَمُوسَى نَجِيُّ اللَّهِ وَهُوَ كَذَلِكَ، وَعِيسَى رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ وَهُوَ كَذَلِكَ، وَآدَمُ اصْطَفَاهُ اللَّهُ وَهُوَ كَذَلِكَ، أَلَا وَأَنَا حَبِيبُ اللَّهِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا حَامِلُ لِوَاءِ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يُحَرِّكُ حِلَقَ الْجَنَّةِ فَيَفْتَحُ اللَّهُ لِي فَيُدْخِلُنِيهَا وَمَعِي فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَكْرَمُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ وَلَا فَخْرَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگ بیٹھے آپ کے حجرے سے نکلنے کا انتظار کر رہے تھے ، کہتے ہیں : پھر آپ نکلے یہاں تک کہ جب آپ ان کے قریب آئے تو انہیں آپس میں بحث کرتے سنا ، آپ نے ان کی باتیں سنیں ، کوئی کہہ رہا تھا ، تعجب ہے اللہ نے اپنی مخلوق میں سے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا دوست بنایا ، دوسرے نے کہا : موسیٰ سے اس کا کلام کرنا کتنا زیادہ تعجب خیز معاملہ ہے ، اور ایک نے کہا : عیسیٰ علیہ السلام اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں ، اور ایک دوسرے نے کہا : آدم کو اللہ نے تو چن لیا ہے ، تو آپ نکل کر ان کے سامنے آئے اور انہیں سلام کیا اور فرمایا : ” میں نے تمہاری باتیں سن لی ہیں اور ابراہیم علیہ السلام کے خلیل اللہ ہونے پر تعجب میں پڑنے کو بھی ، واقعی وہ ایسے ہی ہیں اور موسیٰ علیہ السلام کے اللہ کے نجی اللہ ہونے پر ، اور وہ بھی واقعی ایسے ہی ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کے کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہونے پر ، اور وہ بھی واقعی ایسے ہی ہیں اور آدم کے اللہ کا برگزیدہ ہونے پر ، اور وہ بھی واقعی ایسے ہی ہیں ، سن لو ! میں اللہ کا حبیب ہوں اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں ، قیامت کے دن حمد کا پرچم میرے ہاتھ میں ہو گا اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں اور قیامت کے دن میں پہلا وہ شخص ہوں گا جو شفاعت ( سفارش ) کرے گا اور جس کی شفاعت ( سفارش ) سب سے پہلے قبول کی جائے گی اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں اور میں پہلا وہ شخص ہوں گا جو جنت کی کنڈی ہلائے گا تو اللہ میرے لیے جنت کو کھول دے گا ، پھر وہ مجھے اس میں داخل کرے گا اور میرے ساتھ فقراء مومنین ہوں گے اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں اور میں اگلوں اور پچھلوں میں سب سے زیادہ معزز ہوں اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3616]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (5762) // ضعيف الجامع الصغير (4077) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3616) إسناده ضعيف ¤ زمعة: ضعيف و حديثه عند مسلم مقرون (تق:2035) وقال الهيثمي: وقد ضعفه الجمهور . (مجمع الزوائد 98/5 وانظر 83/8) وقال العراقي: ضعفه الجمهور . (تخريج الأحياء 341/3) و قال البوصيري: وقد ضعفه الجمهور . (زوائد سنن ابن ماجه:501)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6095) (ضعیف) (سند میں زمعہ بن صالح ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو مَوْدُودٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الضَّحَّاكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: " مَكْتُوبٌ فِي التَّوْرَاةِ صِفَةُ مُحَمَّدٍ , وَصِفَةُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ يُدْفَنُ مَعَهُ "، فَقَالَ أَبُو مَوْدُودٍ: وَقَدْ بَقِيَ فِي الْبَيْتِ مَوْضِعُ قَبْرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، هَكَذَا قَالَ عُثْمَانُ بْنُ الضَّحَّاكِ، وَالْمَعْرُوفُ الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ الْمَدَنِيُّ.
عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ تورات میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال لکھے ہوئے ہیں اور یہ بھی کہ عیسیٰ بن مریم انہیں کے ساتھ دفن کئے جائیں گے ۔ ابوقتیبہ کہتے ہیں کہ ابومودود نے کہا : حجرہ مبارک میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، سند میں راوی نے عثمان بن ضحاک کہا اور مشہور ضحاک بن عثمان مدنی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3617]
💡 وضاحت:
۱؎: اس معنی کی کئی احادیث وارد ہیں، مگر سب پر کلام ہے، اور مطلب یہ ہے کہ قرب قیامت میں جب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے، تو پینتالیس زندہ رہ کر جب وفات پائیں گے تو قبر نبوی کے پاس دفن ہوں گے، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (5772)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 5336) (ضعیف) (سند میں عثمان بن ضحاک ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَضَاءَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَظْلَمَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ، وَلَمَّا نَفَضْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَيْدِي وَإِنَّا لَفِي دَفْنِهِ حَتَّى أَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ صَحِيحٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب وہ دن ہوا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( پہلے پہل ) مدینہ میں داخل ہوئے تو اس کی ہر چیز پرنور ہو گئی ، پھر جب وہ دن آیا جس میں آپ کی وفات ہوئی تو اس کی ہر چیز تاریک ہو گئی اور ابھی ہم نے آپ کے دفن سے ہاتھ بھی نہیں جھاڑے تھے کہ ہمارے دل بدل گئے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3618]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ان میں وہ نور ایمان باقی نہیں رہا جو آپ کی زندگی میں تھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1631)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الجنائز 65 (1631) (تحفة الأشراف: 268) (صحیح)
|
|
|
2: باب مَا جَاءَ فِي مِيلاَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی پیدائش کے وقت کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَال: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاق يُحَدِّثُ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: " وُلِدْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفِيلِ، وَسَأَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ قُبَاثَ بْنَ أَشْيَمَ أَخَا بَنِي يَعْمَرَ بْنِ لَيْثٍ: أَأَنْتَ أَكْبَرُ أَمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْبَرُ مِنِّي، وَأَنَا أَقْدَمُ مِنْهُ فِي الْمِيلَادِ، وُلِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفِيلِ، وَرَفَعَتْ بِي أُمِّي عَلَى الْمَوْضِعِ، قَالَ: وَرَأَيْتُ خَذْقَ الْفِيلِ أَخْضَرَ مُحِيلًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق.
قیس بن مخرمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں واقعہ فیل ۱؎ کے سال پیدا ہوئے ، وہ کہتے ہیں : عثمان بن عفان نے قباث بن اشیم ( جو قبیلہ بنی یعمر بن لیث کے ایک فرد ہیں ) سے پوچھا کہ آپ بڑے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے بڑے ہیں اور پیدائش میں ، میں آپ سے پہلے ہوں ۲؎ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھی والے سال میں پیدا ہوئے ، میری ماں مجھے اس جگہ پر لے گئیں ( جہاں ابرہہ کے ہاتھیوں پر پرندوں نے کنکریاں برسائی تھیں ) تو میں نے دیکھا کہ ہاتھیوں کی لید بدلی ہوئی ہے اور سبز رنگ کی ہو گئی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف محمد بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3619]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جس سال ابرہہ اپنے ہاتھیوں کے ساتھ خانہ کعبہ ڈھانے آیا تھا۔
۲؎: کیا ہی مہذب انداز ہے کہ بے ادبی کا لفظ بھی استعمال نہ ہو اور مدعا بھی بیان ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 11064) (ضعیف الإسناد) (سند میں مطلب لین الحدیث راوی ہیں)
|
|
|
3: باب مَا جَاءَ فِي بَدْءِ نُبُوَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کی ابتداء بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَعْرَجُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَزْوَانَ أَبُو نُوحٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى , عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " خَرَجَ أَبُو طَالِبٍ إِلَى الشَّامِ، وَخَرَجَ مَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْيَاخٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَلَمَّا أَشْرَفُوا عَلَى الرَّاهِبِ هَبَطُوا، فَحَلُّوا رِحَالَهُمْ , فَخَرَجَ إِلَيْهِمُ الرَّاهِبُ وَكَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ يَمُرُّونَ بِهِ , فَلَا يَخْرُجُ إِلَيْهِمْ وَلَا يَلْتَفِتُ، قَالَ: فَهُمْ يَحُلُّونَ رِحَالَهُمْ فَجَعَلَ يَتَخَلَّلُهُمُ الرَّاهِبُ حَتَّى جَاءَ فَأَخَذَ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: هَذَا سَيِّدُ الْعَالَمِينَ , هَذَا رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ يَبْعَثُهُ اللَّهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، فَقَالَ لَهُ أَشْيَاخٌ مِنْ قُرَيْشٍ: مَا عِلْمُكَ؟ فَقَالَ: إِنَّكُمْ حِينَ أَشْرَفْتُمْ مِنَ الْعَقَبَةِ لَمْ يَبْقَ شَجَرٌ وَلَا حَجَرٌ إِلَّا خَرَّ سَاجِدًا، وَلَا يَسْجُدَانِ إِلَّا لِنَبِيٍّ , وَإِنِّي أَعْرِفُهُ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ أَسْفَلَ مِنْ غُضْرُوفِ كَتِفِهِ مِثْلَ التُّفَّاحَةِ، ثُمَّ رَجَعَ فَصَنَعَ لَهُمْ طَعَامًا فَلَمَّا أَتَاهُمْ بِهِ وَكَانَ هُوَ فِي رِعْيَةِ الْإِبِلِ , قَالَ: أَرْسِلُوا إِلَيْهِ , فَأَقْبَلَ وَعَلَيْهِ غَمَامَةٌ تُظِلُّهُ، فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْقَوْمِ وَجَدَهُمْ قَدْ سَبَقُوهُ إِلَى فَيْءِ الشَّجَرَةِ، فَلَمَّا جَلَسَ مَالَ فَيْءُ الشَّجَرَةِ عَلَيْهِ، فَقَالَ: انْظُرُوا إِلَى فَيْءِ الشَّجَرَةِ مَالَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ قَائِمٌ عَلَيْهِمْ وَهُوَ يُنَاشِدُهُمْ أَنْ لَا يَذْهَبُوا بِهِ إِلَى الرُّومِ، فَإِنَّ الرُّومَ إِذَا رَأَوْهُ عَرَفُوهُ بِالصِّفَةِ فَيَقْتُلُونَهُ، فَالْتَفَتَ , فَإِذَا بِسَبْعَةٍ قَدْ أَقْبَلُوا مِنَ الرُّومِ فَاسْتَقْبَلَهُمْ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكُمْ؟ قَالُوا: جِئْنَا إِنَّ هَذَا النَّبِيَّ خَارِجٌ فِي هَذَا الشَّهْرِ , فَلَمْ يَبْقَ طَرِيقٌ إِلَّا بُعِثَ إِلَيْهِ بِأُنَاسٍ , وَإِنَّا قَدْ أُخْبِرْنَا خَبَرَهُ بُعِثْنَا إِلَى طَرِيقِكَ هَذَا، فَقَالَ: هَلْ خَلْفَكُمْ أَحَدٌ هُوَ خَيْرٌ مِنْكُمْ؟ قَالُوا: إِنَّمَا أُخْبِرْنَا خَبَرَهُ بِطَرِيقِكَ هَذَا، قَالَ: أَفَرَأَيْتُمْ أَمْرًا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَقْضِيَهُ هَلْ يَسْتَطِيعُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ رَدَّهُ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَبَايَعُوهُ وَأَقَامُوا مَعَهُ، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ أَيُّكُمْ وَلِيُّهُ، قَالُوا: أَبُو طَالِبٍ فَلَمْ يَزَلْ يُنَاشِدُهُ حَتَّى رَدَّهُ أَبُو طَالِبٍ، وَبَعَثَ مَعَهُ أَبُو بَكْرٍ بِلَالًا وَزَوَّدَهُ الرَّاهِبُ مِنَ الْكَعْكِ وَالزَّيْتِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوطالب شام کی طرف ( تجارت کی غرض سے ) نکلے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی قریش کے بوڑھوں میں ان کے ساتھ نکلے ، جب یہ لوگ بحیرہ راہب کے پاس پہنچے تو وہیں پڑاؤ ڈال دیا اور اپنی سواریوں کے کجاوے کھول دیے ، تو راہب اپنے گرجا گھر سے نکل کر ان کے پاس آیا حالانکہ اس سے پہلے یہ لوگ اس کے پاس سے گزرتے تھے ، لیکن وہ کبھی ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتا تھا ، اور نہ ان کے پاس آتا تھا ، کہتے ہیں : تو یہ لوگ اپنی سواریاں ابھی کھول ہی رہے تھے کہ راہب نے ان کے بیچ سے گھستے ہوئے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا : یہ سارے جہان کے سردار ہیں ، یہ سارے جہان کے سردار ہیں ، یہ سارے جہان کے رب کے رسول ہیں ، اللہ انہیں سارے جہان کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گا ، تو اس سے قریش کے بوڑھوں نے پوچھا : تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا ؟ تو اس نے کہا : جب تم لوگ اس ٹیلے سے اترے تو کوئی درخت اور پتھر ایسا نہیں رہا جو سجدہ میں نہ گر پڑا ہو ، اور یہ دونوں صرف نبی ہی کو سجدہ کیا کرتے ہیں ، اور میں انہیں مہر نبوت سے پہچانتا ہوں جو شانہ کی ہڈی کے سرے کے نیچے سیب کے مانند ہے ، پھر وہ واپس گیا اور ان کے لیے کھانا تیار کیا ، جب وہ کھانا لے کر ان کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ چرانے گئے تھے تو اس نے کہا : کسی کو بھیج دو کہ ان کو بلا کر لائے ، چنانچہ آپ آئے اور ایک بدلی آپ پر سایہ کئے ہوئے تھی ، جب آپ لوگوں کے قریب ہوئے تو انہیں درخت کے سایہ میں پہلے ہی سے بیٹھے پایا ، پھر جب آپ بیٹھ گئے تو درخت کا سایہ آپ پر جھک گیا اس پر راہب بول اٹھا : دیکھو ! درخت کا سایہ آپ پر جھک گیا ہے ، پھر راہب ان کے سامنے کھڑا رہا اور ان سے قسم دے کر کہہ رہا تھا کہ انہیں روم نہ لے جاؤ اس لیے کہ روم کے لوگ دیکھتے ہی انہیں ان کے اوصاف سے پہچان لیں گے اور انہیں قتل کر ڈالیں گے ، پھر وہ مڑا تو دیکھا کہ سات آدمی ہیں جو روم سے آئے ہوئے ہیں تو اس نے بڑھ کر ان سب کا استقبال کیا اور پوچھا آپ لوگ کیوں آئے ہیں ؟ ان لوگوں نے کہا : ہم اس نبی کے لیے آئے ہیں جو اس مہینہ میں آنے والا ہے ، اور کوئی راستہ ایسا باقی نہیں بچا ہے جس کی طرف کچھ نہ کچھ لوگ نہ بھیجے گئے ہوں ، اور جب ہمیں تمہارے اس راستہ پر اس کی خبر لگی تو ہم تمہاری اس راہ پر بھیجے گئے ، تو اس نے پوچھا : کیا تمہارے پیچھے کوئی اور ہے جو تم سے بہتر ہو ؟ ان لوگوں نے کہا : ہمیں تو تمہارے اس راستہ پر اس کی خبر لگی تو ہم اس پر ہو لیے اس نے کہا : اچھا یہ بتاؤ کہ اللہ جس امر کا فیصلہ فرما لے کیا لوگوں میں سے اسے کوئی ٹال سکتا ہے ؟ ان لوگوں نے کہا : نہیں ، اس نے کہا : پھر تم اس سے بیعت کرو ، اور اس کے ساتھ رہو ، پھر وہ عربوں کی طرف متوجہ ہو کر بولا : میں تم سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ تم میں سے اس کا ولی کون ہے ؟ لوگوں نے کہا : ابوطالب ، تو وہ انہیں برابر قسم دلاتا رہا یہاں تک کہ ابوطالب نے انہیں واپس مکہ لوٹا دیا اور ابوبکر رضی الله عنہ نے آپ کے ساتھ بلال رضی الله عنہ کو بھی بھیج دیا اور راہب نے آپ کو کیک اور زیتون کا توشہ دیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3620]
قال الشيخ الألباني:
صحيح فقه السيرة، دفاع عن الحديث النبوى (62 - 72)، المشكاة (5918)، لكن ذكر بلال فيه منكر كما قيل
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3620) إسناده ضعيف ¤ عبدالرحمن بن غزوان أبو نوح: ثقة له أفراد (تق: 3977) وهذا الحديث أنكر عليه فالحديث معلول والله أعلم
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9141) (صحیح) (لیکن اس واقعہ میں بلال کا تذکرہ صحیح نہیں ہے)
|
|
|
4: باب فِي مَبْعَثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَابْنُ كَمْ كَانَ حِينَ بُعِثَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی بعثت اور بعثت کے وقت آپ کی عمر کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ , فَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ , وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا , وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی گئی تو آپ چالیس سال کے تھے ، پھر آپ مکہ میں تیرہ سال تک رہے اور مدینہ میں دس سال تک ، اور آپ کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ ( ۶۳ ) سال کے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3621]
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر الشمائل (317)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/مناقب الأنصار 28 (3851)، 45 (3902، 3903) (تحفة الأشراف: 6227) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ سَنَةً ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَكَذَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَرَوَى عَنْهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل مِثْلَ ذَلِكَ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ ( ۶۵ ) سال کے تھے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اسی طرح سے ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ہے اور ان سے محمد بن اسماعیل بخاری نے اسی کے مثل روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3622]
💡 وضاحت:
۱؎: یہی بات شاذ ہے، محفوظ بات یہ ہے کہ آپ ترسٹھ سال کے تھے جیسا کہ پچھلی حدیث میں ہے، ممکن ہے کسی نے پیدائش کے سال اور وفات کے سال کو پورا پورا ایک سال جوڑ لیا ہو، اور اس طرح پینسٹھ بتا دیا ہو؟
قال الشيخ الألباني:
شاذ المصدر نفسه // مختصر الشمائل (320)، وسيأتي (751 / 3912) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3622) شاذ ¤ هشام بن حسان عنعن (تقدم: 460) والحديث شاذ مخالف للروايات الصحيحة
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6227) (شاذ)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ. ح وَحَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ , أَنَّهُ سَمِعَ أنَسًا يَقُولُ: " لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلَا بِالْقَصِيرِ الْمُتَرَدِّدِ، وَلَا بِالْأَبْيَضِ الْأَمْهَقِ، وَلَا بِالْآدَمِ، وَلَيْسَ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبِطِ، بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ، وَتَوَفَّاهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بہت لمبے قد والے تھے نہ بہت ناٹے اور نہ نہایت سفید ، نہ بالکل گندم گوں ، آپ کے سر کے بال نہ گھنگرالے تھے نہ بالکل سیدھے ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیسویں سال کے شروع میں مبعوث فرمایا ، پھر مکہ میں آپ دس برس رہے اور مدینہ میں دس برس اور ساٹھویں برس ۱؎ کے شروع میں اللہ نے آپ کو وفات دی اور آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں رہے ہوں گے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3623]
💡 وضاحت:
۱؎: جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ آپ ساٹھ (۶۰) برس کے تھے ان لوگوں نے کسور عدد کو چھوڑ کر صرف دہائیوں کے شمار پر اکتفا کیا ہے، اور جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ آپ پینسٹھ سال کے تھے تو ان لوگوں نے سن وفات اور سن پیدائش کو بھی شمار کر لیا ہے، لیکن سب سے صحیح قول ان لوگوں کا ہے جو ترسٹھ (۶۳) برس کے قائل ہیں، کیونکہ ترسٹھ برس والی روایت زیادہ صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر الشمائل رقم (1)، وقد مضى شطره الأول (1823)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المناقب 23 (3547، و3548)، واللباس 68 (5900)، صحیح مسلم/الفضائل 31 (2347) (تحفة الأشراف: 833) (صحیح)
|
|
|
5: باب فِي آيَاتِ إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا قَدْ خَصَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کے دلائل اور آپ کے خصائص و امتیازات
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , قَالَا: أَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّبِّيُّ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ بِمَكَّةَ حَجَرًا كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ لَيَالِيَ بُعِثْتُ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مکہ میں ایک پتھر ہے جو مجھے ان راتوں میں جن میں میں مبعوث کیا گیا تھا سلام کیا کرتا تھا ، اسے میں اب بھی پہچانتا ہوں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3624]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ایک معجزہ تھا جو آپ کے نبی ہونے کی دلیل ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الفضائل 1 (2277) (تحفة الأشراف: 2165)، و مسند احمد (5/59، 95)، وسنن الدارمی/المقدمة 4 (20) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَدَاوَلُ فِي قَصْعَةٍ مِنْ غَدْوَةٍ حَتَّى اللَّيْلِ يَقُومُ عَشَرَةٌ , وَيَقْعُدُ عَشَرَةٌ، قُلْنَا: فَمَا كَانَتْ تُمَدُّ، قَالَ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَعْجَبُ مَا كَانَتْ تُمَدُّ إِلَّا مِنْ هَاهُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى السَّمَاءِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو الْعَلَاءِ اسْمُهُ: يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ.
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک بڑے برتن میں صبح سے شام تک کھاتے رہے ، دس آدمی اٹھتے تھے اور دس بیٹھتے تھے ، ہم نے ( سمرہ سے ) کہا : تو اس پیالہ نما بڑے برتن میں کچھ بڑھایا نہیں جاتا تھا ؟ انہوں نے کہا : تمہیں تعجب کس بات پر ہے ؟ اس میں بڑھایا نہیں جاتا تھا مگر وہاں سے ، اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی جانب اشارہ کیا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3625]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اللہ کی طرف سے معجزانہ طور پر کھانا بڑھایا جاتا رہا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے کی دلیل ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (5958)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 4639) (صحیح)
|
|
|
6: باب
باب
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: " كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، فَخَرَجْنَا فِي بَعْضِ نَوَاحِيهَا، فَمَا اسْتَقْبَلَهُ جَبَلٌ وَلَا شَجَرٌ إِلَّا وَهُوَ يَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، وَقَالُوا: عَنْ عَبَّادٍ أَبِي يَزِيدَ، مِنْهُمْ فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں تھا ، جب ہم اس کے بعض اطراف میں نکلے تو جو بھی پہاڑ اور درخت آپ کے سامنے آتے سبھی ” السلام علیک یا رسول اللہ “ کہتے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- کئی لوگوں نے یہ حدیث ولید بن ابی ثور سے روایت کی ہے اور ان سب نے «عن عباد أبي يزيد» کہا ہے ، اور انہیں میں سے فروہ بن ابی المغراء بھی ہیں ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3626]
💡 وضاحت:
۱؎: فروہ بن ابی المغراء معدی کرب، کندی، کوفی استاذ امام بخاری، امام ابوحاتم رازی، امام ابوزرعہ رازی، متوفی ۲۲۵ھ۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (5919 / التحقيق الثاني)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3626) إسناده ضعيف ¤ الوليد بن أبى ثور: ضعيف و عباد بن أبى يزيد: مجهول (تق:7431، 3152) وقال الهيثمي فى وليد بن عبدالله بن أبى ثور الهمداني الكوفي: ضعفه الجمهور (مجمع الزوائد 279/5)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10159) (ضعیف) (سند میں عباد بن یزید مجہول، اور ولید بن ابی ثور ضعیف اور سدی متکلم فیہ راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَطَبَ إِلَى لِزْقِ جِذْعٍ وَاتَّخَذُوا لَهُ مِنْبَرًا، فَخَطَبَ عَلَيْهِ فَحَنَّ الْجِذْعُ حَنِينَ النَّاقَةِ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَّهُ فَسَكَنَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ، عَنْ أُبَيٍّ، وَجَابِرٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأُمِّ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ أَنَسٍ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے ، پھر لوگوں نے آپ کے لیے ایک منبر تیار کر دیا ، آپ نے اس پر خطبہ دیا تو وہ تنا رونے لگا جیسے اونٹنی روتی ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتر کر اس پر ہاتھ پھیرا تب وہ چپ ہوا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- انس والی حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابی ، جابر ، ابن عمر ، سہل بن سعد ، ابن عباس اور ام سلمہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3627]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ آپ کے نبی ہونے کی دلیلوں میں سے ایک اہم دلیل ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1415)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 194)، و مسند احمد (3/226، 293) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: بِمَ أَعْرِفُ أَنَّكَ نَبِيٌّ؟ قَالَ: " إِنْ دَعَوْتُ هَذَا الْعِذْقَ مِنْ هَذِهِ النَّخْلَةِ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَنْزِلُ مِنَ النَّخْلَةِ حَتَّى سَقَطَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: " ارْجِعْ " , فَعَادَ فَأَسْلَمَ الْأَعْرَابِيُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا : کیسے میں جانوں کہ آپ نبی ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” اگر میں اس کھجور کے درخت کی اس ٹہنی کو بلا لوں تو کیا تم میرے بارے میں اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دو گے ؟ “ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا تو وہ ( ٹہنی ) کھجور کے درخت سے اتر کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گر پڑی ، پھر آپ نے فرمایا : ” لوٹ جا تو وہ واپس چلی گئی یہ دیکھ کر وہ اعرابی اسلام لے آیا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3628]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (5926 / التحقيق الثانى)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3628) إسناده ضعيف ¤ شريك مدلس وعنعن (تقدم: 112) وأخر جه الحاكم من طريق الأعمش عن أبى ظبيان به والأعمش مدلس وعنعن (تقدم:169) وله طريق آخر عند ابن حبان (6489) وسنده ضعيف لعنعة الأعمش
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 5407) (صحیح) (لیکن ”فأسلم الأعرابي“ کالفظ ثابت نہیں ہے، سند میں محمد بن اسماعیل سے مراد امام بخاری ہیں، اور محمد بن سعید بن سلیمان الکوفی ابو جعفر ثقہ ہیں، لیکن شریک بن عبداللہ القاضی ضعیف ہیں، شواہد کی بنا پر حدیث صحیح ہے، فأسلم الأعرابيیعنی اعرابی مسلمان ہو گیا، کا جملہ شاہد نہ ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، الصحیحة 3315)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بُنُ بَشَارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا عَلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدِ بْنُ أَخْطَبَ، قَالَ: " مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى وَجْهِي وَدَعَا لِي "، قَالَ عَزْرَةُ: إِنَّهُ عَاشَ مِائَةً وَعِشْرِينَ سَنَةً وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ إِلَّا شَعَرَاتٌ بِيضٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو زَيْدٍ اسْمُهُ: عَمْرُو بْنُ أَخْطَبَ.
ابوزید بن اخطب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے چہرے پر پھیرا اور میرے لیے دعا فرمائی ، عزرہ کہتے ہیں : وہ ایک سو بیس سال تک پہنچے ہیں پھر بھی ان کے سر کے صرف چند بال سفید ہوئے تھے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- ابوزید کا نام عمرو بن اخطب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3629]
💡 وضاحت:
۱؎: ایسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابوزید کے چہرے پر اپنا دست مبارک پھیرنے اور دعا کی برکت سے ہوا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے کی دلیل ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10697) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: عَرَضْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ: " لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ، فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ، ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ فِي يَدِي، وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَذَهَبْتُ بِهِ إِلَيْهِ , فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ، قَالَ: فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ؟ " , فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " بِطَعَامٍ؟ " , فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ: " قُومُوا "، قَالَ: فَانْطَلَقُوا، فَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ , وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ، قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَهُ حَتَّى دَخَلَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ؟ " , فَأَتَتْهُ بِذَلِكَ الْخُبْزِ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفُتَّ وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ بِعُكَّةٍ لَهَا فَآدَمَتْهُ، ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ قَالَ: " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ " , فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ: " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ " , فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، فَأَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ أَوْ ثَمَانُونَ رَجُلًا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی الله عنہ نے ام سلیم رضی الله عنہما سے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی ، وہ کمزور تھی ، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آپ بھوکے ہیں ، کیا تمہارے پاس کوئی چیز کھانے کی ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ، تو انہوں نے جو کی کچھ روٹیاں نکالیں پھر اپنی اوڑھنی نکالی اور اس کے کچھ حصہ میں روٹیوں کو لپیٹ کر میرے ہاتھ یعنی بغل کے نیچے چھپا دیں اور اوڑھنی کا کچھ حصہ مجھے اڑھا دیا ، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ، جب میں اسے لے کر آپ کے پاس آیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے ملے اور آپ کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے ، تو میں جا کر ان کے پاس کھڑا ہو گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے ؟ “ میں نے عرض کیا : جی ہاں ، آپ نے پوچھا : ” کھانا لے کر ؟ “ میں نے کہا : جی ہاں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام لوگوں سے جو آپ کے ساتھ تھے فرمایا : ” اٹھو چلو “ ، چنانچہ وہ سب چل پڑے اور میں ان کے آگے آگے چلا ، یہاں تک کہ میں ابوطلحہ رضی الله عنہ کے پاس آیا اور انہیں اس کی خبر دی ، ابوطلحہ رضی الله عنہ نے کہا : ام سلیم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں ، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ہیں اور ہمارے پاس کچھ نہیں جو ہم انہیں کھلائیں ، ام سلیم نے کہا : اللہ اور اس کے رسول کو خوب معلوم ہے ، تو ابوطلحہ رضی الله عنہ چلے اور آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ابوطلحہ رضی الله عنہ آپ کے ساتھ تھے ، یہاں تک کہ دونوں اندر آ گئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ام سلیم ! جو تمہارے پاس ہے اسے لے آؤ “ ، چنانچہ وہ وہی روٹیاں لے کر آئیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں توڑنے کا حکم دیا ، چنانچہ وہ توڑی گئیں اور ام سلیم نے اپنے گھی کی کُپّی کو اس پر اوندھا کر دیا اور اسے اس میں چیپڑ دیا ، پھر اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا جو اللہ نے پڑھوانا چاہا ، پھر آپ نے فرمایا : ” دس آدمیوں کو اندر آنے دو “ ، تو انہوں نے انہیں آنے دیا اور وہ کھا کر آسودہ ہو گئے ، پھر وہ نکل گئے ، پھر آپ نے فرمایا : ” دس کو اندر آنے دو “ ، تو انہوں نے انہیں آنے دیا وہ بھی کھا کر خوب آسودہ ہو گئے اور نکل گئے ، اس طرح سارے لوگوں نے خوب شکم سیر ہو کر کھایا اور وہ سب کے سب ستر یا اسی آدمی تھے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3630]
💡 وضاحت:
۱؎: آپ کی دعا کی برکت سے کھانا معجزانہ طور پر اتنا زیادہ ہوا کہ ستر اسی لوگوں نے اس سے شکم سیر ہو کر کھایا، یہ معجزا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے کی ایک اہل دلیل ہے، نیز اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بھوک لگتی تھی، کیونکہ آپ بھی فطرتاً انسان تھے، بعض علماء کا یہ کہنا بالکل یہ درست نہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کھلاتا پلاتا تھا اس لیے آپ کو بھوک نہیں لگتی تھی، کبھی ایسا بھی ہوتا تھا، اور کبھی بھوک بھی لگتی تھی، ورنہ پیٹ پر پتھر کیوں باندھتے، آواز کیوں نحیف ہو جاتی؟
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 43 (422)، والمناقب 25 (3578)، والأطعمة 6 (5381)، والأیمان والنذور 22 (6688)، صحیح مسلم/الأشربة والأطعمة 20 (2040) (تحفة الأشراف: 200)، وط/صفة النبی ﷺ 10 (19) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ , وَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي ذَلِكَ الْإِنَاءِ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ، قَالَ: فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ، فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَجَابِرٍ، وَزِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ، وَحَدِيثُ أَنَسٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، عصر کا وقت ہو گیا تھا ، لوگوں نے وضو کا پانی ڈھونڈھا ، لیکن وہ نہیں پا سکے ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ وضو کا پانی لایا گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا ہاتھ رکھا اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس سے وضو کریں ، وہ کہتے ہیں : تو میں نے آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پانی ابلتے دیکھا ، پھر لوگوں نے وضو کیا یہاں تک کہ ان میں کا جو سب سے آخری شخص تھا اس نے بھی وضو کر لیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- انس کی یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عمران بن حصین ، ابن مسعود ، جابر اور زیاد بن حارث صدائی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3631]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 32 (169)، و45 (195)، و46 (200)، والمناقب 25 (357 2- 3575)، صحیح مسلم/الفضائل 3 (2279)، سنن النسائی/الطھارة 61 (76) (تحفة الأشراف: 201)، وط/الطھارة 6 (32)، و مسند احمد (3/147، 170، 215) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " أَوَّلُ مَا ابْتُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النُّبُوَّةِ حِينَ أَرَادَ اللَّهُ كَرَامَتَهُ وَرَحْمَةَ الْعِبَادِ بِهِ أَنْ لَا يَرَى شَيْئًا إِلَّا جَاءَتْ , مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، فَمَكَثَ عَلَى ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ , وَحُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلْوَةُ , فَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَخْلُوَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ پہلی وہ چیز جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ابتداء ہوئی اور جس وقت اللہ نے اپنے اعزاز سے آپ کو نوازنے اور آپ کے ذریعہ بندوں پر اپنی رحمت و بخشش کا ارادہ کیا وہ یہ تھی کہ آپ جو بھی خواب دیکھتے تھے اس کی تعبیر صبح کے پو پھٹنے کی طرح ظاہر ہو جاتی تھی ۱؎ ، پھر آپ کا حال ایسا ہی رہا جب تک اللہ نے چاہا ، ان دنوں خلوت و تنہائی آپ کو ایسی مرغوب تھی کہ اتنی مرغوب کوئی اور چیز نہ تھی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3632]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جو خواب بھی آپ دیکھتے وہ بالکل واضح طور پر پورا ہو جاتا تھا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ابتدائی حالت تھی، پھر کلامی وحی کا سلسلہ «اقراء باسم ربک» سے شروع ہو گیا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 16612) (حسن صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّكُمْ تَعُدُّونَ الْآيَاتِ عَذَابًا، وَإِنَّا كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرَكَةً، لَقَدْ كُنَّا نَأْكُلُ الطَّعَامَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ، قَالَ: وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهِ , فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَيَّ عَلَى الْوَضُوءِ الْمُبَارَكِ , وَالْبَرَكَةُ مِنَ السَّمَاءِ " حَتَّى تَوَضَّأْنَا كُلُّنَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ تم لوگ اللہ کی نشانیوں کو عذاب سمجھتے ہو اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اسے برکت سمجھتے تھے ، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھاتے تھے اور ہم کھانے کو تسبیح پڑھتے سنتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک برتن لایا گیا اس میں آپ نے اپنا ہاتھ رکھا تو آپ کی انگلیوں کے بیچ سے پانی ابلنے لگا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آؤ اس برکت پانی سے وضو کرو اور یہ بابرکت آسمان سے نازل ہو رہی ہے ، یہاں تک کہ ہم سب نے وضو کر لیا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3633]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المناقب 25 (3579) (تحفة الأشراف: 9454)، وسنن الدارمی/المقدمة 5 (30)، و مسند احمد (1/460) (صحیح)
|
|
|
7: باب مَا جَاءَ كَيْفَ كَانَ يَنْزِلُ الْوَحْىُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر وحی کیسے اترتی تھی؟
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ، وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِيَ الْمَلَكُ رَجُلًا , فَيُكَلِّمُنِي , فَأَعِي مَا يَقُولُ " , قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي الْيَوْمِ ذِي الْبَرْدِ الشَّدِيدِ , فَيَفْصِمُ عَنْهُ , وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ حارث بن ہشام رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : آپ کے پاس وحی کیسے آتی ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کبھی کبھی وہ میرے پاس گھنٹی کی آواز ۱؎ کی طرح آتی ہے اور یہ میرے لیے زیادہ سخت ہوتی ہے ۲؎ اور کبھی کبھی فرشتہ میرے سامنے آدمی کی شکل میں آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے ، تو وہ جو کہتا ہے اسے میں یاد کر لیتا ہوں ، عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں : چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت جاڑے کے دن میں آپ پر وحی اترتے دیکھی جب وہ وحی ختم ہوتی تو آپ کی پیشانی پر پسینہ آیا ہو ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3634]
💡 وضاحت:
۱؎: کہتے ہیں: یہ آواز جبرائیل علیہ السلام کی آواز ہوتی تھی جو ابتداء میں غیر مفہوم ہوتی تھی، پھر سمجھ میں آ جاتی مگر بہت مشکل سے، اسی لیے یہ شکل آپ پر وحی کی تمام قسموں سے سخت ہوتی تھی کہ آپ پسینہ پسینہ ہو جایا کرتے تھے، بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ جبرائیل علیہ السلام کے پروں کی آواز ہوتی تھی، جو اس لیے ہوتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وحی کے لیے چوکنا ہو جائیں۔
۲؎: سب سے سخت ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس کے سمجھنے میں دشواری ہوتی تھی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/بدء الوحی 2 (2)، وبدء الخلق 6 (3215)، صحیح مسلم/الفضائل 23 (2333)، سنن النسائی/الافتتاح 37 (934، 935) (تحفة الأشراف: 17152)، وط/القرآن 4 (7)، و مسند احمد (6/158، 163، 257) (صحیح)
|
|
|
8: باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَهُ شَعْرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ بَعِيدُ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، لَمْ يَكُنْ بِالْقَصِيرِ وَلَا بِالطَّوِيلِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی شخص کو جس کے بال کان کی لو کے نیچے ہوں سرخ جوڑے ۱؎ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا ، آپ کے بال آپ کے دونوں کندھوں سے لگے ہوتے تھے ۲؎ ، اور آپ کے دونوں کندھوں میں کافی فاصلہ ہوتا تھا ۳؎ ، نہ آپ پستہ قد تھے نہ بہت لمبے ۴؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3635]
💡 وضاحت:
۱؎: آپ کے بالوں کی مختلف اوقات میں کئی حالت ہوا کرتی تھی، کبھی آدھے کانوں تک، کبھی کانوں کے لؤوں تک، کبھی آدھی گردن تک، اور کبھی کندھوں کو چھوتے ہوئے۔
۲؎: مردوں کے لال کپڑے پہننے کے سلسلے میں علماء درمیان مختلف روایات کی وجہ سے اختلاف ہے، زیادہ تر لوگ کہتے ہیں کہ آپ کا یہ جوڑا ایسا تھا کہ اس کا تانہ لال رنگ تھا، یہ بالکل خالص لال نہیں تھا، کیونکہ آپ نے خود خالص لال سے مردوں کے لیے منع کیا ہے، (دیکھئیے کتاب اللباس میں مردوں کے لیے لال کپڑے پہننے کا باب)۔ ۳؎: یعنی آپ کے کندھے کافی چوڑے تھے۔ ۴؎: ناٹا اور لمبا ہونا دونوں معیوب صفتیں ہیں، آپ درمیانی قد کے تھے، عیب سے مبرا، ماشاء اللہ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح ومضى (1794)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 1724 (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ الْبَرَاءَ: أَكَانَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ السَّيْفِ، قَالَ: " لَا مِثْلَ الْقَمَرِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابواسحاق کہتے ہیں کہ ایک شخص نے براء سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک تلوار کی طرح تھا ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، بلکہ چاند کی مانند تھا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3636]
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر الشمائل (9)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المناقب 23 (3552) (تحفة الأشراف: 1839) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ لمبے تھے نہ پستہ قد ، آپ کی ہتھیلیاں اور پاؤں گوشت سے پُر تھے ، آپ بڑے سر اور موٹے جوڑوں والے تھے ، ( یعنی گھٹنے اور کہنیاں گوشت سے پُر اور فربہ تھیں ) ، سینہ سے ناف تک باریک بال تھے ، جب چلتے تو آگے جھکے ہوئے ہوتے گویا آپ اوپر سے نیچے اتر رہے ہیں ، میں نے نہ آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد کسی کو آپ جیسا دیکھا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3637]
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر الشمائل (40)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ہم سے سفیان بن وکیع نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے میرے باپ وکیع نے بیان کیا اور انہوں نے مسعودی سے اسی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3637M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر الشمائل (40)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي حَلِيمَةَ مِنْ قَصْرِ الْأَحْنَفِ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى غُفْرَةَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ مِنْ وَلَدِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا وَصَفَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَمْ يَكُنْ بِالطَّوِيلِ الْمُمَّغِطِ وَلَا بِالْقَصِيرِ الْمُتَرَدِّدِ، وَكَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ، وَلَمْ يَكُنْ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبِطِ، كَانَ جَعْدًا رَجِلًا وَلَمْ يَكُنْ بِالْمُطَهَّمِ وَلَا بِالْمُكَلْثَمِ، وَكَانَ فِي الْوَجْهِ تَدْوِيرٌ أَبْيَضُ مُشْرَبٌ، أَدْعَجُ الْعَيْنَيْنِ أَهْدَبُ الْأَشْفَارِ، جَلِيلُ الْمُشَاشِ وَالْكَتَدِ أَجْرَدُ ذُو مَسْرُبَةٍ، شَثْنُ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ، إِذَا مَشَى تَقَلَّعَ كَأَنَّمَا يَمْشِي فِي صَبَبٍ، وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ مَعًا بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ، وَهُوَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، أَجْوَدُ النَّاسِ كَفَّا، وَأَشْرَحُهُمْ صَدْرًا، وَأَصْدَقُ النَّاسِ لَهْجَةً، وَأَلْيَنُهُمْ عَرِيكَةً، وَأَكْرَمُهُمْ عِشْرَةً، مَنْ رَآهُ بَدِيهَةً هَابَهُ، وَمَنْ خَالَطَهُ مَعْرِفَةً أَحَبَّهُ، يَقُولُ نَاعِتُهُ: لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ، قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: سَمِعْتُ الْأَصْمَعِيَّ يَقُولُ فِي تَفْسِيرِهِ صِفَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُمَّغِطُ الذَّاهِبُ طُولًا، وَسَمِعْتُ أَعْرَابِيًّا يَقُولُ: تَمَغَّطَ فِي نُشَّابَةٍ أَيْ مَدَّهَا مَدًّا شَدِيدًا، وَأَمَّا الْمُتَرَدِّدُ: فَالدَّاخِلُ بَعْضُهُ فِي بَعْضٍ قِصَرًا، وَأَمَّا الْقَطَطُ فَالشَّدِيدُ الْجُعُودَةِ , وَالرَّجِلُ الَّذِي فِي شَعْرِهِ حُجُونَةٌ أَيْ يَنْحَنِي قَلِيلًا، وَأَمَّا الْمُطَهَّمُ فَالْبَادِنُ الْكَثِيرُ اللَّحْمِ، وَأَمَّا الْمُكَلْثَمُ فَالْمُدَوَّرُ الْوَجْهِ، وَأَمَّا الْمُشْرَبُ فَهُوَ الَّذِي فِي نَاصِيَتِهِ حُمْرَةٌ، وَالْأَدْعَجُ الشَّدِيدُ سَوَادِ الْعَيْنِ، وَالْأَهْدَبُ الطَّوِيلُ الْأَشْفَارِ، وَالْكَتَدُ مُجْتَمَعُ الْكَتِفَيْنِ وَهُوَ الْكَاهِلُ، وَالْمَسْرُبَةُ هُوَ الشَّعْرُ الدَّقِيقُ الَّذِي هُوَ كَأَنَّهُ قَضِيبٌ مِنَ الصَّدْرِ إِلَى السُّرَّةِ، وَالشَّثْنُ الْغَلِيظُ الْأَصَابِعِ مِنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ، وَالتَّقَلُّعُ أَنْ يَمْشِيَ بِقُوَّةٍ، وَالصَّبَبُ الْحُدُورُ، يَقُولُ: انْحَدَرْنَا فِي صَبُوبٍ وَصَبَبٍ وَقَوْلُهُ: جَلِيلُ الْمُشَاشِ يُرِيدُ رُءُوسَ الْمَنَاكِبِ، وَالْعِشْرَةُ الصُّحْبَةُ، وَالْعَشِيرُ الصَّاحِبُ، وَالْبَدِيهَةُ الْمُفَاجَأَةُ يُقَالُ بَدَهْتُهُ بِأَمْرٍ أَيْ فَجَأْتُهُ.
ابراہیم بن محمد جو علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کی اولاد میں سے ہیں ان سے روایت ہے کہ علی رضی الله عنہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کرتے تو کہتے : نہ آپ بہت لمبے تھے نہ بہت پستہ قد ، بلکہ لوگوں میں درمیانی قد کے تھے ، آپ کے بال نہ بہت گھونگھریالے تھے نہ بالکل سیدھے ، بلکہ ان دونوں کے بیچ میں تھے ، نہ آپ بہت موٹے تھے اور نہ چہرہ بالکل گول تھا ، ہاں اس میں کچھ گولائی ضرور تھی ، آپ گورے سفید سرخی مائل ، سیاہ چشم ، لمبی پلکوں والے ، بڑے جوڑوں والے اور بڑے شانہ والے تھے ، آپ کے جسم پر زیادہ بال نہیں تھے ، صرف بالوں کا ایک خط سینہ سے ناف تک کھنچا ہوا تھا ، دونوں ہتھیلیاں اور دونوں قدم گوشت سے پُر تھے جب چلتے زمین پر پیر جما کر چلتے ، پلٹتے تو پورے بدن کے ساتھ پلٹتے ، آپ کے دونوں شانوں کے بیچ میں مہر نبوت تھی ، آپ خاتم النبیین تھے ، لوگوں میں آپ سب سے زیادہ سخی تھے ، آپ کھلے دل کے تھے ، یعنی آپ کا سینہ بغض و حسد سے آئینہ کے مانند پاک و صاف ہوتا تھا ، اور سب سے زیادہ سچ بولنے والے ، نرم مزاج اور سب سے بہتر رہن سہن والے تھے ، جو آپ کو یکایک دیکھتا ڈر جاتا اور جو آپ کو جان اور سمجھ کر آپ سے گھل مل جاتا وہ آپ سے محبت کرنے لگتا ، آپ کی توصیف کرنے والا کہتا : نہ آپ سے پہلے میں نے کسی کو آپ جیسا دیکھا ہے اور نہ آپ کے بعد ۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، اس کی سند متصل نہیں ہے ، ¤ ۲- ( نسائی کے شیخ ) ابو جعفر کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کی تفسیر میں اصمعی کو کہتے ہوئے سنا کہ «الممغط» کے معنی لمبائی میں جانے والے کے ہیں ، میں نے ایک اعرابی کو سنا وہ کہہ رہا تھا «تمغط فی نشابة» یعنی اس نے اپنا تیر بہت زیادہ کھینچا اور «متردد» ایسا شخص ہے جس کا بدن ٹھنگنے پن کی وجہ سے بعض بعض میں گھسا ہوا ہو اور «قطط» سخت گھونگھریالے بال کو کہتے ہیں ، اور «رَجِل» اس آدمی کو کہتے ہیں جس کے بالوں میں تھوڑی خمید گی ہو اور «مطہم» ایسے جسم والے کو کہتے ہیں جو موٹا اور زیادہ گوشت والا ہو اور «مکلثم» جس کا چہرہ گول ہو اور «مشدب» وہ شخص ہے جس کی پیشانی میں سرخی ہو اور «ادعج» وہ شخص ہے جس کے آنکھوں کی سیاہی خوب کالی ہو اور «اہدب» وہ ہے جس کی پلکیں لمبی ہوں اور «کتد» دونوں شانوں کے ملنے کی جگہ کو کہتے ہیں اور «مسربة» وہ باریک بال ہیں جو ایک خط کی طرح سینہ سے ناف تک چلے گئے ہوں اور «شثن» وہ شخص ہے جس کے ہتھیلیوں اور پیروں کی انگلیاں موٹی ہوں ، اور «تقلع» سے مراد پیر جما جما کر طاقت سے چلنا ہے اور «صبب» اترنے کے معنی میں ہے ، عرب کہتے ہیں «انحدر نافی صبوب وصبب» یعنی ہم بلندی سے اترے «جلیل المشاش» سے مراد شانوں کے سرے ہیں ، یعنی آپ بلند شانہ والے تھے ، اور «عشرة» سے مراد رہن سہن ہے اور «عشیرہ» کے معنیٰ رہن سہن والے کے ہیں اور «بدیھة» کے معنی یکایک اور یکبارگی کے ہیں ، عرب کہتے ہیں «بَدَهْتُهُ بِأَمْرٍ» میں ایک معاملہ کو لے کر اس کے پاس اچانک آیا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3638]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف مختصر الشمائل (5)، المشكاة (5791)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3638) إسناده ضعيف ¤ عمر بن عبدالله: ضعيف (تق: 4934) و إبراهيم لم يدرك علياً (تحفة الأشرف 347/7)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10024) (ضعیف) (سند میں ابراہیم بن محمد اور علی رضی الله عنہ کے درمیان انقطاع ہے، ابراہیم کی ملاقات علی رضی الله عنہ سے نہیں ہوئی)
|
|
|
9: باب فِي كَلاَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی گفتگو کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْرُدُ سَرْدَكُمْ هَذَا وَلَكِنَّهُ كَانَ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ بَيْنَهُ فَصْلٌ يَحْفَظُهُ مَنْ جَلَسَ إِلَيْهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، وَقَدْ رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری طرح جلدی جلدی نہیں بولتے تھے بلکہ آپ ایسی گفتگو کرتے جس میں ٹھہراؤ ہوتا تھا ، جو آپ کے پاس بیٹھا ہوتا وہ اسے یاد کر لیتا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ہم اسے صرف زہری کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- اسے یونس بن یزید نے بھی زہری سے روایت کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3639]
قال الشيخ الألباني:
حسن المختصر (191)، المشكاة (5828)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأدب 21 (4839) (نحوہ) سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة 139 (412) (تحفة الأشراف: 16406)، و مسند احمد (6/118، 138) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعِيدُ الْكَلِمَةَ ثَلَاثًا لِتُعْقَلَ عَنْهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( بسا اوقات ) ایک کلمہ تین بار دہراتے تھے تاکہ اسے ( اچھی طرح ) سمجھ لیا جائے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ہم اسے صرف عبداللہ بن مثنیٰ کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3640]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح وقد مضى نحوه (2879)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 2723 (حسن صحیح)
|
|
|
10: باب فِي بَشَاشَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی خوش روئی اور مسکراہٹ کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ تَبَسُّمًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.
عبداللہ بن حارث بن جزء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر مسکرانے والا میں نے کسی کو نہیں دیکھا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3641]
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر الشمائل (194)، المشكاة (5829 / التحقيق الثانى)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3641) إسناده ضعيف ¤ عبدالله بن لهيعة حدث به قبل اختلاطه ولكنه مدلس و عنعن (تقدم:10) فالسند ضعيف والحديث الآتني (الآصل:3642) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 5234) (صحیح) (تراجع الألبانی 602)
|
|
|
وَقَدْ رُوِيَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ، مِثْلُ هَذَا. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاق السَّيْلَحِينِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ، قَالَ: " مَا كَانَ ضَحِكُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا تَبَسُّمًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
عبداللہ بن حارث بن جزء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہنسی صرف مسکراہٹ ہوتی تھی ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث صحیح غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے لیث بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3642]
💡 وضاحت:
۱؎: اس لیے کہ قہقہہ معزز آدمی کے وقار کے خلاف ہے، اور آپ سے بڑھ کر معزز کون ہو گا؟۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر الشمائل (195)، المشكاة أيضا
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
11: باب فِي خَاتَمِ النُّبُوَّةِ
باب: مہر نبوت کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ الْجَعْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَال: سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ يَقُولُ: ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ فَمَسَحَ بِرَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ، وَتَوَضَّأَ فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ فَقُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَنَظَرْتُ إِلَى الْخَاتَمِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَإِذَا هُوَ مِثْلُ زِرِّ الْحَجَلَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: الزِّرُّ يُقَالُ بَيْضٌ لَهَا، وَفِي الْبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ , وَقُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ الْمُزَنِيِّ , وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، وَأَبِي رِمْثَةَ، وَبُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، وَعَمْرِو بْنِ أَخْطَبَ، وَأَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.
سائب بن یزید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری خالہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر گئیں ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرا بھانجہ بیمار ہے ، تو آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی ، آپ نے وضو کیا تو میں نے آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی پی لیا ، پھر میں آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا ، اور میں نے آپ کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی وہ چھپر کھٹ ( کے پردے ) کی گھنڈی کی طرح تھی ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ کبوتر کے انڈے کو «زر» کہا جاتا ہے ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں سلمان ، قرہ بن ایاس مزنی ، جابر بن سمرہ ، ابورمثہ ، بریدہ اسلمی ، عبداللہ بن سرجس ، عمرو بن اخطب اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3643]
💡 وضاحت:
۱؎: پردوں اور جھالروں کے کنارے گول مٹول گھنڈی ہوا کرتے ہیں، ان کو دوسرے کپڑے کے کناروں میں جوڑتے ہیں، یہی یہاں مراد ہے۔
۲؎: بعض علماء لغت نے «زر الحجلۃ» کی تفسیر ایک معروف پرندہ چکور کے انڈہ سے کیا ہے، وہی مؤلف بھی کہہ رہے ہیں، مگر جمہور اہل لغت نے اس کا انکار کیا ہے اس لفظ کہ «زر الحجلۃ» سے حجلہ عروسی کی چاروں کی گھنڈی ہی مراد ہے، ویسے مہر نبوت کے بارے میں اگلی حدیث میں کبوتری کے انڈے کی مثال بھی آئی ہے، دونوں تشبیہات میں کوئی تضاد نہیں ہے، ایک چیز کئی چیزوں کے مثل ہو سکتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر الشمائل (14)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 40 (190)، والمناقب 22 (3540، 3541)، والمرضی 18 (5670)، والدعوات 31 (6352)، صحیح مسلم/الفضائل 30 (2345) (تحفة الأشراف: 3794) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: " كَانَ خَاتَمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ غُدَّةً حَمْرَاءَ مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت یعنی جو آپ کے دونوں شانوں کے درمیان تھی کبوتر کے انڈے کے مانند سرخ رنگ کی ایک گلٹی تھی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3644]
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر الشمائل (15)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3644) سنده ضعيف / شمائل الترمذي: 17 ¤ فيه أيوب بن جابر ضعيف (د 247) والحديث صحيح دون قوله: ”غدة حمراء“ انظر صحيح مسلم (2344)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2142) (صحیح)
|
|
|
12: باب فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ هُوَ ابْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: " كَانَ فِي سَاقَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمُوشَةٌ وَكَانَ لَا يَضْحَكُ إِلَّا تَبَسُّمًا، وَكُنْتُ إِذَا نَظَرْتُ إِلَيْهِ قُلْتُ أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ وَلَيْسَ بِأَكْحَلَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ هَذَا الْوَجْهِ.
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں پنڈلیاں مناسب باریکی ۱؎ لیے ہوئے تھیں اور آپ کا ہنسنا صرف مسکرانا تھا ، اور جب میں آپ کو دیکھتا تو کہتا کہ آپ آنکھوں میں سرمہ لگائے ہوئے ہیں ، حالانکہ آپ سرمہ نہیں لگائے ہوتے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3645]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آپ کی پنڈلیاں اتنی بھی باریک نہیں تھیں کہ جسم کے دوسرے اعضاء سے بے جوڑ ہو گئی ہوں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف المصدر نفسه // مختصر الشمائل (193)، ضعيف الجامع الصغير (4474) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3645) إسناده ضعيف ¤ حجاج بن أرطاة: ضعيف مدلس و عنعن (تقدم: 527) وللحديث شواهد غير ”حموشه“
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2144) (ضعیف) (سند میں حجاج بن ارطاة کثیر الخطا والتدلیس راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ مَنْهُوشَ الْعَقِبِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا منہ مبارک کشادہ تھا ، آپ کی آنکھ کے ڈورے سرخ تھے اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3646]
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الفضائل 27 (2339) (تحفة الأشراف: 2183) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ مَنْهُوشَ الْعَقِبِ ". قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لِسِمَاكٍ: مَا ضَلِيعُ الْفَمِ؟ قَالَ: وَاسِعُ الْفَمِ، قُلْتُ: مَا أَشْكَلُ الْعَيْنَيْنِ؟ قَالَ: طَوِيلُ شَقِّ الْعَيْنِ، قَالَ: قُلْتُ: مَا مَنْهُوشُ الْعَقِبِ؟ قَالَ: قَلِيلُ اللَّحْمِ؟. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کشادہ منہ والے تھے ، آپ کی آنکھ کے ڈورے سرخ اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں ۔ شعبہ کہتے ہیں : میں نے سماک سے پوچھا : «ضليع الفم» کے کیا معنی ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : اس کے معنی کشادہ منہ کے ہیں ، میں نے پوچھا «أشكل العينين» کے کیا معنی ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : اس کے معنی بڑی آنکھ والے کے ہیں ، وہ کہتے ہیں : میں نے پوچھا : «منهوش العقب» کے کیا معنی ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : کم گوشت کے ہیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3647]
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر الشمائل (7)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنَّ الشَّمْسَ تَجْرِي فِي وَجْهِهِ، وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَسْرَعَ فِي مِشْيَتِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنَّمَا الْأَرْضُ تُطْوَى لَهُ، إِنَّا لَنُجْهِدُ أَنْفُسَنَا وَإِنَّهُ لَغَيْرُ مُكْتَرِثٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا ، گویا آپ کے چہرہ پر سورج پھر رہا ہے ، اور نہ میں نے کسی کو آپ سے زیادہ تیز رفتار دیکھا ، گویا زمین آپ کے لیے لپیٹ دی جاتی تھی ، ہمیں آپ کے ساتھ چلنے میں زحمت اٹھانی پڑتی تھی اور آپ کوئی دقت محسوس کئے بغیر چلے جاتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3648]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف المصدر نفسه // مختصر الشمائل //
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 15471) (ضعیف) (سند میں ابن لھیعہ ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عُرِضَ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ فَإِذَا مُوسَى ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُكُمْ يَعْنِي نَفْسَهُ، وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا دِحْيَةُ هُوَ ابْنُ خَلِيفَةَ الْكَلْبِيُّ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انبیاء میرے سامنے پیش کئے گئے تو موسیٰ علیہ السلام ایک چھریرے جوان تھے ، گویا وہ قبیلہ شنوءہ کے ایک فرد ہیں اور میں نے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو دیکھا تو میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والے عروہ بن مسعود رضی الله عنہ ہیں اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو ان سے زیادہ مشابہت رکھنے والا تمہارا یہ ساتھی ہے ۱؎ ، اور اس سے مراد آپ خود اپنی ذات کو لیتے تھے ، اور میں نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا تو جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والے دحیہ کلبی ہیں ، یہ خلیفہ کلبی کے بیٹے ہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3649]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، اس میں آپ کے حلیہ کا بیان اس طرح ہے کہ آپ شکل و صورت سے ابراہیم علیہ السلام سے مشابہ ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (1100)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإیمان 74 (167) (تحفة الأشراف: 2920) (صحیح)
|
|
|
13: باب فِي سِنِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمْ كَانَ حِينَ مَاتَ
باب: وفات کے وقت نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی عمر کتنی تھی؟
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ , قَالَا: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمَّارٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ ( ۶۵ ) سال کے تھے ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3650]
💡 وضاحت:
۱؎: دیکھئیے حاشیہ حدیث رقم: ۳۶۳۱۔
قال الشيخ الألباني:
شاذ ومضى (3701) // (746 / 3883) //
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الفضائل 33 (2353) (تحفة الأشراف: 6294) (شاذ) (سند صحیح ہے، لیکن ابن عباس رضی الله عنہما کو اس بابت وہم ہو گیا تھا، وفات کے وقت صحیح عمر 63سال ہے، دیکھیے ابن عباس ہی کا بیان حدیث رقم 3652 میں)
|
|
|
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، حَدَّثَنَا عَمَّارٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنُ الْإِسْنَادِ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ ( ۶۵ ) سال کے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3651]
قال الشيخ الألباني:
شاذ انظر ما قبله (3650)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (شاذ)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " مَكَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً، يَعْنِي يُوحَى إِلَيْهِ، وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأَنَسٍ، وَدَغْفَلِ بْنِ حَنْظَلَةَ، وَلَا يَصِحُّ لِدَغْفَلٍ سَمَاعٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا رُؤْيَةٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَسَنٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ ( ۱۳ ) سال رہے یعنی آپ پر تیرہ سال تک وحی کی جاتی رہی اور آپ کی وفات ترسٹھ ( ۶۳ ) سال کی عمر میں ہوئی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی یہ حدیث عمرو بن دینار کی روایت سے حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عائشہ ، انس اور دغفل بن حنظلہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- اور دغفل کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ تو سماع صحیح ہے اور نہ ہی رؤیت ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3652]
قال الشيخ الألباني:
صحيح ومضى (3882)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/مناقب الأنصار 45 (3903)، صحیح مسلم/الفضائل 33 (3351) (تحفة الأشراف: 6300) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَخْطُبُ يَقُولُ: " مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ وَأَنَا ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی الله عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ سال کے تھے اور ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما بھی ترسٹھ سال کے تھے اور میں بھی ( اس وقت ) ترسٹھ سال کا ہوں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3653]
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر الشمائل (318)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الفضائل 33 (2353) (تحفة الأشراف: 11402) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَقَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ فِي حَدِيثِهِ: ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَ هَذَا.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ سال کے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اور اسے زہری کے بھتیجے ( محمد بن عبداللہ بن مسلم ) نے بھی زہری سے اور زہری نے عروہ کے واسطہ سے عائشہ سے اسی کے مثل روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3654]
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر الشمائل (319)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المناقب 19 (3536)، والمغازي 85 (4466)، صحیح مسلم/الفضائل 33 (2350) (تحفة الأشراف: 16532) (صحیح)
|
|
|
14: باب مَنَاقِبِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رضى الله عنه
باب: ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خِلِّهِ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ خَلِيلًا، وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں ہر خلیل کی «خلت» ( دوستی ) سے بری ہوں اور اگر میں کسی کو خلیل ( دوست ) بناتا تو ابن ابی قحافہ کو ، یعنی ابوبکر رضی الله عنہ کو خلیل بناتا ، اور تمہارا یہ ساتھی اللہ کا خلیل ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابو سعید خدری ، ابوہریرہ ، ابن زبیر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3655]
💡 وضاحت:
۱؎: «خُلّت» دوستی کی ایک خاص حالت ہے جس کے معنی ہیں دوست کی دوستی کا دل میں رچ بس جانا، یہ ”محبت“ سے اعلی و ارفع حالت ہے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم یا ابراہیم علیہ السلام نے یہ مقام صرف اللہ تعالیٰ کو دیا ہے، رہی محبت کی بات تو آپ کو سارے صحابہ، صدیقین و صالحین سے محبت ہے، اور صحابہ میں ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کا مقام سب سے افضل ہے، حتیٰ کہ ممکن ہوتا تو آپ ابوبکر کو ”خلیل“ بنا لیتے، یہ بات ابوبکر رضی الله عنہ کی ایک بہت بڑی فضیلت پر دلالت کر رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/فضائل الصحابة 1 (2383)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (93) (تحفة الأشراف: 9513)، و مسند احمد (1/377، 389، 395) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: " أَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا وَخَيْرُنَا وَأَحَبُّنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر ہمارے سردار ہیں اور ہم میں سب سے بہتر ہیں اور وہ ہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3656]
قال الشيخ الألباني:
حسن، المشكاة (6018)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف بهذا الاختصار وهو في سياق طويل في حديث ثقيفة بني ساعدة وبيعة أبي بكر في البخاري (فضائل الصحابة 5 برقم: 3667، 3668) (تحفة الأشراف: 10678) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَيُّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ؟ قَالَتْ: أَبُو بَكْرٍ، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَتْ: عُمَرُ، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَتْ: ثُمَّ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: فَسَكَتَتْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا : صحابہ میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ کون محبوب تھے ؟ انہوں نے کہا : ابوبکر ، میں نے پوچھا : پھر کون ؟ انہوں نے کہا : عمر ، میں نے پوچھا : پھر کون ؟ کہا : پھر ابوعبیدہ بن جراح ، میں نے پوچھا : پھر کون ؟ تو وہ خاموش رہیں ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3657]
💡 وضاحت:
۱؎: صحابہ کے فضائل و مناقب کے مختلف اسباب ہیں، منجملہ سبب تو سب کا صحابی رسول ہونا ہے، اور الگ سبب یہ ہے کہ کسی کی فضیلت اسلام میں تقدم کی وجہ سے ہے، کسی کی اللہ و رسول سے ازحد فدائیت کی وجہ سے ہے، اور کسی سے کسی بات میں بڑھے ہونے کی وجہ سے ہے، اور کسی کی فضیلت دوسرے کی فضیلت کے منافی نہیں ہے، اور اس حدیث میں جو عثمان و علی رضی الله عنہما کا تذکرہ نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عمر رضی الله عنہ کے بعد ان دونوں کا مقام نہیں بلکہ ابوعبیدہ رضی الله عنہ کا ہے، مگر احادیث میں یہ ترتیب ثابت ہے، کہ ابوبکر کے بعد عمر ان کے بعد عثمان اور ان کے بعد علی، پھر ان کے بعد عشرہ مبشرہ، پھر عام صحابہ کا مقام ہے رضی الله عنہم اجمعین۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (102) (تحفة الأشراف: 16212) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے حدیث نمبر (3758، نیز 3667)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، وَالْأَعْمَشِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَهْبَانَ، وَابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَكَثِيرٍ النَّوَّاءِ كُلِّهِمْ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى لَيَرَاهُمْ مَنْ تَحْتَهُمْ كَمَا تَرَوْنَ النَّجْمَ الطَّالِعَ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ , وَعُمَرَ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلند درجات والوں کو ( جنت میں ) جو ان کے نیچے ہوں گے ، ایسے ہی دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے افق پر طلوع ہونے والے ستارے کو دیکھتے ہو اور ابوبکر و عمر رضی الله عنہما دونوں انہیں میں سے ہوں گے اور کیا ہی خوب ہیں دونوں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ، یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی عطیہ کے واسطہ سے ابو سعید خدری سے آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3658]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (96)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3658) إسناده ضعيف / د 3987، جه 96
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (96) (تحفة الأشراف: 4202، و4206، و4212، و4233، 4237) (صحیح)
|
|
|
15: باب
باب: فضائل ابوبکر رضی الله عنہ پر ایک اور باب
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي الْمُعَلَّى، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا , فَقَالَ: " إِنَّ رَجُلًا خَيَّرَهُ رَبُّهُ بَيْنَ أَنْ يَعِيشَ فِي الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَعِيشَ , وَيَأْكُلَ فِي الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَأْكُلَ , وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ "، قَالَ: فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا تَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا الشَّيْخِ، إِذْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا صَالِحًا خَيَّرَهُ رَبُّهُ بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ , فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ قَالَ: فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَهُمْ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: بَلْ نَفْدِيكَ بِآبَائِنَا وَأَمْوَالِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَمَنَّ إِلَيْنَا فِي صُحْبَتِهِ وَذَاتِ يَدِهِ مِنَ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ خَلِيلًا، وَلَكِنْ وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ، وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا , وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ ". وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ بِإِسْنَادٍ غَيْرِ هَذَا، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: أَمَنَّ إِلَيْنَا يَعْنِي أَمَنَّ عَلَيْنَا.
ابومعلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ دیا تو فرمایا : ” ایک شخص کو اس کے رب نے اختیار دیا کہ وہ دینا میں جتنا رہنا چاہے رہے اور جتنا کھانا چاہے کھا لے یا اپنے رب سے ملنے کو ( ترجیح دے ) تو اس نے اپنے رب سے ملنے کو پسند کیا ، وہ کہتے ہیں : یہ سن کر ابوبکر رضی الله عنہ رو پڑے ، تو صحابہ نے کہا : کیا تمہیں اس بوڑھے کے رونے پر تعجب نہیں ہوتا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نیک بندے کا ذکر کیا کہ اس کے رب نے دو باتوں میں سے ایک کا اسے اختیار دیا کہ وہ دنیا میں رہے یا اپنے رب سے ملے ، تو اس نے اپنے رب سے ملاقات کو پسند کیا ۔ ابوبکر رضی الله عنہ ان میں سب سے زیادہ ان باتوں کو جاننے والے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر ) ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا : بلکہ ہم اپنے باپ دادا ، اپنے مال سب کو آپ پر قربان کر دیں گے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی آدمی ایسا نہیں جو ابن ابی قحافہ سے بڑھ کر میرا حق صحبت ادا کرنے والا ہو اور میرے اوپر اپنا مال خرچ کرنے والا ہو ، اگر میں کسی کو خلیل ( گہرا دوست ) بناتا تو ابن ابی قحافہ کو دوست بناتا ، لیکن ( ہمارے اور ان کے درمیان ) ایمان کی دوستی موجود ہے “ ۔ یہ کلمہ آپ نے دو یا تین بار فرمایا ، پھر فرمایا : ” تمہارا یہ ساتھی ( یعنی خود ) اللہ کا خلیل ( دوست ) ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس باب میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت آئی ہے اور یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث ابو عوانہ کے واسطہ سے عبدالملک بن عمیر سے ایک دوسری سند سے بھی آئی ہے ، اور «أمن إلينا» میں «إلى» ، «على» کے معنی میں ہے ، یعنی مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3659]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3659) إسناده ضعيف ¤ عبد الملك بن عمير عنعن (وهو مدلس انظر طبقات المدلسين 3/84) وشيخه ”لم يسم ولا يعرف“ (تق:8488)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 12176) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابن ابی المعلی انصاری کے بارے میں حافظ ابن حجر کہتے ہیں: لا يعرف یعنی غیر معروف اور مجہول راوی ہے، اس لیے یہ سند ضعیف ہے، امام ترمذی نے اس کی تحسین ابو سعید خدری کی حدیث کی وجہ سے کی ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ أَبِي النَّضْرِ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ: " إِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ , فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ " , فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَدَيْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا , قَالَ: فَعَجِبْنَا , فَقَالَ النَّاسُ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا الشَّيْخِ يُخْبِرُ رَسُولُ اللَّهِ عَنْ عَبْدٍ خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ وَبَيْنَ مَا عِنْدَ اللَّهِ , وَهُوَ يَقُولُ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا , قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ هُوَ الْمُخَيَّرُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ هُوَ أَعْلَمَنَا بِهِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْ أَمَنِّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ , وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا , وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ لَا تُبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِلَّا خَوْخَةُ أَبِي بَكْرٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا : ” ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ وہ دنیا کی رنگینی کو پسند کرے یا ان چیزوں کو جو اللہ کے پاس ہیں “ ، تو اس نے ان چیزوں کو اختیار کیا جو اللہ کے پاس ہیں ، اسے سنا تو ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم نے اپنے باپ دادا اور اپنی ماؤں کو آپ پر قربان کیا ۱؎ ہمیں تعجب ہوا ، لوگوں نے کہا : اس بوڑھے کو دیکھو ! اللہ کے رسول ایک ایسے بندے کے بارے میں خبر دے رہے ہیں جسے اللہ نے یہ اختیار دیا کہ وہ یا تو دنیا کی رنگینی کو اپنا لے یا اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسے اپنا لے ، اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد اور ماؤں کو آپ پر قربان کیا ، جس بندے کو اللہ نے اختیار دیا وہ خود اللہ کے رسول تھے ، اور ابوبکر رضی الله عنہ اسے ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے ، ابوبکر رضی الله عنہ کی بات سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے بڑھ کر میرا حق صحبت ادا کرنے والے اور سب سے زیادہ میرے اوپر اپنا مال خرچ کرنے والے ابوبکر ہیں ، اگر میں کسی کو خلیل ( گہرا دوست ) بناتا ، تو ابوبکر کو بناتا لیکن اسلام کی اخوت ہی کافی ہے اور مسجد میں ( یعنی مسجد کی طرف ) کوئی کھڑکی باقی نہ رہے سوائے ابوبکر کی کھڑکی کے ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3660]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: ہمارے ماں باپ کی عمریں آپ کو مل جائیں تاکہ آپ کا سایہ ہم پر تادیر اور مزید قائم رہے۔
۲؎: یہ ابوبکر رضی الله عنہ کی تمام صحابہ پر فضیلت کی دلیل ہے۔ مسجد نبوی میں یہ دروازہ آج بھی موجود ہے، محراب کی دائیں جانب پہلا دروازہ باب السلام ہے اور اور دوسرا خوخۃ ابی بکر رضی الله عنہ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 80 (466)، وفضائل الصحابة 3 (3654)، ومناقب الأنصار 45 (3904)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 1 (2382) (تحفة الأشراف: 4145) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُحْرِزٍ الْقَوَارِيرِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ الْأَوْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا لِأَحَدٍ عِنْدَنَا يَدٌ إِلَّا وَقَدْ كَافَيْنَاهُ مَا خَلَا أَبَا بَكْرٍ، فَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا يَدًا يُكَافِيهِ اللَّهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ , وَمَا نَفَعَنِي مَالُ أَحَدٍ قَطُّ مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ , وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا أَلَا وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی کا ہمارے اوپر کوئی ایسا احسان نہیں جسے میں نے چکا نہ دیا ہو سوائے ابوبکر کے ، کیونکہ ان کا ہمارے اوپر اتنا بڑا احسان ہے کہ جس کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن انہیں اللہ ہی دے گا ، کسی کے مال سے کبھی بھی مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچا جتنا مجھے ابوبکر کے مال نے پہنچایا ہے ، اگر میں کسی کو خلیل ( گہرا دوست ) بنانے والا ہوتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا ، سن لو تمہارا یہ ساتھی ( یعنی خود ) اللہ کا خلیل ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3661]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (94)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3661) إسناده ضعيف / جه 94 ¤ داود بن يزيد: ضعيف (تقدم:1335) وله طريق آخر عند ابن ماجه (94) وفيه الأعمش مدلس وعنعن (تقدم:169)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 14849) (ضعیف) (سند میں ”داود الأودی“ اور ”محبوب“ ضعیف ہیں، اس لیے پہلا فقرہ يوم القيامة تک ضعیف ہے، مگر حدیث کا دوسرا اور تیسرا فقرہ شواہد و متابعات کی بنا پر صحیح ہے)
|
|
|
16: باب فِي مَنَاقِبِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رضى الله عنهما كِلَيْهِمَا
باب: ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے مناقب و فضائل کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , وَغَيْرُ وَاحِدٍ , قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ نَحْوَهُ، وَكَانَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ يُدَلِّسُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، فَرُبَّمَا ذَكَرَهُ عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، وَرُبَّمَا لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ زَائِدَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ابْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مَوْلًى لِرِبْعِيٍّ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ هِلَالٍ مَوْلَى رِبْعِيٍّ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ أَيْضًا، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ سَالِمٌ الْأَنْعُمِيُّ كُوفِيٌّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ.
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اقتداء کرو ان دونوں کی جو میرے بعد ہوں گے ، یعنی ابوبکر و عمر کی “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن مسعود سے بھی روایت ہے ، ¤ ۳- سفیان ثوری نے یہ حدیث عبدالملک بن عمیر سے اور عبدالملک بن عمیر نے ربعی کے آزاد کردہ غلام کے واسطہ سے ربعی سے اور ربعی نے حذیفہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3662]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یکے بعد دیگرے ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما دونوں کی خلافت کی طرف اشارہ ہے اور یہ دونوں کے لیے فضیلت کی بات ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (97)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , وَغَيْرُ وَاحِدٍ , قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ نَحْوَهُ، وَكَانَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ يُدَلِّسُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، فَرُبَّمَا ذَكَرَهُ عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، وَرُبَّمَا لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ زَائِدَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ابْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مَوْلًى لِرِبْعِيٍّ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ هِلَالٍ مَوْلَى رِبْعِيٍّ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ أَيْضًا، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ سَالِمٌ الْأَنْعُمِيُّ كُوفِيٌّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ.
ہم سے احمد بن منیع اور کئی دوسرے راویوں نے بیان کیا ہے ، وہ سب کہتے ہیں : ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ہے اور سفیان نے عبدالملک بن عمیر سے اسی کے مثل روایت کی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- سفیان بن عیینہ اس حدیث میں تدلیس کرتے تھے ، کبھی تو انہوں نے اسے «عن زائدة عن عبد الملك بن عمير» ذکر کیا اور کبھی انہوں نے اس میں «عن زائدة» ذکر نہیں کیا ، ¤ ۲- ابراہیم بن سعد نے یہ حدیث سفیان ثوری سے ، سفیان نے عبدالملک بن عمیر سے ، عبدالملک نے ربعی کے آزاد کردہ غلام ہلال سے ، ہلال نے ربعی سے اور ربعی نے حذیفہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ، ¤ ۳- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ربعی سے آئی ہے ، جسے انہوں نے حذیفہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ، ¤ ۴- سالم انعمی کوفی نے یہ حدیث ربعی بن حراش کے واسطہ سے حذیفہ سے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3662M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (97)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي الْعَلَاءِ الْمُرَادِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنِّي لَا أَدْرِي مَا بَقَائِي فِيكُمْ فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي " , وَأَشَارَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ , وَعُمَرَ.
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے فرمایا : ” میں نہیں جانتا کہ میں تمہارے درمیان کب تک رہوں گا ، لہٰذا تم لوگ ان دونوں کی پیروی کرو جو میرے بعد ہوں گے اور آپ نے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کی جانب اشارہ کیا “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3663]
قال الشيخ الألباني:
صحيح انظر ما قبله (3662)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ , لَا تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے سلسلہ میں فرمایا : ” یہ دونوں جنت کے ادھیڑ عمر والوں کے سردار ہوں گے ، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے ، سوائے انبیاء و مرسلین کے ، ( آپ نے فرمایا : ) ” علی ان دونوں کو اس بات کی خبر مت دینا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3664]
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1313) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ طَلَعَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ، يَا عَلِيُّ لَا تُخْبِرْهُمَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَسْمَعْ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ مِنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَلِيٍّ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَنَسٍ , وَابْنِ عَبَّاسٍ.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اچانک ابوبکر و عمر رضی الله عنہما نمودار ہوئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ دونوں جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں ، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے ، سوائے انبیاء و مرسلین کے لیکن علی ! تم انہیں نہ بتانا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ، ¤ ۲- ولید بن محمد موقری حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں اور علی بن حسین نے علی سے نہیں سنا ہے ، ¤ ۳- علی رضی الله عنہ سے یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی آئی ہے ، ¤ ۴- اس باب میں انس اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3665]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (95)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3665) إسناده ضعيف جداً ¤ في السند علل، منها الوليد بن محمد الموقري وهو متروك (تقدم:2086) والحديث السابق (الأصل: 3664) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10246) (صحیح) (سند میں ”علی بن الحسین زین العابدین“ کی اپنے دادا ”علی“ رضی الله عنہ سے ملاقات و سماع نہیں ہے، مگر شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: ذَكَرَ دَاوُدُ , عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ مَا خَلَا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ، لَا تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ ".
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوبکر و عمر جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں ، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے ، سوائے نبیوں اور رسولوں کے ، لیکن علی ! تم انہیں نہ بتانا “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3666]
قال الشيخ الألباني:
صحيح انظر ما قبله (3665)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3666) إسناده ضعيف / جه 95 ¤ الحارث الأعور ضعيف، ضعفه الجمهور (تقدم:282) والحديث السابق (الأصل:3664) يغني عنه و للحديث شواهد ضعيفة عند الدولابي (الكني 99/2 ح 1683) وغيره . الدولابي ضعيف على الراجع و عبدالله أبو محمد مولي بني هاشم لم أعرفه وإن وثقه أحد الرواة .!
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (95) (تحفة الأشراف: 10035) (صحیح) (سند میں حارث اعور ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد و متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَهَذَا أَصَحُّ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا : کیا میں وہ شخص نہیں ہوں جو سب سے پہلے اسلام لایا ؟ کیا میں ایسی ایسی خوبیوں کا مالک نہیں ہوں ؟ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- بعض نے یہ حدیث شعبہ سے ، شعبہ نے جریری سے ، جریری نے ابونضرہ سے روایت کی ہے ، وہ کہتے ہیں : ابوبکر نے کہا ، اور یہ زیادہ صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3667]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الأحاديث المختارة (19 - 20)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَهَذَا أَصَحُّ.
ہم سے اسے محمد بن بشار نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے شعبہ سے اور شعبہ نے جریری کے واسطہ سے ابونضرہ سے روایت کی ، وہ کہتے ہیں : ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا : پھر انہوں نے اسی مفہوم کے ساتھ اسی جیسی روایت ذکر کی لیکن اس میں ابو سعید خدری کا واسطہ ذکر نہیں کیا اور یہ زیادہ صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3667M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الأحاديث المختارة (19 - 20)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَخْرُجُ عَلَى أَصْحَابِهِ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، وَهُمْ جُلُوسٌ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَلَا يَرْفَعُ إِلَيْهِ أَحَدٌ مِنْهُمْ بَصَرَهُ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ , فَإِنَّهُمَا كَانَا يَنْظُرَانِ إِلَيْهِ وَيَنْظُرُ إِلَيْهِمَا , وَيَتَبَسَّمَانِ إِلَيْهِ وَيَتَبَسَّمُ إِلَيْهِمَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحَكَمِ بْنِ عَطِيَّةَ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُهُمْ فِي الْحَكَمِ بْنِ عَطِيَّةَ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین و انصار میں سے اپنے صحابہ کے پاس نکل کر آتے اور وہ بیٹھے ہوتے ، ان میں ابوبکر و عمر رضی الله عنہما بھی ہوتے ، تو ان میں سے کوئی اپنی نگاہ آپ کی طرف نہیں اٹھاتا تھا ، سوائے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے یہ دونوں آپ کو دیکھتے اور مسکراتے اور آپ ان دونوں کو دیکھتے اور مسکراتے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- اس حدیث کو ہم صرف حکم بن عطیہ کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۳- بعض محدثین نے حکم بن عطیہ کے بارے میں کلام کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3668]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6053)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3668) إسناده ضعيف ¤ الحكم بن عطية: ضعيف يعتبر به، انظر التحرير (1455) ضعفه الجمهور و روي عنه أبو دادو أحاديث منكرة
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 286) (ضعیف) (سند میں ”حکم بن عطیہ“ پر کلام ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ مُجَالِدٍ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ، عَنِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِهِ , وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ وَهُوَ آخِذٌ بِأَيْدِيهِمَا، وَقَالَ: " هَكَذَا نُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، وَسَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِالْقَوِيِّ , وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے ، ابوبکر و عمر رضی الله عنہما میں سے ایک آپ کے دائیں جانب تھے اور دوسرے بائیں جانب ، اور آپ ان دونوں کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے آپ نے فرمایا : ” اسی طرح ہم قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- سعید بن مسلمہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں ، ¤ ۳- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی نافع کے واسطہ سے ابن عمر رضی الله عنہما سے آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3669]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (99) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (18) وهنا أتم، المشكاة (6054)، ضعيف الجامع الصغير (6089) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3669) إسناده ضعيف / جه 99 ¤ سعيد بن مسلمة: ضعيف (تق: 2395)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (99) (تحفة الأشراف: 7499) (ضعیف) (سند میں سعید بن مسلمہ ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنِي كَثِيرٌ أَبُو إِسْمَاعِيل، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: " أَنْتَ صَاحِبِي عَلَى الْحَوْضِ , وَصَاحِبِي فِي الْغَارِ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ سے فرمایا : ” تم حوض کوثر پر میرے رفیق ہو گے جیسا کہ غار میں میرے رفیق تھے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ، صحیح ، غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3670]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6019) // ضعيف الجامع الصغير (1327) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3670) إسناده ضعيف ¤ كثير النواء: ضعيف (تق:5605) وشيخه: جميع بن عمير ضعيف (د 241)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6676) (ضعیف) (سند میں کثیر بن اسماعیل ابو اسماعیل ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ , فَقَالَ: " هَذَانِ السَّمْعُ وَالْبَصَرُ ". وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَنْطَبٍ لَمْ يُدْرِكِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن حنطب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کو دیکھا تو فرمایا : ” یہ دونوں ( اسلام کے ) کان اور آنکھ ہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث مرسل ہے عبداللہ بن حنطب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا ، ¤ ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3671]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (814)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3671) إسناده ضعيف ¤ المطلب بن عبدالله بن حنطب مدلس وعنعن (قال الحافظ ابن حجر: صدوق كثير التدليس والإرسال / تقريب التهذيب:6710) وللحديث شواهد ضعيفة عند الحاكم (369/3 ح 4432) والخطيب (تاريخ بغداد 460/8 فيه عبدالله بن محمد بن عقيل ضعيف، تقدم:997) وغيرهما
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 5246) (صحیح) (الصحیحة 814)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ هُوَ ابْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، فَأْمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، قَالَتْ: فَقَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ "، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ: قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، فَأْمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ "، فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ: مَا كُنْتُ لِأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم نے فرمایا : ” ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں “ ، اس پر عائشہ رضی الله عنہا نے کہا : اللہ کے رسول ! ابوبکر جب آپ کی جگہ ( نماز پڑھانے ) کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو قرأت نہیں سنا سکیں گے ۱؎ ، اس لیے آپ عمر کو حکم دیجئیے کہ وہ نماز پڑھائیں ، پھر آپ نے فرمایا : ” ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں “ ۔ عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں : تو میں نے حفصہ سے کہا : تم ان سے کہو کہ ابوبکر جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو رونے کے سبب قرأت نہیں سنا سکیں گے ، اس لیے آپ عمر کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، تو حفصہ نے ( ایسا ہی ) کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم وہی تو ہو جنہوں نے یوسف علیہ السلام کو تنگ کیا ، ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، تو حفصہ نے عائشہ سے ( بطور شکایت ) کہا کہ مجھے تم سے کبھی کوئی بھلائی نہیں پہنچی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود ، ابوموسیٰ اشعری ، ابن عباس ، سالم بن عبید اور عبداللہ بن زمعہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3672]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ ابوبکر پر رقت طاری ہو جائے گی اور وہ رونے لگیں گے پھر رونے کی وجہ سے اپنی قرأت لوگوں کو نہیں سنا سکیں گے، اور بعض روایات کے مطابق اس کا سبب عائشہ نے یہ بیان کیا، اور بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کی موجودگی میں آپ کی جگہ پر کھڑے ہونے پر ابوبکر اپنے غم ضبط نہیں کر پائیں گے اس طرح لوگوں کو نماز نہیں پڑھا پائیں گے، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1232)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 39 (664)، و46 (679)، و67 (712)، و70 (716)، والاعتصام (7303)، صحیح مسلم/الصلاة 21 (418)، سنن النسائی/الإمامة 40 (834)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 142 (1232) (تحفة الأشراف: 17153)، و مسند احمد (6/34، 96، 97، 210، 224)، وسنن الدارمی/المقدمة 14 (83) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَيْمُونٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَنْبَغِي لِقَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی قوم کے لیے مناسب نہیں کہ ابوبکر رضی الله عنہ کی موجودگی میں ان کے سوا کوئی اور ان کی امامت کرے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3673]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا، الضعيفة (4820) // ضعيف الجامع الصغير (6371) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3673) إسناده ضعيف ¤ عيسيٰ بن ميمون:ضعيف (تقدم:1089)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 17548) (ضعیف جداً) (بعض نسخوں میں ”حسن غریب“ ہے، اور بعض نسخوں اور تحفة الأشراف میں صرف ”غریب“ ہے، اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے، اس لیے کہ سند میں عیسیٰ بن میمون ضعیف راوی ہے، عبدالرحمن بن مہدی نے ان سے کہا: بسند قاسم تم عائشہ سے یہ کس طرح کی احادیث روایت کرتے ہو، تو کہا کہ دو بارہ نہیں بیان کروں گا اور امام بخاری نے فرمایا کہ وہ منکر الحدیث ہے، الضعیفة: 4820)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ: يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ "، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا عَلَى مَنْ دُعِيَ مِنْ هَذِهِ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ , فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا؟ قَالَ: " نَعَمْ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑا خرچ کرے گا اسے جنت میں پکارا جائے گا کہ اے اللہ کے بندے ! یہ وہ خیر ہے ( جسے تیرے لیے تیار کیا گیا ہے ) تو جو اہل صلاۃ میں سے ہو گا اسے صلاۃ کے دروازے سے پکارا جائے گا ، اور جو اہل جہاد میں سے ہو گا اسے جہاد کے دروازے سے پکارا جائے گا ، اور جو اہل صدقہ میں سے ہو گا اسے صدقہ کے دروازے سے پکارا جائے گا ، اور جو اہل صیام میں سے ہو گا ، وہ باب ریان سے پکارا جائے گا ، اس پر ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ کسی کو ان سارے دروازوں سے پکارا جائے ( اس لیے کہ ایک دروازے سے داخل ہو جانا کافی ہے ) مگر کیا کوئی ایسا بھی ہو گا جو ان سبھی دروازوں سے پکارا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں میں سے ہو گے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3674]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 4 (1897)، والجھاد 37 (2841)، وبدء الخلق 6 (3216)، وفضائل الصحابة 5 (3666)، صحیح مسلم/الزکاة 27 (1027)، سنن النسائی/الصیام 43 (2240)، والزکاة 1 (2441)، والجھاد 20 (3137) (تحفة الأشراف: 12279)، وط/الجھاد 19 (49)، و مسند احمد (2/268، 336) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَال: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَصَدَّقَ فَوَافَقَ ذَلِكَ عِنْدِي مَالًا، فَقُلْتُ: الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا، قَالَ: فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟ " , قُلْتُ: مِثْلَهُ، وَأَتَى أَبُو بَكْرٍ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: " يَا أَبَا بَكْرٍ مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟ " , قَالَ: أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قُلْتُ: وَاللَّهِ لَا أَسْبِقُهُ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا. قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا اور اتفاق سے ان دنوں میرے پاس مال بھی تھا ، میں نے ( دل میں ) کہا : اگر میں ابوبکر رضی الله عنہ سے کسی دن آگے بڑھ سکوں گا تو آج کے دن آگے بڑھ جاؤں گا ، پھر میں اپنا آدھا مال آپ کے پاس لے آیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے ؟ “ میں نے عرض کیا : اتنا ہی ( ان کے لیے بھی چھوڑا ہوں ) اور ابوبکر رضی الله عنہ وہ سب مال لے آئے جو ان کے پاس تھا ، تو آپ نے پوچھا : ” ابوبکر ! اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے ؟ “ تو انہوں نے عرض کیا : ان کے لیے تو اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں ، میں نے ( اپنے جی میں ) کہا : اللہ کی قسم ! میں ان سے کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکوں گا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3675]
قال الشيخ الألباني:
حسن، المشكاة (6021)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الزکاة 40 (1678) (تحفة الأشراف: 10390)، وسنن الدارمی/الزکاة 26 (1701) (حسن)
|
|
|
17: باب
باب
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَخْبَرَهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ , فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ , وَأَمَرَهَا بِأَمْرٍ، فَقَالَتْ: أَرَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ أَجِدْكَ؟ قَالَ: " فَإِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَائْتِي أَبَا بَكْرٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت نے آ کر کسی مسئلہ میں آپ سے بات کی اور آپ نے اسے کسی بات کا حکم دیا تو وہ بولی : مجھے بتائیے اللہ کے رسول ! اگر میں آپ کو نہ پاؤں ؟ ( تو کس کے پاس جاؤں ) آپ نے فرمایا : ” اگر تم مجھے نہ پانا تو ابوبکر کے پاس جانا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3676]
💡 وضاحت:
۱؎: اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے جانشین ابوبکر رضی الله عنہ کے ہونے کی پیشین گوئی، اور ان کو اپنا جانشین بنانے کا لوگوں کو اشارہ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل الصحابة 5 (3659)، والأحکام 51 (7220)، والاعتصام 25 (7360)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 1 (2386) (تحفة الأشراف: 3192) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس دوران کہ ایک شخص ایک گائے پر سوار تھا اچانک وہ گائے بول پڑی کہ میں اس کے لیے نہیں پیدا کی گئی ہوں ، میں تو کھیت جوتنے کے لیے پیدا کی گئی ہوں ( یہ کہہ کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرا اس پر ایمان ہے اور ابوبکر و عمر کا بھی ، ابوسلمہ کہتے ہیں : حالانکہ وہ دونوں اس دن وہاں لوگوں میں موجود نہیں تھے “ ، واللہ اعلم ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3677]
💡 وضاحت:
۱؎: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں کے سلسلہ میں اتنا مضبوط یقین تھا کہ جو میں کہوں گا وہ دونوں اس پر آمنا و صدقنا کہیں گے، اسی لیے ان کے غیر موجودگی میں بھی آپ نے ان کی طرف سے تصدیق کر دی، یہ ان کی فضیلت کی دلیل ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (247)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں : ہم سے شعبہ نے اسی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3677M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (247)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِسَدِّ الْأَبْوَابِ إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ ". هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مسجد کی طرف کھلنے والے ) سارے دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا سوائے ابوبکر رضی الله عنہ کے دروازہ کے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ¤ ۲- اس باب میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3678]
قال الشيخ الألباني:
صحيح انظر الحديث (3922)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 16410) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ إِسْحَاق بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " أَنْتَ عَتِيقُ اللَّهِ مِنَ النَّارِ " فَيَوْمَئِذٍ سُمِّيَ عَتِيقًا. هَذَا غَرِيبٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مَعْنٍ، وَقَالَ: عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا : ” تم جہنم سے اللہ کے آزاد کردہ ہو تو اسی دن سے ان کا نام عتیق رکھ دیا گیا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- بعض راویوں نے یہ حدیث معن سے روایت کی ہے اور سند میں «عن موسى بن طلحة عن عائشة» کہا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3679]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (6022 / التحقيق الثانى)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3679) (صحيح) ¤ إسحاق بن يحيي بن طلحة:ضعيف . . . (وللحديث شاهد عند ابن الأعرابي فى المعجم (409) وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 15921) (صحیح) (الصحیحة 1574)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا تَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ وَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ وَوَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ: فَجِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ، وَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ: فَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو الْجَحَّافِ اسْمُهُ: دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَوْفٍ، وَيُرْوَى عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَحَّافِ وَكَانَ مَرْضِيًّا , وَتَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ يكنى: أبا إدريس وهو شيعي.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی نبی ایسا نہیں جس کے دو وزیر آسمان والوں میں سے نہ ہوں اور دو وزیر زمین والوں میں سے نہ ہوں ، رہے میرے دو وزیر آسمان والوں میں سے تو وہ جبرائیل اور میکائیل علیہما السلام ہیں اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما ہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اور ابوالجحاف کا نام داود بن ابوعوف ہے ، سفیان ثوری سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں : ہم سے ابوالجحاف نے بیان کیا ( اور وہ ایک پسندیدہ شخص تھے ) ¤ ۳- اور تلید بن سلیمان کی کنیت ابوادریس ہے اور یہ اہل تشیع میں سے ہیں ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3680]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کے باوجود ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کی منقبت میں حدیث روایت کی، اس سے اس روایت کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، «الفضل ما شہدت بہ أعداء» ۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6056) // ضعيف الجامع الصغير (5223) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3680) إسناده ضعيف ¤ تليد: رافضي ضعيف (تق: 797) وعطية ضعيف (تقدم: 477)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4196) (ضعیف) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
18: باب فِي مَنَاقِبِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضى الله عنه
باب: عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ: بِأَبِي جَهْلٍ , أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ "، قَالَ: وَكَانَ أَحَبَّهُمَا إِلَيْهِ عُمَرُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! ان دونوں یعنی ابوجہل اور عمر بن خطاب میں سے جو تجھے محبوب ہو اس کے ذریعہ اسلام کو طاقت و قوت عطا فرما “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو ان دونوں میں سے عمر اللہ کے محبوب نکلے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ابن عمر رضی الله عنہما کی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3681]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (6036 / التحقيق الثانى)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 7655)، و مسند احمد (2/65) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ " , وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَا نَزَلَ بِالنَّاسِ أَمْرٌ قَطُّ فَقَالُوا فِيهِ، وَقَالَ: فِيهِ عُمَرُ , أَوْ قَالَ: ابْنُ الْخَطَّابِ فِيهِ شَكَّ خَارِجَةُ إِلَّا نَزَلَ فِيهِ الْقُرْآنُ عَلَى نَحْوِ مَا قَالَ عُمَرُ، وَفِي الْبَابِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ، وَأَبِي ذَرٍّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَخَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان و دل پر حق کو جاری فرما دیا ہے “ ۔ عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں : کبھی کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا جس میں لوگوں نے اپنی رائیں پیش کیں ہوں اور عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے ( راوی خارجہ کو شک ہو گیا ہے ) بھی رائے دی ہو ، مگر قرآن اس واقعہ سے متعلق عمر رضی الله عنہ کی اپنی رائے کے موافق نہ اترا ہو ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- خارجہ بن عبداللہ انصاری کا پورا نام خارجہ بن عبداللہ بن سلیمان بن زید بن ثابت ہے اور یہ ثقہ ہیں ، ¤ ۳- اس باب میں فضل بن عباس ، ابوذر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3682]
💡 وضاحت:
۱؎: اسی لیے آپ کو «ملہم» یا «محدث» کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (108)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 7656)، و مسند احمد (2/53، 95) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَبِي جَهْلِ ابْنِ هِشَامٍ , أَوْ بِعُمَرَ "، قَالَ: فَأَصْبَحَ فَغَدَا عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُهُمْ فِي النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ وَهُوَ يَرْوِي مَنَاكِيرَ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! اسلام کو ابوجہل بن ہشام یا عمر کے ذریعہ قوت عطا فرما “ ، پھر صبح ہوئی تو عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور اسلام لے آئے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ، ¤ ۲- بعض محدثین نے نضر ابوعمر کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے اور یہ منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں ۔ ( لیکن حدیث رقم : ( ۳۶۹۰ ) سے اس کے مضمون کی تائید ہوتی ہے ) ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3683]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا، المشكاة (6036)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3683) إسناده ضعيف ¤ النضر بن عبدالرحمن الخزاز متروك (تق:7144) والحديث السابق(الأصل:3681) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6223) (ضعیف جداً) (سند میں نضر بن عبدالرحمن ابو عمر الخزاز متروک راوی ہے، امام ترمذی نے بھی اسی سبب ضعف کا ذکر کر دیا ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ الْوَاسِطِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ أَخِي مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ: يَا خَيْرَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَا إِنَّكَ إِنْ قُلْتَ ذَاكَ فَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ عَلَى رَجُلٍ خَيْرٍ مِنْ عُمَرَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَاكَ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر نے ابوبکر رضی الله عنہما سے کہا : اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہتر انسان ! اس پر ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا : سنو ! اگر تم ایسا کہہ رہے ہو تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : عمر سے بہتر کسی آدمی پر سورج طلوع نہیں ہوا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، اور اس کی سند قوی نہیں ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابو الدرداء رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3684]
قال الشيخ الألباني:
موضوع، الضعيفة (1357) // ضعيف الجامع الصغير (5097) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3684) إسناده ضعيف ¤ عبدالله بن داود الوسطي: ضعيف (تق:3298) والحديث ضعفه الذهبي جدًا بقوله: ”والحديث شبه موضوع“ (تلخيص المستدرك 90/3 ح 4508
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6589) (موضوع) (سند میں عبد الرحمن ابن اخی محمد بن منکدر اور عبد اللہ بن داود ابو محمد التمار دونوں ضعیف راوی ہیں، اور دونوں کی متابعت نہیں کی جائے گی، حدیث کو ابن الجوزی اور ذہبی اور البانی نے موضوع کہا ہے، اور اس کے باطل ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ یہ قطعی طور پر صحیح اور ثابت حدیث کے مخالف ہے کہ سب سے بہتر جن پر سورج طلوع ہوا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء ورسل ہیں، اس کے بعد ابوبکر ہیں، جیسا کہ حدیث میں آیا: انبیاء ورسل کے بعد کسی پر سورج کا وغروب نہیں ہوا جو ابوبکر سے افضل ہو، الضعیفة: 1357)
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: " مَا أَظُنُّ رَجُلًا يَنْتَقِصُ أَبَا بَكْرٍ , وَعُمَرَ يُحِبُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میں کسی کو نہیں سمجھتا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہو اور وہ ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کی تنقیص کرے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3685]
💡 وضاحت:
۱؎: ان دونوں کی محبت واقعی جزو ایمان ہے، ان کا دشمن دشمن اسلام اور خارج از اسلام ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3685) إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق:3684
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 19302) (صحیح الإسناد)
|
|
|
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ.
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف مشرح بن ہاعان کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3686]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے جہاں یہ ثابت ہوتا ہے کہ عمر رضی الله عنہ نہایت فہم و فراست اور الٰہی الہام سے بہرہ ور ہیں وہاں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا، ورنہ کسی اور سے پہلے عمر ہی ہوتے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، الصحيحة (327)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9966)، و مسند احمد (4/154) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ كَأَنِّي أُتِيتُ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ , فَشَرِبْتُ مِنْهُ , فَأَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ "، قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " الْعِلْمَ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے خواب میں دیکھا گویا مجھے دودھ کا کوئی پیالہ دیا گیا جس میں سے میں نے کچھ پیا پھر میں نے اپنا بچا ہوا حصہ عمر بن خطاب کو دے دیا “ ، تو لوگ کہنے لگے اللہ کے رسول ! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی ؟ آپ نے فرمایا : ” اس کی تعبیر علم ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3687]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: میرے بعد دین کا علم عمر کو ہے (رضی الله عنہ) اس میں ابوبکر رضی الله عنہ کی من جملہ فضیلت کی نفی نہیں ہے صرف علم کے سلسلے میں ان کا علم بڑھا ہوا ثابت ہوتا ہے، بقیہ فضائل کے لحاظ سے سب سے افضل امتی (بعد از نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) ابوبکر ہی ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح ومضى (2400)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 2284 (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا: لِشَابٍّ مِنْ قُرَيْشٍ فَظَنَنْتُ أَنِّي أَنَا هُوَ، فَقُلْتُ: وَمَنْ هُوَ؟ فَقَالُوا: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں جنت کے اندر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میں ایک سونے کے محل میں ہوں ، میں نے پوچھا : یہ محل کس کا ہے ؟ فرشتوں نے کہا : قریش کے ایک نوجوان کا ہے ، تو میں نے سوچا کہ وہ میں ہی ہوں گا ، چنانچہ میں نے پوچھا کہ وہ نوجوان کون ہے ؟ تو انہوں نے کہا : وہ عمر بن خطاب ہیں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3688]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عمر رضی الله عنہ کو دنیا ہی میں جنت کی خوشخبری دیدی گئی اور کسی مرتد کو جنت کی خوشخبری نہیں دی جا سکتی، (برا ہو آپ سے بغض و نفرت رکھنے والوں کا)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (1405 - 1423)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 590)، و مسند احمد (3/107، 179) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي بُرَيْدَةَ، قَالَ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِلَالًا، فَقَالَ: " يَا بِلَالُ بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ؟ مَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَطُّ إِلَّا سَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي، دَخَلْتُ الْبَارِحَةَ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي، فَأَتَيْتُ عَلَى قَصْرٍ مُرَبَّعٍ مُشْرِفٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ فَقَالُوا: لِرَجُلٍ مِنْ الْعَرَبِ، فَقُلْتُ: أَنَا عَرَبِيٌّ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا: لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، قُلْتُ: أَنَا قُرَشِيٌّ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا: لِرَجُلٍ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ، قُلْتُ: أَنَا مُحَمَّدٌ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ "، فَقَالَ بِلَالٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَذَّنْتُ قَطُّ إِلَّا صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ، وَمَا أَصَابَنِي حَدَثٌ قَطُّ إِلَّا تَوَضَّأْتُ عِنْدَهَا وَرَأَيْتُ أَنَّ لِلَّهِ عَلَيَّ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِهِمَا ". وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ، وَمُعَاذٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رَأَيْتُ فِي الْجَنَّةِ قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا؟ فَقِيلَ: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ أَنِّي دَخَلْتُ الْبَارِحَةَ الْجَنَّةَ يَعْنِي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، هَكَذَا رُوِيَ فِي بَعْضِ الْحَدِيثِ، وَيُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ.
بریدہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک دن ) صبح کی تو بلال رضی الله عنہ کو بلایا اور پوچھا : ” بلال ! کیا وجہ ہے کہ تم جنت میں میرے آگے آگے رہے ؟ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں جنت میں داخل ہوا ہوں اور اپنے آگے تمہاری کھڑاؤں کی آواز نہ سنی ہو ، آج رات میں جنت میں داخل ہوا تو ( آج بھی ) میں نے اپنے آگے تمہارے کھڑاؤں کی آواز سنی ، پھر سونے کے ایک چوکور بلند محل پر سے گزرا تو میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے ؟ فرشتوں نے بیان کیا کہ یہ ایک عرب آدمی کا ہے ، تو میں نے کہا : میں ( بھی ) عرب ہوں ، بتاؤ یہ کس کا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : یہ قریش کے ایک شخص کا ہے ، میں نے کہا : میں ( بھی ) قریشی ہوں ، بتاؤ یہ محل کس کا ہے ؟ انہوں نے کہا : یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ایک فرد کا ہے ، میں نے کہا : میں محمد ہوں ، یہ محل کس کا ہے ؟ انہوں نے کہا : عمر بن خطاب کا ہے “ ، بلال رضی الله عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں نے اذان دی ہو اور دو رکعتیں نہ پڑھی ہوں اور نہ کبھی ایسا ہوا ہے کہ مجھے حدث لاحق ہوا ہو اور میں نے اسی وقت وضو نہ کر لیا ہو اور یہ نہ سمجھا ہو کہ اللہ کے لیے میرے اوپر دو رکعتیں ( واجب ) ہیں ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں دونوں رکعتوں ( یا خصلتوں ) کی سے ( یہ مرتبہ حاصل ہوا ہے “ ۱؎ ) ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں جابر ، معاذ ، انس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے جنت میں سونے کا ایک محل دیکھا تو میں نے کہا : یہ کس کا ہے ؟ کہا گیا : یہ عمر بن خطاب کا ہے “ ، ¤ ۳- حدیث کے الفاظ «أني دخلت البارحة الجنة» کا مفہوم یہ ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں جنت میں داخل ہوا ہوں ، بعض روایتوں میں ایسا ہی ہے ، ¤ ۴- ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : انبیاء کے خواب وحی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3689]
💡 وضاحت:
۱؎: وضو کے بعد دو رکعت نفل کی پابندی سے ادائیگی کی برکت سے بلال کو یہ مرتبہ حاصل ہوا، یا ایک خصلت وضو ٹوٹتے وضو کر لینا یعنی ہمیشہ باوضو رہنا، دوسری خصلت: ہر وضو کے بعد دو رکعت بطور تحیۃ الوضو کے پڑھنا، ان دونوں خصلتوں کی برکت سے ان کو یہ مرتبہ حاصل ہوا، اس حدیث سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ ہمیشہ باوضو رہنا بڑے اجر و ثواب کا کام ہے، وہیں اس سے بلال رضی الله عنہ کی فضیلت اور دنیا ہی میں جنت کی خوشخبری کا پتا چلا اور عمر رضی الله عنہ کے لیے سونے کے محل سے ان کی فضیلت ثابت ہوئی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، التعليق الرغيب (1 / 99)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1966)، و مسند احمد (5/354، 360) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَال: سَمِعْتُ بُرَيْدَةَ، يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ جَاءَتْ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّكَ اللَّهُ سَالِمًا أَنْ أَضْرِبَ بَيْنَ يَدَيْكَ بِالدُّفِّ وَأَتَغَنَّى، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ كُنْتِ نَذَرْتِ فَاضْرِبِي وَإِلَّا فَلَا "، فَجَعَلَتْ تَضْرِبُ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ , فَأَلْقَتِ الدُّفَّ تَحْتَ اسْتِهَا , ثُمَّ قَعَدَتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَخَافُ مِنْكَ يَا عُمَرُ، إِنِّي كُنْتُ جَالِسًا وَهِيَ تَضْرِبُ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ , ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ , ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ , فَلَمَّا دَخَلْتَ أَنْتَ يَا عُمَرُ أَلْقَتِ الدُّفَّ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ بُرَيْدَةَ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ , وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , وَعَائِشَةَ.
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ میں نکلے ، پھر جب واپس آئے تو ایک سیاہ رنگ کی ( حبشی ) لونڈی نے آ کر کہا : اللہ کے رسول ! میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ کو بخیر و عافیت لوٹایا تو میں آپ کے سامنے دف بجاؤں گی اور گانا گاؤں گی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” اگر تو نے نذر مانی تھی تو بجا لے ورنہ نہیں “ ۱؎ ، چنانچہ وہ بجانے لگی ، اسی دوران ابوبکر رضی الله عنہ اندر داخل ہوئے اور وہ بجاتی رہی ، پھر علی رضی الله عنہ داخل ہوئے اور وہ بجاتی رہی ، پھر عثمان رضی الله عنہ داخل ہوئے اور وہ بجاتی رہی ، پھر عمر رضی الله عنہ داخل ہوئے تو انہیں دیکھ کر اس نے دف اپنی سرین کے نیچے ڈال لی اور اسی پر بیٹھ گئی ، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمر ! تم سے شیطان بھی ڈرتا ہے ۲؎ ، میں بیٹھا ہوا تھا اور وہ بجا رہی تھی ، اتنے میں ابوبکر اندر آئے تو بھی وہ بجاتی رہی ، پھر علی اندر آئے تو بھی وہ بجاتی رہی ، پھر عثمان اندر آئے تو بھی وہ بجاتی رہی ، پھر جب تم داخل ہوئے اے عمر ! تو اس نے دف پھینک ڈالی “ ۳؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- بریدہ کی روایت سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عمر ، سعد بن ابی وقاص اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3690]
💡 وضاحت:
۱؎: اگر منکر (حرام) کی نذر نہ مانی ہو تو نذر پوری کرنی واجب ہے، اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنی نذر پوری کرنے کی اجازت دے دی کیونکہ اس کام میں کوئی ممنوع بات نہیں تھی۔
۲؎: اس حدیث سے عمر فاروق رضی الله عنہ کی بڑی فضیلت کے ساتھ ساتھ ان کے لیے ”عصمت“ (شیطان اور گناہوں سے بچاؤ) بھی ثابت ہو رہی ہے، حالانکہ ”عصمت“ انبیاء کی خصوصیت ہے، اس سلسلے میں بقول حافظ ابن حجر: عصمت انبیاء کے لیے واجب ہے، جبکہ کسی امتی کے لیے بطور امکان کے ہے جو عمر رضی الله عنہ کو حاصل ہوئی۔ ۳؎: مطلب یہ ہے کہ ایک گانے والی لونڈی تو کیا، شیطان بھی عمر رضی الله عنہ سے بھاگ کھڑا ہوتا ہے، حتیٰ کہ اس راستے سے شیطان بھاگ کھڑا ہوتا، جس راستے سے عمر رضی الله عنہ گزرے رہے ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح نقد الكتانى (47 - 48)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1967)، و مسند احمد (5/353) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا , فَسَمِعْنَا لَغَطًا وَصَوْتَ صِبْيَانٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا حَبَشِيَّةٌ تُزْفِنُ وَالصِّبْيَانُ حَوْلَهَا، فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ تَعَالَيْ فَانْظُرِي "، فَجِئْتُ فَوَضَعْتُ لَحْيَيَّ عَلَى مَنْكِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا مَا بَيْنَ الْمَنْكِبِ إِلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ لِي: " أَمَا شَبِعْتِ أَمَا شَبِعْتِ "، قَالَتْ: فَجَعَلْتُ أَقُولُ: لَا، لِأَنْظُرَ مَنْزِلَتِي عِنْدَهُ، إِذْ طَلَعَ عُمَرُ قَالَتْ: فَارْفَضَّ النَّاسُ عَنْهَا، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَدْ فَرُّوا مِنْ عُمَرَ "، قَالَتْ: فَرَجَعْتُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے کہ اتنے میں ہم نے ایک شور سنا اور بچوں کی آواز سنی چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے تو دیکھا کہ ایک حبشی عورت ناچ رہی ہے اور بچے اسے گھیرے ہوئے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ ! آؤ ، تم بھی دیکھ لو “ ، تو میں آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر اپنی ٹھوڑی رکھ کر آپ کے سر اور کندھے کے بیچ سے اسے دیکھنے لگی ، پھر آپ نے فرمایا : ” کیا تو ابھی آسودہ نہیں ہوئی ؟ کیا تو ابھی آسودہ نہیں ہوئی ؟ “ تو میں نے کہا کہ ابھی نہیں تاکہ میں دیکھوں کہ آپ کے دل میں میرا کتنا مقام ہے ؟ اتنے میں عمر رضی الله عنہ آ گئے تو سب لوگ اس عورت کے پاس سے بھاگ کھڑے ہوئے ، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں جنوں اور انسانوں کے شیطانوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ عمر کو دیکھ کر بھاگ گئے ، پھر میں بھی لوٹ آئی “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3691]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (6039)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 17355)، و مسند احمد (6/57، 233) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ، ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ آتِي أَهْلَ الْبَقِيعِ فَيُحْشَرُونَ مَعِي، ثُمَّ أَنْتَظِرُ أَهْلَ مَكَّةَ حَتَّى أُحْشَرَ بَيْنَ الْحَرَمَيْنِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ لَيْسَ بِالْحَافِظِ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس سے زمین شق ہو گی ، پھر ابوبکر ، پھر عمر رضی الله عنہما ، ( سے زمین شق ہو گی ) پھر میں بقیع والوں کے پاس آؤں گا تو وہ میرے ساتھ اٹھائے جائیں گے ، پھر میں مکہ والوں کا انتظار کروں گا یہاں تک کہ میرا حشر حرمین کے درمیان ہو گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اور عاصم بن عمر محدثین کے نزدیک حافظ نہیں ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3692]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الضعيفة (2949) // ضعيف الجامع الصغير (1310) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3692) إسناده ضعيف ¤ عاصم بن عمر العمري: ضعيف (تق:3068) وقال الهثيمي: وضعفه الجمهور (مجمع الزوائد 341/4)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 7200) (ضعیف) (سند میں عاصم العمری ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ كَانَ يَكُونُ فِي الْأُمَمِ مُحَدَّثُونَ، فَإِنْ يَكُ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا صَحِيحٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِ سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: مُحَدَّثُونَ يَعْنِي مُفَهَّمُونَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگلی امتوں میں کچھ ایسے لوگ ہوتے تھے ، جو «مُحدّث» ہوتے تھے ۱؎ اگر میری امت میں کوئی ایسا ہوا تو وہ عمر بن خطاب ہوں گے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث صحیح ہے ، ¤ ۲- مجھ سے سفیان کے کسی شاگرد نے بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ نے کہا : «محدثون» وہ ہیں جنہیں دین کی فہم عطا کی گئی ہو ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3693]
💡 وضاحت:
۱؎: «محدث» اس کو کہتے ہیں جس کی زبان پر اللہ کی طرف سے حق بات کا الہام ہوتا ہے، جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر اس کے پاس نہیں آتے کیونکہ وہ آدمی نبی نہیں ہوتا، اللہ کی طرف سے حق بات اس کے دل و دماغ میں ڈال دی جاتی ہے، اور فی الحقیقت کئی معاملات میں عمر رضی الله عنہ کی رائے کی تائید اللہ تعالیٰ نے وحی سے فرما دی (نیز دیکھئیے حدیث رقم: ۳۶۹۱)۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/فضائل الصحابة 2 (2398) (تحفة الأشراف: 17717)، و مسند احمد (6/55) (حسن صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَطَّلِعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَاطَّلَعَ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ قَالَ: يَطَّلِعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَاطَّلَعَ عُمَرُ ". وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي مُوسَى، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے پاس جنت والوں میں سے ایک شخص آ رہا ہے “ تو ابوبکر رضی الله عنہ آئے ، پھر آپ نے فرمایا : ” تمہارے پاس جنت والوں میں سے ایک شخص آ رہا ہے “ ، تو عمر رضی الله عنہ آئے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابوموسیٰ اشعری اور جابر رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3694]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6058)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3694) إسناده ضعيف ¤ الأعمش عنعن (تقدم: 169) وتلميذه عبدالله بن عبدالقدوس: ضعيف (تقدم: 2212) وله متابعة ضعيفة عندالطبراني فى الكبير (206/10)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9406) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن سلمہ ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس دوران کہ ایک شخص اپنی بکریاں چرا رہا تھا ، ایک بھیڑیا آیا اور ایک بکری پکڑ کر لے گیا تو اس کا مالک آیا اور اس نے اس سے بکری کو چھین لیا ، تو بھیڑیا بولا : درندوں والے دن میں جس دن میرے علاوہ ان کا کوئی اور چرواہا نہیں ہو گا تو کیسے کرے گا ؟ “ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے اس پر یقین کیا اور ابوبکر نے اور عمر نے بھی “ ، ابوسلمہ کہتے ہیں : حالانکہ وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہیں تھے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3695]
قال الشيخ الألباني:
صحيح وهو تمام الحديث (3944)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں : ہم سے شعبہ نے سعد بن ابراہیم کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3695M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح وهو تمام الحديث (3944)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
19: باب فِي مَنَاقِبِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضى الله عنه
باب: عثمان بن عفان رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ َرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى حِرَاءَ هُوَ , وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَعَلِيٌّ , وَعُثْمَانُ , وَطَلْحَةُ , وَالزُّبَيْرُ، فَتَحَرَّكَتِ الصَّخْرَةُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اهْدَأْ إِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ , أَوْ صِدِّيقٌ , أَوْ شَهِيدٌ ". وَفِي الْبَابِ عَنْ عُثْمَانَ، وَسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَبُرَيْدَةَ الأَسْلَمِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر ، عمر ، علی ، عثمان ، طلحہ ، اور زبیر رضی الله عنہم حرا پہاڑ ۱؎ پر تھے ، تو وہ چٹان جس پر یہ لوگ تھے ہلنے لگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ٹھہری رہ ، تجھ پر نبی ، صدیق اور شہید ہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عثمان ، سعید بن زید ، ابن عباس ، سہل بن سعد ، انس بن مالک ، اور بریرہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3696]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح بخاری کتاب فضائل الصحابہ (باب مناقب ابی بکر) اور (باب مناقب عثمان) میں ”احد پہاڑ“ کا تذکرہ ہے، حافظ ابن حجر کے بقول: یہ دو الگ الگ واقعات ہیں، اس میں کوئی تضاد یا تعارض کی بات نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (2 / 562)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/فضائل الصحابة 6 (2417) (تحفة الأشراف: 12700) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ حَدَّثَهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا , وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اثْبُتْ أُحُدُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ , وَصِدِّيقٌ , وَشَهِيدَانِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے اور ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی الله عنہم بھی تو وہ ان کے ساتھ ہل اٹھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ٹھہرا رہ اے احد ! تیرے اوپر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید ہیں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3697]
💡 وضاحت:
۱؎: دو شہید سے مراد: عمر و عثمان رضی الله عنہما ہیں جن دونوں کی شہادت کی گواہی بزبان رسالت مآب ہو ان کی مقبول بارگاہ الٰہی ہونے کا منکر اپنے ایمان کی خیر منائے۔ وہ ”مومن“ کہاں مسلمان بھی نہ رہا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (875)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل الصحابة 5 (3675)، و6 (3686)، و7 (3699)، سنن ابی داود/ السنة 9 (4651) (تحفة الأشراف: 1172)، و مسند احمد (3/112) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ , وَرَفِيقِي يَعْنِي فِي الْجَنَّةِ عُثْمَانُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَهُوَ مُنْقَطِعٌ.
طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے ، اور میرے رفیق یعنی جنت میں عثمان ہوں گے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب ہے ، اس کی سند قوی نہیں اور یہ منقطع ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3698]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (109) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (21) عن أبي هريرة، بسند آخر، ضعيف الجامع الصغير (4738) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3698) إسناده ضعيف ¤ شيخ من بني ذهرة: لم أعرفه وشيخه الحارث بن عبدالرحمن بن أبى ذباب ”لم يدرك طلحة“ (تحفة الأشراف 212/4) وللحديث شاهد ضعيف جدًا عند ابن ماجه: 109
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4996) (ضعیف) (اس کی سند میں زہری شیخ مبہم ہے، اور سند میں انقطاع ہے، اس لیے کہ حارث بن عبدالرحمن الدوسی المدنی کی وفات (146ھ) میں ہوئی اور طلحہ بن عبیداللہ کی شہادت (36ھ) میں ہوئی، اور وہ طلحہ بن عبیداللہ سے مرسلاً روایت کرتے ہیں، نیز یحیی بن الیمان صدوق راوی ہیں، لیکن بہت غلطیاں کرتے ہیں، اور حافظہ میں تغیر بھی آ گیا تھا)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ فَوْقَ دَارِهِ , ثُمَّ قَالَ: أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ حِرَاءَ حِينَ انْتَفَضَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اثْبُتْ حِرَاءُ فَلَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ , أَوْ صِدِّيقٌ , أَوْ شَهِيدٌ "، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ: " مَنْ يُنْفِقُ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً وَالنَّاسُ مُجْهَدُونَ مُعْسِرُونَ فَجَهَّزْتُ ذَلِكَ الْجَيْشَ "، قَالُوا: نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ: أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ بِئْرَ رُومَةَ لَمْ يَكُنْ يَشْرَبُ مِنْهَا أَحَدٌ إِلَّا بِثَمَنٍ فَابْتَعْتُهَا , فَجَعَلْتُهَا لِلْغَنِيِّ , وَالْفَقِيرِ , وَابْنِ السَّبِيلِ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، وَأَشْيَاءَ عَدَّدَهَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ.
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ جب عثمان رضی الله عنہ کا محاصرہ کیا گیا تو انہوں نے اپنے مکان کے کوٹھے سے جھانک کر بلوائیوں کو دیکھا پھر کہا : میں تمہیں اللہ کا حوالہ دے کر یاد دلاتا ہوں : کیا تم جانتے ہو کہ حرا پہاڑ سے جس وقت وہ ہلا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ” حرا ٹھہرے رہو ! کیونکہ تجھ پر ایک نبی ، ایک صدیق اور ایک شہید کے علاوہ کوئی اور نہیں ؟ “ ، ان لوگوں نے کہا : ہاں ، پھر عثمان رضی الله عنہ نے کہا : میں تمہیں اللہ کا حوالہ دے کر یاد لاتا ہوں ، کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جیش عسرہ ( غزوہ تبوک ) کے سلسلے میں فرمایا تھا : ” کون ( اس غزوہ کا ) خرچ دے گا جو اللہ کے نزدیک مقبول ہو گا ( اور لوگ اس وقت پریشانی اور تنگی میں تھے ) “ تو میں نے ( خرچ دے کر ) اس لشکر کو تیار کیا ؟ ، لوگوں نے کہا : ہاں ، پھر عثمان رضی الله عنہ نے کہا : میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یاد دلاتا ہوں : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ بئررومہ کا پانی بغیر قیمت کے کوئی پی نہیں سکتا تھا تو میں نے اسے خرید کر غنی ، محتاج اور مسافر سب کے لیے وقف کر دیا ؟ ، لوگوں نے کہا : ہاں ، ہمیں معلوم ہے اور اسی طرح اور بھی بہت سی چیزیں انہوں نے گنوائیں ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے یعنی ابوعبدالرحمٰن کی روایت سے جسے وہ عثمان سے روایت کرتے ہیں حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3699]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں مذکور تینوں باتیں اسلام کی عظیم ترین خدمت ہیں جن کو عثمان رضی الله عنہ نے انجام دیئے، یہ آپ کی اسلام میں عظیم مقام و مرتبے کی بات ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (109)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوصایا 33 (تعلیقاً)، سنن النسائی/الاحباس 4 (3639) (تحفة الأشراف: 9814)، و مسند احمد (1/59) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا السَّكَنُ بْنُ الْمُغِيرَةِ وَيُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ مَوْلًى لِآلِ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ فَرْقَدٍ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَبَّابٍ، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَحُثُّ عَلَى جَيْشِ الْعُسْرَةِ، فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَيَّ مِائَةُ بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ حَضَّ عَلَى الْجَيْشِ، فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَيَّ مِائَتَا بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا , وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ حَضَّ عَلَى الْجَيْشِ، فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَيَّ ثَلَاثُ مِائَةِ بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا , وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عَنِ الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ: " مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ السَّكَنِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ.
عبدالرحمن بن خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ جیش عسرہ ( غزوہ تبوک ) کے سامان کی لوگوں کو ترغیب دے رہے تھے ، تو عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بولے : اللہ کے رسول ! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے ، آپ نے پھر اس کی ترغیب دلائی ، تو عثمان پھر کھڑے ہوئے اور بولے : اللہ کے رسول ! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں دو سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے ، آپ نے پھر اسی کی ترغیب دی تو عثمان پھر کھڑے ہوئے اور بولے اللہ کے رسول ! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں تین سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ منبر سے یہ کہتے ہوئے اتر رہے تھے کہ ” اب عثمان پر کوئی مواخذہ نہیں جو بھی کریں ، اب عثمان پر کوئی مواخذہ نہیں جو بھی کریں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ، ہم اسے صرف سکن بن مغیرہ کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- اس باب میں عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3700]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6063)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3700) إسناده ضعيف ¤ فرقد أبو طلحة: مجهول (تق:5385) والحديث الآتي (الأصل:3701) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9694) (ضعیف) (سند میں فرقد ابو طلحہ مجہول راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ وَاقِعٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: جَاءَ عُثْمَانُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَلْفِ دِينَارٍ، قَالَ الْحَسَنُ بْنُ وَاقِعٍ: وَكَانَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ مِنْ كِتَابِي فِي كُمِّهِ حِينَ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَيَنْثُرُهَا فِي حِجْرِهِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّبُهَا فِي حِجْرِهِ وَيَقُولُ: " مَا ضَرَّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عثمان رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہزار دینار لے کر آئے ، ( حسن بن واقع جو راوی حدیث ہیں کہتے ہیں : دوسری جگہ میری کتاب میں یوں ہے کہ وہ اپنی آستین میں لے کر آئے ) ، جس وقت انہوں نے جیش عسرہ کو تیار کیا ، اور اسے آپ کی گود میں ڈال دیا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے اپنی گود میں الٹتے پلٹتے دیکھا اور یہ کہتے سنا کہ آج کے بعد سے عثمان کو کوئی بھی برا عمل نقصان نہیں پہنچائے گا “ ، ایسا آپ نے دو بار فرمایا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3701]
قال الشيخ الألباني:
حسن، المشكاة (6064)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9699) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعَةِ الرِّضْوَانِ كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ، قَالَ: فَبَايَعَ النَّاسَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ عُثْمَانَ فِي حَاجَةِ اللَّهِ وَحَاجَةِ رَسُولِهِ "، فَضَرَبَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى، فَكَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُثْمَانَ خَيْرًا مِنْ أَيْدِيهِمْ لِأَنْفُسِهِمْ. قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیعت رضوان ۱؎ کا حکم دیا گیا تو عثمان بن عفان رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد بن کر اہل مکہ کے پاس گئے ہوئے تھے ، جب آپ نے لوگوں سے بیعت لی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عثمان اللہ اور اس کے رسول کے کام سے گئے ہوئے ہیں ، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں میں سے ایک کو دوسرے پر مارا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ جسے آپ نے عثمان کے لیے استعمال کیا لوگوں کے ہاتھوں سے بہتر تھا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3702]
💡 وضاحت:
۱؎: بیعت رضوان وہ بیعت ہے جو صلح حدیبیہ کے سال ایک درخت کے نیچے لی گئی تھی، یہ بیعت اس بات پر لی گئی تھی کہ خبر اڑ گئی کہ کفار مکہ نے عثمان کو قتل کر دیا ہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے بیعت لی کہ عثمان کے خون کا بدلہ لینا ہے، اس پر سب لوگوں سے بیعت لی گئی کہ کفار مکہ سے اس پر جنگ کی جائے گی، سب لوگ اس عہد پر جمے رہیں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6065)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3702) إسناده ضعيف ¤ الحكم بن عبدالملك: ضعيف (تق:1451) وحديث أبى داود (2726) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1155) (ضعیف) (سند میں حکم بن عبد الملک ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، وغير واحد المعنى واحد، قَالُوا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ الْمَنْقَرِيِّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ الدَّارَ حِينَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ فَقَالَ: ائْتُونِي بِصَاحِبَيْكُمُ اللَّذَيْنِ أَلَّبَاكُمْ عَلَيَّ، قَالَ: فَجِيءَ بِهِمَا فَكَأَنَّهُمَا جَمَلَانِ , أَوْ كَأَنَّهُمَا حِمَارَانِ، قَالَ: فَأَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ , فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ يُسْتَعْذَبُ غَيْرَ بِئْرِ رُومَةَ، فَقَالَ: " مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ فَيَجْعَلَ دَلْوَهُ مَعَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ؟ "، فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونِي أَنْ أَشْرَبَ حَتَّى أَشْرَبَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْمَسْجِدَ ضَاقَ بِأَهْلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَشْتَرِي بُقْعَةَ آلِ فُلَانٍ فَيَزِيدَهَا فِي الْمَسْجِدِ بِخَيْرٍ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ " فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي، فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهَا رَكْعَتَيْنِ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّي جَهَّزْتُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ مِنْ مَالِي؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى ثَبِيرِ مَكَّةَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَأَنَا فَتَحَرَّكَ الْجَبَلُ حَتَّى تَسَاقَطَتْ حِجَارَتُهُ بِالْحَضِيضِ، قَالَ: فَرَكَضَهُ بِرِجْلِهِ وَقَالَ: اسْكُنْ ثَبِيرُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ , وَصِدِّيقٌ , وَشَهِيدَانِ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ شَهِدُوا لِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ أَنِّي شَهِيدٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عُثْمَانَ.
ثمامہ بن حزن قشیری کہتے ہیں کہ میں اس وقت گھر میں موجود تھا جب عثمان رضی الله عنہ نے کوٹھے سے جھانک کر انہیں دیکھا اور کہا تھا : تم میرے سامنے اپنے ان دونوں ساتھیوں کو لاؤ ، جنہوں نے میرے خلاف تمہیں جمع کیا ہے ، چنانچہ ان دونوں کو لایا گیا گویا وہ دونوں دو اونٹ تھے یا دو گدھے یعنی بڑے موٹے اور طاقتور ، تو عثمان رضی الله عنہ نے انہیں جھانک کر دیکھا اور کہا : میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو یہاں بئررومہ کے علاوہ کوئی اور میٹھا پانی نہیں تھا جسے لوگ پیتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کون بئررومہ کو جنت میں اپنے لیے اس سے بہتر چیز کے عوض خرید کر اپنے ڈول کو دوسرے مسلمانوں کے ڈول کے برابر کر دے گا ؟ “ ، یعنی اپنے ساتھ دوسرے مسلمانوں کو بھی پینے کا برابر کا حق دے گا ، تو میں نے اسے اپنے اصل مال سے خریدا اور آج تم مجھ ہی کو اس کے پینے سے روک رہے ہو ، یہاں تک کہ میں سمندر کا ( کھارا ) پانی پی رہا ہوں ؟ لوگوں نے کہا : ہاں ، یہی بات ہے ، انہوں نے کہا : میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ مسجد لوگوں کے لیے تنگ ہو گئی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کون آل فلاں کی زمین کے ٹکڑے کو اپنے لیے جنت میں اس سے بہتر چیز کے عوض خرید کر اسے مسجد میں شامل کر دے گا ؟ “ ، تو میں نے اسے اپنے اصل مال سے خریدا اور آج تم مجھ ہی کو اس میں دو رکعت نماز پڑھنے نہیں دے رہے ہو ، لوگوں نے کہا : ہاں ، بات یہی ہے ، پھر انہوں نے کہا : میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر تم سے پوچھتا ہوں : کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے پہاڑ ثبیر پر تھے اور آپ کے ساتھ ابوبکر ، عمر رضی الله عنہما تھے اور میں تھا ، تو پہاڑ لرزنے لگا ، یہاں تک کہ اس کے کچھ پتھر نیچے کھائی میں گرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پیر سے مار کر فرمایا : ” ٹھہر اے ثبیر ! تیرے اوپر ایک نبی ، ایک صدیق اور دو شہیدوں کے سوا کوئی اور نہیں “ ، لوگوں نے کہا : ہاں بات یہی ہے ۔ تو انہوں نے کہا : اللہ اکبر ! قسم ہے رب کعبہ کی ! ان لوگوں نے میرے شہید ہونے کی گواہی دے دی ، یہ جملہ انہوں نے تین بار کہا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے اور عثمان سے یہ حدیث اس سند کے علاوہ سے بھی آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3703]
قال الشيخ الألباني:
حسن، الإرواء (1594)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الاحباس 4 (3638) (تحفة الأشراف: 9785) (حسن) (الإرواء 1594، وتراجع الألبانی 594)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، أَنَّ خُطَبَاءَ قَامَتْ بِالشَّامِ وَفِيهِمْ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ آخِرُهُمْ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: مُرَّةُ بْنُ كَعْبٍ، فَقَالَ: لَوْلَا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُمْتُ، وَذَكَرَ الْفِتَنَ فَقَرَّبَهَا، فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ فِي ثَوْبٍ فَقَالَ: " هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى "، فَقُمْتُ إِلَيْهِ , فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، قَالَ: فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ , فَقُلْتُ: هَذَا، قَالَ: نَعَمْ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ، وَكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ.
ابواشعث صنعانی سے روایت ہے کہ مقررین ملک شام میں تقریر کے لیے کھڑے ہوئے ، ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بھی کچھ لوگ تھے ، پھر سب سے آخر میں ایک شخص کھڑا ہوا جسے مرہ بن کعب رضی الله عنہ کہا جاتا تھا ، اس نے کہا : اگر میں نے ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنی ہوتی تو میں کھڑا نہ ہوتا ، پھر انہوں نے فتنوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس کا ظہور قریب ہے ، پھر ایک شخص منہ پر کپڑا ڈالے ہوئے گزرا تو مرہ نے کہا : یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نقل کیا : ” یہ اس دن ہدایت پر ہو گا “ ، تو میں اسے دیکھنے کے لیے اس کی طرف اٹھا ، تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ عثمان بن عفان رضی الله عنہ ہیں ، پھر میں نے ان کا منہ مرہ کی طرف کر کے کہا : وہ یہی ہیں ، انہوں نے کہا : ہاں وہ یہی ہیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ¤ ۲- اس باب میں ابن عمر ، عبداللہ بن حوالہ اور کعب بن عجرۃ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3704]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (111)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 11248) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَا عُثْمَانُ إِنَّهُ لَعَلَّ اللَّهَ يُقَمِّصُكَ قَمِيصًا , فَإِنْ أَرَادُوكَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ لَهُمْ ". وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عثمان ! شاید اللہ تمہیں کوئی کرتا ۱؎ پہنائے ، اگر لوگ اسے اتارنا چاہیں تو تم اسے ان کے لیے نہ اتارنا “ ، اس میں حدیث ایک طویل قصہ ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3705]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کرتے سے مراد خلعت خلافت (خلافت کی چادر) ہے، مفہوم یہ ہے کہ اگر منافقین تمہیں خلافت سے دستبردار ہونے کو کہیں اور اس سے معزول کرنا چاہیں تو ایسا مت ہونے دینا کیونکہ اس وقت تم حق پر قائم رہو گے اور دستبرداری کا مطالبہ کرنے والے باطل پر ہوں گے، اللہ کے رسول کے اسی فرمان کے پیش نظر عثمان رضی الله عنہ نے شہادت کا جام پی لیا۔ لیکن دستبردار نہیں ہوئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (112)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (111) (تحفة الأشراف: 17675) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مِصْرَ حَجَّ الْبَيْتَ فَرَأَى قَوْمًا جُلُوسًا فَقَالَ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالُوا: قُرَيْشٌ، قَالَ: فَمَنْ هَذَا الشَّيْخُ؟ قَالُوا: ابْنُ عُمَرَ، فَأَتَاهُ , فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ شَيْءٍ فَحَدِّثْنِي أَنْشُدُكَ اللَّهَ بِحُرْمَةِ هَذَا الْبَيْتِ، أَتَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ فَرَّ يَوْمَ أُحُدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَتَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَمْ يَشْهَدْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَتَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ يَوْمَ بَدْرٍ فَلَمْ يَشْهَدْ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: تَعَالَ أُبَيِّنْ لَكَ مَا سَأَلْتَ عَنْهُ، أَمَّا فِرَارُهُ يَوْمَ أُحُدٍ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ عَفَا عَنْهُ وَغَفَرَ لَهُ، وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ يَوْمَ بَدْرٍ فَإِنَّهُ كَانَتْ عِنْدَهُ , أَوْ تَحْتَهُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَكَ أَجْرُ رَجُلٍ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمُهُ " , وَأَمَرَهُ أَنْ يَخْلُفَ عَلَيْهَا وَكَانَتْ عَلِيلَةً، وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ لَبَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَانَ عُثْمَانَ، بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ إِلَى مَكَّةَ وَكَانَتْ بَيْعَةُ الرِّضْوَانِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى: " هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ " , وَضَرَبَ بِهَا عَلَى يَدِهِ، فَقَالَ: " هَذِهِ لِعُثْمَانَ , قَالَ لَهُ: " اذْهَبْ بِهَذَا الْآنَ مَعَكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عثمان بن عبداللہ بن موہب سے روایت ہے کہ اہل مصر میں سے ایک شخص نے بیت اللہ کا حج کیا تو اس نے کچھ لوگوں کو بیٹھے دیکھا تو پوچھا : یہ کون لوگ ہیں ؟ لوگوں نے بتایا یہ قبیلہ قریش کے لوگ ہیں ، اس نے کہا : یہ کون شیخ ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ابن عمر رضی الله عنہما ہیں تو وہ ان کے پاس آیا اور بولا : میں آپ سے ایک چیز پوچھ رہا ہوں آپ مجھے بتائیے ، میں آپ سے اس گھر کی حرمت کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں ، کیا آپ کو معلوم ہے کہ عثمان رضی الله عنہ احد کے دن بھاگے تھے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، پھر اس نے کہا : کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بیعت رضوان کے وقت موجود نہیں تھے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، پھر اس نے کہا : کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدر میں موجود نہیں تھے ، تمہارے انہوں نے کہا : ہاں ، اس مصری نے ازراہ تعجب اللہ اکبر کہا ۱؎ ، اس پر ابن عمر رضی الله عنہما نے اس سے کہا : آؤ میں تیرے سوالوں کو تم پر واضح کر دوں : رہا ان ( عثمان ) کا احد کے دن بھاگنا ۲؎ تو تو گواہ رہ کہ اللہ نے اسے معاف کر دیا اور بخش دیا ہے ۳؎ اور رہی بدر کے دن ، ان کی غیر حاضری تو ان کے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا : ” تمہیں اس آدمی کے برابر ثواب اور اس کے برابر مال غنیمت میں سے حصہ ملے گا ، جو بدر میں حاضر ہو گا “ ، اور رہی ان کی بیعت رضوان سے غیر حاضری تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر عثمان سے بڑھ کر وادی مکہ میں کوئی باعزت ہوتا تو عثمان رضی الله عنہ کی جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کو بھیجتے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان کو مکہ بھیجا اور بیعت رضوان عثمان کے مکہ جانے کے بعد ہوئی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : ” یہ عثمان کا ہاتھ ہے “ ، اور اسے اپنے دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا : ” یہ عثمان کی طرف سے بیعت ہے “ ، تو ابن عمر رضی الله عنہما نے اس سے کہا : اب یہ جواب تو اپنے ساتھ لیتا جا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3706]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ شیعی آدمی تھا جو عثمان رضی الله عنہ سے بغض رکھتا تھا، اسی لیے ان تینوں باتوں پر اللہ اکبر کہا، یعنی: جب ان میں یہ تینوں عیب ہیں تو لوگ ان کی فضیلت کے کیوں قائل ہیں۔
۲؎: یہ اشارہ ہے غزوہ احد سے ان بھاگنے والوں کی طرف جو جنگ کا پانسہ پلٹ جانے کے بعد میدان جنگ سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے، ان میں عثمان رضی الله عنہ بھی تھے۔ ۳؎: اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی اس آیت میں نازل کی تھی «ولقد عفا الله عنهم إن الله غفور حليم» (سورة آل عمران: 155) پوری آیت اس طرح ہے «إن الذين تولوا منكم يوم التقى الجمعان إنما استزلهم الشيطان ببعض ما كسبوا ولقد عفا الله عنهم إن الله غفور حليم» یعنی: ”تم میں سے جن لوگوں نے اس دن پیٹھ دکھائی جس دن دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ ہوئی تھی، یہ لوگ اپنے بعض گناہوں کے باعث شیطان کے بہکاوے میں آ گئے، لیکن یقین جانو کہ اللہ نے انہیں معاف کر دیا، اللہ تعالیٰ ہے ہی بخشنے والا اور تحمل والا“ (آل عمران: 155)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الخمس 14 (3130) (بعضہ) وفضائل الصحابة 7 (3698)، والمغازي 19 (4066) (تحفة الأشراف: 7319) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ أَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَعُثْمَانُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کہتے تھے : ” ابوبکر ، عمر ، اور عثمان ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3707]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ان کا ذکر آتا تو ہم اسی ترتیب سے ان کا نام لیتے تھے پہلے نمبر پر ابوبکر کا نام رکھتے تھے، پھر عمر کا پھر عثمان کا (رضی الله عنہم)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (6076)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل الصحابة 4 (3655)، و7 (3697)، سنن ابی داود/ السنة 8 (4627) (تحفة الأشراف: 7820) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا شَاذَانُ الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ سِنَانِ بْنِ هَارُونَ الْبُرْجُمِيِّ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِتْنَةً , فَقَالَ: " يُقْتَلُ فِيهَا هَذَا مَظْلُومًا لِعُثْمَانَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فتنہ کا ذکر کیا تو فرمایا : ” اس فتنہ میں یہ عثمان بھی مظلوم قتل کیا جائے گا “ ( یہ بات آپ نے عثمان رضی الله عنہ کے متعلق کہی ) ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ابن عمر رضی الله عنہما کی یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3708]
قال الشيخ الألباني:
حسن الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3708) إسناده ضعيف ¤ سنان بن هارون البرجمي ضعيف ضعفه الجمهور
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 7383) (حسن الإسناد)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ الْبَغْدَادِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ , قَالُوا: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ زُفَرَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةِ رَجُلٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْنَاكَ تَرَكْتَ الصَّلَاةَ عَلَى أَحَدٍ قَبْلَ هَذَا؟ قَالَ: " إِنَّهُ كَانَ يَبْغَضُ عُثْمَانَ فَأَبْغَضَهُ اللَّهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ صَاحِبُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ جِدًّا، وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ صَاحِبُ أَبِي هُرَيْرَةَ هُوَ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ , وَيُكْنَى: أَبَا الْحَارِثِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيُّ صَاحِبُ أَبِي أُمَامَةَ ثِقَةٌ , يُكْنَى: أَبَا سُفْيَانَ شَامِيٌّ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ اس پر نماز جنازہ پڑھیں تو آپ نے اس پر نماز نہیں پڑھی ، آپ سے عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! اس سے پہلے ہم نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی پر جنازہ کی نماز نہ پڑھی ہو ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ عثمان سے بغض رکھتا تھا ، تو اللہ نے اسے مبغوض کر دیا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- میمون بن مہران کے شاگرد محمد بن زیادہ حدیث میں بہت ضعیف گردانے جاتے ہیں ۱؎ ، اور محمد بن زیاد جو ابوہریرہ رضی الله عنہ کے شاگرد ہیں یہ بصریٰ ہیں اور ثقہ ہیں ، ان کی کنیت ابوحارث ہے اور محمد بن زیاد الہانی جو ابوامامہ کے شاگرد ہیں ، ثقہ ہیں ، ان کی کنیت ابوسفیان ہے ، یہ شامی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3709]
💡 وضاحت:
۱؎: اور اس سند میں یہی محمد بن زیاد ہیں، ان کی نسبت ہی میمونی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
موضوع، الضعيفة (1967) // ضعيف الجامع الصغير (2073) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3709) موضوع ¤ محمد بن زياد الطحان كذبوه (تق: 5890) قال أحمد: ”كان أعور كذابًا خبيثًا يضع الأحاديث“ (الجرح والتعديل 258/7 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2943) (موضوع) (سند میں محمد بن زیاد الیشکری الطحان کذاب ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ حَائِطًا لِلْأَنْصَارِ فَقَضَى حَاجَتَهُ، فَقَالَ لِي: " يَا أَبَا مُوسَى أَمْلِكْ عَلَيَّ الْبَابَ فَلَا يَدْخُلَنَّ عَلَيَّ أَحَدٌ إِلَّا بِإِذْنٍ "، فَجَاءَ رَجُلٌ يَضْرِبُ الْبَابَ , فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ، قَالَ: " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ "، فَدَخَلَ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، وَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ فَضَرَبَ الْبَابَ , فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: عُمَرُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ، قَالَ: " افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ "، فَفَتَحْتُ الْبَابَ وَدَخَلَ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ فَضَرَبَ الْبَابَ , فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: عُثْمَانُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ، قَالَ: " افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ، وَابْنِ عُمَرَ.
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا ، آپ انصار کے ایک باغ میں داخل ہوئے اور اپنی حاجت پوری کی ، پھر آپ نے مجھ سے فرمایا : ” ابوموسیٰ ! تم دروازہ پر رہو کوئی بغیر اجازت کے اندر داخل نہ ہونے پائے “ ، پھر ایک شخص نے آ کر دروازہ کھٹکھٹایا ، تو میں نے کہا : کون ہے ؟ انہوں نے کہا : ابوبکر ہوں ، تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ ابوبکر اجازت مانگ رہے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” انہیں آنے دو ، اور انہیں جنت کی بشارت دے دو “ ، چنانچہ وہ اندر آئے اور میں نے انہیں جنت کی بشارت دی ، پھر ایک دوسرے شخص آئے اور انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا ، میں نے کہا : کون ہے ؟ انہوں نے کہا : عمر ہوں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ عمر اجازت مانگ رہے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” ان کے لیے دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو “ ، چنانچہ میں نے دروازہ کھول دیا ، وہ اندر آ گئے ، اور میں نے انہیں جنت کی بشارت دے دی ، پھر ایک تیسرے شخص آئے اور انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا ، تو میں نے کہا : کون ہے ؟ تو انہوں نے کہا : عثمان ہوں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ عثمان اجازت مانگ رہے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” ان کے لیے بھی دروازہ کھول دو اور انہیں بھی جنت کی بشارت دے دو ، ساتھ ہی ایک آزمائش کی جو انہیں پہنچ کر رہے گی “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی ابوعثمان نہدی سے آئی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں جابر اور ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3710]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ اس حادثہ کی طرف تھا جس سے عثمان رضی الله عنہ اپنی خلافت کے آخری دور میں دوچار ہوئے پھر جام شہادت نوش کیا، نیز اس حدیث سے ان تینوں کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، اور یہ کہ ان کے درمیان خلافت میں یہی ترتیب ہو گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل الصحابة 5 (3674)، و6 (3693)، و7 (3695)، والأدب 119 (6216)، والفتن 17 (7097)، وخبر الواحد 3 (7262)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 3 (2403) (تحفة الأشراف: 9018)، و مسند احمد (4/393، 406، 407) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَهْلَةَ، قَالَ: قَالَ عُثْمَانُ يَوْمَ الدَّارِ: " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا فَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ.
ابوسہلہ کا بیان ہے کہ عثمان رضی الله عنہ نے مجھ سے جس دن وہ گھر میں محصور تھے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد لیا تھا اور میں اس عہد پر صابر یعنی قائم ہوں ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ہم اسے صرف اسماعیل بن ابی خالد کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3711]
💡 وضاحت:
۱؎: اس عہد سے مراد یہ ہے کہ آپ نے فرمایا تھا ”اللہ تعالیٰ تم کو ایک کرتا پہنائے گا، لوگ اس کو تم سے اتروانا چاہیں گے، تو مت اتارنا“، (اس سے خلافت کا کرتا مراد ہے) اسی لیے عثمان شہید رضی الله عنہ ہو گئے مگر خلافت سے دستبردار نہیں ہوئے کیونکہ آپ بفرمان رسالت مآب حق پر تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (113)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (113) (تحفة الأشراف: 9843) (صحیح)
|
|
|
20: باب مَنَاقِبِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضى الله عنه
باب: علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کے مناقب
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا , وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَمَضَى فِي السَّرِيَّةِ , فَأَصَابَ جَارِيَةً , فَأَنْكَرُوا عَلَيْهِ , وَتَعَاقَدَ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: إِذَا لَقِينَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْنَاهُ بِمَا صَنَعَ عَلِيٌّ، وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِذَا رَجَعُوا مِنَ السَّفَرِ بَدَءُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ , ثُمَّ انْصَرَفُوا إِلَى رِحَالِهِمْ، فَلَمَّا قَدِمَتِ السَّرِيَّةُ سَلَّمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَامَ أَحَدُ الْأَرْبَعَةِ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ صَنَعَ كَذَا وَكَذَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِي فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَامَ الثَّالِثُ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ , فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَامَ الرَّابِعُ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالُوا، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْغَضَبُ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ: " مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ , مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ , مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ، إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ , وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ ( لشکر ) روانہ کیا اور اس لشکر کا امیر علی رضی الله عنہ کو مقرر کیا ، چنانچہ وہ اس سریہ ( لشکر ) میں گئے ، پھر ایک لونڈی سے انہوں نے جماع کر لیا ۱؎ لوگوں نے ان پر نکیر کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے چار آدمیوں نے طے کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب ہم ملیں گے تو علی نے جو کچھ کیا ہے اسے ہم آپ کو بتائیں گے ، اور مسلمان جب سفر سے لوٹتے تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے اور آپ کو سلام کرتے تھے ، پھر اپنے گھروں کو جاتے ، چنانچہ جب یہ سریہ واپس لوٹ کر آیا اور لوگوں نے آپ کو سلام کیا تو ان چاروں میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ علی نے ایسا ایسا کیا ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا ، پھر دوسرا کھڑا ہوا تو دوسرے نے بھی وہی بات کہی جو پہلے نے کہی تھی تو آپ نے اس سے بھی منہ پھیر لیا ، پھر تیسرا شخص کھڑا ہوا اس نے بھی وہی بات کہی ، تو اس سے بھی آپ نے منہ پھیر لیا ، پھر چوتھا شخص کھڑا ہوا تو اس نے بھی وہی بات کہی جو ان لوگوں نے کہی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ کے چہرے سے ناراضگی ظاہر تھی ۔ آپ نے فرمایا : ” تم لوگ علی کے سلسلہ میں کیا چاہتے ہو ؟ تم لوگ علی کے سلسلہ میں کیا چاہتے ہو ؟ علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں ۱؎ اور وہ دوست ہیں ہر اس مومن کا جو میرے بعد آئے گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف جعفر بن سلیمان کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3712]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ لونڈی مال غنیمت میں سے تھی، تو لوگوں نے اس لیے اعتراض کیا کہ ابھی مال غنیمت کی تقسیم تو عمل میں آئی نہیں، اس لیے یہ مال غنیمت میں خردبرد کے ضمن میں آتا ہے، یا اس لیے اعتراض کیا کہ مال غنیمت کی لونڈیوں میں ضروری ہے کہ پہلے ایک ماہواری سے ان کے رحم کی صفائی ہو جائے، اور علی رضی الله عنہ نے ایسا نہیں کیا ہے، یہ بات تو علی رضی الله عنہ سے بالکل بعید ہے کہ استبراء رحم (رحم کی صفائی) سے پہلے لونڈی سے ہمبستری کر بیٹھیں، ہوا یہ ہو گا کہ ایک دو دن کے بعد ہی وہ ماہواری سے فارغ ہوئی ہو گی، تو اب مزید ماہواری کی تو ضرورت تھی نہیں۔
۲؎: اس جملہ سے اہل تشیع کا یہ استدلال کرنا کہ علی رضی الله عنہ سارے صحابہ سے افضل ہیں درست نہیں ہے کیونکہ کچھ اور صحابہ بھی ہیں جن کے متعلق آپ نے یہی جملہ کہا ہے، مثلاً جلیبیب کے متعلق آپ نے فرمایا: ” «ہذا منی و أنا منہ» “ اسی طرح اشعریین کے بارے میں آپ نے فرمایا: ” «فہم منی و أنا منہم» “ یہ دونوں روایتیں صحیح مسلم کی ہیں، مسند احمد میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی ناجیہ کے متعلق فرمایا: «أنا منہم وہم منی» ۔ نیز اس سے یہ استدلال کرنا بھی صحیح نہیں ہے کہ ”علی مجھ سے ہیں“ کا مطلب ہے: علی آپ کی ذات ہی میں سے ہیں، اس سے مراد ہے: نسب۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (2223)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 10861)، و مسند احمد (4/437-438) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ أَوْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَأَبُو سَرِيحَةَ هُوَ حُذَيْفَةُ بْنُ أَسِيدٍ الْغِفَارِيُّ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوسریحہ یا زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کا میں دوست ہوں علی بھی اس کے دوست ہیں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- شعبہ نے یہ حدیث میمون ابوعبداللہ سے اور میمون نے زید بن ارقم سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ، اور ابوسریحہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حذیفہ بن اسید غفاری ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3713]
💡 وضاحت:
۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان: ” «من کنت مولاہ فعلی مولاہ» “ کا ایک خاص سبب ہے، کہا جاتا ہے کہ اسامہ رضی الله عنہ نے جب علی رضی الله عنہ سے یہ کہا: ” «لست مولای إنما مولای رسول الله صلى الله عليه وسلم» “ یعنی میرے مولی تم نہیں ہو بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو اسی موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” «من کنت مولاہ فعليّ مولاہ» “ کہا، امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہاں ولی سے مراد «ولاء الإسلام» یعنی اسلامی دوستی اور بھائی چارگی ہے، اس لیے شیعہ حضرات کا اس جملہ سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہنا کہ علی رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اصل خلافت کے حقدار تھے، صحیح نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (1750)، الروض النضير (171)، المشكاة (6082)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 3299)، و3667)، و مسند احمد (4/368، 372) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَحِمَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ زَوَّجَنِيَ ابْنَتَهُ , وَحَمَلَنِي إِلَى دَارِ الْهِجْرَةِ , وَأَعْتَقَ بِلَالًا مِنْ مَالِهِ، رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ يَقُولُ الْحَقَّ , وَإِنْ كَانَ مُرًّا تَرَكَهُ الْحَقُّ , وَمَا لَهُ صَدِيقٌ، رَحِمَ اللَّهُ عُثْمَانَ تَسْتَحْيِيهِ الْمَلَائِكَةُ، رَحِمَ اللَّهُ عَلِيًّا اللَّهُمَّ أَدِرِ الْحَقَّ مَعَهُ حَيْثُ دَارَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ كَثِيرُ الْغَرَائِبِ، وَأَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ اسْمُهُ: يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ التَّيْمِيُّ كُوفِيٌّ وَهُوَ ثِقَةٌ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے ، انہوں نے اپنی لڑکی سے میری شادی کر دی اور مجھے دارلہجرۃ ( مدینہ ) لے کر آئے اور بلال کو اپنے مال سے ( خرید کر ) آزاد کیا ، اللہ تعالیٰ عمر پر رحم فرمائے وہ حق بات کہتے ہیں ، اگرچہ وہ کڑوی ہو ، حق نے انہیں ایسے حال میں چھوڑا ہے کہ ( اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ ) ان کا کوئی دوست نہیں ، اللہ عثمان پر رحم کرے ان سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں ، اللہ علی پر رحم فرمائے ، اے اللہ ! حق کو ان کے ساتھ پھیر جہاں وہ پھریں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- مختار بن نافع کثیر الغرائب اور بصریٰ شیخ ہیں ، ¤ ۳- ابوحیان تیمی کا نام یحییٰ بن سعید بن حیان تیمی ہے اور یہ کوفی ہیں اور ثقہ ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3714]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا، الضعيفة (2094)، المشكاة (6125) // ضعيف الجامع الصغير (3095) بأتم من هنا //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3714) إسناده ضعيف ¤ المختار بن نافع: ضعيف (تق:6525)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10107) (ضعیف) (سند میں مختار بن نافع ضعیف اور ساقط راوی ہیں، الضعیفة 2094)
|
|
|
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، بِالرَّحَبَةِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحُدَيْبِيَةِ خَرَجَ إِلَيْنَا نَاسٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فِيهِمْ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، وَأُنَاسٌ مِنْ رُؤَسَاءِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجَ إِلَيْكَ نَاسٌ مِنْ أَبْنَائِنَا , وَإِخْوَانِنَا , وَأَرِقَّائِنَا وَلَيْسَ لَهُمْ فِقْهٌ فِي الدِّينِ , وَإِنَّمَا خَرَجُوا فِرَارًا مِنْ أَمْوَالِنَا وَضِيَاعِنَا , فَارْدُدْهُمْ إِلَيْنَا، قَالَ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ فِقْهٌ فِي الدِّينِ سَنُفَقِّهُهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ لَتَنْتَهُنَّ أَوْ لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مَنْ يَضْرِبُ رِقَابَكُمْ بِالسَّيْفِ عَلَى الدِّينِ، قَدِ امْتَحَنَ اللَّهُ قَلْبَهُ عَلَى الْإِيمَانِ "، قَالُوا: مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ وَقَالَ عُمَرُ: مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " هُوَ خَاصِفُ النَّعْلِ وَكَانَ أَعْطَى عَلِيًّا نَعْلَهُ يَخْصِفُهَا، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا عَلِيٌّ "، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ رِبْعِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: وَسَمِعْت الْجَارُودَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ: لَمْ يَكْذِبْ رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ فِي الْإِسْلَامِ كَذْبَةً، وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ، يَقُولُ: مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ أَثْبَتُ أَهْلِ الْكُوفَةِ.
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ ہم سے علی بن ابوطالب رضی الله عنہ نے «رحبیہ» ( مخصوص بیٹھک ) میں بیان کیا ، حدیبیہ کے دن مشرکین میں سے کچھ لوگ ہماری طرف نکلے ، ان میں سہیل بن عمرو اور مشرکین کے کچھ اور سردار بھی تھے یہ سب آ کر کہنے لگے : اللہ کے رسول ! ہمارے بیٹوں ، بھائیوں اور غلاموں میں سے کچھ آپ کی طرف نکل کر آ گئے ہیں ، انہیں دین کی سمجھ نہیں وہ ہمارے مال اور سامانوں کے درمیان سے بھاگ آئے ہیں ، آپ انہیں واپس کر دیجئیے اگر انہیں دین کی سمجھ نہیں تو ہم انہیں سمجھا دیں گے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے گروہ قریش ! تم اپنی نفسیانیت سے باز آ جاؤ ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر ایسے شخص کو بھیجے گا جو تمہاری گردنیں اسی دین کی خاطر تلوار سے اڑائے گا ، اللہ نے اس کے دل کو ایمان کے لیے جانچ لیا ہے ، لوگوں نے عرض کیا : وہ کون شخص ہے ؟ اللہ کے رسول ! اور آپ سے ابوبکر رضی الله عنہ نے بھی پوچھا : وہ کون ہے اللہ کے رسول ؟ اور عمر رضی الله عنہ نے بھی کہ وہ کون ہے اللہ کے رسول ؟ آپ نے فرمایا : ” وہ جوتی ٹانکنے والا ہے ، اور آپ نے علی رضی الله عنہ کو اپنا جوتا دے رکھا تھا ، وہ اسے ٹانک رہے تھے ، ( راوی کہتے ہیں ) پھر علی رضی الله عنہ ہماری جانب متوجہ ہوئے اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جو میرے اوپر جھوٹ باندھے اسے چاہیئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم کو بنا لے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ہم اسے اس سند سے صرف ربعی ہی کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ علی رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں ، ¤ ۲- میں نے جارود سے سنا وہ کہہ رہے تھے : میں نے وکیع کو کہتے ہوئے سنا کہ ربعی بن حراش نے اسلام میں کبھی کوئی جھوٹ نہیں بولا ، ¤ ۳- اور مجھے محمد بن اسماعیل بخاری نے خبر دی اور وہ عبداللہ بن ابی اسود سے روایت کر رہے تھے ، وہ کہتے ہیں : میں نے عبدالرحمٰن بن مہدی کو کہتے سنا : منصور بن معتمر اہل کوفہ میں سب سے ثقہ آدمی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3715]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد، لكن الجملة الأخيرة منه صحيحة متواترة انظر الحديث (2796) // صحيح سنن الترمذي - باختصار السند - (2141 / 2809)، وصحيح سنن النسائي - باختصار السند - 2141 - 2809) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3715) إسناده ضعيف / د 2700 ¤ شريك القاضي عنعن (تقدم:112) وجاء تصريح سماعه فى فضائل الصحابة لاحمد (1105) وسنده ضعيف جدًا ولبعض الحديث شواهد وقول منصور وقول وكيع صحيحان عنهما
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الجھاد 136 (2700)، وانظر أیضا حدیث رقم 2660 (تحفة الأشراف: 10088) (ضعیف الإسناد) (سند میں سفیان بن وکیع ضعیف ہیں، لیکن حدیث کا آخری لفظ ”من کذب …“ دیگر سندوں سے صحیح متواتر ہے، ملاحظہ ہو: حدیث نمبر (2660، اور 2659، اور 2661)
|
|
|
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ إِسْرَائِيلَ. ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: " أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ ". وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی سے فرمایا : ” تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں اور اس حدیث میں ایک واقعہ ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3716]
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (لم یذکرہ المزي، ولیس في بعض النسخ) (صحیح)
|
|
|
21: باب
باب
|
|
|
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي نَصْرٍ، عَنِ الْمُسَاوِرِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَمِعْتُهَا تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يُحِبُّ عَلِيًّا مُنَافِقٌ , وَلَا يَبْغَضُهُ مُؤْمِنٌ ". وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ أَبُو نَصْرٍ الْوَرَّاقُ، وَرَوَى عَنْهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم گروہ انصار ، منافقوں کو علی رضی الله عنہ سے ان کے بغض رکھنے کی وجہ سے خوب پہچانتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف ابوہارون کی روایت سے جانتے ہیں اور شعبہ نے ابوہارون کے سلسلہ میں کلام کیا ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث اعمش سے بھی روایت کی گئی ہے ، جسے انہوں نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3717]
قال الشيخ الألباني:
(حديث أبو سعيد) ضعيف الإسناد جدا، (حديث المساور الحميري عن أمه) ضعيف (حديث المساور الحميري عن أمه)، المشكاة (6091) // ضعيف الجامع الصغير (6330) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3717 ب) سنده حسن ¤ مساور الحميري وأمه وثقهما الترمذي والحاكم (173/4 ح 7328) والذهبي فالسند حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4264) (ضعیف) (سند میں مساور حمیری اور اس کی ماں دونوں مجہول راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي نَصْرٍ، عَنِ الْمُسَاوِرِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَمِعْتُهَا تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يُحِبُّ عَلِيًّا مُنَافِقٌ , وَلَا يَبْغَضُهُ مُؤْمِنٌ ". وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ أَبُو نَصْرٍ الْوَرَّاقُ، وَرَوَى عَنْهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ.
مساور حمیری اپنی ماں سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتی ہیں کہ میں ام سلمہ رضی الله عنہا کے پاس آئی تو میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ” علی سے کوئی منافق دوستی نہیں کرتا اور نہ کوئی مومن ان سے بغض رکھتا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ¤ ۲- عبداللہ بن عبدالرحمٰن سے مراد ابونصر وراق ہیں اور ان سے سفیان ثوری نے روایت کی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3717M]
قال الشيخ الألباني:
(حديث أبو سعيد) ضعيف الإسناد جدا، (حديث المساور الحميري عن أمه) ضعيف (حديث المساور الحميري عن أمه)، المشكاة (6091) // ضعيف الجامع الصغير (6330) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3717 ب) سنده حسن ¤ مساور الحميري وأمه وثقهما الترمذي والحاكم (173/4 ح 7328) والذهبي فالسند حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4264) (ضعیف) (سند میں مساور حمیری اور اس کی ماں دونوں مجہول راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ ابْنُ بِنْتِ السُّدِّيِّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي بِحُبِّ أَرْبَعَةٍ , وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ "، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِّهِمْ لَنَا؟ قَالَ: " عَلِيٌّ مِنْهُمْ يَقُولُ ذَلِكَ ثَلَاثًا، وَأَبُو ذَرٍّ، وَالْمِقْدَادُ، وَسَلْمَانُ، أَمَرَنِي بِحُبِّهِمْ وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ.
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ نے مجھے چار شخصوں سے محبت کا حکم دیا ہے ، اور مجھے بتایا ہے کہ وہ بھی ان سے محبت کرتا ہے “ ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! ہمیں ان کا نام بتا دیجئیے ، آپ نے فرمایا : ” علی انہیں میں سے ہیں “ ، آپ اس جملہ کو تین بار دہرا رہے تھے ” اور باقی تین : ابوذر ، مقداد اور سلمان ہیں ، مجھے اللہ نے ان لوگوں سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے ، اور مجھے اس نے بتایا ہے کہ وہ بھی ان لوگوں سے محبت رکھتا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3718]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (149) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (28)، ضعيف الجامع الصغير (1566) //
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (149) (تحفة الأشراف: 2008)، و مسند احمد (5/356) (ضعیف) (سند میں ابو ربیعہ ایادی لین الحدیث، اور شریک القاضی ضعیف الحفظ ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلِيٌّ مِنِّي , وَأَنَا مِنْ عَلِيٍّ، وَلَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا أَنَا أَوْ عَلِيٌّ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
حبشی بن جنادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں اور میری جانب سے نقض عہد کی بات میرے یا علی کے علاوہ کوئی اور ادا نہیں کرے گا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3719]
💡 وضاحت:
۱؎: اہل عرب کا یہ طریقہ تھا کہ نقض عہد یا صلح کی تنفیذ کا اعلان جب تک قوم کے سردار یا اس کے کسی خاص قریبی فرد کی طرف سے نہ ہوتا وہ اسے قبول نہ کرتے تھے، اسی لیے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ کو امیر الحجاج بنا کر بھیجا اور پھر بعد میں اللہ کے اس فرمان «إنما المشركون نجس فلا يقربوا المسجد الحرام بعد عامهم هذا» (سورة التوبة: 28) کے ذریعہ اعلان برأت کی خاطر علی رضی الله عنہ کو بھیجا تو آپ نے علی کی تکریم میں اسی موقع پر یہ بات فرمائی: «علی منی و أنا من علی و لا یؤدی عنی الا أنا أو علی» ۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، ابن ماجة (119)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (119) (تحفة الأشراف: 3290)، و مسند احمد (4/164، 95) (حسن) (سند میں شریک القاضی ضعیف الحفظ اور ابواسحاق سبیعی مدلس وصاحب اختلاط راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم 1980، وتراجع الالبانی 378)
|
|
|
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ عَلِيٌّ تَدْمَعُ عَيْنَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ آخَيْتَ بَيْنَ أَصْحَابِكَ وَلَمْ تُؤَاخِ بَيْنِي وَبَيْنَ أَحَدٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أَوْفَى.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے درمیان باہمی بھائی چارا کرایا تو علی رضی الله عنہ روتے ہوئے آئے اور کہا : اللہ کے رسول ! آپ نے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارا کرایا ہے اور میری بھائی چارگی کسی سے نہیں کرائی ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” تم میرے بھائی ہو دنیا اور آخرت دونوں میں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں زید بن ابی اوفی سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3720]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6084) // ضعيف الجامع الصغير (1325) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3720) إسناده ضعيف ¤ حكيم بن جبير: ضعيف (تقدم:155) وشيخه جميع بن عمير: ضعيف (تقدم:3670)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6677) (ضعیف) (سند میں حکیم بن جبیر ضعیف رافضی ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عِيسَى بْنِ عُمَرَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَيْرٌ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي هَذَا الطَّيْرَ "، فَجَاءَ عَلِيٌّ فَأَكَلَ مَعَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ السُّدِّيِّ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ، وَعِيسَى بْنُ عُمَرَ هُوَ كُوفِيٌّ، وَالسُّدِّيُّ اسْمُهُ: إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَقَدْ أَدْرَكَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَرَأَى الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ , وَزَائِدَةُ , وَوَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پرندہ تھا ، آپ نے دعا فرمائی کہ ” اے للہ ! میرے پاس ایک ایسے شخص کو لے آ جو تیری مخلوق میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہوتا کہ وہ میرے ساتھ اس پرندہ کا گوشت کھائے ، تو علی آئے اور انہوں نے آپ کے ساتھ کھانا کھایا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے سدی کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے ، ¤ ۳- عیسیٰ بن عمر کوفی ہیں ¤ ۴- اور سدی کا نام اسماعیل بن عبدالرحمٰن ہے ، اور ان کا سماع انس بن مالک سے ہے ، اور حسین بن علی کی رؤیت بھی انہیں حاصل ہے ، شعبہ ، سفیان ثوری اور زائدہ نے ان کی توثیق کی ہے ، نیز یحییٰ بن سعید القطان نے بھی انہیں ثقہ کہا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3721]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6085)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 228) (ضعیف) (سند میں سفیان بن وکیع ضعیف اور ساقط الحدیث ہیں، اور اسماعیل بن عبد الرحمن السدی الکبیر روایت میں وہم کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ تشیع سے متہم، اور اس روایت میں تشیع ہے بھی)
|
|
|
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ الْجَمَلِيِّ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: " كُنْتُ إِذَا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي، وَإِذَا سَكَتُّ ابْتَدَأَنِي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب بھی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگتا تو آپ مجھے دیتے تھے اور جب میں چپ رہتا تو خود ہی پہل کرتے “ ( دینے میں یا بولنے میں ) ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3722]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6086)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3722) إسناده ضعيف ¤ عبدالله بن عمرو بن هند لم يسمع من على رضى الله عنه (المراسيل لابن أبى حاتم ص 109) وجاء فى المستدرك (125/3 ح 4630) ”سمعت علياً رضى الله عنه“! وللحديث لون آخر فى خصائص النسائي (121) و فضائل الصحابة للإمام أحمد (زوائد القطيعي:1099)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10200) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن عمرو بن ہند جملی کا علی رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے، یعنی: سند میں انقطاع ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الرُّومِيِّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا دَارُ الْحِكْمَةِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ مُنْكَرٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ شَرِيكٍ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ وَاحِدٍ مِنَ الثِّقَاتِ، عَنْ شَرِيكٍ، وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ، اور منکر ہے ، ¤ ۲- بعض راویوں نے اس حدیث کو شریک سے روایت کیا ہے ، اور انہوں نے اس میں صنابحی کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے ، اور ہم نہیں جانتے کہ یہ حدیث کسی ثقہ راوی کے واسطہ سے شریک سے آئی ہو ، اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3723]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6087) // ضعيف الجامع الصغير (6087) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3723) إسناده ضعيف ¤ شريك عنعن (تقدم:112) ولم يثبت تصريح سماعه وللحديث شواهد ضعيفة
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10209) (موضوع) (سند میں شریک القاضی حافظہ کے ضعیف ہیں اور شریک کے سوا کسی نے سند میں صنابحی کا ذکر نہیں کیا ہے، جس سے پتہ چلا کہ سند میں انقطاع بھی ہوا ہے، اس حدیث پر ابن الجوزی اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے موضوع کا حکم لگایا ہے، ابن تیمیہ کہتے ہیں: یہ حدیث ضعیف بلکہ عارفین حدیث کے یہاں موضوع ہے، لیکن ترمذی وغیرہ نے اس کی روایت کی ہے بایں ہمہ یہ جھوٹ ہے، اس حدیث کی مفصل تخریج ہم نے اپنی کتاب شیخ الاسلام ابن تیمیہ وجہودہ فی الحدیث وعلومہ میں کی ہے حدیث نمبر 376)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَمَّرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا , فَقَالَ: مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا تُرَابٍ؟ قَالَ: أَمَّا مَا ذَكَرْتَ ثَلَاثًا قَالَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَنْ أَسُبَّهُ لَأَنْ تَكُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ وَخَلَفَهُ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَخْلُفُنِي مَعَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي "، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ: " لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ "، قَالَ: فَتَطَاوَلْنَا لَهَا، فَقَالَ: " ادْعُوا لِي عَلِيًّا " , فَأَتَاهُ وَبِهِ رَمَدٌ فَبَصَقَ فِي عَيْنِهِ، فَدَفَعَ الرَّايَةَ إِلَيْهِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ سورة آل عمران آية 61 الْآيَةَ، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا , وَفَاطِمَةَ , وَحَسَنًا , وَحُسَيْنًا , فَقَالَ: " اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہ نے ان کو امیر بنایا تو پوچھا کہ تم ابوتراب ( علی ) کو برا بھلا کیوں نہیں کہتے ؟ انہوں نے کہا : جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد رہیں گی جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میں انہیں ہرگز برا نہیں کہہ سکتا ، اور ان میں سے ایک کا بھی میرے لیے ہونا مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میرے لیے سرخ اونٹ ہوں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علی رضی الله عنہ سے فرماتے ہوئے سنا ہے ( آپ نے انہیں اپنے کسی غزوہ میں مدینہ میں اپنا جانشیں مقرر کیا تھا تو آپ سے علی رضی الله عنہ نے کہا تھا : اللہ کے رسول ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑے جا رہے ہیں ) ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تم میرے لیے اسی طرح ہو جس طرح ہارون موسیٰ کے لیے تھے ، مگر فرق صرف اتنا ہے کہ میرے بعد نبوت نہیں “ ۱؎ ، اور دوسری یہ کہ میں نے آپ کو خیبر کے دن فرماتے ہوئے سنا کہ آج میں پرچم ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اس سے اللہ اور اس کے رسول بھی محبت کرتے ہیں ، سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں تو ہم سب نے اس کے لیے اپنی گردنیں بلند کیں ، یعنی ہم سب کو اس کی خواہش ہوئی ، آپ نے فرمایا : ” علی کو بلاؤ “ ، چنانچہ وہ آپ کے پاس آئے اور انہیں آشوب چشم کی شکایت تھی تو آپ نے اپنا لعاب مبارک ان کی آنکھ میں لگایا اور پرچم انہیں دے دیا چنانچہ اللہ نے انہیں فتح دی ، تیسری بات یہ ہے کہ جب آیت کریمہ «ندع أبناءنا وأبناءكم ونساءنا ونساءكم» اتری ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی ، فاطمہ ، حسن اور حسین رضی الله عنہم کو بلایا اور فرمایا : ” اے اللہ ! یہ میرے اہل ہیں “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3724]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ علی رضی الله عنہ کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہایت قریب ہونے کی دلیل ہے، نیز یہ ختم نبوت کی ایک واضح دلیل ہے۔
۲؎: اس آیت مباہلہ میں جن لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اہل مراد لیا گیا ان میں علی رضی الله عنہ بھی شامل کئے گئے، «ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء» (الجمعة: ۴)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل الصحابة 9 (3706)، والمغازي 78 (4416)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 4 (2404/32)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (121)، (تحفة الأشراف: 3872)، و مسند احمد (1/170، 177) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ أَبُو الْجَوَّابِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَيْنِ , وَأَمَّرَ عَلَى أَحَدِهِمَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَعَلَى الْآخَرِ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَقَالَ: " إِذَا كَانَ الْقِتَالُ فَعَلِيٌّ "، قَالَ: فَافْتَتَحَ عَلِيٌّ حِصْنًا فَأَخَذَ مِنْهُ جَارِيَةً، فَكَتَبَ مَعِي خَالِدٌ كِتَابًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشِي بِهِ، قَالَ: فَقَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ الْكِتَابَ فَتَغَيَّرَ لَوْنُهُ، ثُمَّ قَالَ: " مَا تَرَى فِي رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ , وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ "، قَالَ: قُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ، وَإِنَّمَا أَنَا رَسُولٌ فَسَكَتَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لشکر بھیجے اور ان دونوں میں سے ایک کا امیر علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کو اور دوسرے کا خالد بن ولید رضی الله عنہ کو بنایا اور فرمایا : ” جب لڑائی ہو تو علی امیر رہیں گے چنانچہ علی رضی الله عنہ نے ایک قلعہ فتح کیا اور اس سے ( مال غنیمت میں سے ) ایک لونڈی لے لی ، تو میرے ساتھ خالد رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خط لکھ کر بھیجا جس میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے علی رضی الله عنہ کی شکایت کر رہے تھے ، وہ کہتے ہیں : چنانچہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ نے خط پڑھا تو آپ کا رنگ متغیر ہو گیا پھر آپ نے فرمایا : ” تم کیا چاہتے ہو ایک ایسے شخص کے سلسلے میں جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں “ ، وہ کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : میں اللہ اور اس کے رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ، میں تو صرف ایک قاصد ہوں ، پھر آپ خاموش ہو گئے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3725]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد ومضى برقم (1756) // (286 / 1772) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3725) إسناده ضعيف / تقدم:1704
تخریج دارالدعوہ:
انظر رقم: 1704 (ضعیف الإسناد)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا يَوْمَ الطَّائِفِ فَانْتَجَاهُ، فَقَالَ النَّاسُ: لَقَدْ طَالَ نَجْوَاهُ مَعَ ابْنِ عَمِّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا انْتَجَيْتُهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ انْتَجَاهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْأَجْلَحِ، وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ ابْنِ فُضَيْلٍ أَيْضًا، عَنِ الْأَجْلَحِ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: وَلَكِنَّ اللَّهَ انتجاه يَقُولُ: اللَّهُ أَمَرَنِي أَنْ أَنْتَجِيَ مَعَهُ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ طائف کے دن علی رضی الله عنہ کو بلایا اور ان سے سرگوشی کے انداز میں کچھ باتیں کیں ، لوگ کہنے لگے : آپ نے اپنے چچا زاد بھائی کے ساتھ بڑی دیر تک سرگوشی کی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے ان سے سرگوشی نہیں کی ہے بلکہ اللہ نے ان سے سرگوشی کی ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اجلح کی روایت سے جانتے ہیں ، اور اسے ابن فضیل کے علاوہ دوسرے راویوں نے بھی اجلح سے روایت کیا ہے ، ¤ ۲- آپ کے قول ” بلکہ اللہ نے ان سے سرگوشی کی ہے “ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے مجھے ان کے ساتھ سرگوشی کا حکم دیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3726]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6088)، الضعيفة (3084) // ضعيف الجامع الصغير (5022) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3726) إسناده ضعيف ¤ أبو الزبير عنعن (تقدم: 10)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2654) (ضعیف) (سند میں ابوالزبیر مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: " يَا عَلِيُّ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يُجْنِبَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ غَيْرِي وَغَيْرِكَ ". قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ: قُلْتُ لِضِرَارِ بْنِ صُرَدٍ: مَا مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ؟ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يَسْتَطْرِقُهُ جُنُبًا غَيْرِي وَغَيْرِكَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ سَمِعَ مِنِّي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل هَذَا الْحَدِيثَ فَاسْتَغْرَبَهُ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ سے فرمایا : ” علی ! میرے اور تمہارے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس مسجد میں جنبی رہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- علی بن منذر کہتے ہیں : میں نے ضرار بن صرد سے پوچھا : اس حدیث کا مفہوم کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے اور تمہارے علاوہ کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ حالت جنابت میں وہ اس مسجد میں سے گزرے ، ¤ ۳- مجھ سے محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو سنا تو وہ اچنبھے میں پڑ گئے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3727]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6089)، الضعيفة (4973) // ضعيف الجامع الصغير (6402) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3727) إسناده ضعيف ¤ عطية: ضعيف (تقدم:477)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4203) (ضعیف) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف ہیں، اور سالم بن ابی حفصہ غالی شیعہ ہے، اور روایت میں تشیع ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمُلَائِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ , وَصَلَّى عَلِيٌّ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَهَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ، وَمُسْلِمٌ الْأَعْوَرُ لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ حَبَّةَ، عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَ هَذَا.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوشنبہ کو مبعوث کیا گیا اور علی نے منگل کو نماز پڑھی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اور یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف مسلم اعور کی روایت سے جانتے ہیں اور مسلم اعور محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں ، ¤ ۲- اسی طرح یہ حدیث مسلم اعور سے بھی آئی ہے اور مسلم نے حبہ کے واسطہ سے اسی طرح علی سے روایت کی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3728]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3728) إسناده ضعيف ¤ علي بن عابس وشيخه مسلم الملائي الأعور ضعيفان (تق:4757، مسلم الملائي تقدم: 984)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1589) (ضعیف الإسناد) (سند میں علی بن عابس اور مسلم بن کیسان اعور دونوں ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا خَلادُ بْنُ أَسْلَمَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ الْجَمَلِيِّ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: كُنْتُ إِذَا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي وَإِذَا سَكَتُّ ابْتَدَأَنِي. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
عبداللہ بن عمرو بن ہند جملی سے روایت ہے کہ علی رضی الله عنہ کہتے تھے : جب بھی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگتا تو آپ مجھے دیتے تھے اور جب میں چپ رہتا تو خود ہی پہل کرتے ( دینے میں یا بولنے میں ) ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3729]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3729) إسناده ضعيف / تقدم:3722
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 3722 (ضعیف)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ: " أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ سے فرمایا : ” تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے تھے ، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں “ ۔ ( اور ہارون علیہ السلام اللہ کے نبی تھے ) ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں سعد ، زید بن ارقم ، ابوہریرہ اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3730]
قال الشيخ الألباني:
صحيح بما قبله (3729)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2370) (صحیح) (سند میں شریک القاضی ضعیف الحفظ ہیں، مگر سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کی حدیث (3724) سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ: " أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُسْتَغْرَبُ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ.
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ سے فرمایا : ” تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے ہارون ، موسیٰ کے لیے تھے ، مگر اتنی بات ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ¤ ۲- اور یہ سعد بن ابی وقاص کے واسطہ سے جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کئی سندوں سے آئی ہے ، ¤ ۳- اور یحییٰ بن سعید انصاری کی سند سے یہ حدیث غریب سمجھی جاتی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3731]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (121)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 2830 (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِسَدِّ الْأَبْوَابِ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ کے دروازے کے علاوہ ( مسجد نبوی میں کھلنے والے تمام ) دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے شعبہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3732]
💡 وضاحت:
۱؎: مناقب ابی بکر رضی الله عنہ میں یہ حدیث گزری کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ کے دروازے کے سوا مسجد نبوی میں کھلنے والے سارے دروازوں کو بند کر دینے کا حکم دیا“ ان دونوں حدیثوں کے درمیان بظاہر نظر آنے والے تعارض کو اس طرح دور کیا گیا ہے، کہ شروع میں مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے سوائے علی رضی الله عنہ کے بند کر دینے کا حکم ہوا، تو لوگوں نے دروازے بند کر کے روشندان کھول لیے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض کے ایام میں آپ نے ابوبکر رضی الله عنہ کے روشندان کے سوا سارے لوگوں کے روشندان بند کر دیئے، (یہ روشندان اوپر بھی ہوتے تھے اور نیچے بھی، نیچے والے سے لوگ آمدورفت بھی کرتے تھے، مسجد کی طرف دروازوں کے بند ہو جانے کے بعد مسجد میں آنے جانے کے لیے لوگوں نے استعمال کرنا شروع کر دیا تھا، «کما فی کتب مشکل الحدیث» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الضعيفة تحت الحديث (4932 و 4951)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6314) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي أَخِي مُوسَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ حَسَنٍ , وَحُسَيْنٍ , فَقَالَ: " مَنْ أَحَبَّنِي وَأَحَبَّ هَذَيْنِ , وَأَبَاهُمَا , وَأُمَّهُمَا كَانَ مَعِي فِي دَرَجَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین رضی الله عنہما کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : ” جو مجھ سے محبت کرے ، اور ان دونوں سے ، اور ان دونوں کے باپ اور ان دونوں کی ماں سے محبت کرے ، تو وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے درجہ میں ہو گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے جعفر بن محمد کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3733]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الضعيفة (3122)، تخريج المختارة (392 - 397) // ضعيف الجامع الصغير (5344) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3733) إسناده ضعيف ¤ علي بن جعفر مقبول (تق: 4699) أى مجهول الحال، ولم يوثقه غير الترمذي فيما أعلم والحديث غريب جدًا
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10073)، و مسند احمد (1/77) (ضعیف) (سند میں علی بن جعفر مجہول ہیں، اور حدیث کا متن منکر ہے، ملاحظہ ہو الضعیفة رقم: 3122)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " أَوَّلُ مَنْ صَلَّى عَلِيٌّ ". قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ حُمَيْدٍ، وَأَبُو بَلْجٍ اسْمُهُ: يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ عَلِيٌّ، وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ الرِّجَالِ أَبُو بَكْرٍ، وَأَسْلَمَ عَلِيٌّ وَهُوَ غُلَامٌ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ، وَأَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ النِّسَاءِ خَدِيجَةُ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ پہلے پہل جس نے نماز پڑھی وہ علی رضی الله عنہ ہیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ، شعبہ کی یہ حدیث جسے وہ ابوبلج سے روایت کرتے ہیں ہم اسے صرف محمد بن حمید کی روایت سے جانتے ہیں اور ابوبلج کا نام یحییٰ بن سلیم ہے ، ¤ ۲- اہل علم نے اس سلسلہ میں اختلاف کیا ہے ، بعض راویوں نے کہا ہے کہ پہلے پہل جس نے اسلام قبول کیا ہے وہ ابوبکر صدیق رضی الله عنہ ہیں ، اور بعضوں نے کہا ہے کہ پہلے پہل جو اسلام لائے ہیں وہ علی رضی الله عنہ ہیں ، اور بعض اہل علم نے کہا ہے : بڑے مردوں میں جو پہلے پہل اسلام لائے ہیں وہ ابوبکر رضی الله عنہ ہیں اور علی رضی الله عنہ جب اسلام لائے تو وہ آٹھ سال کی عمر کے لڑکے تھے ، اور عورتوں میں جو سب سے پہلے اسلام لائی ہیں وہ خدیجہ رضی الله عنہا ہیں ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3734]
💡 وضاحت:
۱؎: اور یہی قول سب سے بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الضعيفة تحت الحديث م (4932)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (6315) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَال: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، يَقُولُ: " أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ عَلِيٌّ، قَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، فَأَنْكَرَهُ فَقَالَ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو حَمْزَةَ اسْمُهُ: طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ.
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا وہ علی رضی الله عنہ ہیں ۔ عمرو بن مرہ کہتے ہیں : میں نے اسے ابراہیم نخعی سے ذکر کیا تو انہوں نے اس کا انکار کیا اور کہا : سب سے پہلے جس نے اسلام قبول کیا وہ ابوبکر صدیق رضی الله عنہ ہیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3735]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد عن زيد، متصل عن النخعى
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 3664) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عُثْمَانَ ابْنِ أَخِي يَحْيَى بْنِ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " لَقَدْ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يَبْغَضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ ". قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ: أَنَا مِنَ الْقَرْنِ الَّذِينَ دَعَا لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” تم سے صرف مومن ہی محبت کرتا ہے اور منافق ہی بغض رکھتا ہے “ ۱؎ ۔ عدی بن ثابت کہتے ہیں : میں اس طبقے کے لوگوں میں سے ہوں ، جن کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3736]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے شرعی محبت اور عداوت مراد ہے، مثلاً ایک آدمی علی سے تو محبت رکھتا ہے مگر ابوبکر و عمر رضی الله عنہما سے بغض رکھتا ہے تو اس کی محبت ایمان کی علامت نہیں ہو گی، اور جہاں تک بغض کا معاملہ ہے، تو صرف علی رضی الله عنہ سے بھی بغض ایمان کی نفی کے لیے کافی ہے، خواہ وہ ابوبکر و عمر و عثمان رضی الله عنہم سے محبت ہی کیوں نہ رکھتا ہو۔
۲؎: یعنی: ارشاد نبوی ”اے اللہ تو اس سے محبت رکھ جو علی سے محبت رکھتا ہے“، کہ مصداق میں اس دعائے نبوی کے افراد میں شامل ہوں کیونکہ میں علی رضی الله عنہ سے محبت رکھتا ہوں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (114)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإیمان 33 (78)، سنن النسائی/الإیمان 19 (5021)، و20 (5025)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (114) (تحفة الأشراف: 10092) و مسند احمد (1/84، 95) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , وَغَيْرُ وَاحِدٍ , قَالُوا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ صُبَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ شَرَاحِيلَ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا فِيهِمْ عَلِيٌّ، قَالَتْ: فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ لَا تُمِتْنِي حَتَّى تُرِيَنِي عَلِيًّا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا جس میں علی رضی الله عنہ بھی تھے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے یہ دعا فرما رہے تھے : «اللهم لا تمتني حتى تريني عليا» ” اے اللہ ! تو مجھے مارنا نہیں جب تک کہ مجھے علی کو دکھا نہ دے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3737]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6090)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3737) إسناده ضعيف ¤ أبو الجراح: مجهول و أم شراحيل: لايعرف حالها (تق:8013، 8738)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 18142) (ضعیف) (سند میں ام شراحیل مجہول راوی ہیں)
|
|
|
22: باب مَنَاقِبِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رضى الله عنه
باب: طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ دِرْعَانِ، فَنَهَضَ إِلَى صَخْرَةٍ فَلَمْ يَسْتَطِعْ , فَأَقْعَدَ تَحْتَهُ طَلْحَةَ، فَصَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَوَى عَلَى الصَّخْرَةِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَوْجَبَ طَلْحَةُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو زرہیں پہنے ہوئے تھے ، آپ ایک چٹان پر چڑھنے لگے لیکن چڑھ نہ سکے تو اپنے نیچے طلحہ کو بٹھایا اور چڑھے یہاں تک کہ چٹان پر سیدھے کھڑے ہو گئے ، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” طلحہ نے اپنے لیے ( جنت ) واجب کر لی “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3738]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اپنے اس فدائیانہ و فدویانہ عمل کے طفیل طلحہ رضی الله عنہ جنت کے حقدار قرار دئیے گئے، یعنی دنیا ہی میں ان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے جنت کی بشارت مل گئی۔
قال الشيخ الألباني:
حسن مضى برقم (1759)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 1692 (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطُّلَحِيُّ مِنْ وَلَدِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى شَهِيدٍ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الصَّلْتِ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الصَّلْتِ بْنِ دِينَارٍ، وَفِي صَالِحِ بْنِ مُوسَى مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِمَا.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس کو اس بات سے خوشی ہو کہ وہ کسی شہید کو ( دنیا ہی میں ) زمین پر چلتا ہوا دیکھے تو اسے چاہیئے کہ وہ طلحہ کو دیکھ لے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف صلت کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- بعض اہل علم نے صلت بن دینار اور صالح بن موسیٰ کے سلسلہ میں ان دونوں کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3739]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ معجزات رسول میں سے ایک معجزہ تھا، چنانچہ طلحہ رضی الله عنہ اس معجزہ نبوی کے مطابق واقعہ جمل میں شہید ہوئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (125)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3739) ضعيف/ جه 125 ¤ صالح بن موسٰي وشيخه الصلت بن دينار متروكان (تق:2891، 2947) ولم أجد له طريقًا صحيحًا ولا حسنًا
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (125) (تحفة الأشراف: 3103) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ , فَقَالَ: أَلَا أُبَشِّرُكَ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " طَلْحَةُ مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ ". قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں معاویہ رضی الله عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے کہا : کیا میں تمہیں یہ خوشخبری نہ سناؤں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” طلحہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے سلسلہ میں اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ اپنا کام پورا کر چکے ہیں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے معاویہ رضی الله عنہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3740]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ اللہ تعالیٰ کے قول «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر» (الأحزاب: 23) کی طرف اشارہ ہے، یعنی: ”مومنوں میں ایسے بھی لوگ ہیں جنہوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد و پیمان (صبر و ثبات) کو سچ کر دکھایا، ان میں سے بعض نے تو اپنی نذر پوری کر دی، اور بعض وقت کا انتظار کر رہے ہیں“۔
قال الشيخ الألباني:
حسن وهو مكرر الحديث (3432)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3740) إسناده ضعيف / تقدم:3202
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 3202 (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ مَنْصُورٍ الْعَنَزِيُّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ الْيَشْكُرِيِّ، قَال: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: سَمِعَتْ أُذُنِي مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهُوَ يَقُولُ: " طَلْحَةُ , وَالزُّبَيْرُ جَارَايَ فِي الْجَنَّةِ ". قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
عقبہ بن علقمہ یشکری کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میرے کانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زبان مبارک سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے : ” طلحہ اور زبیر دونوں میرے جنت کے پڑوسی ہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3741]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6114)، الضعيفة (2311) // ضعيف الجامع الصغير (3627) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3741) إسناده ضعيف ¤ عقبة بن علقمة اليشكري و أبو عبدالرحمن النضر بن منصور ضعيفان (تق:4646، 7150) وصححه الحاكم (364/3 ح 5562) فتعقبه الذهبي
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10243) (ضعیف) (سند میں ابو عبد الرحمن نضر بن منصور اور عقبہ بن علقمة یشکری دونوں ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى , وَعِيسَى ابني طلحة، عَنْ أَبِيهِمَا طَلْحَةَ، أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِأَعْرَابِيٍّ جَاهِلٍ: سَلْهُ عَمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ مَنْ هُوَ؟ وَكَانُوا لَا يَجْتَرِئُونَ هُمْ عَلَى مَسْأَلَتِهِ يُوَقِّرُونَهُ وَيَهَابُونَهُ، فَسَأَلَهُ الْأَعْرَابِيُّ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ إِنِّي اطَّلَعْتُ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ وَعَلَيَّ ثِيَابٌ خُضْرٌ، فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيْنَ السَّائِلُ عَمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ؟ "، قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " هَذَا مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ، وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ كِبَارِ أَهْلِ الْحَدِيثِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ بِهَذَا الْحَدِيثَ، وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل يُحَدِّثُ بِهَذَا، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ وَوَضَعَهُ فِي كِتَابِ الْفَوَائِدِ.
طلحہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ نے ایک جاہل اعرابی سے کہا : تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «من قضى نحبه» کے متعلق پوچھو کہ اس سے کون مراد ہے ، صحابہ کا یہ حال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس قدر احترام کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پر اتنی ہیبت طاری رہتی تھی کہ وہ آپ سے سوال کی جرات نہیں کر پاتے تھے ، چنانچہ اس اعرابی نے آپ سے پوچھا تو آپ نے اپنا منہ پھیر لیا ، اس نے پھر پوچھا : آپ نے پھر منہ پھیر لیا پھر میں مسجد کے دروازے سے نکلا ، میں سبز کپڑے پہنے ہوئے تھا ، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا : ” «من قضى نحبه» کے متعلق پوچھنے والا کہاں ہے ؟ “ اعرابی بولا : میں موجود ہوں اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” یہ «عن قضی نحبہ» میں سے ہیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف ابوکریب کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ یونس بن بکیر سے روایت کرتے ہیں ، ¤ ۲- کبار محدثین میں سے متعدد لوگوں نے ابوکریب سے روایت کی ہے ، ¤ ۳- میں نے اسے محمد بن اسماعیل بخاری کو ابوکریب کے واسطہ سے بیان کرتے سنا ہے ، اور انہوں نے اس حدیث کو اپنی کتاب ” کتاب الفوائد “ میں رکھا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3742]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح وهو مكرر الحديث (3433)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 3202 (حسن صحیح)
|
|
|
23: باب مَنَاقِبِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رضى الله عنه
باب: زبیر بن عوام رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الزُّبَيْرِ، قَالَ: جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ قُرَيْظَةَ، فَقَالَ: " بِأَبِي وَأُمِّي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریظہ کے دن اپنے ماں اور باپ دونوں کو میرے لیے جمع کیا اور فرمایا : ” میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3743]
💡 وضاحت:
۱؎: اور یہ زبیر سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نہایت قربت کی دلیل ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل الصحابة 13 (3720)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 6 (2416)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (123) (تحفة الأشراف: 3622) (صحیح)
|
|
|
24: باب
باب: زبیر بن عوام رضی الله عنہ کے مناقب پر ایک اور باب
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا , وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَيُقَالُ: الْحَوَارِيُّ هُوَ النَّاصِرُ، سَمِعْت ابْنَ أَبِي عُمَرَ يَقُولُ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: الْحَوَارِيُّ هُوَ النَّاصِرُ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں ۱؎ اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اور حواری مددگار کو کہا جاتا ہے ، میں نے ابن ابی عمر کو کہتے ہوئے سنا کہ سفیان بن عیینہ نے کہا ہے کہ حواری کے معنی مددگار کے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3744]
💡 وضاحت:
۱؎: یوں تو سبھی صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مددگار تھے، مگر زبیر رضی الله عنہ میں یہ خصوصیت بدرجہ اتم تھی، اس لیے خاص طور سے آپ نے اس کا تذکرہ کیا اور اس کا ایک خاص پس منظر ہے جس کا بیان اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح، ابن ماجة (122)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10096) (صحیح) (یہ سند حسن ہے، اور یہ حدیث جابر رضی الله عنہ سے متفق علیہ مروی ہے، ملاحظہ ہو: ابن ماجہ 122)
|
|
|
25: باب
باب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، وَأَبُو نُعَيْمٍ , عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا , وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ". وَزَادَ أَبُو نُعَيْمٍ فِيهِ يَوْمَ الْأَحْزَابِ، قَالَ: مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ؟ قَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں “ ۱؎ ، اور ابونعیم نے اس میں «یوم الأحزاب» ( غزوہ احزاب ) کا اضافہ کیا ہے ، آپ نے فرمایا : ” کون میرے پاس کافروں کی خبر لائے گا ؟ “ تو زبیر رضی الله عنہ بولے : میں ، آپ نے تین بار اسے پوچھا اور زبیر رضی الله عنہ نے ہر بار کہا : میں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3745]
💡 وضاحت:
۱؎: غزوہ احزاب کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کفار کی سرگرمیوں کا پتہ لگانے کے لیے یہ اعلان کیا کہ کون ہے جو مجھے کافروں کے حال سے باخبر کرے اور ایسا آپ نے تین بار کہا، تینوں مرتبہ زبیر رضی الله عنہ کے سوا کسی نے بھی جواب نہیں دیا، اسی موقع پر آپ نے زبیر رضی الله عنہ کے حق میں یہ فرمایا تھا: «ان لکل نبی حواریا و ان حواری الزبیر بن العوام» یہ بھی یاد رکھئیے کہ زبیر بن عوام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سگی پھوپھی صفیہ رضی الله عنہا کے بیٹے تھے، اور ان کی شادی ام المؤمنین عائشہ کی بڑی بہن اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہم کے ساتھ ہوئی تھی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح انظر ما قبله (3744)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجھاد 40 (2846)، و41 (2847)، 135 (2997)، وفضائل الصحابة 13 (3719)، والمغازي 29 (4113)، والآحاد 2 (7261)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 6 (2415)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (122) (تحفة الأشراف: 3020) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ صَخْرِ بْنِ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: أَوْصَى الزُّبَيْرُ إِلَى ابْنِهِ عَبْدِ اللَّهِ صَبِيحَةَ الْجَمَلِ، فَقَالَ: " مَا مِنِّي عُضْوٌ إِلَّا وَقَدْ جُرِحَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَهَى ذَاكَ إِلَى فَرْجِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.
ہشام بن عروہ کہتے ہیں کہ زبیر رضی الله عنہ نے اپنے بیٹے عبداللہ ( رضی الله عنہما ) کو جنگ جمل کی صبح کو وصیت کی اور کہا : میرا کوئی عضو ایسا نہیں ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں زخمی نہ ہوا ہو یہاں تک کہ میری شرمگاہ بھی ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ حماد بن زید کی روایت سے یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3746]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ وصیت انہوں نے اس لیے کی کہ جو قربانیاں ہم نے غلبہ دین حق کے لیے دی تھیں اور اسلام ان قربانیوں کے عوض دنیا پر غالب آ گیا ہے، آج اسی قوت، طاقت، صلاحیت اور قربانی کو ہم آپس میں ضائع کر رہے ہیں چنانچہ زبیر رضی الله عنہ جنگ جمل سے دست بردار ہو کر واپس مکہ (یا مدینہ طیبہ) کی طرف پلٹ آئے تھے اور آپ کو راستے میں کسی نے شہید کر دیا تھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3746) إسناده ضعيف ¤ هشام لم يدرك الزبير واستطهر المزي فى تحفة الأشراف (180/3) بأنه رواه عن عبدالله بن الزبير به وإن صح هذا فالسند صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3627) (صحیح الإسناد)
|
|
|
26: باب مَنَاقِبِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رضى الله عنه
باب: عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدٌ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعِيدٌ فِي الْجَنَّةِ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فِي الْجَنَّةِ ". أَخْبَرَنَا أَبُو مُصْعَبٍ قِرَاءَةً، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ.
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوبکر جنتی ہیں ، عمر جنتی ہیں ، عثمان جنتی ہیں ، علی جنتی ہیں ، طلحہ جنتی ہیں ، زبیر جنتی ہیں ، عبدالرحمٰن بن عوف جنتی ہیں ، سعد جنتی ہیں ، سعید ( سعید بن زید ) جنتی ہیں اور ابوعبیدہ بن جراح جنتی ہیں ۱؎ ( رضی اللہ علیہم اجمعین ) “ ابومصعب نے ہمیں خبر دی کہ انہوں نے عبدالعزیز بن محمد کے آگے پڑھا اور عبدالعزیز نے عبدالرحمٰن بن حمید سے اور عبدالرحمٰن نے اپنے والد حمید کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی لیکن اس میں عبدالرحمٰن بن عوف کے واسطہ کا ذکر نہیں ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث عبدالرحمٰن بن حمید سے بطریق : «عن أبيه عن سعيد بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» بھی آئی ہے ، ( اور اسی طرح آئی ہے ) ، اور یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3747]
💡 وضاحت:
۱؎: یہی وہ حدیث ہے جس میں دس جنتیوں کا نام ایک مجلس میں اکٹھے آیا ہے، اور اسی بنا پر ان دسوں کو ”عشرہ مبشرہ“ کہا جاتا ہے، ورنہ جنت کی خوشخبری آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دس کے علاوہ بھی دیگر صحابہ کو دی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (6110 و 6111)، تخرج الطحاوية (728)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 9718) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مِسْمَارٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ حَدَّثَهُ فِي نَفَرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَشَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ: أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَالزُّبَيْرُ، وَطَلْحَةُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ "، قَالَ: فَعَدَّ هَؤُلَاءِ التِّسْعَةَ وَسَكَتَ عَنِ الْعَاشِرِ، فَقَالَ الْقَوْمُ: نَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا أَبَا الْأَعْوَرِ مَنِ الْعَاشِرُ؟ قَالَ: " نَشَدْتُمُونِي بِاللَّهِ أَبُو الْأَعْوَرِ فِي الْجَنَّةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: أَبُو الْأَعْوَرِ هُوَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ: هُوَ أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ.
حمید سے روایت ہے کہ سعید بن زید رضی الله عنہ نے ان سے کئی اشخاص کی موجودگی میں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دس آدمی جنتی ہیں ، ابوبکر جنتی ہیں ، عمر جنتی ہیں عثمان ، علی ، زبیر ، طلحہ ، عبدالرحمٰن ، ابوعبیدہ اور سعد بن ابی وقاص ( جنتی ہیں ) “ وہ کہتے ہیں : تو انہوں نے ان نو ( ۹ ) کو گن کر بتایا اور دسویں آدمی کے بارے میں خاموش رہے ، تو لوگوں نے کہا : اے ابوالاعور ہم اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھ رہے ہیں کہ دسواں کون ہے ؟ تو انہوں نے کہا : تم لوگوں نے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا ہے ( اس لیے میں بتا رہا ہوں ) ابوالاعور جنتی ہیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا ہے کہ یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ، ¤ ۲- ابوالاعور سے مراد خود سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3748]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (133)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 4454) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ صَخْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " إِنَّ أَمْرَكُنَّ مِمَّا يُهِمُّنِي بَعْدِي , وَلَنْ يَصْبِرَ عَلَيْكُنَّ إِلَّا الصَّابِرُونَ "، قَالَ: ثُمَّ تَقُولُ عَائِشَةُ: فَسَقَى اللَّهُ أَبَاكَ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ تُرِيدُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَكَانَ قَدْ وَصَلَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ يُقَالُ: بِيعَتْ بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا. قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنی بیویوں سے ) فرماتے تھے : تم لوگوں کا معاملہ مجھے پریشان کئے رہتا ہے کہ میرے بعد تمہارا کیا ہو گا ؟ تمہارے حقوق کی ادائیگی کے معاملہ میں صرف صبر کرنے والے ہی صبر کر سکیں گے ۔ پھر عائشہ رضی الله عنہا نے ( ابوسلمہ سے ) کہا : اللہ تمہارے والد یعنی عبدالرحمٰن بن عوف کو جنت کی نہر سلسبیل سے سیراب کرے ، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے ساتھ ایک ایسے مال کے ذریعہ جو چالیس ہزار ( دینار ) میں بکا ، اچھے سلوک کا مظاہرہ کیا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3749]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ پر صادق آتی ہے، یعنی یہ «الصابرون» میں داخل ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، المشكاة (6121 و 6122)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 17726) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ بْنِ الشَّهِيدٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ " أَوْصَى بِحَدِيقَةٍ لِأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، بِيعَتْ بِأَرْبَعِ مِائَةِ أَلْفٍ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کے لیے ایک باغ کی وصیت کی جسے چار لاکھ ( درہم ) میں بیچا گیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3750]
قال الشيخ الألباني:
حسن الإسناد صحيح بما قبله (3749)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (صحیح) (یہ حدیث حسن ہے، لیکن اس سے پہلے کی حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے)
|
|
|
27: باب مَنَاقِبِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رضى الله عنه
باب: سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُذْرِيُّ بَصْرِيٌّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَعْدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لِسَعْدٍ إِذَا دَعَاكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لِسَعْدٍ إِذَا دَعَاكَ "، وَهَذَا أَصَحُّ.
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! سعد جب تجھ سے دعا کریں تو ان کی دعا قبول فرما “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اسماعیل بن ابی خالد سے قیس بن حازم کے واسطہ سے روایت کی گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! سعد جب تجھ سے دعا کریں تو ان کی دعا قبول فرما “ اور یہ زیادہ صحیح ہے ( یعنی : مرسل روایت زیادہ صحیح ہے ) ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3751]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بموجب مستجاب الدعوات ہونے کی دلیل ہے، اور ایک بہت بڑی فضیلت ہے۔ آثار و روایات میں سعد رضی الله عنہ کی بہت ساری دعاؤں کا ذکر ملتا ہے جو ان کی زندگی میں ہی پوری ہو گئیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (6116)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3751) إسناده ضعيف ¤ إسماعيل بن أبى خالد مدلس وعنعن (د 2930) وللحديث شواهد
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3913 الف) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَقْبَلَ سَعْدٌ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذَا خَالِي فَلْيُرِنِي امْرُؤٌ خَالَهُ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُجَالِدٍ، وَكَانَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، وَكَانَتْ أُمُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، فَلِذَلِكَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذَا خَالِي ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ میرے ماموں ہیں ، تو مجھے دکھائے کوئی اپنا ماموں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے مجالد ہی کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- سعد بن ابی وقاص قبیلہ بنی زہرہ کے ایک فرد تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ محترمہ قبیلہ بنی زہرہ ہی کی تھیں ، اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” یہ میرے ماموں ہیں “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3752]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی میرے ماموں جیسے کسی کے ماموں نہیں ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (6118)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3752) إسناده ضعيف ¤ مجالد ضعيف (تقدم: 653) وللحديث شواهد ضعيفة عند الحاكم (491/3) وغيره
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2352) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، سمعا سعيد بن المسيب، يَقُولُ: قَالَ عَلِيٌّ: مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَاهُ وَأُمَّهُ لِأَحَدٍ إِلَّا لِسَعْدٍ، قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ: " ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، وَقَالَ لَهُ: ارْمِ أَيُّهَا الْغُلَامُ الْحَزَوَّرُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدٍ.
علی بن زید اور یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ان دونوں نے سعید بن مسیب کو کہتے ہوئے سنا کہ علی رضی الله عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد کے علاوہ کسی اور کے لیے اپنے باپ اور ماں کو جمع نہیں کیا ۱؎ ، احد کے دن آپ نے سعد سے فرمایا : ” تم تیر مارو میرے باپ اور ماں تم پر فدا ہوں ، تم تیر مارو اے جوان پٹھے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث متعدد لوگوں سے روایت کی گئی ہے ان سب نے اسے یحییٰ بن سعید سے ، اور یحییٰ نے سعید بن مسیب کے واسطہ سے سعد رضی الله عنہ سے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3753]
💡 وضاحت:
۱؎: زبیر بن عوام رضی الله عنہ کے مناقب میں گزرا کہ ان کے لیے بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے «فدان ابی وامی» ، کہا، دونوں میں یہ تطبیق دی جاتی ہے کہ علی رضی الله عنہ کو زبیر کے بارے میں یہ معلوم نہیں تھا، یا یہ مطلب ہے کہ احد کے دن کسی اور کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کہا۔
قال الشيخ الألباني:
منكر - بذكر الغلام الحزور - وقد مضى برقم (2986) // (535 / 2998) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3753/2) إسناده ضعيف / تقدم:2829
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 2828 (صحیح) (متن میں ”الغلام الحزور“ کا ذکر منکر ہے، سند میں حسن بن الصباح البزار راوی کے بارے میں ابن حجر کہتے ہیں: صدوق یہم یعنی ثقہ ہیں، اور حدیث بیان کرنے میں وہم کا شکار ہو جاتے ہیں، اور الغلام الحزور کی زیادتی اس کی دلیل ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: " جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن اپنے ماں اور باپ دونوں کو میرے لیے جمع کیا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث عبداللہ بن شداد بن ہاد سے بھی روایت کی گئی ہے اور انہوں نے علی بن ابی طالب کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3754]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی یوں فرمایا: ”میرے باپ اور میری ماں تم پر فدا ہوں“۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح وتقدم برقم (2999)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 2830 (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْن إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفَدِّي أَحَدًا بِأَبَوَيْهِ إِلَّا لِسَعْدٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ: " ارْمِ سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ". قَالَ: هَذَا صَحِيحٌ.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے باپ اور ماں کو سعد کے علاوہ کسی اور پر فدا کرتے نہیں سنا ، میں نے احد کے دن آپ کو فرماتے ہوئے سنا : ” سعد تم تیر مارو ، میرے باپ اور ماں تم پر فدا ہوں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3755]
قال الشيخ الألباني:
صحيح وتقدم برقم (2997)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 2828 (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَهِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ لَيْلَةً، قَالَ: " لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا يَحْرُسُنِيَ اللَّيْلَةَ "، قَالَتْ: فَبَيْنَمَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعْنَا خَشْخَشَةَ السِّلَاحِ، فَقَالَ: " مَنْ هَذَا؟ " , فَقَالَ: سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا جَاءَ بِكَ؟ " , فَقَالَ سَعْدٌ: وَقَعَ فِي نَفْسِي خَوْفٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِئْتُ أَحْرُسُهُ، فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَامَ. قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی غزوہ سے مدینہ واپس آنے پر ایک رات نیند نہیں آئی ، تو آپ نے فرمایا : ” کاش کوئی مرد صالح ہوتا جو آج رات میری نگہبانی کرتا “ ، ہم اسی خیال میں تھے کہ ہم نے ہتھیاروں کے کھنکھناہٹ کی آواز سنی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” یہ کون ہے ؟ “ آنے والے نے کہا : میں سعد بن ابی وقاص ہوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : تم کیوں آئے ہو ؟ تو سعد رضی الله عنہ نے کہا : میرے دل میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان نہ پہنچے اس لیے میں آپ کی نگہبانی کے لیے آیا ہوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی پھر سو گئے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3756]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «رجل صالح» کے مصداق سعد رضی الله عنہ قرار پائے، یہ ایک بہت بڑی فضیلت ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو «رجل صالح» قرار دیں ہیں، «رضی الله عنہ وأرضاہ» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجھاد 70 (2885)، والتمنی 4 (7231)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 5 (2410) (تحفة الأشراف: 16225) (صحیح)
|
|
|
28: باب مَنَاقِبِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: هَذَا حَسَنٌ.
سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نو اشخاص کے سلسلے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ لوگ جنتی ہیں اور اگر میں دسویں کے سلسلے میں گواہی دوں تو بھی گنہگار نہیں ہوں گا ، آپ سے کہا گیا : یہ کیسے ہے ؟ ( ذرا اس کی وضاحت کیجئے ) تو انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حرا پہاڑ پر تھے تو آپ نے فرمایا : ” ٹھہرا رہ اے حرا ! تیرے اوپر ایک نبی ، یا صدیق ، یا شہید ۱؎ کے علاوہ کوئی اور نہیں “ ، عرض کیا گیا : وہ کون لوگ ہیں جنہیں آپ نے صدیق یا شہید فرمایا ہے ؟ ( انہوں نے کہا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ابوبکر ، عمر ، عثمان ، علی ، طلحہ ، زبیر ، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف ہیں رضی الله عنہم ، پوچھا گیا : دسویں شخص کون ہیں ؟ تو سعید نے کہا : وہ میں ہوں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے سعید بن زید رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3757]
💡 وضاحت:
۱؎: یہاں ”شہید“ کا لفظ ”ایک شہید“ کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ ”جنس شہید“ کے معنی میں ہے، اس لیے کہ آپ نے کئی شہیدوں کے نام گنائے ہیں، اسی طرح ”صدیق“ بھی ”جنس صدیق“ کے معنی میں ہے، کیونکہ سعد بن ابی وقاص شہید نہیں ہوئے تھے، وہ ”صدیق“ کے جنس سے ہیں، گرچہ یہ لقب ابوبکر رضی اللہ کے لیے مشہور ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح وتقدم قريبا (4014)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3757/2) حديث أبي إسحاق قال قال: حذيفة: قلب صلة بن زفر من ذهب ضعيف لإنقطاعه، أبو إسحاق لم يدرك حذيفة رضي الله عنه
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 4459) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: هَذَا حَسَنٌ.
ہم سے احمد بن منیع نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے حجاج بن محمد نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں : مجھ سے شعبہ نے بیان کیا اور شعبہ نے حر بن صباح سے ، حر نے عبدالرحمٰن بن اخنس سے اور عبدالرحمٰن بن اخنس نے سعید بن یزید کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی اسی جیسی حدیث روایت کی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3757M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح وتقدم قريبا (4014)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3757/2) حديث أبي إسحاق قال قال: حذيفة: قلب صلة بن زفر من ذهب ضعيف لإنقطاعه، أبو إسحاق لم يدرك حذيفة رضي الله عنه
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 4459) (صحیح)
|
|
|
29: باب مَنَاقِبِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رضى الله عنه
باب: عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
|
|
|
حدثنا أَحمدُ الدورقيُّ، أخبرنَا إسماعيلُ بنُ إبراهيمَ، عن الُجريريِّ، عن عَبدِاللهِ بن شَقيقٍ، قالَ: قلتُ لعائشةَ: أيُّ أصحابِ النَبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كانَ أحبَّ إليهِ؟ قالتْ: أبوبكرٍ، قلتُ: ثم مَنْ؟ قالتْ: ثم عمرُ، قلتُ: ثم مَنْ؟ قالتْ: ثم أبو عُبيدةَ بن الجراح، قلتُ: ثم مَنْ؟ فسكتتْ.
عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب نے بیان کیا کہ عباس بن عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غصہ کی حالت میں آئے ، میں آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، آپ نے پوچھا : ” تم غصہ کیوں ہو ؟ “ وہ بولے : اللہ کے رسول ! قریش کو ہم سے کیا ( دشمنی ) ہے کہ جب وہ آپس میں ملتے ہیں تو خوش روئی سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو اور طرح سے ملتے ہیں ، ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں آ گئے ، یہاں تک کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا ، پھر آپ نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! کسی شخص کے دل میں ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر تم سے محبت نہ کرے “ ، پھر آپ نے فرمایا : ” اے لوگو ! جس نے میرے چچا کو اذیت پہنچائی تو اس نے مجھے اذیت پہنچائی کیونکہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ۱؎ ہوتا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3758]
💡 وضاحت:
۱؎: محبت کے مختلف وجوہ و اسباب ہوتے ہیں، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے محبت بیٹی ہونے کے اعتبار سے اور ان کے زہد و عبادت کی وجہ سے تھی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت زوجیت، دینی بصیرت اور فہم و فراست کے سبب تھی، ابوبکر و عمر سے محبت اسلام میں سبقت، دین کی بلندی، علم کی زیادتی، شریعت کی حفاظت اور اسلام کی تائید کے سبب تھی، شیخین کے کمالات و مناقب کسی پر پوشیدہ نہیں، اور ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ سے محبت اس لیے تھی کہ ان کے ہاتھ پر متعدد فتوحات اسلام ہوئیں رضی الله عنہم اجمعین۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف إلا قوله: " عم الرجل ... " فصحيح، المشكاة (6147)، الصحيحة (806)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3758) إسناده ضعيف ¤ يزيد بن أبى زياد: ضعيف (تقدم: 114)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (102) (تحفة الأشراف: 16212) وقد أخرجه: مسند احمد (6/218) (صحیح)
|
|
|
حدثنا أَحمدُ الدورقيُّ، أخبرنَا إسماعيلُ بنُ إبراهيمَ، عن الُجريريِّ، عن عَبدِاللهِ بن شَقيقٍ، قالَ: قلتُ لعائشةَ: أيُّ أصحابِ النَبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كانَ أحبَّ إليهِ؟ قالتْ: أبوبكرٍ، قلتُ: ثم مَنْ؟ قالتْ: ثم عمرُ، قلتُ: ثم مَنْ؟ قالتْ: ثم أبو عُبيدةَ بن الجراح، قلتُ: ثم مَنْ؟ فسكتتْ.
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : صحابہ میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ کون محبوب تھا ؟ کہا : ابوبکر ، میں نے پوچھا : پھر کون ؟ کہا : عمر ، میں نے پوچھا : پھر کون ؟ کہا : ابوعبیدہ بن الجراح ، میں نے پوچھا : پھر کون ؟ اس پر آپ خاموش رہیں ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3758M]
💡 وضاحت:
۱؎: محبت کے مختلف وجوہ و اسباب ہوتے ہیں، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے محبت بیٹی ہونے کے اعتبار سے اور ان کے زہد و عبادت کی وجہ سے تھی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت زوجیت، دینی بصیرت اور فہم و فراست کے سبب تھی، ابوبکر و عمر سے محبت اسلام میں سبقت، دین کی بلندی، علم کی زیادتی، شریعت کی حفاظت اور اسلام کی تائید کے سبب تھی، شیخین کے کمالات و مناقب کسی پر پوشیدہ نہیں، اور ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ سے محبت اس لیے تھی کہ ان کے ہاتھ پر متعدد فتوحات اسلام ہوئیں رضی الله عنہم اجمعین۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف إلا قوله: " عم الرجل ... " فصحيح، المشكاة (6147)، الصحيحة (806)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (102) (تحفة الأشراف: 16212) وقد أخرجه: مسند احمد (6/218) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُوبَكْرٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ عُمَرُ، نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عباس مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ہم اسے صرف اسرائیل کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3759]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6148)، الضعيفة (2315) // ضعيف الجامع الصغير (3842) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3759) إسناده ضعيف / ن 4779 مطولاً ¤ عبد الأعلي الثعبلي: ضعيف كما تقدم (2950)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 12708) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُوبَكْرٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ عُمَرُ، نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا ہی اچھے آدمی ہیں ابوبکر ، کیا ہی اچھے آدمی ہیں ، عمر کیا ہی اچھے آدمی ہیں ، ابوعبیدہ بن جراح “ ( رضی الله عنہم ) ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3759M]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6148)، الضعيفة (2315) // ضعيف الجامع الصغير (3842) //
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 12708) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَال: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعُمَرَ فِي الْعَبَّاسِ: " إِنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ ". وَكَانَ عُمَرُ كَلَّمَهُ فِي صَدَقَتِهِ. قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ سے عباس رضی الله عنہ کے سلسلہ میں فرمایا : ” بلاشبہہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے “ عمر رضی الله عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے صدقہ کے سلسلہ میں کوئی بات کی تھی ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3760]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ کو زکاۃ کا مال جمع کرنے کے لیے بھیجا تو کچھ لوگوں نے دینے سے انکار کر دیا، ان میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی الله عنہ بھی تھے، انہی کے سلسلہ میں آپ نے عمر سے فرمایا: «و أما العباس فھی علي ومثلھا معھا» یعنی جہاں تک میرے چچا عباس کا مسئلہ ہے تو ان کا حق میرے اوپر ہے اور اسی کے مثل مزید اور، ساتھ ہی آپ نے وہ بات بھی کہی جو حدیث میں مذکور ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح بما قبله (3759)، الإرواء (3 / 348 - 349)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10112) (صحیح) (شواہد کی بنا پر حدیث صحیح ہے، دیکھئے: حدیث نمبر (3761) والصحیحة 806)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْعَبَّاسُ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ , وَإِنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ , أَوْ مِنْ صِنْوِ أَبِيهِ ". هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عباس اللہ کے رسول کے چچا ہیں اور آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ہم اسے ابوالزناد کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3761]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (806)، صحيح أبي داود (1435)، الإرواء (3 / 348 - 350)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الزکاة 3 (983)، سنن ابی داود/ الزکاة 21 (1622)، سنن النسائی/الزکاة 15 (2466) (تحفة الأشراف: 13922) (وأخرجہ البخاري في الزکاة (49/ح 1468)، بدون قولہ: ”عم الرجل صنو أبیہ“)، و مسند احمد (2/322) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: " إِذَا كَانَ غَدَاةَ الِاثْنَيْنِ فَأْتِنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ حَتَّى أَدْعُوَ لَهُمْ بِدَعْوَةٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهَا وَوَلَدَكَ "، فَغَدَا وَغَدَوْنَا مَعَهُ وَأَلْبَسَنَا كِسَاءً، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْعَبَّاسِ وَوَلَدِهِ مَغْفِرَةً ظَاهِرَةً , وَبَاطِنَةً لَا تُغَادِرُ ذَنْبًا، اللَّهُمَّ احْفَظْهُ فِي وَلَدِهِ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی الله عنہ سے فرمایا : ” دوشنبہ کی صبح کو آپ اپنے لڑکے کے ساتھ میرے پاس آئیے تاکہ میں آپ کے حق میں ایک ایسی دعا کر دوں جس سے اللہ آپ کو اور آپ کے لڑکے کو فائدہ پہنچائے “ ، پھر وہ صبح کو گئے اور ہم بھی ان کے ساتھ گئے تو آپ نے ہمیں ایک چادر اڑھا دی ، پھر دعا کی : ” اے اللہ ! عباس کی اور ان کے لڑکے کی بخشش فرما ، ایسی بخشش جو ظاہر اور باطن دونوں اعتبار سے ایسی ہو کہ کوئی گناہ نہ چھوڑے ، اے اللہ ! ان کی حفاظت فرما ، ان کے لڑکے کے سلسلہ میں یعنی اس کے حقوق کی ادائیگی کی انہیں خوب توفیق مرحمت فرما “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3762]
قال الشيخ الألباني:
حسن، المشكاة (6149)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3762) إسناده ضعيف ¤ عبدالوهاب عنعن (وهو مدلس انظر طبقات المدلسين3/85) وقال أبو زرعة الرازي فى هذا الحديث وحديث آخر: ”وهذان الحديثان ليسا من حديث ثور“ (سوالات البرذعي ص 497)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6364) (حسن)
|
|
|
30: باب مَنَاقِبِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضى الله عنه
باب: جعفر بن ابی طالب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ جَعْفَرًا يَطِيرُ فِي الْجَنَّةِ مَعَ الْمَلَائِكَةِ ". قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ , وَقَدْ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ هُوَ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، وَفِي الْبَابِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے جعفر کو جنت میں فرشتوں کے ساتھ اڑتے دیکھا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف عبداللہ بن جعفر کی روایت سے جانتے ہیں ، اور یحییٰ بن معین وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے ، اور عبداللہ بن جعفر : علی بن مدینی کے والد ہیں ، ¤ ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3763]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (1226)، المشكاة (6153)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 14035) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " مَا احْتَذَى النِّعَالَ وَلَا انْتَعَلَ، وَلَا رَكِبَ الْمَطَايَا , وَلَا رَكِبَ الْكُورَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَالْكُورُ: الرَّحْلُ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نہ کسی نے جوتا پہنایا اور نہ پہنا اور نہ سوار ہوا سواریوں پر اور نہ چڑھا اونٹ کی کاٹھی پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جعفر بن ابی طالب سے افضل و بہتر ہو ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- «کور» کے معنیٰ کجاوہ کے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3764]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد موقوفا
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 14246) (صحیح الإسناد)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ بْن عَازِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: " أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي " وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ. حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أُبَيٌّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ نَحْوَهُ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر بن ابی طالب سے فرمایا : ” تم صورت اور سیرت دونوں میں میرے مشابہ ہو “ ، اور اس حدیث میں ایک قصہ ہے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ ہم سے سفیان بن وکیع نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے والد نے اسرائیل کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3765]
💡 وضاحت:
؎: قصہ یہ ہے کہ «عمرۃ القضاء» کے موقع سے حمزہ رضی اللہ عنہ کی بچی کی کفالت کے لیے: جعفر، علی اور زید بن خارجہ رضی اللہ عنہم کے درمیان اختلاف ہوا، سب نے اپنا اپنا حق جتایا، لیکن بچی کی خالہ کے جعفر رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں ہو نے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچی کو جعفر کے حوالہ کر دیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1803) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو يَحْيَى التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ أَبُو إِسْحَاق الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " إِنْ كُنْتُ لَأَسْأَلُ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْآيَاتِ مِنَ الْقُرْآنِ أَنَا أَعْلَمُ بِهَا مِنْهُ، مَا أَسْأَلُهُ إِلَّا لِيُطْعِمَنِي شَيْئًا، فَكُنْتُ إِذَا سَأَلْتُ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ لَمْ يُجِبْنِي حَتَّى يَذْهَبَ بِي إِلَى مَنْزِلِهِ، فَيَقُولُ لِامْرَأَتِهِ: يَا أَسْمَاءُ أَطْعِمِينَا شَيْئًا، فَإِذَا أَطْعَمَتْنَا أَجَابَنِي، وَكَانَ جَعْفَرٌ يُحِبُّ الْمَسَاكِينَ , وَيَجْلِسُ إِلَيْهِمْ , وَيُحَدِّثُهُمْ وَيُحَدِّثُونَهُ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْنِيهِ بِأَبِي الْمَسَاكِينِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، وَأَبُو إِسْحَاق الْمَخْزُومِيُّ هُوَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْفَضْلِ الْمَدَنِيُّ، وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ وَلَهُ غَرَائِبُ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں قرآن کی آیتوں کے سلسلہ میں صحابہ سے پوچھا کرتا تھا ، چاہے میں اس کے بارے ان سے زیادہ واقف ہوتا ایسا اس لیے کرتا تاکہ وہ مجھے کچھ کھلائیں ، چنانچہ جب میں جعفر بن ابی طالب سے پوچھتا تو وہ مجھے جواب اس وقت تک نہیں دیتے جب تک مجھے اپنے گھر نہ لے جاتے اور اپنی بیوی سے یہ نہ کہتے کہ اسماء ہمیں کچھ کھلاؤ ، پھر جب وہ ہمیں کھلا دیتیں تب وہ مجھے جواب دیتے ، جعفر رضی الله عنہ مسکینوں سے بہت محبت کرتے تھے ، ان میں جا کر بیٹھتے تھے ان سے باتیں کرتے تھے ، اور ان کی باتیں سنتے تھے ، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ابوالمساکین کہا کرتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- ابواسحاق مخزومی کا نام ابراہیم بن فضل مدنی ہے اور بعض محدثین نے ان کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے اور ان سے غرائب حدیثیں مروی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3766]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا، المشكاة (6152 / التحقيق الثاني)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3766) إسناده ضعيف / جه 4125 مختصرًا ¤ إبراهيم المخزومي: متروك (تقدم:2687)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الزہد 7 (4125) (تحفة الأشراف: 12942) (ضعیف جداً) (سند میں ابراہیم بن الفضل ابواسحاق متروک ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَاتِمُ بْنُ سِيَاهٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " كُنَّا نَدْعُو جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَبَا الْمَسَاكِينِ، فَكُنَّا إِذَا أَتَيْنَاهُ قَرَّبَنَا إِلَيْهِ مَا حَضَرَ فَأَتَيْنَاهُ يَوْمًا، فَلَمْ يَجِدْ عِنْدَهُ شَيْئًا فَأَخْرَجَ جَرَّةً مِنْ عَسَلٍ فَكَسَرَهَا فَجَعَلْنَا نَلْعَقُ مِنْهَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم جعفر بن ابی طالب کو ابوالمساکین کہہ کر پکارتے تھے ، چنانچہ جب ہم ان کے پاس آتے تو وہ جو کچھ موجود ہوتا ہمارے سامنے لا کر رکھ دیتے ، تو ایک دن ہم ان کے پاس آئے اور جب انہیں کوئی چیز نہیں ملی ، ( جو ہمیں پیش کرتے ) تو انہوں نے شہد کا ایک گھڑا نکالا اور اسے توڑا تو ہم اسی کو چاٹنے لگے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث ابوسلمہ کی روایت سے جسے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے ، حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3767]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3767) إسناده ضعيف ¤ ابن عجلان مدلس وعنعن (تقدم: 1084) وحديث البخاري (5432) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (ضعیف) (حاتم بن سیاہ مقبول راوی ہیں، یعنی متابعت کی موجودگی میں، ورنہ لین الحدیث یعنی ضعیف، اور یزید بن قسیط یہ یزید بن عبداللہ بن قسیط لیثی ثقہ راوی ہیں)
|
|
|
31: باب مَنَاقِبِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ
باب: حسن و حسین رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , عَنْ يَزِيدَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَابْنُ أَبِي نُعْمٍ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ الْبَجَلِيُّ الْكُوفِيُّ وَيُكْنَى: أَبَا الْحَكَمِ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حسن اور حسین اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3768]
💡 وضاحت:
۱؎: ”جنت میں جوانوں کے سردار“ اس کے محدثین نے کئی معانی بیان کئے ہیں، (۱) جو لوگ جوانی کی حالت میں وفات پائے (اور جنتی ہیں) ان کے سردار یہ دونوں ہوں گے، اس بیان کے وقت وہ دونوں جوان تھے، شہادت جوانی کے بعد حالت کہولت میں ہوئی، لیکن جوانی کی حالت میں وفات پانے والوں کے سردار بنا دیئے گئے ہیں (۲) جنت میں سبھی لوگ جوانی کی عمر میں کر دیئے جائیں گے، اس لیے مراد یہ ہے کہ انبیاء اور خلفائے راشدین کے سوا دیگر لوگوں کے سردار یہ دونوں ہوں گے (۳) اس زمانہ کے (جب یہ دونوں جوان تھے) ان جوانوں کے یہ سردار ہیں جو مرنے کے بعد جنت میں جائیں گے، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (796)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , عَنْ يَزِيدَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَابْنُ أَبِي نُعْمٍ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ الْبَجَلِيُّ الْكُوفِيُّ وَيُكْنَى: أَبَا الْحَكَمِ.
ہم سے سفیان بن وکیع نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے جریر اور محمد بن فضیل نے یزید کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ابن ابی نعم کا نام عبدالرحمٰن بن ابی نعم بجلی کوفی ہے اور ان کی کنیت ابوالحکم ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3768M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (796)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد , قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ النَّبَّالُ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: طَرَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُشْتَمِلٌ عَلَى شَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ حَاجَتِي، قُلْتُ: مَا هَذَا الَّذِي أَنْتَ مُشْتَمِلٌ عَلَيْهِ؟ قَالَ: فَكَشَفَهُ فَإِذَا حَسَنٌ , وَحُسَيْنٌ عَلَى وَرِكَيْهِ , فَقَالَ: " هَذَانِ ابْنَايَ وَابْنَا ابْنَتِيَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا، فَأَحِبَّهُمَا، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُمَا ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.
اسامہ بن زید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک رات کسی ضرورت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو آپ ایک ایسی چیز لپیٹے ہوئے تھے جسے میں نہیں جان پا رہا تھا کہ کیا ہے ، پھر جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوا تو میں نے عرض کیا : یہ کیا ہے جس کو آپ لپیٹے ہوئے ہیں ؟ تو آپ نے اسے کھولا تو وہ حسن اور حسین رضی الله عنہما تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کولہے سے چپکے ہوئے تھے ، پھر آپ نے فرمایا : ” یہ دونوں میرے بیٹے اور میرے نواسے ہیں ، اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں ، تو بھی ان سے محبت کر اور اس سے بھی محبت کر جو ان سے محبت کرے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3769]
قال الشيخ الألباني:
حسن، المشكاة (6156 / التحقيق الثاني)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 86) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا يَسْأَلُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا صَحِيحٌ رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَمَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
عبدالرحمٰن بن ابی نعم سے روایت ہے کہ اہل عراق کے ایک شخص نے ابن عمر رضی الله عنہما سے مچھر کے خون کے بارے میں پوچھا جو کپڑے میں لگ جائے کہ اس کا کیا حکم ہے ؟ ۱؎ تو ابن عمر رضی الله عنہما نے کہا : اس شخص کو دیکھو یہ مچھر کے خون کا حکم پوچھ رہا ہے ! حالانکہ انہیں لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسہ کو قتل کیا ہے ، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” حسن اور حسین رضی الله عنہما یہ دونوں میری دنیا کے پھول ہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث صحیح ہے ، ¤ ۲- اسے شعبہ اور مہدی بن میمون نے بھی محمد بن ابی یعقوب سے روایت کیا ہے ، ¤ ۳- ابوہریرہ کے واسطے سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3770]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ سائل نے حالت احرام میں مچھر مارنے کے فدیہ کے بارے میں سوال کیا تھا، ہو سکتا ہے کہ مؤلف کی روایت میں کسی راوی نے مبہم روایت کر دی ہو، سیاق و سباق کے لحاظ سے صحیح صورت حال مسئلہ وہی ہے جو صحیح بخاری میں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (6155)، الصحيحة (564)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأدب 18 (5994) (تحفة الأشراف: 7300) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، حَدَّثَنَا رَزِينٌ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي سَلْمَى، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَهِيَ تَبْكِي، فَقُلْتُ: مَا يُبْكِيكِ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِي فِي الْمَنَامِ، وَعَلَى رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ التُّرَابُ، فَقُلْتُ: مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " شَهِدْتُ قَتْلَ الْحُسَيْنِ آنِفًا ". قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ.
سلمیٰ کہتی ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کے پاس آئی ، وہ رو رہی تھیں ، میں نے پوچھا : آپ کیوں رو رہی ہیں ؟ وہ بولیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے ( یعنی خواب میں ) آپ کے سر اور داڑھی پر مٹی تھی ، تو میں نے عرض کیا : آپ کو کیا ہوا ہے ؟ اللہ کے رسول ! تو آپ نے فرمایا : ” میں حسین کا قتل ابھی ابھی دیکھا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3771]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6157)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3771) إسناده ضعيف ¤ سلمٰي:لا تعرف (تق: 8607) وحديث أحمد (283/1) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 18279) (ضعیف) (سند میں سلمی البکریة ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ أَهْلِ بَيْتِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: " الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ "، وَكَانَ يَقُولُ لِفَاطِمَةَ: " ادْعِي لِيَ ابْنَيَّ " , فَيَشُمُّهُمَا وَيَضُمُّهُمَا إِلَيْهِ. قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ.
انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ آپ کے اہل بیت میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا : ” حسن اور حسین “ ( رضی الله عنہما ) ، آپ فاطمہ رضی الله عنہا سے فرماتے : ” میرے دونوں بیٹوں کو بلاؤ ، پھر آپ انہیں چومتے اور انہیں اپنے سینہ سے لگاتے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ انس کی روایت سے یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3772]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6158)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3772) إسناده ضعيف ¤ يوسف بن إبراهيم:ضعيف (تق:7855)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1706) (ضعیف) (سند میں یوسف بن ابراہیم ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: " إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ يُصْلِحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ.
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر چڑھ کر فرمایا : ” میرا یہ بیٹا سردار ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اور «ابني هذا» سے مراد حسن بن علی ہیں رضی الله عنہما ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3773]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی میرا یہ نواسہ مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کا سبب بنے گا، چنانچہ خلافت کے مسئلہ کو لے کر جب مسلمانوں کے دو گروہ ہو گئے، ایک گروہ معاویہ رضی الله عنہ کے ساتھ اور دوسرا حسن رضی الله عنہ کے ساتھ تھا، تو حسن رضی الله عنہ نے خلافت سے دستبرداری کا اعلان کر کے مسلمانوں کو قتل و خونریزی سے بچا کر اس امت پر بڑا احسان کیا اور یہ ان کا بہت بڑا کارنامہ ہے «جزاہ اللہ عن المسلمین خیر الجزاء» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الروض النضير (923)، الإرواء (1597)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلح 9 (2704)، والمناقب 25 (3629)، وفضائل الصحابة 22 (3746)، والفتن 20 (7109)، سنن ابی داود/ السنة 13 (4662)، سنن النسائی/الجمعة 27 (1411) (تحفة الأشراف: 11658)، و مسند احمد (5/37، 44، 49، 51) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَال: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ , فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَهُمَا , وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ , ثُمَّ قَالَ: " صَدَقَ اللَّهُ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ سورة التغابن آية 15 فَنَظَرْتُ إِلَى هَذَيْنِ الصَّبِيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ , فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ حَدِيثِي وَرَفَعْتُهُمَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ.
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک حسن اور حسین رضی الله عنہما دونوں سرخ قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے چلے آ رہے تھے ، آپ نے منبر سے اتر کر ان دونوں کو اٹھا لیا ، اور ان کو لا کر اپنے سامنے بٹھا لیا ، پھر فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ۱؎ ” تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں ، میں نے ان دونوں کو گرتے پڑتے آتے ہوئے دیکھا تو صبر نہیں کر سکا ، یہاں تک کہ اپنی بات روک کر میں نے انہیں اٹھا لیا “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف حسین بن واقد کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3774]
💡 وضاحت:
۱؎: التغابن: ۱۵۔
۲؎: جہاں یہ بچوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال شفقت کی دلیل ہے، وہیں حسن اور حسین رضی الله عنہما کے آپ کے نزدیک مقام و مرتبہ کی بھی بات ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3600)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الصلاة 233 (1109)، سنن النسائی/الجمعة 30 (1414)، والعیدین 27 (1586)، سنن ابن ماجہ/اللباس 20 (3600) (تحفة الأشراف: 1958)، و مسند احمد (5/354) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ , أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ، وَإِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ.
یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں ۱؎ اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے ، حسین قبائل میں سے ایک قبیلہ ہیں “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں ۱- یہ حدیث حسن ہے ہم اسے صرف عبداللہ بن عثمان بن خثیم کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- اسے عبداللہ بن عثمان بن خثیم سے متعدد لوگوں نے روایت کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3775]
💡 وضاحت:
۱؎: بقول قاضی عیاض: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم من جانب اللہ مطلع کر دیئے گئے تھے کہ کچھ لوگ حسین سے بغض رکھیں گے اس لیے آپ نے پیشگی بیان کر دیا کہ ”حسین سے محبت مجھ سے محبت ہے، اور حسین سے دشمنی مجھ سے دشمنی ہے کیونکہ ہم دونوں ایک ہی ہیں“۔
۲؎: یعنی: حسین رضی الله عنہ کی بہت ہی زیادہ اولاد ہو گی، یعنی ان کی نسل خوب پھیلے گی کہ قبائل بن جائیں گے، سو ایسا ہی ہوا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، ابن ماجة (144)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (144) (تحفة الأشراف: 11850)، و مسند احمد (4/172) (حسن) (تراجع الالبانی 375) الصحیحہ 1227)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " لَمْ يَكُنْ مِنْهُمْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِرَسُولِ اللَّهِ مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں میں حسن بن علی رضی الله عنہما سے زیادہ اللہ کے رسول کے مشابہ کوئی نہیں تھا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3776]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل الصحابة 22 (3752) (تحفة الأشراف: 1539) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ ". هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ.
ابوجحیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور حسن بن علی رضی الله عنہما ان سے مشابہت رکھتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابوبکر صدیق ، ابن عباس اور عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3777]
قال الشيخ الألباني:
صحيح وقد مضى (2828 و 2829) // هذا رقم الدعاس وهو عندنا برقم (2266 / 2995، 2996) //
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 2826 (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، قَالَتْ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ زِيَادٍ فَجِيءَ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ , فَجَعَلَ يَقُولُ بِقَضِيبٍ لَهُ فِي أَنْفِهِ وَيَقُولُ: " مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَذَا حُسْنًا، قَالَ: قُلْتُ: أَمَا إِنَّهُ كَانَ مِنْ أَشْبَهِهِمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس تھا کہ حسین رضی الله عنہ کا سر لایا گیا تو وہ ان کی ناک میں اپنی چھڑی مار کر کہنے لگا میں نے اس جیسا خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا کیوں ان کا ذکر حسن سے کیا جاتا ہے ( جب کہ وہ حسین نہیں ہے ) ۱؎ ۔ تو میں نے کہا : سنو یہ اہل بیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3778]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ جملہ اس نے حسین رضی الله عنہ کے حسن اور آپ کی خوبصورتی سے متعلق طعن و استہزاء کے طور پر کہا تھا، اسی لیے انس بن مالک نے اسے جواب دیا۔
۲؎: اس سے پہلے حدیث رقم ۳۷۸۶ کے تحت زہری کی ایک روایت انس رضی الله عنہ سے گزری ہے، اس میں ہے کہ حسن بن علی رضی الله عنہما سے زیادہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ کوئی نہیں تھا اور اس روایت میں یہ ہے کہ حسین بن علی رضی الله عنہما سب سے زیادہ مشابہ تھے، بظاہر دونوں روایتوں میں تعارض پایا جا رہا ہے، علماء نے دونوں روایتوں میں تطبیق کی جو صورت نکالی ہے وہ یہ ہے: (۱) زہری کی روایت میں جو مذکور ہے یہ اس وقت کی بات ہے جب حسن رضی الله عنہ باحیات تھے اور اس وقت وہ اپنے بھائی حسین بن علی کے بہ نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے اور انس رضی الله عنہ کی اس روایت میں جو مذکور ہے یہ حسن رضی الله عنہ کی وفات کے بعد کا واقعہ ہے۔ (۲) یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حسین بن علی رضی الله عنہما کو جن لوگوں نے اللہ کے رسول سے مشابہ قرار دیا ہے تو ان لوگوں نے حسن کو مستثنیٰ کر کے یہ بات کہی ہے۔ (۳) یہ بھی ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک کسی نہ کسی صورت میں اللہ کے رسول سے مشابہ تھے (دیکھئیے اگلی روایت)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (6170 / التحقيق الثاني)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1729) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " الْحَسَنُ أَشْبَهُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِلَى الرَّأْسِ , وَالْحُسَيْنُ أَشْبَهُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ ". هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حسن رضی الله عنہ سینہ سے سر تک کے حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے ، اور حسین رضی الله عنہ اس حصہ میں جو اس سے نیچے کا ہے سب سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3779]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6161)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3779) إسناده ضعيف ¤ أبو إسحاق عنعن (تقدم:107)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10302) (ضعیف) (سند میں ہانی بن ہانی مجہول الحال راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: " لَمَّا جِيءَ بِرَأْسِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ , وَأَصْحَابِهِ نُضِّدَتْ فِي الْمَسْجِدِ فِي الرَّحَبَةِ , فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِمْ وَهُمْ يَقُولُونَ: قَدْ جَاءَتْ قَدْ جَاءَتْ، فَإِذَا حَيَّةٌ قَدْ جَاءَتْ تَخَلَّلُ الرُّءُوسَ حَتَّى دَخَلَتْ فِي مَنْخَرَيْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ , فَمَكَثَتْ هُنَيْهَةً , ثُمَّ خَرَجَتْ , فَذَهَبَتْ حَتَّى تَغَيَّبَتْ، ثُمَّ قَالُوا: قَدْ جَاءَتْ قَدْ جَاءَتْ، فَفَعَلَتْ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عمارہ بن عمیر کہتے ہیں کہ جب عبیداللہ بن زیاد اور اس کے ساتھیوں کے سر لائے گئے ۱؎ اور کوفہ کی ایک مسجد میں انہیں ترتیب سے رکھ دیا گیا اور میں وہاں پہنچا تو لوگ یہ کہہ رہے تھے : آیا آیا ، تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سانپ سروں کے بیچ سے ہو کر آیا اور عبیداللہ بن زیاد کے دونوں نتھنوں میں داخل ہو گیا اور تھوڑی دیر اس میں رہا پھر نکل کر چلا گیا ، یہاں تک کہ غائب ہو گیا ، پھر لوگ کہنے لگے : آیا آیا ، اس طرح دو یا تین بار ہوا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3780]
💡 وضاحت:
۱؎: حسن اور حسین رضی الله عنہما کے مناقب میں اس حدیث کو لا کر امام ترمذی نواسہ رسول کے اس دشمن کا حشر بتانا چاہتے ہیں جس نے حسین رضی الله عنہ کے ساتھ گستاخی کرتے ہوئے اپنی چھڑی سے آپ کی ناک، آنکھ اور منہ پر مارا تھا کہ اللہ نے نواسہ رسول کے اس دشمن کے ساتھ کیسا سلوک کیا اسے اہل دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ (عبداللہ بن زیاد کو مختار ثقفی کے فرستادہ ابراہیم بن اشتر نے سن چھیاسٹھ میں مقام جازر میں جو موصل سے پانچ فرسخ پر ہے قتل کیا تھا)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3780) إسناده ضعيف ¤ الأعمش مدلس عنعن (تقدم:169) وله شاهد ضعيف فى تاريخ دمشق (341/39) ومع تدليس الأعمش، صححه الذهبي (سير أعلام النبلاء 549/3)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 19140) (صحیح الإسناد)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَا: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: سَأَلَتْنِي أُمِّي مَتَى عَهْدُكَ؟ تَعْنِي بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: مَا لِي بِهِ عَهْدٌ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، فَنَالَتْ مِنِّي، فَقُلْتُ لَهَا: دَعِينِي آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُصَلِّيَ مَعَهُ الْمَغْرِبَ وَأَسْأَلُهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي وَلَكِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ فَصَلَّى حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ انْفَتَلَ فَتَبِعْتُهُ , فَسَمِعَ صَوْتِي , فَقَالَ: " مَنْ هَذَا حُذَيْفَةُ "، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " مَا حَاجَتُكَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَلِأُمِّكَ؟ قَالَ: إِنَّ هَذَا مَلَكٌ لَمْ يَنْزِلِ الْأَرْضَ قَطُّ قَبْلَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ , وَيُبَشِّرَنِي بِأَنَّ فَاطِمَةَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ.
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے میری والدہ نے پوچھا : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حال ہی میں کب گئے تھے ؟ میں نے کہا : اتنے اتنے دنوں سے میں ان کے پاس نہیں جا سکا ہوں ، تو وہ مجھ پر خفا ہوئیں ، میں نے ان سے کہا : اب مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے دیجئیے میں آپ کے ساتھ نماز مغرب پڑھوں گا اور آپ سے میں اپنے اور آپ کے لیے دعا مغفرت کی درخواست کروں گا ، چنانچہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے ساتھ مغرب پڑھی پھر آپ ( نوافل ) پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ نے عشاء پڑھی ، پھر آپ لوٹے تو میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے پیچھے چلا ، آپ نے میری آواز سنی تو فرمایا : ” کون ہو ؟ حذیفہ ؟ “ میں نے عرض کیا : جی ہاں ، حذیفہ ہوں ، آپ نے فرمایا : «ما حاجتك غفر الله لك ولأمك» ” کیا بات ہے ؟ بخشے اللہ تمہیں اور تمہاری ماں کو “ ( پھر ) آپ نے فرمایا : ” یہ ایک فرشتہ تھا جو اس رات سے پہلے زمین پر کبھی نہیں اترا تھا ، اس نے اپنے رب سے مجھے سلام کرنے اور یہ بشارت دینے کی اجازت مانگی کہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن و حسین رضی الله عنہما اہل جنت کے جوانوں ( یعنی جو دنیا میں جوان تھے ان ) کے سردار ہیں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسرائیل کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3781]
💡 وضاحت:
۱؎: خصوصی فرشتہ کے ذریعہ مذکورہ خوشخبری ان تینوں ماں بیٹوں کی خصوصی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، التعليق الرغيب (205 - 206)، المشكاة (6162)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 3323) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَسَامَةَ، عَنِ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
براء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین رضی الله عنہما کو دیکھا تو فرمایا : «اللهم إني أحبهما فأحبهما» ” اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں ، تو بھی ان دونوں سے محبت فرما “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3782]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (2789)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل الصحابة 22 (3749)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 8 (2422) (تحفة الأشراف: 1793) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَال: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الْفُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ.
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ اپنے کندھے پر حسن بن علی رضی الله عنہما کو بٹھائے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے : «اللهم إني أحبه فأحبه» ” اے اللہ ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ، اور یہ فضیل بن مرزوق کی ( مذکورہ ) روایت سے زیادہ صحیح ہے ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3783]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جس روایت میں صرف حسن کو کندھے پر اٹھائے ہونے کا تذکرہ ہے وہ اس روایت سے زیادہ صحیح ہے جس میں ہے کہ حسن و حسین رضی الله عنہما دونوں کو اٹھائے ہوئے تھے، حالانکہ یہ بات بھی کہی جا سکتی ہے کہ یہ دو الگ الگ واقعے ہیں، اور دونوں کے لیے یہ بات کہے جانے میں کوئی تضاد بھی نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (2789)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَامِلَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ، فَقَالَ رَجُلٌ: نِعْمَ الْمَرْكَبُ رَكِبْتَ يَا غُلَامُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَنِعْمَ الرَّاكِبُ هُوَ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَزَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ قَدْ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسن بن علی رضی الله عنہما کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے تو ایک شخص نے کہا : بیٹے ! کیا ہی اچھی سواری ہے جس پر تو سوار ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اور سوار بھی کیا ہی اچھا ہے ۔“ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- زمعہ بن صالح کی بعض محدثین نے ان کے حفظ کے تعلق سے تضعیف کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3784]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6163)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3784) إسناده ضعيف ¤ زمعة: ضعيف (تقدم: 3616) وللحديث شواهد ضعيفة
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6096) (ضعیف) (سند میں زمعہ بن صالح ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ كَثِيرٍ النَّوَّاءِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ نَجَبَةَ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ كُلَّ نَبِيٍّ أُعْطِيَ سَبْعَةَ نُجَبَاءَ , أَوْ نُقَبَاءَ، وَأُعْطِيتُ أَنَا أَرْبَعَةَ عَشَرَ"، قُلْنَا: مَنْ هُمْ؟ قَالَ: " أَنَا , وَابْنَايَ , وَجَعْفَرُ , وَحَمْزَةُ , وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ , وَبِلَالٌ , وَسَلْمَانُ , وَالْمِقْدَادُ , وَحُذَيْفَةُ , وَعَمَّارٌ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَلِيٍّ مَوْقُوفًا.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر نبی کو اللہ نے سات نقیب عنایت فرمائے ہیں ، اور مجھے چودہ “ ، ہم نے عرض کیا : وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں ، میرے دونوں نواسے ، جعفر ، حمزہ ، ابوبکر ، عمر ، مصعب بن عمیر ، بلال ، سلمان ، مقداد ، حذیفہ ، عمار اور عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہم ۔“ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث علی رضی الله عنہ سے موقوفاً بھی آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3785]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6246 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (1912) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3785) إسناده ضعيف ¤ كثير: ضعيف (تقدم:3670)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10280) (ضعیف) (سند میں مسیب بن نجبہ لین الحدیث اور کثیر النواء ضعیف اور ابو ادریس المرہبی شیعی ہیں، اور حدیث میں تشیع واضح ہے)
|
|
|
32: باب مَنَاقِبِ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: اہل بیت کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ هُوَ الْأَنْمَاطِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ يَوْمَ عَرَفَةَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ يَخْطُبُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا، كِتَابَ اللَّهِ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي". قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، قَالَ: وَهَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، قَالَ: وَزَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ قَدْ رَوَى عَنْهُ سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں عرفہ کے دن دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہو کر خطبہ دے رہے تھے ، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا : ” اے لوگو ! میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے : ایک اللہ کی کتاب ہے دوسرے میری «عترت» یعنی اہل بیت ہیں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ¤ ۲- زید بن حسن سے سعید بن سلیمان اور متعدد اہل علم نے روایت کی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں ابوذر ، ابو سعید خدری ، زید بن ارقم اور حذیفہ بن اسید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3786]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: اہل بیت کا عقیدہ اور منہج جو صحیح سند سے ثابت ہو وہ ہدایت کا ضامن ہی ہے، کیونکہ یہ نفوس قدسیہ بزبان رسالت مآب ہدایت ہیں، اس سے شیعوں کا اپنی شیعیت پر استدلال بالکل درست نہیں کیونکہ صحیح روایات سے اہل بیت سے منقول عقیدہ و منہج موجودہ شیعیت کے بالکل مخالف ہے اہل بیت کیا، کیا شیعہ کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر قائم ہونے کے دعویدار نہیں؟ مگر کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح اور تفہیم شیعوں کے طریقے سے آئی ہے کیا وہ صد فی صد ان دونوں کے صحیح مفاہیم کے خلاف نہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ صحیح سند سے سلف کے فہم کے مطابق منقول عقیدہ و منہج ہی ہدایت کا ضامن ہے۔ اور وہ اہل السنہ و الجماعہ اہل حدیث کے پاس ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (6143 / التحقيق الثاني)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3786) إسناده ضعيف ¤ زيد بن الحسن الأنماطي ضعيف (تق:2127) وحديث مسلم (2408) و ابن ماجه (1558) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2615) (صحیح) (تراجع الألبانی 601)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ رَبِيبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا سورة الأحزاب آية 33 فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ , وَحَسَنًا , وَحُسَيْنًا فَجَلَّلَهُمْ بِكِسَاءٍ , وَعَلِيٌّ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَجَلَّلَهُ بِكِسَاءٍ، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا"، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: وَأَنَا مَعَهُمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: " أَنْتِ عَلَى مَكَانِكِ وَأَنْتِ إِلَى خَيْرٍ". قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، وَأَبِي الْحَمْرَاءِ، وَأَنَسٍ، قَالَ: وَهَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے «ربيب» ( پروردہ ) عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ «إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» ” اے اہل بیت النبوۃ ! اللہ چاہتا ہے کہ تم سے ( کفر و شرک ) کی گندگی دور کر دے ، اور تمہاری خوب تطہیر کر دے “ [ الاحزاب : ۳۳ ] ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر میں اتریں تو آپ نے فاطمہ اور حسن و حسین رضی الله عنہم کو بلایا اور آپ نے انہیں ایک چادر میں ڈھانپ لیا اور علی رضی الله عنہ آپ کی پشت مبارک کے پیچھے تھے تو آپ نے انہیں بھی چادر میں چھپا لیا ، پھر فرمایا : «اللهم هؤلاء أهل بيتي فأذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا» ” اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں تو ان کی ناپاکی کو دور فرما دے اور انہیں اچھی طرح پاک کر دے “ ، ام سلمہ نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو اپنی جگہ پر رہ اور تو بھی نیکی پر ہے ۔“ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ام سلمہ ، معقل بن یسار ، ابوحمراء اور انس رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3787]
💡 وضاحت:
۲؎: اس آیت کے سیاق و سباق اور سبب نزول سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ ”اہل البیت“ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات مراد ہیں یا اس حدیث سے ازواج مطہرات کے علاوہ علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی الله عنہم کے بھی ”اہل بیت“ میں ہونے کی بات ثابت ہوتی ہے، اور دونوں میں کوئی تعارض نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح مضى برقم (3425)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 3205 (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , وَالْأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي، أَحَدُهُمَا أَعْظَمُ مِنَ الْآخَرِ، كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي , وَلَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.
زید بن ارقم رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تم میں ایسی چیز چھوڑنے والا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے : ان میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے اور وہ اللہ کی کتاب ہے گویا وہ ایک رسی ہے جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے ، اور دوسری میری «عترت» یعنی میرے اہل بیت ہیں یہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گے ، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گے ، تو تم دیکھ لو کہ ان دونوں کے سلسلہ میں تم میری کیسی جانشینی کر رہے ہو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3788]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ان دونوں سے ثابت عقیدہ و منہج پر عمل کرنے میں تم کیا کرتے ہو، ان کے مطابق عمل کرتے ہو یا مخالف پہلے یہ بات گزری کہ اہل بیت سے صحیح سند سے ثابت عقیدہ و منہج ہدایت کا ضامن ہے، اور اس شیعیت کا کوئی تعلق نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (6144)، الروض النضير (977 - 978)، الصحيحة (4 / 356 - 357)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3788) إسناده ضعيف ¤ عطية العوفي ضعيف (تقدم: 477) و سليمان الأعمش عنعن (تقدم:169) وحديث مسلم (2408) والطحاوي (مشكل الآثار 13/5ح 1760) يغني عنه وانظر المطالب العالية (3943)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3659) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ النَّوْفَلِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحِبُّوا اللَّهَ لِمَا يَغْذُوكُمْ مِنْ نِعَمِهِ، وَأَحِبُّونِي بِحُبِّ اللَّهِ، وَأَحِبُّوا أَهْلَ بَيْتِي لِحُبِّي". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ سے محبت کرو کیونکہ وہ تمہیں اپنی نعمتیں کھلا رہا ہے ، اور محبت کرو مجھ سے اللہ کی خاطر ، اور میرے اہل بیت سے میری خاطر ۔“ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3789]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف تخريج فقه السيرة (23) // ضعيف الجامع الصغير (176) //
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6291) (ضعیف) (سند میں عبداللہ بن سلیمان نوفلی مقبول راوی ہیں، یعنی متابعت کی صورت میں اور یہاں متابعت نہیں ہے، اس لیے لین الحدیث یعنی ضعیف الحدیث ہیں)
|
|
|
33: باب مَنَاقِبِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأُبَىٍّ وَأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رضى الله عنهم
باب: معاذ بن جبل، زید بن ثابت، ابی بن کعب اور ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہم کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ دَاوُدَ الْعَطَّارِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ عُمَرُ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَقْرَؤُهُمْ أُبَيٌّ بْنُ كَعْبٍ، وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَالْمَشْهُورُ حَدِيثُ أَبِي قِلَابَةَ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں اور اللہ کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں ، اور سب سے زیادہ سچی حیاء والے عثمان بن عفان ہیں ، اور حلال و حرام کے سب سے بڑے جانکار معاذ بن جبل ہیں ، اور فرائض ( میراث ) کے سب سے زیادہ جاننے والے زید بن ثابت ہیں ، اور سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں ، اور ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے اس سند سے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں ¤ ۲- اسے ابوقلابہ نے انس کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کیا ہے اور مشہور ابوقلابہ والی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3790]
💡 وضاحت:
۱؎: امین یوں تو سارے صحابہ تھے، مگر ابوعبیدہ رضی الله عنہ اس بات میں ممتاز تھے، اس لیے ان کو «امين الامة» (آج کل کی اصطلاح میں پوری امت کا جنرل سیکریٹری) کا لقب دیا، اسی طرح بہت ساری اچھی صفات میں بہت سے صحابہ مشترک ہیں مگر کسی کسی کی خاص خصوصیت ہے کہ جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس صفت میں ممتاز قرار دیا، جیسے حیاء میں عثمان، قضاء میں علی، میراث میں زید بن ثابت اور قراءت میں ابی بن کعب، وغیرہم رضی الله عنہم، (دیکھیے اگلی حدیث)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (154)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، وانظر ما بعدہ (تحفة الأشراف: 1344) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ عُمَرُ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ، وَأَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا وَإِنَّ أَمِينَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ". هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں اور اللہ کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں اور سب سے زیادہ سچی حیاء والے عثمان ہیں اور اللہ کی کتاب کے سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں اور فرائض ( میراث ) کے سب سے بڑے جانکار زید بن ثابت ہیں اور حلال و حرام کے سب سے بڑے عالم معاذ بن جبل ہیں اور سنو ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں ۔“ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3791]
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (154)، وانظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 952) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَال: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا قَالَ: وَسَمَّانِي، قَالَ: " نَعَمْ"، فَبَكَى. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب رضی الله عنہ سے فرمایا : ” اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں «لم يكن الذين كفروا» ۱؎ پڑھ کر سناؤں ، انہوں نے عرض کیا : کیا اس نے میرا نام لیا ہے ، آپ نے فرمایا : ” ہاں ( یہ سن کر ) وہ رو پڑے “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ۔“ [سنن ترمذي/حدیث: 3792]
💡 وضاحت:
۱؎: سورۃ البینۃ: ۱۔
۲؎: یہ بات اللہ کے نزدیک ابی بن کعب کے مقام و مرتبہ کی دلیل ہے، اور وہ بھی خاص قراءت قرآن میں «ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء» (الجمعة: ۴)
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/مناقب الأنصار 16 (3809)، وتفسیر سورة البینة (4959-4961)، صحیح مسلم/المسافرین 39 (799)، وفضائل الصحابة 23 (799/121) (تحفة الأشراف: 1247) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، قَال: سَمِعْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ فَقَرَأَ عَلَيْهِ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقَرَأَ فِيهَا: إِنَّ ذَاتَ الدِّينِ عِنْدَ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ الْمُسْلِمَةُ لَا الْيَهُودِيَّةُ , وَلَا النَّصْرَانِيَّةُ، مَنْ يَعْمَلْ خَيْرًا فَلَنْ يُكْفَرَهُ، وَقَرَأَ عَلَيْهِ: وَلَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِ ثَانِيًا، وَلَوْ كَانَ لَهُ ثَانِيًا لَابْتَغَى إِلَيْهِ ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ". وَقَدْ رَوَى قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُبَيٍّ: " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ".
ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں پڑھ کر سناؤں “ ، پھر آپ نے انہیں «لم يكن الذين كفروا من أهل الكتاب» پڑھ کر سنایا ، اور اس میں یہ بھی پڑھا ۱؎ «إن ذات الدين عند الله الحنيفية المسلمة لا اليهودية ولا النصرانية من يعمل خيرا فلن يكفره» ” بیشک دین والی ۲؎ اللہ کے نزدیک تمام ادیان و ملل سے رشتہ کاٹ کر اللہ کی جانب یکسو ہو جانے والی مسلمان عورت ہے نہ کہ یہودی اور نصرانی عورت جو کوئی نیکی کا کام کرے تو وہ ہرگز اس کی ناقدری نہ کرے “ ، اور آپ نے ان کے سامنے یہ بھی پڑھا : ۳؎ «ولو أن لابن آدم واديا من مال لابتغى إليه ثانيا ولو كان له ثانيا لابتغى إليه ثالثا ولا يملأ جوف ابن آدم إلا التراب ويتوب الله على من تاب» ” اگر ابن آدم کے پاس مال کی ایک وادی ہو تو وہ دوسری وادی کی خواہش کرے گا اور اگر اسے دوسری بھی مل جائے تو وہ تیسری چاہے گا ، اور آدم زادہ کا پیٹ صرف خاک ہی بھر سکے گی ۴؎ ، اور جو توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے ۔“ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی آئی ہے ، ¤ ۳- اسے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابزی نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور انہوں نے ابی بن کعب سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب سے فرمایا : ” اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں “ ، ¤ ۴- قتادہ نے انس سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب رضی الله عنہ سے فرمایا کہ ” اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں ۔“ [سنن ترمذي/حدیث: 3793]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی یہ حدیث ارشاد فرمائی، نہ کہ مذکورہ آیت کی طرح تلاوت کی۔
۲؎: یعنی: شادی کے لیے عورتوں کا انتخاب میں جو «فاظفر بذات الدین» کا حکم نبوی آیا ہے اس «ذات الدین» سے مراد ایسی ہی عورت ہے۔ ۳؎: یعنی: یہ حدیث ارشاد فرمائی، نہ کہ مذکورہ آیت کی طرح تلاوت کی۔ ۴؎: یعنی: موت کے بعد مٹی میں دفن ہو جانے پر ہی یہ خواہش ختم ہو پائے گی۔
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 21) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةٌ كُلُّهُمْ مِنَ الْأَنْصَارِ: أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَبُو زَيْدٍ"، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: مَنْ أَبُو زَيْدٍ؟ قَالَ: أَحَدُ عُمُومَتِي. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں قرآن کو چار آدمیوں نے جمع کیا اور وہ سب کے سب انصار میں سے ہیں : ابی بن کعب ، معاذ بن جبل ، زید بن ثابت اور ابوزید ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3794]
💡 وضاحت:
۱؎: اس میں جہاں ان چاروں کی فضیلت ہے وہیں انصار مدینہ کی بھی منقبت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل الأنصار 17 (3810)، وفضائل القرآن 8 (5003)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 23 (2465) (تحفة الأشراف: 1248) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو بَكْرٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ عُمَرُ، نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، نِعْمَ الرَّجُلُ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا ہی اچھے لوگ ہیں ابوبکر ، عمر ، ابوعبیدہ بن جراح ، اسید بن حضیر ، ثابت بن قیس بن شماس ، معاذ بن جبل اور معاذ بن عمرو بن جموح “ ( رضی الله عنہم ) ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ہم اسے صرف سہیل کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3795]
قال الشيخ الألباني:
صحيح وقد تقدم أوله برقم (4028)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 12708) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، أَخْبَرَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، وَأَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ: قَلْبُ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ مِنْ ذَهَبٍ.
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک قوم کا نائب اور سردار دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور دونوں نے عرض کیا : ہمارے ساتھ آپ اپنا کوئی امین روانہ فرمائیں ، تو آپ نے فرمایا : ” میں تمہارے ساتھ ایک ایسا امین بھیجوں گا جو حق امانت بخوبی ادا کرے گا “ ، تو اس کے لیے لوگوں کی نظریں اٹھ گئیں اور پھر آپ نے ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہ کو روانہ فرمایا ۔ راوی حدیث ابواسحاق سبیعی کہتے ہیں : جب وہ اس حدیث کو صلہ سے روایت کرتے تو کہتے ساٹھ سال ہوئے یہ حدیث میں نے ان سے سنی تھی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث ابن عمر اور انس رضی الله عنہما کے واسطے سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے ، آپ نے فرمایا : ” ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3796]
قال الشيخ الألباني:
صحيح وانظر الصحيحة (1964)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، أَخْبَرَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، وَأَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ: قَلْبُ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ مِنْ ذَهَبٍ.
بیان کیا ہم سے محمد بن بشار نے ، وہ کہتے ہیں : مجھے مسلم بن قتیبہ اور ابوداؤد نے خبر دی اور ان دونوں نے شعبہ کے واسطہ سے ابواسحاق سے روایت کی ، وہ کہتے ہیں : حذیفہ نے کہا : صلہ بن زفر کا دل سونے کی طرح روشن اور چمکدار ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3796M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح وانظر الصحيحة (1964)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
34: باب مَنَاقِبِ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رضى الله عنه
باب: سلمان فارسی رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ الْإِيَادِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْجَنَّةَ لَتَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ: عَلِيٍّ , وَعَمَّارٍ , وَسَلْمَانَ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنت تین آدمیوں کی مشتاق ہے : علی ، عمار ، اور سلمان رضی الله عنہم کی “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف حسن بن صالح کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3797]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الضعيفة (2329)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3797) إسناده ضعيف ¤ الحسن عنعن (تقدم: 21)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 532) (ضعیف) (سند میں حسن بن سلم بن صالح الجعلی مجہول، اور ابوربیعہ الإیادی لین الحدیث راوی ہیں، نیز اس کے سارے طرق ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: الضعیفة رقم 2328)
|
|
|
35: باب مَنَاقِبِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رضى الله عنه
باب: عمار بن یاسر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: جَاءَ عَمَّارٌ يَسْتَأْذِنُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " ائْذَنُوا لَهُ مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمار نے آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا : ” انہیں اجازت دے دو ، مرحبا مرد پاک ذات و پاک صفات کو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3798]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (146)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (146) (تحفة الأشراف: 10300) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مَوْلًى لِرِبْعِيٍّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنِّي لَا أَدْرِي مَا قَدْرُ بَقَائِي فِيكُمْ، فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي، وَأَشَارَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَاهْتَدُوا بِهَدْيِ عَمَّارٍ، وَمَا حَدَّثَكُمْ ابْنُ مَسْعُودٍ فَصَدِّقُوهُ ". هَذَا حَسَنٌ، وَرَوَى إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ هِلَالٍ مَوْلَى رِبْعِيٍّ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَقَدْ رَوَى سَالِمٌ الْمُرَادِيُّ الْكُوفِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمار کو جب بھی دو باتوں کے درمیان اختیار دیا گیا تو انہوں نے اسی کو اختیار کیا جو ان دونوں میں سب سے بہتر اور حق سے زیادہ قریب ہوتی تھی “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے عبدالعزیز بن سیاہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، اور یہ ایک کوفی شیخ ہیں اور ان سے لوگوں نے روایت کی ہے ، ان کا ایک لڑکا تھا جسے یزید بن عبدالعزیز کہا جاتا تھا ، ان سے یحییٰ بن آدم نے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3799]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں عمار رضی الله عنہ کے ساتھ ساتھ ابوبکر و عمر رضی الله عنہما اور ابن مسعود رضی اللہ کی منقبت بھی بیان کی گئی ہے، یہ منقبت یہ ہے کہ بزبان رسالت ان کے ہدایت پر ہونے کی گواہی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (148)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3799) ضعيف/ جه 148 ¤ حبيب عنعن (تقدم: 241)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 3263 (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مَوْلًى لِرِبْعِيٍّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنِّي لَا أَدْرِي مَا قَدْرُ بَقَائِي فِيكُمْ، فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي، وَأَشَارَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَاهْتَدُوا بِهَدْيِ عَمَّارٍ، وَمَا حَدَّثَكُمْ ابْنُ مَسْعُودٍ فَصَدِّقُوهُ ". هَذَا حَسَنٌ، وَرَوَى إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ هِلَالٍ مَوْلَى رِبْعِيٍّ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَقَدْ رَوَى سَالِمٌ الْمُرَادِيُّ الْكُوفِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا.
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے فرمایا : ” میں نہیں جانتا کہ میں تم میں کب تک رہوں گا ( یعنی کتنے دنوں تک زندہ رہوں گا ) تو تم ان دونوں کی پیروی کرنا جو میرے بعد ہوں گے ( اور آپ نے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کی طرف اشارہ کیا اور عمار کی روش پر چلنا اور ابن مسعود جو تم سے بیان کریں اسے سچ جاننا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- ابراہیم بن سعد نے بھی اس حدیث کی روایت ، بطریق : «سفيان الثوري عن عبد الملك بن عمير عن هلال مولى ربعي عن ربعي عن حذيفة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح کی ہے ، اور سالم مرادی کوفی نے بطریق : «عمرو بن هرم عن ربعي ابن حراش عن حذيفة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3799M]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں عمار رضی الله عنہ کے ساتھ ساتھ ابوبکر و عمر رضی الله عنہما اور ابن مسعود رضی اللہ کی منقبت بھی بیان کی گئی ہے، یہ منقبت یہ ہے کہ بزبان رسالت ان کے ہدایت پر ہونے کی گواہی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (148)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 3263 (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْشِرْ عَمَّارُ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي الْيَسَرِ، وَحُذَيْفَةَ، قَالَ: وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمار ! تمہیں ایک باغی جماعت قتل کرے گی “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث علاء بن عبدالرحمٰن کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ام سلمہ ، عبدالرحمٰن بن عمرو ، ابویسر اور حذیفہ رضی الله عنہم احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3800]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں اس بات کی گواہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ہے کہ قتل ہونے کے وقت عمار حق والی جماعت کے ساتھ ہوں گے اور ان کے قاتل اس بابت حق پر نہیں ہوں گے، اور اس حق و ناحق سے مراد اعتقادی (توحید و شرک کا) حق و ناحق نہیں مراد ہے بلکہ اس وقت سیاسی طور پر حق و ناحق پر ہونے کی گواہی ہے، عمار اس وقت علی رضی الله عنہ کے ساتھ جو اس وقت خلیقہ برحق تھے، اور فریق مخالف معاویہ رضی الله عنہ تھے جو علی رضی الله عنہ سے خلافت کے سیاسی مسئلہ پر جنگ کر رہے تھے، اس میں عمار رضی الله عنہ کی شہادت ہوئی تھی، یہ جنگ صفین کا واقعہ ہے اس واقعہ میں معاویہ رضی الله عنہ جو علی رضی الله عنہ سے برسرپیکار ہو گئے تھے، یہ ان کی اجتہادی غلطی تھی جو معاف ہے، (رضی الله عنہم اجمعین)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (710)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، وھو جماعة من الصحابة غیرہ (تحفة الأشراف: 14081) (صحیح)
|
|
|
36: باب مَنَاقِبِ أَبِي ذَرٍّ رضى الله عنه
باب: ابوذر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ وَهُوَ أَبُو الْيَقْظَانِ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ، وَلَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ أَصْدَقَ مِنْ أَبِي ذَرٍّ ". قَالَ: وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَأَبِي ذَرٍّ، قَالَ: وَهَذَا حَسَنٌ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” آسمان نے کسی پر سایہ نہیں کیا اور نہ زمین نے اپنے اوپر کسی کو پناہ دی جو ابوذر رضی الله عنہ سے زیادہ سچا ہو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابو الدرداء اور ابوذر سے حدیثیں آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3801]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے ابوذر رضی الله عنہ کی سچائی سے متعلق مبالغہ اور تاکید مقصود ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (156)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (156) (تحفة الأشراف: 8957)، و مسند احمد (2/163، 175) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ هُوَ سِمَاكُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحَنَفِيُّ , عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ، وَلَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ مِنْ ذِي لَهْجَةٍ أَصْدَقَ , وَلَا أَوْفَى مِنْ أَبِي ذَرٍّ شِبْهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام "، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: كَالْحَاسِدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَتَعْرِفُ ذَلِكَ لَهُ؟ قَالَ: " نَعَمْ، فَاعْرِفُوهُ لَهُ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ , فَقَالَ: أَبُو ذَرٍّ يَمْشِي فِي الْأَرْضِ بِزُهْدِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام.
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آسمان نے کسی پر سایہ نہیں کیا اور نہ زمین نے کسی کو پناہ دی جو ابوذر سے - جو عیسیٰ بن مریم کے مشابہ ہیں - زیادہ زبان کا سچا اور اس کا پاس و لحاظ رکھنے والا ہو “ ، یہ سن کر عمر بن خطاب رضی الله عنہ رشک کے انداز میں بولے : اللہ کے رسول ! کیا ہم یہ بات انہیں بتا دیں ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، بتا دو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اور بعضوں نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا : ” ابوذر زمین پر عیسیٰ بن مریم کی زاہدانہ چال چلتے ہیں “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3802]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6230 / التحقيق الثاني)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3802) لاأصل له ¤ هذا الحديث لم أجده وأما حديث ”ما أظلت الخضراء“ إلخ فسنده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 11976) (ضعیف) (سند میں مرثد الزمانی لین الحدیث راوی ہیں)
|
|
|
37: باب مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ رضى الله عنه
باب: عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُحَيَّاةَ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَخِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، قَالَ: لَمَّا أُرِيدَ قَتْلُ عُثْمَانَ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قَالَ: جِئْتُ فِي نَصْرِكَ، قَالَ: اخْرُجْ إِلَى النَّاسِ فَاطْرُدْهُمْ عَنِّي , فَإِنَّكَ خَارِجًا خَيْرٌ لِي مِنْكَ دَاخِلًا، فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى النَّاسِ , فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ كَانَ اسْمِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فُلَانٌ فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ، وَنَزَلَتْ فِيَّ آيَاتٌ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ , فَنَزَلَتْ فِيَّ: وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ سورة الأحقاف آية 10 وَنَزَلَتْ فِيَّ: قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ سورة الرعد آية 43 إِنَّ لِلَّهِ سَيْفًا مَغْمُودًا عَنْكُمْ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ قَدْ جَاوَرَتْكُمْ فِي بَلَدِكُمْ هَذَا الَّذِي نَزَلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاللَّهَ اللَّهَ فِي هَذَا الرَّجُلِ أَنْ تَقْتُلُوهُ , فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَتَلْتُمُوهُ لَتَطْرُدُنَّ جِيرَانَكُمُ الْمَلَائِكَةَ، وَلَتَسُلُّنَّ سَيْفَ اللَّهِ الْمَغْمُودَ عَنْكُمْ، فَلَا يُغْمَدُ عَنْكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، قَالُوا: اقْتُلُوا الْيَهُودِيَّ، وَاقْتُلُوا عُثْمَانَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، وَقَدْ رَوَى شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، فَقَالَ: عَنِ ابْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ.
عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کے بھتیجے کہتے ہیں کہ جب لوگوں نے عثمان رضی الله عنہ کے قتل کا ارادہ کیا تو عبداللہ بن سلام عثمان رضی الله عنہ کے پاس آئے ، عثمان رضی الله عنہ نے ان سے کہا : تم کیوں آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا : میں آپ کی مدد کے لیے آیا ہوں تو آپ نے کہا : تم لوگوں کے پاس جاؤ اور انہیں میرے پاس آنے سے بھگاؤ کیونکہ تمہارا باہر رہنا میرے حق میں تمہارے اندر رہنے سے زیادہ بہتر ہے ، چنانچہ عبداللہ بن سلام نکل کر لوگوں کے پاس آئے اور ان سے کہا : لوگو ! میرا نام جاہلیت میں فلاں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام عبداللہ رکھا ، اور میری شان میں اللہ کی کتاب کی کئی آیتیں نازل ہوئیں ، چنانچہ «وشهد شاهد من بني إسرائيل على مثله فآمن واستكبرتم إن الله لا يهدي القوم الظالمين» ۱؎ «قل كفى بالله شهيدا بيني وبينكم ومن عنده علم الكتاب» ۲؎ میرے ہی سلسلہ میں اتری ، اللہ کی تلوار میان میں ہے اور فرشتے تمہارے اس شہر مدینہ میں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترے تمہارے ہمسایہ ہیں ، لہٰذا تم اس شخص کے قتل میں اللہ سے ڈرو ، قسم اللہ کی ! اگر تم نے اسے قتل کر دیا ، تم اپنے ہمسایہ فرشتوں کو اپنے پاس سے بھگا دو گے ، اور اللہ کی تلوار کو جو میان میں ہے باہر کھینچ لو گے ، پھر وہ قیامت تک میان میں نہیں آ سکے گی تو لوگ ان کی یہ نصیحت سن کر بولے : اس یہودی کو قتل کرو اور عثمان کو بھی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف عبدالملک بن عمیر کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- شعیب بن صفوان نے بھی حدیث عبدالملک بن عمیر سے روایت کی ہے ، انہوں نے سند میں «عن ابن محمد بن عبد الله بن سلام عن جده عبد الله بن سلام» کہا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3803]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد ومضى برقم (3309) // (642 / 3486) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3803) إسناده ضعيف / تقدم:3256
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 3256 (ضعیف الإسناد)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ الْمَوْتُ قِيلَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَوْصِنَا، قَالَ: أَجْلِسُونِي، فَقَالَ: إِنَّ الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ مَكَانَهُمَا مَنَ ابْتَغَاهُمَا وَجَدَهُمَا، يَقُولُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَالْتَمِسُوا الْعِلْمَ عِنْدَ أَرْبَعَةِ رَهْطٍ: عِنْدَ عُوَيْمِرٍ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَعِنْدَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ الَّذِي كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّهُ عَاشِرُ عَشَرَةٍ فِي الْجَنَّةِ ". وَفِي الْبَابِ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
یزید بن عمیرہ کہتے ہیں کہ جب معاذ بن جبل رضی الله عنہ کے مرنے کا وقت آیا تو ان سے کہا گیا : اے ابوعبدالرحمٰن ! ہمیں کچھ وصیت کیجئے ، تو انہوں نے کہا : مجھے بٹھاؤ ، پھر بولے : علم اور ایمان دونوں اپنی جگہ پر قائم ہیں جو انہیں ڈھونڈے گا ضرور پائے گا ، انہوں نے اسے تین بار کہا ، پھر بولے : علم کو چار آدمیوں کے پاس ڈھونڈو : عویمر ابو الدرداء کے پاس ، سلمان فارسی کے پاس ، عبداللہ بن مسعود کے پاس اور عبداللہ بن سلام کے پاس ، ( جو یہودی تھے پھر اسلام لائے ) کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ ان دس لوگوں میں سے ہیں جو جنتی ہیں ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3804]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں عبداللہ بن سلام کی فضیلت شہادت ایک تو صحابی رسول کی زبان سے ہے، دوسرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (6231)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 11368) (صحیح)
|
|
|
38: باب مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضى الله عنه
باب: عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي مِنْ أَصْحَابِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَاهْتَدُوا بِهَدْيِ عَمَّارٍ، وَتَمَسَّكُوا بِعَهْدِ ابْنِ مَسْعُودٍ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، وَيَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، وَأَبُو الزَّعْرَاءِ اسْمُهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئٍ، وَأَبُو الزَّعْرَاءِ الَّذِي رَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ , وَالثَّوْرِيُّ , وَابْنُ عُيَيْنَةَ اسْمُهُ: عَمْرُو بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ أَخِي أَبِي الْأَحْوَصِ صَاحِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ان دونوں کی پیروی کرو جو میرے اصحاب میں سے میرے بعد ہوں گے یعنی ابوبکر و عمر کی ، اور عمار کی روش پر چلو ، اور ابن مسعود کے عہد ( وصیت ) کو مضبوطی سے تھامے رہو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن مسعود کی یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف یحییٰ بن سلمہ بن کہیل کی روایت سے جانتے ہیں ، اور یحییٰ بن سلمہ حدیث میں ضعیف ہیں ، ¤ ۳- ابوالزعراء کا نام عبداللہ بن ہانی ٔ ہے ، اور وہ ابوالزعراء جن سے شعبہ ، ثوری اور ابن عیینہ نے روایت کی ہے ان کا نام عمرو بن عمرو ہے ، اور وہ عبداللہ بن مسعود کے شاگرد ابوالاحوص کے بھتیجے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3805]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث کے اول و آخر ٹکڑے میں خلافت صدیقی و فاروقی کی طرف اشارہ ہے، ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کی اقتداء سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بالترتیب ان دونوں کی خلافت ہے، اور ابن مسعود رضی الله عنہ کی وصیت سے مراد بھی یہی ہے کہ انہوں نے ابوبکر رضی الله عنہ کی خلافت کی تائید کی تھی، یہی مراد ہے، ان کی وصیت مضبوطی سے تھامنے سے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (97)، وانظر الحديث (4069)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9352) (صحیح) (الصحیحہ 1233، وتراجع الالبانی 377)
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مُوسَى يَقُولُ: " لَقَدْ قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنَ الْيَمَنِ , وَمَا نُرَى حِينًا إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا نَرَى مِنْ دُخُولِهِ , وَدُخُولِ أُمِّهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق.
اسود بن یزید سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے بھائی دونوں یمن سے آئے تو ہم ایک عرصہ تک یہی سمجھتے رہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ اہل بیت ہی کے ایک فرد ہیں ، کیونکہ ہم انہیں اور ان کی والدہ کو کثرت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( ان کے گھر میں ) آتے جاتے دیکھتے تھے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس سند سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- سفیان ثوری نے بھی اسے ابواسحاق سے روایت کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3806]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ازحد قربت اور برابر ساتھ رہنے کی دلیل ہے جو ان کے فضل و شرف کی بات ہے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ابن مسعود کی ہر روایت اور فتوی ضرور ہی تمام صحابہ کی روایتوں اور فتاوی پر مقدم ہو گا، کیونکہ امہات المؤمنین تک کی بعض روایات یا تو منسوخ ہیں یا انہیں گھر سے باہر کے بعض احوال کا علم نہیں ہو سکا تھا، اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل الصحابة 27 (3763)، والمغازي 74 (4384)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 22 (2460) (تحفة الأشراف: 8979) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: أَتَيْنَا عَلَى حُذَيْفَةَ، فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا مَنْ أَقْرَبُ النَّاسِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيًا وَدَلًّا فَنَأْخُذَ عَنْهُ وَنَسْمَعَ مِنْهُ، قَالَ: " كَانَ أَقْرَبُ النَّاسِ هَدْيًا , وَدَلًّا , وَسَمْتًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ مَسْعُودٍ حَتَّى يَتَوَارَى مِنَّا فِي بَيْتِهِ، وَلَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ هُوَ مِنْ أَقْرَبِهِمْ إِلَى اللَّهِ زُلْفَى "، قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ ہم حذیفہ رضی الله عنہ کے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا : آپ ہمیں بتائیے کہ لوگوں میں چال ڈھال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے قریب کون ہے کہ ہم اس کے طور طریقے کو اپنائیں ، اور اس کی باتیں سنیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ لوگوں میں چال ڈھال اور طور طریقے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے قریب ابن مسعود رضی الله عنہ ہیں ، یہاں تک کہ وہ ہم سے اوجھل ہو کر آپ کے گھر کے اندر بھی جایا کرتے تھے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو جو کسی طرح کی تحریف یا نسیان سے محفوظ ہیں یہ بخوبی معلوم ہے کہ ام عبد کے بیٹے یعنی عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ ان سب میں اللہ سے سب سے نزدیک ہیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3807]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی لوگ جو بیان کریں گے وہ بالکل حقیقت کے مطابق ہو گا، اور انہوں نے یہ بیان کیا کہ ابن مسعود رضی الله عنہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طور طریقے سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے، اور ان سے ازحد قریب تھے، یہ صحابہ کی زبان سے ابن مسعود کی فضیلت کا اعتراف ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل الصحابة 27 (3762) (تحفة الأشراف: 3374) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا صَاعِدٌ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كُنْتُ مُؤَمِّرًا أَحَدًا مِنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ مِنْهُمْ لَأَمَّرْتُ عَلَيْهِمْ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الْحَارِثِ , عَنْ عَلِيٍّ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میں بغیر مشورہ کے ان میں سے کسی کو امیر بناتا تو ام عبد کے بیٹے ( عبداللہ بن مسعود ) کو امیر بناتا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف حارث کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ علی رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3808]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (137) // ضعيف سنن ابن ماجة (24)، المشكاة (6222)، ضعيف الجامع الصغير (4844) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3809، 3808) إسناده ضعيف /جه 137 ¤ الحارث الأعور:ضعيف (تقدم:282)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المدقمة 11 (137) (تحفة الأشراف: 10045) (ضعیف) (سند میں ”حارث اعور“ ضعیف اور ابواسحاق سبیعی مدلس اور مختلط راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كُنْتُ مُؤَمِّرًا أَحَدًا مِنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ لَأَمَّرْتُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ ".
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میں بغیر مشورہ کے کسی کو امیر بناتا تو ام عبد کے بیٹے ( عبداللہ بن مسعود ) کو امیر بناتا “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3809]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف انظر ما قبله (3808)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3809، 3808) إسناده ضعيف /جه 137 ¤ الحارث الأعور:ضعيف (تقدم:282)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (ضعیف)
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ: مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قرآن مجید چار لوگوں سے سیکھو : ابن مسعود ، ابی بن کعب ، معاذ بن جبل ، اور سالم مولی ابی حذیفہ سے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3810]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ یہ چار صحابہ خاص طور پر قرآن کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اخذ کرنے، یاد کرنے، بہتر طریقے سے ادا کرنے میں ممتاز تھے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کے سوا دیگر صحابہ کو قرآن یاد ہی نہیں تھا، اور اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ان سے مروی قراءت کی ضرور ہی پابندی کی جائے، کیونکہ عثمان رضی الله عنہ نے اعلی ترین مقصد کے تحت ایک قراءت کے سوا تمام قراءتوں کو ختم کرا دیا تھا (اس قراءتوں سے مراد معروف سبعہ کی قراءتیں نہیں مراد صحابہ کے مصاحف ہیں)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (1827)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل الصحابة 26 (3758)، و27 (3760)، وفضائل الأنصار 14 (3806)، و16 (3808)، وفضائل القرآن 8 (4999)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 22 (2464) (تحفة الأشراف: 8932) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسا صالحا , فيسر لِي أَبَا هُرَيْرَةَ , فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ , فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسا صالحا فوفقت لِي، فَقَالَ لِي: " مِنْ أَيْنَ أَنْتَ؟ "، قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ جِئْتُ أَلْتَمِسُ الْخَيْرَ وَأَطْلُبُهُ، قَالَ: " أَلَيْسَ فِيكُمْ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ مُجَابُ الدَّعْوَةِ، وَابْنُ مَسْعُودٍ صَاحِبُ طَهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَعْلَيْهِ، وَحُذَيْفَةُ صَاحِبُ سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَمَّارٌ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ، وَسَلْمَانُ صَاحِبُ الْكِتَابَيْنِ "، قَالَ قَتَادَةُ: وَالْكِتَابَانِ: الْإِنْجِيلُ , وَالْفُرْقَانُ. قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَخَيْثَمَةُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ إِنَّمَا نُسِبَ إِلَى جَدِّهِ.
خیثمہ بن ابی سبرہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو میں نے اللہ سے اپنے لیے ایک صالح ہم نشیں پانے کی دعا کی ، چنانچہ اللہ نے مجھے ابوہریرہ رضی الله عنہ کی ہم نشینی کی توفیق بخشی ۱؎ ، میں ان کے پاس بیٹھنے لگا تو میں نے ان سے عرض کیا : میں نے اللہ سے اپنے لیے ایک صالح ہم نشیں کی توفیق مرحمت فرمانے کی دعا کی تھی ، چنانچہ مجھے آپ کی ہم نشینی کی توفیق ملی ہے ، انہوں نے مجھ سے پوچھا : تم کہاں کے ہو ؟ میں نے عرض کیا : میرا تعلق اہل کوفہ سے ہے اور میں خیر کی تلاش و طلب میں یہاں آیا ہوں ، انہوں نے کہا : کیا تمہارے یہاں سعد بن مالک جو مستجاب الدعوات ہیں ۲؎ اور ابن مسعود جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کے پانی کا انتظام کرنے والے اور آپ کے کفش بردار ہیں اور حذیفہ جو آپ کے ہمراز ہیں اور عمار جنہیں اللہ نے شیطان سے اپنے نبی کی زبانی پناہ دی ہے اور سلمان جو دونوں کتابوں والے ہیں موجود نہیں ہیں ۔ راوی حدیث قتادہ کہتے ہیں : کتابان سے مراد انجیل اور قرآن ہیں ۳؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- خیثمہ یہ عبدالرحمٰن بن ابوسبرہ کے بیٹے ہیں ان کی نسبت ان کے دادا کی طرف کر دی گئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3811]
💡 وضاحت:
۱؎: ٹھیک یہی معاملہ علقمہ بن قیس کوفی کے ساتھ بھی پیش آیا تھا، وہ شام آئے تو یہی دعا کی، تو انہیں ابو الدرداء رضی الله عنہ صحبت میسر ہوئی، انہوں بھی علقمہ سے بالکل یہی بات کہی جو اس حدیث میں ہے۔
۲؎: جن کی دعائیں رب العزت کی بارگاہ میں قبول ہوتی ہیں۔ اور یہ سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ ہیں۔ ۳؎: انہیں صاحب کتابیں اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ وہ پہلے مجوسی تھے، تلاش حق میں پہلے دین عیسیٰ قبول کئے، پھر مشرف بہ اسلام ہوئے اور قرآن پر ایمان لائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3811) إسناده ضعيف ¤ قتادة مدلس وعنعن (تقدم:30) وللحديث شواهد معنوية
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 12306) (صحیح)
|
|
|
39: باب مَنَاقِبِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رضى الله عنه
باب: حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اسْتَخْلَفْتَ، قَالَ: " إِنِ اسْتَخْلفْتُ عَلَيْكُمْ فَعَصَيْتُمُوهُ عُذِّبْتُمْ، وَلَكِنْ مَا حَدَّثَكُمْ حُذَيْفَةُ فَصَدِّقُوهُ، وَمَا أَقْرَأَكُمْ عَبْدُ اللَّهِ فَاقْرَءُوهُ ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقُلْتُ لِإِسْحَاقَ بْنِ عِيسَى: يَقُولُونَ هَذَا عَنْ أَبِي وَائِلٍ؟ قَالَ: لَا، عَنْ زَاذَانَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قَالَ: هَذَا حَسَنٌ حَدِيثُ شَرِيكٍ.
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کاش ! آپ اپنا جانشین مقرر فرما دیتے ، آپ نے فرمایا : ” اگر میں نے اپنا جانشین مقرر کر دیا اور تم نے اس کی نافرمانی کی تو تم عذاب دیئے جاؤ گے ، البتہ حذیفہ جو کچھ تم سے کہیں تم ان کی تصدیق کرو “ ، اور جو عبداللہ ( عبداللہ بن مسعود ) ۱؎ تمہیں پڑھائیں انہیں پڑھ لو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے اور یہ شریک کی روایت سے ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3812]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث شریک اور ابوالیقظان کی وجہ سے سنداً ضعیف ہے، مگر خلافت کے بارے میں ابن مسعود کی وصیت کی بابت ایک صحیح حدیث (رقم: (۳۸۱۸) گزر چکی ہے، اس حدیث کا ماحصل یہ ہے کہ آپ نے واضح طور پر اپنے جانشین کا نام تو نہیں بتایا، مگر حذیفہ رضی اللہ کی احالہ کر کے اشارہ کر دیا کہ جو حذیفہ بتائیں، وہی میری بات ہے، ابوحذیفہ نے ابوبکر رضی الله عنہ کے بارے میں بعد میں بتا دیا، (نیز دیکھئیے حدیث رقم: ۲/۳۸)۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6232)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3812) إسناده ضعيف ¤ أبو اليقظان: ضعيف (تقدم:126)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3322) (ضعیف) (سند میں ابوالیقظان اور شریک القاضی دونوں ضعیف راوی ہیں، ابوالیقظان شیعی بھی ہے)
|
|
|
40: باب مَنَاقِبِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رضى الله عنه
باب: زید بن حارثہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ فَرَضَ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فِي ثَلَاثَةِ آلَافٍ وَخَمْسِ مِائَةٍ، وَفَرَضَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي ثَلَاثَةِ آلَافٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لِأَبِيهِ: لِمَ فَضَّلْتَ أُسَامَةَ عَلَيَّ؟ فَوَاللَّهِ مَا سَبَقَنِي إِلَى مَشْهَدٍ، قَالَ: " لِأَنَّ زَيْدًا كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَبِيكَ، وَكَانَ أُسَامَةُ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكَ، فَآثَرْتُ حُبَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حُبِّي ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.
اسلم عدوی مولیٰ عمر سے روایت ہے کہ عمر رضی الله عنہ نے اسامہ بن زید رضی الله عنہما کے لیے بیت المال سے ساڑھے تین ہزار کا ، وظیفہ مقرر کیا ، اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے لیے تین ہزار کا تو عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما نے اپنے باپ سے عرض کیا : آپ نے اسامہ کو مجھ پر ترجیح دی ؟ اللہ کی قسم ! وہ مجھ سے کسی غزوہ میں آگے نہیں رہے ، تو انہوں نے کہا : اس لیے کہ زید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے باپ سے اور اسامہ تم سے زیادہ محبوب تھے ، اس لیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب کو اپنے محبوب پر ترجیح دی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3813]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6164)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10401) (ضعیف) (سند میں سفیان بن وکیع ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " مَا كُنَّا نَدْعُو زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ إِلَّا زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَتَّى نَزَلَتْ: ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ سورة الأحزاب آية 5 ". قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم زید بن حارثہ کو زید بن محمد ہی کہہ کر پکارتے تھے یہاں تک کہ آیت کریمہ «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله»” تم متبنی ( لے پالک ) لوگوں کو ان کے اپنے باپوں کے نام پکارا کرو ، یہی بات اللہ کے نزدیک زیادہ قرین انصاف بات ہے “ ( الاحزاب : ۵ ) ، نازل ہوئی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3814]
قال الشيخ الألباني:
صحيح وهو مكرر الحديث (3439)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 3209 (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ الْبَصْرِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الرُّومِيِّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَبَلَةُ بْنُ حَارِثَةَ أَخُو زَيْدٍ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْعَثْ مَعِي أَخِي زَيْدًا، قَالَ: " هُوَ ذَا، قَالَ: فَإِنِ انْطَلَقَ مَعَكَ لَمْ أَمْنَعْهُ "، قَالَ زَيْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَاللَّهِ لَا أَخْتَارُ عَلَيْكَ أَحَدًا، قَالَ: فَرَأَيْتُ رَأْيَ أَخِي أَفْضَلَ مِنْ رَأْيِي. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ الرُّومِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ.
زید بن حارثہ رضی الله عنہ کے بھائی جبلہ بن حارثہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے بھائی زید کو میرے ساتھ بھیج دیجئیے ، آپ نے فرمایا : ” وہ موجود ہیں اگر تمہارے ساتھ جانا چاہ رہے ہیں تو میں انہیں نہیں روکوں گا “ ، یہ سن کر زید نے کہا : اللہ کے رسول ! قسم اللہ کی ! میں آپ کے مقابلہ میں کسی اور کو اختیار نہیں کر سکتا ، جبلہ کہتے ہیں : تو میں نے دیکھا کہ میرے بھائی کی رائے میری رائے سے افضل تھی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف ابن رومی کی روایت سے جانتے ہیں ، جسے وہ علی بن مسہر سے روایت کرتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3815]
قال الشيخ الألباني:
حسن، المشكاة (6165 / التحقيق الثاني)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3815) إسناده ضعيف ¤ إسماعيل بن أبى خالد مدلس وعنعن (د 2930) وللحديث شواهد
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3182) (حسن) (تراجع الألبانی 600)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس کا امیر اسامہ بن زید کو بنایا تو لوگ ان کی امارت پر تنقید کرنے لگے چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم ان کی امارت میں طعن کرتے ہو تو اس سے پہلے ان کے باپ کی امارت پر بھی طعن کر چکے ہو ۱؎ ، قسم اللہ کی ! وہ ( زید ) امارت کے مستحق تھے اور وہ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھے ، اور ان کے بعد یہ بھی ( اسامہ ) لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3816]
💡 وضاحت:
۱؎: آپ کا اشارہ غزوہ موتہ میں زید کو امیر بنانے کے واقعے کی طرف ہے، اس حدیث سے دونوں باپ بیٹوں کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ.
عبداللہ بن دینار نے عمر کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک بن انس کی حدیث ہی جیسی حدیث روایت کی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3816M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
41: باب مَنَاقِبِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رضى الله عنه
باب: اسامہ بن زید رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَبَطْتُ وَهَبَطَ النَّاسُ الْمَدِينَةَ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أُصْمَتَ , فَلَمْ يَتَكَلَّمْ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ يَدَيْهِ عَلَيَّ وَيَرْفَعُهُمَا , فَأَعْرِفُ أَنَّهُ يَدْعُو لِي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.
اسامہ بن زید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدید ہو گئی تو میں ( «جرف» سے ) اتر کر مدینہ آیا اور ( میرے ساتھ ) کچھ اور لوگ بھی آئے ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اندر گیا تو آپ کی زبان بند ہو چکی تھی ، پھر اس کے بعد آپ کچھ نہیں بولے ، آپ اپنے دونوں ہاتھ میرے اوپر رکھتے اور اٹھاتے تھے تو میں یہی سمجھ رہا تھا کہ آپ میرے لیے دعا فرما رہے ہیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3817]
قال الشيخ الألباني:
حسن، المشكاة (6166)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 122) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنَحِّيَ مُخَاطَ أُسَامَةَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: دَعْنِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَفْعَلُ، قَالَ: " يَا عَائِشَةُ أَحِبِّيهِ فَإِنِّي أُحِبُّهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ کی ناک پونچھنے کا ارادہ فرمایا ۱؎ تو میں نے کہا : آپ چھوڑیں میں صاف کئے دیتی ہوں ، آپ نے فرمایا : ” عائشہ ! تم اس سے محبت کرو کیونکہ میں اس سے محبت کرتا ہوں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3818]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ اس وقت کی بات ہے جب اسامہ بچے تھے، آدمی اسی بچے کی ناک پونچھتا ہے جس سے انتہائی محبت رکھتا ہے، جیسے اپنے بچے بسا اوقات آدمی کسی رشتہ دار یا دوست کے بچے سے محبت تو رکھتا ہے لیکن اس کی محبت میں اس حد تک نہیں جاتا کہ اس کی ناک پونچھے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسامہ کی ناک پونچھنے کے لیے اٹھنا ان سے آپ کی انتہائی محبت کی دلیل ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، المشكاة (6167)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 17875) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ عَلِيٌّ , وَالْعَبَّاسُ يَسْتَأْذِنَانِ، فَقَالَا: يَا أُسَامَةُ اسْتَأْذِنْ لَنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِيٌّ , وَالْعَبَّاسُ يَسْتَأْذِنَانِ، فَقَالَ: " أَتَدْرِي مَا جَاءَ بِهِمَا؟ " , قُلْتُ: لَا أَدْرِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَكِنِّي أَدْرِي " , فَأَذِنَ لَهُمَا، فَدَخَلَا فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ أَيُّ أَهْلِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: " فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ "، فَقَالَا: مَا جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ أَهْلِكَ، قَالَ: " أَحَبُّ أَهْلِي إِلَيَّ مَنْ قَدْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ , وَأَنْعَمْتُ عَلَيْهِ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ "، قَالَا: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ "، قَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ جَعَلْتَ عَمَّكَ آخِرَهُمْ، قَالَ: لِأَنَّ عَلِيًّا قَدْ سَبَقَكَ بِالْهِجْرَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ وَكَانَ شُعْبَةُ يُضَعِّفُ عُمَرَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ.
اسامہ بن زید رضی الله عنہما کا بیان ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اتنے میں علی اور عباس رضی الله عنہما دونوں اندر آنے کی اجازت مانگنے لگے ، انہوں نے کہا : اسامہ ! ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگو ، تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! علی اور عباس دونوں اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ کیوں آئے ہیں ؟ “ میں نے عرض کیا : میں نہیں جانتا ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے تو معلوم ہے “ ، پھر آپ نے انہیں اجازت دے دی وہ اندر آئے اور عرض کیا کہ ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ ہم آپ سے پوچھیں کہ آپ کے اہل میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” فاطمہ بنت محمد “ ، تو وہ دونوں بولے : ہم آپ کی اولاد کے متعلق نہیں پوچھتے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” میرے گھر والوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جس پر اللہ نے انعام کیا اور میں نے انعام کیا ہے ، اور وہ اسامہ بن زید ہیں “ ، وہ دونوں بولے : پھر کون ؟ آپ نے فرمایا : ” پھر علی بن ابی طالب ہیں “ ، عباس بولے : اللہ کے رسول ! آپ نے اپنے چچا کو پیچھے کر دیا ، آپ نے فرمایا : ” علی نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- شعبہ : عمر بن ابی سلمہ کو ضعیف قرار دیتے تھے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3819]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6168) // ضعيف الجامع الصغير (168) باختصار //
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 123) (ضعیف) (سند میں عمر بن ابی سلمہ روایت حدیث میں غلطیاں کر جاتے تھے)
|
|
|
42: باب مَنَاقِبِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رضى الله عنه
باب: جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا ضَحِكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب سے میں اسلام لایا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( اجازت مانگنے پر اندر داخل ہونے سے ) منع نہیں فرمایا ۱؎ اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا آپ مسکرائے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3820]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جب بھی اندر آنے کی اجازت طلب کی آپ نے اجازت دیدی، منع نہیں کیا، اجازت کے بعد مستورات کو پردہ کرا کر اندر آنے دینے میں کوئی حرج نہیں، اس سے خواہ مخواہ یہ نکتہ نکالنے کی ضرورت نہیں کہ اس سے خاص مردانہ حلیہ مراد ہے، ہر بار اجازت لینے پر اندر آنے کی اجازت دے دینا اس آدمی سے خاص لگاؤ کی دلیل ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (159)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجھاد 162 (3035)، وفضائل الأنصار 21 (3822)، والأدب 68 (6090)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 29 (2475)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (159) (تحفة الأشراف: 3224) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: " مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سے میں اسلام لایا ہوں مجھے ( اندر جانے سے ) منع نہیں کیا اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا آپ مسکرائے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3821]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، وهو بهذا اللفظ أرجح انظر ما قبله (3820)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
43: باب مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رضى الله عنه
باب: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام مَرَّتَيْنِ , وَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ، وَلَا نَعْرِفُ لِأَبِي جَهْضَمٍ سَمَاعًا مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَقَدْ، رَوَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , وَأَبُو جَهْضَمٍ اسْمُهُ: مُوسَى بْنُ سَالِمٍ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے جبرائیل علیہ السلام کو دو بار دیکھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دو مرتبہ دعائیں کیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث مرسل ہے ، ہمیں نہیں معلوم کہ ابوجہضم کا ابن عباس سے سماع ہے یا نہیں ¤ ۲- یہ حدیث عبیداللہ بن عبداللہ بن عباس سے بھی ابن عباس کے واسطہ سے آئی ہے ، ¤ ۳- اور ابوجہضم کا نام موسیٰ بن سالم ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3822]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3822) إسناده ضعيف ¤ ليث:ضعيف (تقدم:218) والسند منقطع و سفيان الثوري عنعن (تقدم:746)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6502) (ضعیف) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " دَعَا لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤْتِيَنِي اللَّهُ الْحِكْمَةَ مَرَّتَيْنِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ 74 مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، مِنْ حَدِيثِ عَطَاءٍ , وَقَدْ رَوَاهُ عِكْرِمَةُ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بار مجھے حکمت سے نوازے جانے کی دعا فرمائی ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے عطا کی روایت سے غریب ہے اور اسے عکرمہ نے ابن عباس سے روایت کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3823]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک مرتبہ اپنے سینہ سے چمٹا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں یہ دعا کی کہ رب العالمین انہیں علم و حکمت عطا فرما اور دوسری مرتبہ جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی رکھ رہے تھے تو یہ دعا کی کہ اللہ تو انہیں دین کی سمجھ عطا فرما۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الروض النضير (395)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) وانظر مایأتي (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: ضَمَّنِي إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِكْمَةَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سینے سے لگا کر فرمایا : «اللهم علمه الحكمة» ” اے اللہ ! اسے حکمت سکھا دے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3824]
💡 وضاحت:
۱؎: حکمت سے مراد ”سنت“ ہے قرآن کی تفسیر کی تعلیم کی دعا بھی آپ نے ابن عباس رضی الله عنہما کے لیے کی تھی، یہاں سنت کی تعلیم کی دعا کا تذکرہ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الروض النضير (395)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل الصحابة 24 (3756)، والاعتصام 1 (7270)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (166) (تحفة الأشراف: 6049) (صحیح)
|
|
|
44: باب مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رضى الله عنهما
باب: عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّمَا فِي يَدِي قِطْعَةُ إِسْتَبْرَقٍ وَلَا أُشِيرُ بِهَا إِلَى مَوْضِعٍ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا طَارَتْ بِي إِلَيْهِ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ، فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " إِنَّ أَخَاكِ رَجُلٌ صَالِحٌ , أَوْ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میرے ہاتھ میں موٹے ریشم کا ایک ٹکڑا ہے اور اس سے میں جنت کی جس جگہ کی جانب اشارہ کرتا ہوں تو وہ مجھے اڑا کر وہاں پہنچا دیتا ہے ، تو میں نے یہ خواب ( ام المؤمنین ) حفصہ رضی الله عنہا سے بیان کیا پھر حفصہ رضی الله عنہا نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا : ” تیرا بھائی ایک مرد صالح ہے “ یا فرمایا : ” عبداللہ مرد صالح ہیں “ ۱؎ ۔ امام ترمذی : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3825]
💡 وضاحت:
۱؎: کسی کے صالح ہونے کی شہادت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دیں، اس کے شرف کا کیا پوچھنا!۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/التہجد 21 (1156)، والتعبیر 25 (6991)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 31 (2478) (تحفة الأشراف: 7514) (صحیح)
|
|
|
45: باب مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ
باب: عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاق الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي بَيْتِ الزُّبَيْرِ مِصْبَاحًا، فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ مَا أُرَى أَسْمَاءَ إِلَّا قَدْ نُفِسَتْ , فَلَا تُسَمُّوهُ حَتَّى أُسَمِّيَهُ "، فَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ , وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ بِيَدِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خواب میں ) زبیر کے گھر میں ایک چراغ دیکھا تو آپ نے عائشہ رضی الله عنہا سے فرمایا : ” عائشہ ! میں یہی سمجھا ہوں کہ اسماء کے یہاں ولادت ہونے والی ہے ، تو اس کا نام تم لوگ نہ رکھنا ، میں رکھوں گا “ ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبداللہ رکھا ، اور اپنے ہاتھ سے ایک کھجور کے ذریعہ ان کی تحنیک کی ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3826]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اسے چبا کر ان کے منہ میں ڈال دیا جس کے منہ میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن گیا وہ منہ کتنا مبارک ہو گیا! «ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء» (الجمعة: ۴)۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3826) إسناده ضعيف ¤ عبدالله بن المؤمل: ضعيف الحديث (تق: 3648) و حديث مسلم (2146) هو المحفوظ
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 16243) (حسن)
|
|
|
46: باب مَنَاقِبِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضى الله عنه
باب: انس بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ صَوْتَهُ، فَقَالَتْ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أُنَيْسٌ، قَالَ: فَدَعَا لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ دَعَوَاتٍ قَدْ رَأَيْتُ مِنْهُنَّ اثْنَتَيْنِ فِي الدُّنْيَا , وَأَنَا أَرْجُو الثَّالِثَةَ فِي الْآخِرَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو میری ماں ام سلیم نے آپ کی آواز سن کر بولیں : میرے باپ اور میری ماں آپ پر فدا ہوں اللہ کے رسول ! یہ انیس ۱؎ ہے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے تین دعائیں کیں ، ان میں سے دو کو تو میں نے دنیا ہی میں دیکھ لیا ۲؎ اور تیسرے کا آخرت میں امیدوار ہوں ۳؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے ، اور وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3827]
💡 وضاحت:
۱؎: انیس یہ انس کی تصغیر ہے۔
۲؎: ان دونوں دعاؤں کا تعلق مال و اولاد کی کثرت سے تھا، انس رضی الله عنہ کا خود بیان ہے کہ میری زمین سال میں دو مرتبہ پیداوار دیتی تھی، اور میری اولاد میں میرے پوتے اور نواسے اس کثرت سے ہوئے کہ ان کی تعداد سو کے قریب ہے (دیکھئیے اگلی حدیث رقم: ۳۸۴۶)۔ ۳؎: اس دعا کا تعلق گناہوں کی مغفرت سے تھا جو انہیں آخرت میں نصیب ہو گی۔ «إن شاء اللہ»
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/فضائل الصحابة 32 (2481) (تحفة الأشراف: 515) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: رُبَّمَا قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ "، قَالَ أَبُو أُسَامَةَ: يَعْنِي يُمَازِحُهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کہتے : ” اے دو کانوں والے “ ۔ ابواسامہ کہتے ہیں : یعنی آپ ان سے یہ مذاق کے طور پر فرماتے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3828]
💡 وضاحت:
۱؎: اور مذاق کسی محبوب آدمی ہی سے کیا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 1192 (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَال: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَسٌ خَادِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ، قَالَ: " اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ , وَوَلَدَهُ , وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام سلیم رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! انس آپ کا خادم ہے ، آپ اللہ سے اس کے لیے دعا فرما دیجئیے ۔ آپ نے فرمایا : «اللهم أكثر ماله وولده وبارك له فيما أعطيته» ” اے اللہ ! اس کے مال اور اولاد میں زیادتی عطا فرما اور جو تو نے اسے عطا کیا ہے اس میں برکت دے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3829]
💡 وضاحت:
۱؎: دیکھئیے پچھلی حدیث کے حواشی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (2246)، تخريج المشكلة (12)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الدعوات 47 (6378، 6380)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 32 (2480) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ , وَأَبُو نَصْرٍ هُوَ خَيْثَمَةُ بْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ الْبَصْرِيُّ رَوَى عَنْ أَنَسٍ أَحَادِيثَ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت ایک ساگ ( گھاس ) کے ساتھ رکھی جسے میں چن رہا تھا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، اس حدیث کو ہم صرف جابر جعفی کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ ابونصر سے روایت کرتے ہیں ، ¤ ۲- ابونصر کا نام خیثمہ بن ابی خیثمہ بصریٰ ہے ، انہوں نے انس سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3830]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (4773 / التحقيق الثاني)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3830) إسناده ضعيف جدًا ¤ جابر الجعفي: ضعيف جدًا (تقدم: 206) وشيخه أبونصر خيثمة أبى خيثمة: لين الحديث (تق:1772)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 826) (ضعیف) (سند میں خیثمہ ابو نصر العبدی لین الحدیث راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، قَالَ: قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: " يَا ثَابِتُ خُذْ عَنِّي , فَإِنَّكَ لَنْ تَأْخُذَ عَنْ أَحَدٍ أَوْثَقَ مِنِّي، إِنِّي أَخَذْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ جِبْرِيلَ، وَأَخَذَهُ جِبْرِيلُ عَنِ اللَّهِ تَعَالَى ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ.
ثابت بنانی کا بیان ہے کہ مجھ سے انس بن مالک رضی الله عنہ نے کہا : اے ثابت مجھ سے علم دین حاصل کرو کیونکہ اس کے لیے تم مجھ سے زیادہ معتبر آدمی کسی کو نہیں پاؤ گے ، میں نے اسے ( براہ راست ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیا ہے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے اور جبرائیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے لیا ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف زید بن حباب کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3831]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3831، 3832) إسناده ضعيف ¤ ميمون بن أبان: مستور (تق:7042) أى مجهول الحال، وثقه ابن حبان وحده
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 491) (ضعیف الإسناد) (سند میں میمون بن ابان مجہول الحال راوی ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ نَحْوَ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَعْقُوبَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ: " وَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ جِبْرِيلَ ".
اس سند سے بھی انس رضی الله عنہ سے ابراہیم بن یعقوب والی حدیث ہی کی طرح حدیث مروی ہے ، لیکن اس میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جبرائیل سے لیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3832]
قال الشيخ الألباني:
*
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3831، 3832) إسناده ضعيف ¤ ميمون بن أبان: مستور (تق:7042) أى مجهول الحال، وثقه ابن حبان وحده
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (ضعیف الإسناد)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ أَبِي خَلْدَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي الْعَالِيَةِ , سَمِعَ أَنَسٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَدَمَهُ عَشْرَ سِنِينَ وَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكَانَ لَهُ بُسْتَانٌ يَحْمِلُ فِي السَّنَةِ الْفَاكِهَةَ مَرَّتَيْنِ، وَكَانَ فِيهَا رَيْحَانٌ كَانَ يَجِيءُ مِنْهُ رِيحُ الْمِسْكِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَأَبُو خَلْدَةَ اسْمُهُ: خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ , وَقَدْ أَدْرَكَ أَبُو خَلْدَةَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَرَوَى عَنْهُ.
ابوخلدہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالعالیہ سے پوچھا : کیا انس رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سنا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : انس رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال خدمت کی ہے اور آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی ہے ، اور انس رضی الله عنہ کا ایک باغ تھا جو سال میں دو بار پھلتا تھا ، اور اس میں ایک خوشبودار پودا تھا جس سے مشک کی بو آتی تھی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے اور وہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں اور ابوخلدہ نے انس بن مالک رضی الله عنہ کا زمانہ پایا ہے ، اور انہوں نے ان سے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3833]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (2241)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: 835) (صحیح)
|
|
|
47: باب مَنَاقِبِ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه
باب: ابوہریرہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَسَطْتُ ثَوْبِي عِنْدَهُ، ثُمَّ أَخَذَهُ فَجَمَعَهُ عَلَى قَلْبِي , فَمَا نَسِيتُ بَعْدَهُ حَدِيثًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کے پاس اپنی چادر پھیلا دی ، آپ نے اسے اٹھایا اور سمیٹ کر اسے میرے دل پر رکھ دیا ، اس کے بعد سے میں کوئی چیز نہیں بھولا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3834]
قال الشيخ الألباني:
حسن الإسناد صحيحه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، وانظر مابعدہ (تحفة الأشراف: 14885) (حسن الإسناد)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْمَعُ مِنْكَ أَشْيَاءَ فَلَا أَحْفَظُهَا، قَالَ: " ابْسُطْ رِدَاءَكَ "، فَبَسَطْتُهُ فَحَدَّثَ حَدِيثًا كَثِيرًا فَمَا نَسِيتُ شَيْئًا حَدَّثَنِي بِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں بہت سی چیزیں آپ سے سنتا ہوں لیکن انہیں یاد نہیں رکھ پاتا ، آپ نے فرمایا : ” اپنی چادر پھیلاؤ “ ، تو میں نے اسے پھیلا دیا ، پھر آپ نے بہت سے حدیثیں بیان فرمائیں ، تو آپ نے جتنی بھی حدیثیں مجھ سے بیان فرمائیں میں ان میں سے کوئی بھی نہیں بھولا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے کئی سندوں سے آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3835]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العلم 42 (119)، والمناقب 28 (3648) (تحفة الأشراف: 13015) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْتَ كُنْتَ أَلْزَمَنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَحْفَظَنَا لِحَدِيثِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے کہا : ابوہریرہ ! آپ ہم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہنے والے اور ہم سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں یاد رکھنے والے ہیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3836]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 8557) (صحیح الإسناد)
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَرَأَيْتَ هَذَا الْيَمَانِيَّ يَعْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ، أَهُوَ أَعْلَمُ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكُمْ؟ نَسْمَعُ مِنْهُ مَا لَا نَسْمَعُ مِنْكُمْ، أَوْ يَقُولُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ؟ قَالَ: " أَمَّا أَنْ يَكُونَ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ نَسْمَعْ فَلَا أَشُكُّ , إِلَّا أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ نَسْمَعْ , وَذَاكَ أَنَّهُ كَانَ مِسْكِينًا لَا شَيْءَ لَهُ، ضَيْفًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَدُهُ مَعَ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنَّا نَحْنُ أَهْلَ بُيُوتَاتٍ وَغِنًى وَكُنَّا نَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَفَيِ النَّهَارِ، فَلَا أَشُكُّ إِلَّا أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ نَسْمَعْ , وَلَا نَجِدُ أَحَدًا فِيهِ خَيْرٌ يَقُولُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، وَقَدْ رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، وَغَيْرُهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق.
مالک بن ابوعامر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے طلحہ بن عبیداللہ کے پاس آ کر کہا : اے ابو محمد ! کیا یہ یمنی شخص یعنی ابوہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں کا آپ لوگوں سے زیادہ جانکار ہے ، ہم اس سے ایسی حدیثیں سنتے ہیں جو آپ سے نہیں سنتے یا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسی بات گھڑ کر کہتا ہے جو آپ نے نہیں فرمائی ، تو انہوں نے کہا : نہیں ایسی بات نہیں ، واقعی ابوہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیزیں سنی ہیں جو ہم نے آپ سے نہیں سنیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مسکین تھے ، ان کے پاس کوئی چیز نہیں تھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان رہتے تھے ، ان کا ہاتھ ( کھانے پینے میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کے ساتھ پڑتا تھا ، اور ہم گھربار والے تھے اور مالدار لوگ تھے ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صبح میں اور شام ہی میں آ پاتے تھے ، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیزیں سنی ہیں جو ہم نے نہیں سنیں ، اور تم کوئی ایسا آدمی نہیں پاؤ گے جس میں کوئی خیر ہو اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف محمد بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- اسے یونس بن بکیر نے اور ان کے علاوہ دوسرے راویوں نے بھی محمد بن اسحاق سے روایت کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3837]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3837) إسناده ضعيف ¤ ابن إسحاق عنعن (تقدم:58)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 5010) (ضعیف الإسناد) (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ابْنِ بِنْتِ أَزْهَرَ السَّمَّانِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبُو خَلْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِمَّنْ أَنْتَ؟ " , قَالَ: قُلْتُ: مِنْ دَوْسٍ، قَالَ: " مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ فِي دَوْسٍ أَحَدًا فِيهِ خَيْرٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو خَلْدَةَ اسْمُهُ: خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ , وَأَبُو الْعَالِيَةِ اسْمُهُ: رُفَيْعٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم کس قبیلہ سے ہو ؟ “ میں نے عرض کیا : میں قبیلہ دوس کا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” میں نہیں جانتا تھا کہ دوس میں کوئی ایسا آدمی بھی ہو گا جس میں خیر ہو گی “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے اور ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3838]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 12894) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْمُهَاجِرُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمَرَاتٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ، فَضَمَّهُنَّ ثُمَّ دَعَا لِي فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ، فَقَالَ لِي: " خُذْهُنَّ وَاجْعَلْهُنَّ فِي مِزْوَدِكَ هَذَا، أَوْ فِي هَذَا الْمِزْوَدِ، كُلَّمَا أَرَدْتَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا فَأَدْخِلْ فِيهِ يَدَكَ فَخُذْهُ وَلَا تَنْثُرْهُ نَثْرًا، فَقَدْ حَمَلْتُ مِنْ ذَلِكَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا مِنْ وَسْقٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "، فَكُنَّا نَأْكُلُ مِنْهُ وَنُطْعِمُ وَكَانَ لَا يُفَارِقُ حِقْوِي، حَتَّى كَانَ يَوْمُ قَتْلِ عُثْمَانَ فَإِنَّهُ انْقَطَعَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر حاضر ہوا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ان میں برکت کی دعا فرما دیجئیے ، تو آپ نے انہیں اکٹھا کیا پھر ان میں برکت کی دعا کی اور فرمایا : ” انہیں لے جاؤ اور اپنے توشہ دان میں رکھ لو اور جب تم اس میں سے کچھ لینے کا ارادہ کرو تو اس میں اپنا ہاتھ ڈال کر لے لو ، اسے بکھیرو نہیں چنانچہ ہم نے اس میں سے اتنے اتنے وسق اللہ کی راہ میں دیئے اور ہم اس میں سے کھاتے تھے اور کھلاتے بھی تھے ۱؎ اور وہ ( تھیلی ) کبھی میری کمر سے جدا نہیں ہوتی تھی ، یہاں تک کہ جس دن عثمان رضی الله عنہ قتل کئے گئے تو وہ ٹوٹ کر ( کہیں ) گر گئی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ سے دوسری سندوں سے آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3839]
💡 وضاحت:
۱؎: خیر و برکت کی دعا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کسی مقبول بارگاہ الٰہی آدمی کے لیے کر سکتے ہیں؟ ثابت ہوا کہ ابوہریرہ رضی الله عنہ مقبول بارگاہ الٰہی تھے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن الإسناد
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 12893) (صحیح) (شواہد کی بنا پر صحیح ہے، الصحیحة: 3963، تراجع الالبانی 227)
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُرَابِطِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: لِمَ كُنِّيتَ أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: أَمَا تَفْرَقُ مِنِّي؟ قُلْتُ: بَلَى وَاللَّهِ إِنِّي لَأَهَابُكَ، قَالَ: " كُنْتُ أَرْعَى غَنَمَ أَهْلِي وَكَانَتْ لِي هُرَيْرَةٌ صَغِيرَةٌ , فَكُنْتُ أَضَعُهَا بِاللَّيْلِ فِي شَجَرَةٍ، فَإِذَا كَانَ النَّهَارُ ذَهَبْتُ بِهَا مَعِي , فَلَعِبْتُ بِهَا , فَكَنَّوْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
عبداللہ بن رافع کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے پوچھا : آپ کی کنیت ابوہریرہ کیوں پڑی ؟ تو انہوں نے کہا : کیا تم مجھ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ؟ قسم اللہ کی ! میں آپ سے ڈرتا ہوں ، پھر انہوں نے کہا : میں اپنے گھر والوں کی بکریاں چراتا تھا ، میری ایک چھوٹی سی بلی تھی میں اس کو رات میں ایک درخت پر بٹھا دیتا اور دن میں اسے اپنے ساتھ لے جاتا ، اور اس سے کھیلتا ، تو لوگوں نے میری کنیت ابوہریرہ رکھ دی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3840]
قال الشيخ الألباني:
حسن الإسناد
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 13560) (حسن الإسناد)
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَخِيهِ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَيْسَ أَحَدٌ أَكْثَرَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي إِلَّا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو , فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ وَكُنْتُ لَا أَكْتُبُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں مجھ سے زیادہ کسی کو یاد نہیں ، سوائے عبداللہ بن عمرو کے کیونکہ وہ لکھ لیتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3841]
💡 وضاحت:
۱؎: لکھ لینے کے باوجود عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی روایات ابوہریرہ رضی الله عنہ سے زیادہ نہیں ہیں، یہ صرف ان کا گمان تھا کہ لکھ دینے کی وجہ سے زیادہ ہوں گی، نیز اس روایت میں یہ بات بھی ہے کہ عہد نبوی میں بھی لوگ احادیث رسول لکھا کرتے تھے، خود ابوہریرہ رضی الله عنہ کے پاس بعد میں تحریری شکل میں احادیث کا مجموعہ ہو گیا تھا۔ یہ بھی واضح رہے کہ ابوہریرہ رضی الله عنہ نے علم حدیث کے سیکھنے سکھانے کو اپنی زندگی کا مشغلہ بنا لیا تھا، جب سے مدینہ آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دن رات رہ کر احادیث کا علم حاصل کیا، بعد میں ۵۷ھ سے ۵۸ھ تک اسی کے نشر و اشاعت میں مدینۃ الرسول اور مسجد رسول میں بیٹھ کر مشغول رہے، جب کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما نے مدینہ چھوڑ کر طائف کی سکونت اختیار کر لی، اور شاید اسی وجہ سے آپ کی احادیث ہم تک نہیں پہنچ سکیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 2668) (صحیح)
|
|
|
48: باب مَنَاقِبِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رضى الله عنه
باب: معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عُمَيْرَةَ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
صحابی رسول عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ رضی الله عنہ کے بارے میں فرمایا : ” اے اللہ ! تو ان کو ہدایت دے اور ہدایت یافتہ بنا دے ، اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3842]
💡 وضاحت:
۱؎: اور یہ دعا آپ کی ان دعاؤں میں سے نہیں ہے جو قبول نہیں ہوئیں تھیں، یہ مقبول دعاؤں میں سے ہے، ثابت ہوا کہ معاویہ رضی الله عنہ خود ہدایت پر تھے اور لوگوں کے لیے ہدایت کا معیار تھے، «رضی الله عنہ» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (623)، الصحيحة (1969)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9708) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، قَالَ: لَمَّا عَزَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عُمَيْرَ بْنَ سَعْدٍ، عَنْ حِمْصَ وَلَّى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ النَّاسُ: عَزَلَ عُمَيْرًا وَوَلَّى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ عُمَيْرٌ: لَا تَذْكُرُوا مُعَاوِيَةَ إِلَّا بِخَيْرٍ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اهْدِ بِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، قَالَ: وَعَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ يُضَعَّفُ.
ابوادریس خولانی کہتے ہیں کہ جب عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے عمیر بن سعد کو حمص سے معزول کیا اور ان کی جگہ معاویہ رضی الله عنہ کو والی بنایا تو لوگوں نے کہا : انہوں نے عمیر کو معزول کر دیا اور معاویہ کو والی بنایا ، تو عمیر نے کہا : تم لوگ معاویہ رضی الله عنہ کا ذکر بھلے طریقہ سے کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : «اللهم اهد به» ” اے اللہ ! ان کے ذریعہ ہدایت دے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- عمرو بن واقد حدیث میں ضعیف ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3843]
قال الشيخ الألباني:
صحيح بما قبله (3842)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3843) إسناده ضعيف جدًا ¤ عمرو بن واقد متروك (تقدم: 2340) والحديث السابق(الأصل:3842) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10892) (صحیح) (سند میں عمرو بن واقد ضعیف ہے، اوپر کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)
|
|
|
49: باب مَنَاقِبِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي رضى الله عنه
باب: عمرو بن العاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْلَمَ النَّاسُ , وَآمَنَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ.
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگ اسلام لائے اور عمرو بن العاص رضی الله عنہ ایمان لائے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ مشرح بن ہاعان سے روایت کرتے ہیں اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3844]
💡 وضاحت:
۱؎: عمرو بن العاص رضی الله عنہ فتح مکہ سے ایک سال یا دو سال پہلے اسلام لا کر مدینہ کی طرف ہجرت کر چکے تھے، اور اہل مکہ میں سے جو لوگ فتح مکہ کے بعد اسلام لائے ان کی بنسبت عمرو بن العاص کا اسلام لانا کسی زور و زبردستی اور خوف و ہراس سے بالاتر تھا اسی لیے آپ نے ان کے متعلق فرمایا کہ دوسرے لوگ (جو لوگ فتح مکہ کے دن ایمان لائے وہ) تو خوف و ہراس کے عالم میں اسلام لائے، لیکن عمرو بن العاص رضی الله عنہ کا ایمان ان کے دلی اطمینان اور چاہت و رغبت کا مظہر ہے، گویا اللہ نے انہیں اس ایمان قلبی سے نوازا ہے جس کا درجہ بڑھا ہوا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، الصحيحة (115)، المشكاة (6236)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9967) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ الْجُمَحِيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: قَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ مِنْ صَالِحِي قُرَيْشٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ الْجُمَحِيِّ، وَنَافِعٌ ثِقَةٌ , وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ، وَابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ لَمْ يُدْرِكْ طَلْحَةَ.
طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” عمرو بن العاص رضی الله عنہ قریش کے نیک لوگوں میں سے ہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اس حدیث کو ہم صرف نافع بن عمر جمحی کی روایت سے جانتے ہیں اور نافع ثقہ ہیں اور اس کی سند متصل نہیں ہے ، اور ابن ابی ملیکہ نے طلحہ کو نہیں پایا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3845]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3845) إسناده ضعيف / السند منقطع
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 5001) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابن ابی ملیکہ اور طلحہ کے درمیان انقطاع ہے)
|
|
|
50: باب مَنَاقِبِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رضى الله عنه
باب: خالد بن ولید رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا، فَجَعَلَ النَّاسُ يَمُرُّونَ , فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ هَذَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ " , فَأَقُولُ: فُلَانٌ، فَيَقُولُ: " نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا "، وَيَقُولُ: " مَنْ هَذَا؟ " , فَأَقُولُ: فُلَانٌ، فَيَقُولُ: " بِئْسَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا "، حَتَّى مَرَّ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ , فَقَالَ: " مَنْ هَذَا؟ " , فَقُلْتُ: هَذَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَقَالَ: " نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَلَا نَعْرِفُ لِزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ سَمَاعًا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهُوَ عِنْدِي حَدِيثٌ مُرْسَلٌ. قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک منزل پر پڑاؤ کیا ، جب لوگ آپ کے سامنے سے گزرتے تو آپ پوچھتے : ” ابوہریرہ ! یہ کون ہے ؟ “ میں کہتا : فلاں ہے ، تو آپ فرماتے : ” کیا ہی اچھا بندہ ہے یہ اللہ کا “ ، پھر آپ فرماتے : ” یہ کون ہے ؟ “ تو میں کہتا : فلاں ہے تو آپ فرماتے : ” کیا ہی برا بندہ ہے یہ اللہ کا ۱؎ “ ، یہاں تک کہ خالد بن ولید گزرے تو آپ نے فرمایا : ” یہ کون ہے ؟ “ میں نے عرض کیا : یہ خالد بن ولید ہیں ، آپ نے فرمایا : ” کیا ہی اچھے بندے ہیں اللہ کے خالد بن ولید ، وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، اور ہم نہیں جانتے کہ زید بن اسلم کا سماع ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ہے کہ نہیں اور یہ میرے نزدیک مرسل روایت ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3846]
💡 وضاحت:
۱؎: جن لوگوں کے بارے میں آپ نے یہ جملہ ارشاد فرمایا شاید وہ منافقین ہوں گے، ورنہ کسی صحابی کے بارے میں آپ ایسا نہیں فرما سکتے تھے
۲؎: خالد بن ولید رضی الله عنہ کے حق میں آپ کا یہ فرمان عمر رضی الله عنہ کے دور خلافت میں سچ ثابت ہوا، اللہ نے خالد بن ولید رضی الله عنہ کے ذریعہ دین کی ایسی تائید فرمائی کہ ان کے ہاتھوں متعدد فتوحات حاصل ہوئیں، خالد بن ولید رضی الله عنہ حقیقت میں اس ملت کی ایسی تلوار تھے جسے اللہ نے کافروں کی برتری کے لیے میان سے باہر نکالی تھی۔ اور خالد بن ولید رضی الله عنہ کے وہ اکیلے جرنیل ہیں جنہوں نے زندگی بھر کبھی کسی جنگ میں شکست نہیں کھائی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (6253 / التحقيق الثاني)، الصحيحة (1237 - 1826)، أحكام الجنائز (166)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 12907) (صحیح) (الصحیحة 1237، 1826)
|
|
|
51: باب مَنَاقِبِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ
باب: سعد بن معاذ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبُ حَرِيرٍ , فَجَعَلُوا يَعْجَبُونَ مِنْ لِينِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا , لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا ". وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ ریشمی کپڑے ہدیہ میں آئے ، ان کی نرمی کو دیکھ کر لوگ تعجب کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنت میں سعد بن معاذ رضی الله عنہ کے رومال اس سے بہتر ہیں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ بھی حدیث مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3847]
💡 وضاحت:
۱؎: دیگر لفظوں میں آپ نے دنیا ہی میں سعد بن معاذ کے جنتی ہونے کی خوشخبری سنا دی رضی الله عنہ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/بدء الخلق 8 (3249)، مناقب الأنصار 12 (3802)، واللباس 26 (5836)، والأیمان والنذور 3 (6640)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 24 (2468)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (157) (تحفة الأشراف: 1850) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَجَنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ: " اهْتَزَّ لَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ ". قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَرُمَيْثَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا : ” اور سعد بن معاذ رضی الله عنہ کا جنازہ ( اس وقت لوگوں کے سامنے رکھا ہوا تھا ) : ” ان کے لیے رحمن کا عرش ( بھی خوشی سے ) جھوم اٹھا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں اسید بن حضیر ، ابو سعید خدری اور رمیثہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3848]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: ان کے آسمان پر آ جانے کی خوشی میں، بعض لوگوں نے ”رحمان کے عرش کو اٹھانے والے فرشتے“ مراد لیا ہے کہ وہ سعد بن معاذ رضی الله عنہ کے آسمان پر آنے کی خوشی میں جھوم اٹھے، بہرحال یہ ان کے مقرب بارگاہ الٰہی ہونے کی دلیل ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/مناقب الأنصار 12 (3803)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 24 (2466)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (158) (تحفة الأشراف: 2815) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: لَمَّا حُمِلَتْ جَنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ الْمُنَافِقُونَ: مَا أَخَفَّ جَنَازَتَهُ , وَذَلِكَ لِحُكْمِهِ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ كَانَتْ تَحْمِلُهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب سعد بن معاذ رضی الله عنہ کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافقین کہا : کتنا ہلکا ہے ان کا جنازہ ؟ اور یہ طعن انہوں نے اس لیے کیا کہ سعد نے بنی قریظہ کے قتل کا فیصلہ فرمایا تھا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا : ” فرشتے اسے اٹھائے ہوئے تھے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3849]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب خندق کی لڑائی سے فارغ ہو گئے اور بنی قریظہ کا رخ کیا تو اس وقت یہ لوگ ایک قلعہ میں محبوس تھے، لشکر اسلام نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا، پھر یہ لوگ سعد بن معاذ رضی الله عنہ کے فیصلہ پر راضی ہوئے، چنانچہ سعد نے ان کے حق میں یہ فیصلہ دیا کہ ان کے جنگجو جوان قتل کر دیئے جائیں، مال مسلمانوں میں تقسیم ہوں اور عورتیں بچے غلام و لونڈی بنا لیے جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد کا یہ فیصلہ بہت پسند فرمایا اور اسی پر عمل ہوا، اسی فیصلہ کی وجہ سے منافقوں نے ان سے جل کر یہ طعن کیا کہ ان کا جنازہ کیسا ہلکا ہے، ان احمقوں کو یہ خبر نہ تھی کہ اسے ملائکہ اٹھائے ہوئے ہیں (یہ ان کے اللہ کے ازحد محبوب بندہ ہونے کی دلیل ہے)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (6228)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1345) (صحیح)
|
|
|
52: باب فِي مَنَاقِبِ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رضى الله عنه
باب: قیس بن سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ قَوْلَ الْأَنْصَارِيِّ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قیس بن سعد رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایسے ہی تھے جیسے امیر ( کی حفاظت ) کے لیے پولیس والا ہوتا ہے ۔ راوی حدیث ( محمد بن عبداللہ ) انصاری کہتے ہیں : یعنی وہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لیے ) آپ کے بہت سے امور انجام دیا کرتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف انصاری کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3850]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ قَوْلَ الْأَنْصَارِيِّ.
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے اسی جیسی حدیث بیان کی لیکن اس میں انصاری کا قول ذکر نہیں کیا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3850M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
53: باب فِي مَنَاقِبِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رضى الله عنهما
باب: جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِرَاكِبِ بَغْلٍ وَلَا بِرْذَوْنٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے ۱؎ ، آپ نہ کسی خچر پر سوار تھے نہ ترکی گھوڑے پر ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3851]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح بخاری اور دیگر کتب سنن میں ہے کہ ”آپ میری عیادت کو آئے …“ بہرحال اس میں جابر رضی الله عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غایت درجہ محبت کرنے کی دلیل ہے، کہ سواری نہ ہونے پر پیدل چل کر ان کی عیادت کو گئے، رضی الله عنہ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر الشمائل (291)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المرضی 15 (5664)، سنن ابی داود/ الجنائز 6 (3096)، وانظر ماتقدم برقم 2097) (تحفة الأشراف: 3021) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " اسْتَغْفَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْبَعِيرِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: لَيْلَةَ الْبَعِيرِ مَا رُوِيَ عَنْ جَابِرٍ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , فَبَاعَ بَعِيرَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَاشْتَرَطَ ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ، يَقُولُ جَابِرٌ: لَيْلَةَ بِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَعِيرَ اسْتَغْفَرَ لِي خَمْسًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً، وَكَانَ جَابِرٌ قَدْ قُتِلَ أَبُوهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ بَنَاتٍ، فَكَانَ جَابِرٌ يَعُولُهُنَّ وَيُنْفِقُ عَلَيْهِنَّ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبَرُّ جَابِرًا , وَيَرْحَمُهُ لِسَبَبِ ذَلِكَ. هَكَذَا رُوِيَ فِي حَدِيثٍ عَنْ جَابِرٍ نَحْوَ هَذَا.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «ليلة البعير» ( اونٹ کی رات ) میں میرے لیے پچیس بار دعائے مغفرت کی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- ان کے قول «ليلة البعير» اونٹ کی رات سے وہ رات مراد ہے جو جابر سے کئی سندوں سے مروی ہے کہ وہ ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، انہوں نے اپنا اونٹ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ بیچ دیا اور مدینہ تک اس پر سوار ہو کر جانے کی شرط رکھ لی ، جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں : جس رات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اونٹ بیچا آپ نے پچیس بار میرے لیے دعائے مغفرت فرمائی ۔ اور جابر کے والد عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی الله عنہما احد کے دن شہید کر دیئے گئے تھے اور انہوں نے کچھ لڑکیاں چھوڑی تھیں ، جابر ان کی پرورش کرتے تھے اور ان پر خرچ دیتے تھے ، اس کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ حسن سلوک فرماتے تھے اور ان پر رحم کرتے تھے ، ¤ ۳- اسی طرح ایک اور حدیث میں جابر سے ایسے ہی مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3852]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6238)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3852) إسناده ضعيف ¤ أبو الزبير عنعن (تقدم:927) و أخر جه مسلم (715 بعد ح 1599) من حديث أبى الزبير بغير هذا اللفظ وهو المحفوظ
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي) (تحفة الأشراف: 2691) (ضعیف) (ابوالزبیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے)
|
|
|
54: باب فِي مَنَاقِبِ مُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ رضى الله عنه
باب: مصعب بن عمیر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ نَحْوَهُ.
خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی ۱؎ ، ہم اللہ کی رضا کے خواہاں تھے تو ہمارا اجر اللہ پر ثابت ہو گیا ۲؎ چنانچہ ہم میں سے کچھ لوگ تو ایسے ہیں کہ انہوں نے اپنے اجر میں سے ( دنیا میں ) کچھ بھی نہیں کھایا ۳؎ اور کچھ ایسے ہیں کہ ان کے امید کا درخت بار آور ہوا اور اس کے پھل وہ چن رہے ہیں ، اور مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے ایسے وقت میں انتقال کیا کہ انہوں نے کوئی چیز نہیں چھوڑی سوائے ایک ایسے کپڑے کے جس سے جب ان کا سر ڈھانپا جاتا تو دونوں پیر کھل جاتے اور جب دونوں پیر ڈھانپے جاتے تو سر کھل جاتا ، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان کا سر ڈھانپ دو اور ان کے پیروں پر اذخر گھاس ڈال دو “ ۴؎ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3853]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آپ کے حکم سے ہجرت کی، ورنہ ہجرت میں آپ کے ساتھ صرف ابوبکر رضی الله عنہ تھے، یا یہ مطلب ہے کہ ہم نے آپ کے آگے پیچھے ہجرت کی اور بالآخر سب مدینہ پہنچے۔
۲؎: یعنی اللہ کے اپنے اوپر آپ خود سے واجب کرنے پر، ورنہ آپ پر کون کوئی چیز واجب کر سکتا ہے، یا آپ نے ایسا اس لیے کہا کہ اللہ نے اس کا خود ہی وعدہ فرمایا ہے، اور اللہ کا وعدہ سچا پکا ہوتا ہے۔ ۳؎: یعنی فتوحات سے قبل ہی ان کا انتقال ہو گیا تو اموال غنیمت سے استفادہ کرنے کا ان کو موقع نہیں ملا، ورنہ صحابہ نے خاص مال غنیمت کی نیت سے ہجرت نہیں کی تھی۔ ۴؎: چونکہ مصعب کا انتقال فراخی ہونے سے پہلے ہوا تھا اس لیے سرکاری بیت المال میں بھی اتنی گنجائش نہیں تھی کہ ان کے کفن دفن کا انتظام کیا جاتا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح أحكام الجنائز (57 - 58)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ نَحْوَهُ.
ہم سے ہناد نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا ، اور ابن ادریس نے اعمش سے ، اعمش نے ابووائل شفیق بن سلمہ سے اور ابووائل نے خباب بن ارت رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3853M]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آپ کے حکم سے ہجرت کی، ورنہ ہجرت میں آپ کے ساتھ صرف ابوبکر رضی الله عنہ تھے، یا یہ مطلب ہے کہ ہم نے آپ کے آگے پیچھے ہجرت کی اور بالآخر سب مدینہ پہنچے۔
۲؎: یعنی اللہ کے اپنے اوپر آپ خود سے واجب کرنے پر، ورنہ آپ پر کون کوئی چیز واجب کر سکتا ہے، یا آپ نے ایسا اس لیے کہا کہ اللہ نے اس کا خود ہی وعدہ فرمایا ہے، اور اللہ کا وعدہ سچا پکا ہوتا ہے۔ ۳؎: یعنی فتوحات سے قبل ہی ان کا انتقال ہو گیا تو اموال غنیمت سے استفادہ کرنے کا ان کو موقع نہیں ملا، ورنہ صحابہ نے خاص مال غنیمت کی نیت سے ہجرت نہیں کی تھی۔ ۴؎: چونکہ مصعب کا انتقال فراخی ہونے سے پہلے ہوا تھا اس لیے سرکاری بیت المال میں بھی اتنی گنجائش نہیں تھی کہ ان کے کفن دفن کا انتظام کیا جاتا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح أحكام الجنائز (57 - 58)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
55: باب مَنَاقِبِ الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ رضى الله عنه
باب: براء بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَمْ مِنْ أَشْعَثَ أَغْبَرَ ذِي طِمْرَيْنِ لَا يُؤْبَهُ لَهُ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ مِنْهُمْ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کتنے پراگندہ بال غبار آلود اور پرانے کپڑے والے ہیں کہ جن کی کوئی پرواہ نہیں کرتا ایسے ہیں کہ اگر اللہ کے بھروسہ پر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم کو سچی کر دے ۱؎ ، انہیں میں سے براء بن مالک ہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3854]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ان کے اللہ تعالیٰ کے نہایت محبوب ہونے کی دلیل ہے، اور یہ محبوبیت یونہی حاصل ہو جاتی، بلکہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی اور احکامات کی صدق دل اور فدائیت کے ساتھ بجا آوری کرتے ہیں، اس لیے ان کو یہ مقام حاصل ہو جاتا ہے، اور ان میں براء بن مالک بھی تھے، رضی الله عنہ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (6239)، تخريج المشكلة (125)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 275، و1101)، و مسند احمد (3/145) (صحیح)
|
|
|
56: باب فِي مَنَاقِبِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ رضى الله عنه
باب: ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " يَا أَبَا مُوسَى لَقَدْ أُعْطِيتَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ بُرَيْدَةَ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَأَنَسٍ.
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوموسیٰ تمہیں آل داود کی خوش الحانیوں ( اچھی آوازوں ) میں سے ایک خوش الحانی دی گئی ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں بریدہ ، ابوہریرہ اور انس رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3855]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک بار اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور عائشہ رضی الله عنہا ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کے گھر کے پاس سے گزرے ابوموسیٰ نہایت خوش الحانی سے قرآن کی تلاوت کر رہے تھے، صبح کو اسی واقعہ پر آپ نے ان کی بابت یہ فرمایا، «مزمار» (بانسری) گرچہ ایک آلہ ہے جس کے ذریعہ اچھی آواز نکالی جاتی ہے، مگر یہاں صرف اچھی آواز مراد ہے، داود علیہ السلام اپنی کتاب زبور کی تلاوت اس خوش الحانی سے فرماتے کہ اڑتی ہوئی چڑیاں فضا میں رک کر آپ کی تلاوت سننے لگتی تھیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل القرآن 31 (5048)، صحیح مسلم/المسافرین 34 (793) (تحفة الأشراف: 9068) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَحْفِرُ الْخَنْدَقَ، وَنَحْنُ نَنْقُلُ التُّرَابَ فَيَمُرُّ بِنَا، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشَ الْآخِرَةِ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَبُو حَازِمٍ اسْمُهُ: سَلَمَةُ بْنُ دِينَارٍ الْأَعْرَجُ الزَّاهِدُ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، آپ خندق کھود رہے تھے اور ہم مٹی ڈھو رہے تھے ، آپ نے ہمیں دیکھا تو فرمایا : «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فاغفر للأنصار والمهاجره» ” اے اللہ زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے ، تو انصار و مہاجرین کی مغفرت فرما “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں انس بن مالک سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3856]
💡 وضاحت:
۱؎: صاحب تحفہ الأحوذی نے اس حدیث پر ”باب مناقب سہل بن سعد“ کا عنوان لگایا ہے، اور یہی مناسب ہے، کہ اس حدیث کا تعلق ابوموسیٰ رضی الله عنہ سے کسی طرح نہیں ہے، اور اس میں تمام مہاجرین و انصار صحابہ کی منقبت کا بیان ہے، جو خاص طور پر خندق کھودنے میں شریک تھے، رضی الله عنہم اجمعین۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/مناقب الأنصار 9 (3797)، والمغازي 29 (4098)، والرقاق 1 (6414) (تحفة الأشراف: 4737) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشَ الْآخِرَهْ فَأَكْرِمْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فأكرم الأنصار والمهاجره» ” بار الٰہا زندگی تو آخرت کی زندگی ہے ، تو انصار و مہاجرین کی تکریم فرما “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- انس رضی الله عنہ سے یہ حدیث کئی سندوں سے آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3857]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث اگلی حدیث کے استشہاد میں لائے ہیں، یہی اس باب سے اس کی مناسبت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/مناقب الأنصار 9 (3795)، والرقاق 1 (6413)، صحیح مسلم/الجھاد 44 (1805) (تحفة الأشراف: 1246) (صحیح)
|
|
|
58: باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَحِبَهُ
باب:: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپ کے ساتھ رہنے والوں کے مناقب و فضائل کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَال: سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَمَسُّ النَّارُ مُسْلِمًا رَآنِي , أَوْ رَأَى مَنْ رَآنِي ". قَالَ طَلْحَةُ: فَقَدْ رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَقَالَ مُوسَى: وَقَدْ رَأَيْتُ طَلْحَةَ، قَالَ يَحْيَى: وَقَالَ لِيّ مُوسَى: وَقَدْ رَأَيْتُنِي وَنَحْنُ نَرْجُو اللَّهَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيِّ، وَرَوَى عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ، عَنْ مُوسَى هَذَا الْحَدِيثَ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جہنم کی آگ کسی ایسے مسلمان کو نہیں چھوئے گی جس نے مجھے دیکھا ، یا کسی ایسے شخص کو دیکھا جس نے مجھے دیکھا ہے “ ، طلحہ ( راوی حدیث ) نے کہا : تو میں نے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کو دیکھا ہے اور موسیٰ نے کہا : میں نے طلحہ کو دیکھا ہے اور یحییٰ نے کہا کہ مجھ سے موسیٰ ( راوی حدیث ) نے کہا : اور تم نے مجھے دیکھا ہے اور ہم سب اللہ سے نجات کے امیدوار ہیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف موسیٰ بن ابراہیم انصاری کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- اس حدیث کو علی بن مدینی نے اور محدثین میں سے کئی اور لوگوں نے بھی موسیٰ سے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3858]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6004 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (6277) //
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2288) (ضعیف) (سند میں موسیٰ بن ابراہیم انصاری صدوق ہیں، لیکن احادیث کی روایت میں غلطی کرتے ہیں، گرچہ حدیث کی تحسین ترمذی نے کی ہے، اور ضیاء مقدسی نے اسے احادیث مختارہ میں ذکر کیا ہے، اور البانی نے بھی مشکاة کی پہلی تحقیق میں اس کی تحسین کی تھی، لیکن ضعیف الترمذی میں اسے ضعیف قرار دیا، حدیث میں نکارہ بھی ہے کہ اس میں سارے صحابہ اور صحابہ کے تابعین سب کے بارے میں عذاب جہنم کی نفی موجود ہے، جب کہ اس عموم پر کوئی اور دلیل نہیں ہے، اس لیے یہ حدیث منکر بھی قرار پائے گی، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الالبانی 359)
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ هُوَ السَّلْمَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي قَوْمٌ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ تَسْبِقُ أَيْمَانُهُمْ شَهَادَاتِهِمْ أَوْ شَهَادَاتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ ". وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَبُرَيْدَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ۱؎ ، پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد ہیں ۲؎ ، پھر ان کا جو ان کے بعد ہیں ۳؎ ، پھر ان کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جو گواہیوں سے پہلے قسم کھائے گی یا قسموں سے پہلے گواہیاں دے گی “ ۴؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عمر ، عمران بن حصین اور بریدہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3859]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا زمانہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھے، ان کا عہد ایک قرن ہے، جو ایک ہجری کے ذرا سا بعد تک ممتد ہے، آخری صحابی (واثلہ بن اسقع) کا اور انس رضی الله عنہ کا انتقال ۱۱۰ھ میں ہوا تھا۔
۲؎: یعنی تابعین رحمہم اللہ۔ ۳؎: یعنی: اتباع تابعین رحمہم اللہ ان کا زمانہ سنہ ۲۲۰ھ تک ممتد ہے (بعض علماء نے ان تین قرون سے: عہد صدیقی، عہد فاروقی اور عہد عثمانی مراد لیا ہے، کہ عہد عثمانی کے بعد فتنہ و فساد کا دور دورہ ہو گیا تھا، واللہ اعلم۔ ۴؎: یعنی گواہی دینے اور قسم کھانے کے بڑے حریص ہوں گے، ہر وقت اس کے لیے تیار رہیں گے ذرا بھی احتیاط سے کام نہیں لیں گے، یہ باتیں اتباع تابعین کے بعد عام طور سے مسلمانوں میں پیدا ہو گئی تھیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2362)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الشھادات 9 (2652)، وفضائل الصحابة 1 (3651)، والأیمان والنذور 10 (6429)، والرقاق 7 (6658)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 52 (2533)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 27 (2362) (تحفة الأشراف: 9403)، و مسند احمد (1/378، 417، 434) (صحیح)
|
|
|
59: باب فِي فَضْلِ مَنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ
باب: بیعت رضوان والوں کی فضیلت کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جن لوگوں نے ( حدیبیہ میں ) درخت کے نیچے بیعت کی ہے ان میں سے کوئی بھی جہنم میں داخل نہیں ہو گا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3860]
💡 وضاحت:
۱؎: جس درخت کے نیچے بیعت ہوئی تھی یہ ایک کیکر کا درخت تھا اور اس بیعت سے مراد بیعت رضوان ہے، یہ ۶ھ میں مقام حدیبیہ میں ہوئی، اس میں تقریباً تیرہ سو صحابہ شامل تھے۔ ایسے لوگوں کے منہ خاک آلود اور ان کی عاقبت برباد ہو جو صحابہ کرام رضی الله عنہم اجمعین پر بکواس کرتے اور ان پر تہمتیں دھرتے ہیں، ہماری اس بددعا کی تائید کے لیے اگلی احادیث پڑھ لیجئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح ظلال الجنة (860)، الصحيحة (2160)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ السنة 9 (4853) (تحفة الأشراف: 2918)، و مسند احمد (3/350) (صحیح)
|
|
|
60: باب فِيمَنْ سَبَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: صحابہ کی شان میں گستاخی اور بےادبی کرنے والوں کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ وَكَانَ حَافِظًا، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو ان کے ایک مد بلکہ آدھے مد کے ( اجر کے ) برابر بھی نہیں پہنچ سکے گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- آپ کے قول «نصيفه» سے مراد نصف ( آدھا ) مد ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3861]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الظلال (988)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ وَكَانَ حَافِظًا، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
ہم سے حسن بن خلال نے بیان کیا اور وہ حافظ تھے ، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا اور ابومعاویہ نے اعمش سے ، اعمش نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابو سعید خدری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3861M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الظلال (988)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي , اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، میرے صحابہ کے معاملہ میں ، اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، میرے صحابہ کے معاملہ میں ، اور میرے بعد انہیں ہدف ملامت نہ بنانا ، جو ان سے محبت کرے گا وہ مجھ سے محبت کرنے کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا ، جس نے انہیں ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھے ایذا پہنچائی اس نے اللہ کو ایذا دی ، اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ وہ اسے اپنی گرفت میں لے لے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3862]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف تخريج الطحاوية (471) // (673) //، الضعيفة (2901) // ضعيف الجامع الصغير (1160) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3862) إسناده ضعيف ¤ عبدالرحمن بن زياد: اختلفوا في اسمه ولم يو ثقه غير ابن حبان فهو مجهول الحال ولم يثبت عن التزمذي بأنه قال فى حديثه: ”حسن“! وقال البخاري: فيه نظر (التاريخ الكبير 131/5 ت 389)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9662)، و مسند احمد (4/87) (ضعیف) (سند میں عبد الرحمن بن زیاد مجہول راوی ہے، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: الضعیفة رقم: 2901)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ خِدَاشٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مَنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ إِلَّا صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی ( یعنی بیعت رضوان میں شریک رہے ) وہ ضرور جنت میں داخل ہوں گے ، سوائے سرخ اونٹ والے کے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3863]
💡 وضاحت:
۱؎: کہا جاتا ہے کہ سرخ اونٹ والے سے جد بن قیس منافق مراد ہے اس کا اونٹ کھو گیا تھا اس سے کہا گیا آ کر بیعت کر لو تو اس نے کہا: میرا اونٹ مجھے مل جائے، یہ مجھے بیعت کرنے سے زیادہ محبوب ہے (مگر یہ حدیث ضعیف ہے اس لیے حتمی طور پر یہ کہنا صحیح نہیں ہے)۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الصحيحة تحت الحديث (2160) // ضعيف الجامع الصغير (4873) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3863) إسناده ضعيف ¤ أبو الزبير عنعن (تقدم:927) وتلميذه خداش: لين الحديث (تق:1705)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2702) (ضعیف) (سند میں خداش بن عیاش لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ عَبْدًا لِحَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْكُو حَاطِبًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّارَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَذَبْتَ لَا يَدْخُلُهَا , فَإِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حاطب بن ابی بلتعہ رضی الله عنہ کا ایک غلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر حاطب کی شکایت کرنے لگا ، اس نے کہا : اللہ کے رسول ! حاطب ضرور جہنم میں جائیں گے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے غلط کہا وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے ، کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ دونوں میں موجود رہے ہیں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3864]
💡 وضاحت:
۱؎: اور اللہ نے بدریوں کی عام مغفرت کا اعلان کر دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/فضائل الصحابة 36 (2495/162) (تحفة الأشراف: 2910) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ نَاجِيَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَبِي طَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي يَمُوتُ بِأَرْضٍ إِلَّا بُعِثَ قَائِدًا وَنُورًا لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَبِي طَيْبَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَهُوَ أَصَحُّ.
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے صحابہ میں سے جو بھی کسی سر زمین پر مرے گا تو وہ قیامت کے دن اس سر زمین والوں کا پیشوا اور ان کے لیے نور بنا کر اٹھایا جائے گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث عبداللہ بن مسلم ابوطیبہ سے مروی ہے اور انہوں نے اسے بریدہ رضی الله عنہ کے بیٹے کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے ، اور یہ زیادہ صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3865]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الضعيفة (4468) // ضعيف الجامع الصغير (5138) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3865) إسناده ضعيف ¤ عثمان بن ناجية: مستور (تق:4522)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1983) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن مسلم ابو طیبہ روایت میں وہم کے شکار ہو جایا کرتے تھے)
|
|
|
60: بَابٌ
باب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَسُبُّونَ أَصْحَابِي فَقُولُوا: لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى شَرِّكُمْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالنَّضْرُ مَجْهُولٌ , وَسَيْفٌ مَجْهُولٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو میرے اصحاب کو برا بھلا کہتے ہوں تو کہو : اللہ کی لعنت ہو تمہارے شر پر “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث منکر ہے ، ہم اسے عبیداللہ بن عمر ( عمری ) کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور نضر اور سیف دونوں مجہول راوی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3866]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا، المشكاة (6008 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (513) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3866) إسناده ضعيف ¤ النضر بن حماد: ضعيف (تق:7132) و سيف بن عمر ضعيف فى الحديث و التاريخ على الراجع، وقالوا فى التحرير (2724): ”بل متروك فحديثه ضعيف جدًا
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9713) (ضعیف جدا) (سند میں نضر اور سیف دونوں مجہول ہیں)
|
|
|
61: باب فَضْلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمَا وَسَلَّمَ
باب: فاطمہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: " إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي فِي أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَلَا آذَنُ , ثُمَّ لَا آذَنُ , ثُمَّ لَا آذَنُ، إِلَّا أَنْ يُرِيدَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ , فَإِنَّهَا بَضْعَةٌ مِنِّي يَرِيبُنِي مَا رَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ نَحْوَ هَذَا.
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اور آپ منبر پر تھے : ” ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے مجھ سے اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی سے کر دیں ، تو میں اس کی اجازت نہیں دیتا ، نہیں دیتا ، نہیں دیتا ، مگر ابن ابی طالب چاہیں تو میری بیٹی کو طلاق دے دیں ، اور ان کی بیٹی سے شادی کر لیں ، اس لیے کہ میری بیٹی میرے جسم کا ٹکڑا ہے ، مجھے وہ چیز بری لگتی ہے جو اسے بری لگے اور مجھے ایذا دیتی ہے وہ چیز جو اسے ایذا دے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اسے عمرو بن دینار نے اسی طرح ابن ابی ملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے مسور بن مخرمہ سے روایت کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3867]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1998)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الخمس 5 (3110)، وفضائل الصحابة 29 (3767)، والنکاح 109 (5230)، والطلاق 13 (5278)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 14 (2384)، سنن ابی داود/ النکاح 13 (2069-2071)، سنن ابن ماجہ/النکاح 56 (1998) (تحفة الأشراف: 11267)، و مسند احمد (4/323) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ جَعْفَرٍ الْأَحْمَرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " كَانَ أَحَبَّ النِّسَاءِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةُ، وَمِنَ الرِّجَالِ عَلِيٌّ ". قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، يَعْنِي مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عورتوں میں سب سے زیادہ محبوب فاطمہ رضی الله عنہ تھیں اور مردوں میں علی رضی الله عنہ تھے ، ابراہیم بن سعد کہتے ہیں : یعنی اپنے اہل بیت میں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3868]
قال الشيخ الألباني:
منكر نقد الكتاني (29)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3868) إسناده ضعيف ¤ عبدالله بن عطاء مدلس وعنعن (طبقات المدلسين:1/16 وهو من الثالثه، وانظر التقريب:3479)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1981) (منکر) (سند میں عبد اللہ بن عطاء روایت میں غلطیاں کر جاتے تھے، اور جعفر بن زیاد الاحمر شیعی ہے، اور روایت میں تشیع ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَلِيًّا ذَكَرَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي يُؤْذِينِي مَا آذَاهَا , وَيُنْصِبُنِي مَا أَنْصَبَهَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، هَكَذَا قَالَ أَيُّوبُ , عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، وَقَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ: عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ رَوَى عَنْهُمَا جَمِيعًا.
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ علی رضی الله عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کا ذکر کیا تو اس کی خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی ، آپ نے فرمایا : ” فاطمہ میرے جسم کا ٹکرا ہے ، مجھے تکلیف دیتی ہے وہ چیز جو اسے تکلیف دیتی ہے ، اور «تعب» میں ڈالتی ہے مجھے وہ چیز جو اسے «تعب» میں ڈالتی ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اسی طرح ایوب نے ابی ملیکہ سے اور انہوں نے ابن زبیر سے روایت کی ہے جبکہ متعدد لوگوں نے ابن ابی ملیکہ کے واسطہ سے مسور بن مخرمہ سے روایت کی ہے ۔ ( جیسا کہ حدیث رقم : ۳۸۸۰ ) ¤ ۳- اس بات کا احتمال ہے کہ ابن ابی ملیکہ نے ایک ساتھ دونوں ہی سے روایت کیا ہو ( اور ایسا بہت ہوا ہے ) ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3869]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (8 / 294)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 5271) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ صُبَيْحٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَليٍّ , وَفَاطِمَةَ , وَالْحَسَنِ , وَالْحُسَيْنِ: " أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبْتُمْ، وَسَلْمٌ لِمَنْ سَالَمْتُمْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَصُبَيْحٌ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ.
زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی ، فاطمہ ، حسن اور حسین رضی الله عنہم سے فرمایا : ” میں لڑنے والا ہوں اس سے جس سے تم لڑو اور صلح جوئی کرنے والا ہوں اس سے جس سے تم صلح جوئی کرو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور صبیح مولیٰ ام سلمہ معروف نہیں ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3870]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (145) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (27)، المشكاة (6145) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3870) إسناده ضعيف / جه 145 ¤ صبيح: مقبول (تق:2900) أى مجهول الحال، لم يوثقه غير ابن حبان
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (145) (تحفة الأشراف: 3662) (ضعیف) (سند میں صبیح لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَّلَ عَلَى الْحَسَنِ , وَالْحُسَيْنِ , وَعَلِيٍّ , وَفَاطِمَةَ كِسَاءً، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَخَاصَّتِي أَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ , وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا "، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: وَأَنَا مَعَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " إِنَّكِ إِلَى خَيْرٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ أَحْسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَأَبِي الْحَمْرَاءِ، وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، وَعَائِشَةَ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن ، حسین ، علی اور فاطمہ رضی الله عنہم کو ایک چادر سے ڈھانپ کر فرمایا : « اللهم هؤلاء أهل بيتي وخاصتي أذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا» ” اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت اور میرے خاص الخاص لوگ ہیں ، تو ان سے گندگی کو دور فرما دے ، اور انہیں اچھی طرح سے پاک کر دے “ ، تو ام سلمہ رضی الله عنہا بولیں : اور میں بھی ان کے ساتھ ہوں اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” تو ( بھی ) خیر پر ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس باب میں جو حدیثیں مروی ہیں ان میں سب سے اچھی ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عمر بن ابی سلمہ ، انس بن مالک ، ابوالحمراء ، معقل بن یسار ، اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3871]
قال الشيخ الألباني:
صحيح بما تقدم رقم (3435)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، وانظر ماتقدم برقم 3205، و3787 (تحفة الأشراف: 18165) (صحیح) (سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، دیکھئے حدیث نمبر (3787)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ سَمْتًا , وَدَلًّا , وَهَدْيًا بِرَسُولِ اللَّهِ فِي قِيَامِهَا , وَقُعُودِهَا مِنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: وَكَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ إِلَيْهَا فَقَبَّلَهَا , وَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلِسِهِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا قَامَتْ مِنْ مَجْلِسِهَا فَقَبَّلَتْهُ وَأَجْلَسَتْهُ فِي مَجْلِسِهَا، فَلَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَتْ فَاطِمَةُ فَأَكَبَّتْ عَلَيْهِ , فَقَبَّلَتْهُ، ثُمَّ رَفَعَتْ رَأْسَهَا , فَبَكَتْ، ثُمَّ أَكَبَّتْ عَلَيْهِ , ثُمَّ رَفَعَتْ رَأْسَهَا فَضَحِكَتْ، فَقُلْتُ: إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ أَنَّ هَذِهِ مِنْ أَعْقَلِ نِسَائِنَا فَإِذَا هِيَ مِنَ النِّسَاءِ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ لَهَا: أَرَأَيْتِ حِينَ أَكْبَبْتِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعْتِ رَأْسَكِ , فَبَكَيْتِ , ثُمَّ أَكْبَبْتِ عَلَيْهِ , فَرَفَعْتِ رَأْسَكِ , فَضَحِكْتِ، مَا حَمَلَكِ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَتْ: إِنِّي إِذًا لَبَذِرَةٌ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَيِّتٌ مِنْ وَجَعِهِ هَذَا , فَبَكَيْتُ، ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي أَسْرَعُ أَهْلِهِ لُحُوقًا بِهِ , فَذَاكَ حِينَ ضَحِكْتُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَائِشَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اٹھنے بیٹھنے کے طور و طریق اور عادت و خصلت میں فاطمہ ۱؎ رضی الله عنہ سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ کسی کو نہیں دیکھا ، وہ کہتی ہیں : جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتیں تو آپ اٹھ کر انہیں بوسہ لیتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے ، اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آتے تو وہ اٹھ کر آپ کو بوسہ لیتیں اور آپ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں چنانچہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو فاطمہ آئیں اور آپ پر جھکیں اور آپ کو بوسہ لیا ، پھر اپنا سر اٹھایا اور رونے لگیں پھر آپ پر جھکیں اور اپنا سر اٹھایا تو ہنسنے لگیں ، پہلے تو میں یہ خیال کرتی تھی کہ یہ ہم عورتوں میں سب سے زیادہ عقل والی ہیں مگر ان کے ہنسنے پر یہ سمجھی کہ یہ بھی آخر ( عام ) عورت ہی ہیں ، یعنی یہ کون سا موقع ہنسنے کا ہے ، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا بات تھی کہ میں نے تمہیں دیکھا کہ تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھکیں پھر سر اٹھایا تو رونے لگیں ، پھر جھکیں اور سر اٹھایا تو ہنسنے لگیں ، تو انہوں نے کہا : اگر آپ کی زندگی میں یہ بات بتا دیتی تو میں ایک ایسی عورت ہوتی جو آپ کے راز کو افشاء کرنے والی ہوتی ، بات یہ تھی کہ پہلے آپ نے مجھے اس بات کی خبر دی کہ اس بیماری میں میں انتقال کر جانے والا ہوں ، یہ سن کر میں رو پڑی ، پھر آپ نے مجھے بتایا کہ ان کے گھر والوں میں سب سے پہلے میں ان سے ملوں گی ، تو یہ سن کر میں ہنسنے لگی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، اور یہ عائشہ سے متعدد سندوں سے آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3872]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے فاطمہ رضی الله عنہا کی منقبت کئی طرح سے ثابت ہوتی ہے، ۱- فاطمہ رضی الله عنہا آپ سے اخلاق و عادات میں بہت زیادہ مشابہت رکھتی تھیں،
۲- فاطمہ رضی الله عنہا آپ کو اپنے گھر والوں میں سب سے زیادہ پیاری تھیں، ۳- آخرت میں آپ سے شرف رفاقت سب سے پہلے فاطمہ رضی الله عنہا کو حاصل ہوئی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح نقد الكتانى (44 - 45)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأدب 155 (5217) (تحفة الأشراف: 17883) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ابْنُ عَثْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَنَاجَاهَا , فَبَكَتْ، ثُمَّ حَدَّثَهَا , فَضَحِكَتْ، قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَنْ بُكَائِهَا وَضَحِكِهَا، قَالَتْ: " أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَمُوتُ , فَبَكَيْتُ، ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا مَرْيَمَ ابْنَةَ عِمْرَانَ فَضَحِكْتُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فاطمہ کو بلایا ، اور ان سے سرگوشی کی تو وہ رو پڑیں ، پھر دوبارہ آپ نے ان سے بات کی تو وہ ہنسنے لگیں ، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بتایا کہ آپ عنقریب وفات پا جائیں گے ، تو میں رو پڑی ، پھر آپ نے مجھے بتایا کہ میں مریم بنت عمران کو چھوڑ کر اہل جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہوں گی تو میں ہنسنے لگی ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3873]
💡 وضاحت:
۱؎: پچھلی حدیث اور اس حدیث میں کوئی تضاد نہیں ہے، وہ دوسرا واقعہ اور یہ دوسرا واقعہ ہے، نیز فاطمہ رضی الله عنہا ہنسنے کے دونوں اسباب میں بھی تضاد نہ سمجھا جائے، دونوں باتیں خوش ہونے کی ہیں۔
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (وھو عند الجماعة من حدیث فاطمة نفسھا) (تحفة الأشراف: 18187) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ عَمَّتِي عَلَى عَائِشَةَ , فَسُئِلَتْ: أَيُّ النَّاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: " فَاطِمَةُ "، فَقِيلَ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَتْ: " زَوْجُهَا إِنْ كَانَ مَا عَلِمْتُ صَوَّامًا قَوَّامًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، قَالَ: وَأَبُو الْجَحَّافِ اسْمُهُ: دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَوْفٍ، وَيُرْوَى عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَحَّافِ وَكَانَ مَرْضِيًّا.
جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا کے ساتھ عائشہ رضی الله عنہا کے پاس آیا تو ان سے پوچھا گیا : لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب کون تھا ؟ تو انہوں نے کہا : فاطمہ ، پھر پوچھا گیا : مردوں میں کون تھا ؟ انہوں نے کہا : ان کے شوہر ، یعنی علی ، میں خوب جانتی ہوں وہ بڑے صائم اور تہجد گزار تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- ابوجحاف کا نام داود بن ابی عوف ہے ، اور سفیان ثوری سے «عن ابی الجحاف» کے بجائے یوں مروی ہے : «حدثنا أبو الجحاف وكان مرضيا» ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3874]
قال الشيخ الألباني:
منكر نقد الكتاني ص (20)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3874) إسناده ضعيف ¤ جميع بن عمير: ضعيف (تقدم:3670)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 16054) (منکر) (سند میں ابو الجحاف داود بن عوف دونوں شیعہ ہیں، اور روایت میں شیعیت موجود ہے)
|
|
|
62: باب فَضْلِ خَدِيجَةَ رضى الله عنها
باب: ام المؤمنین خدیجہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " مَا غِرْتُ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، وَمَا بِي أَنْ أَكُونَ أَدْرَكْتُهَا وَمَا ذَاكَ إِلَّا لِكَثْرَةِ ذِكْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا، وَإِنْ كَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ فَيَتَتَبَّعُ بِهَا صَدَائِقَ خَدِيجَةَ فَيُهْدِيهَا لَهُنَّ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجات میں سے کسی پر مجھے اتنا رشک نہیں آیا جتنا خدیجہ پر آیا ، اور اگر میں ان کو پا لیتی تو میرا کیا حال ہوتا ؟ اور اس کی وجہ محض یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کثرت سے یاد کرتے تھے ، اگر آپ بکری بھی ذبح کرتے تو ڈھونڈ ڈھونڈ کر خدیجہ کی سہیلیوں کو ہدیہ بھیجتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3875]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1997)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 2017 (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " مَا حَسَدْتُ أَحَدًا مَا حَسَدْتُ خَدِيجَةَ، وَمَا تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بَعْدَ مَا مَاتَتْ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبَشَّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، مِنْ قَصَبٍ قَالَ: إِنَّمَا يَعْنِي بِهِ قَصَبَ اللُّؤْلُؤِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کسی پر اتنا رشک نہیں کیا جتنا ام المؤمنین خدیجہ رضی الله عنہا پر کیا ، حالانکہ مجھ سے تو آپ نے نکاح اس وقت کیا تھا جب وہ انتقال کر چکی تھیں ، اور اس رشک کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنت میں موتی کے ایک ایسے گھر کی بشارت دی تھی جس میں نہ شور و شغف ہو اور نہ تکلیف و ایذا کی کوئی بات ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- «من قصبٍ» سے مراد موتی کے بانس ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3876]
قال الشيخ الألباني:
صحيح انظر ما قبله (3875)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 17142) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَال: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَخَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ ". وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” دنیا کی عورتوں میں سب سے بہتر ( اپنے زمانہ میں ) خدیجہ بنت خویلد تھیں اور دنیا کی عورتوں میں سب سے بہتر ( اپنے زمانہ میں ) مریم بنت عمران تھیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ، انس ، ابن عباس اور عائشہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3877]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 45 (3432)، وفضائل الأنصار 20 (3815)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 12 (2430) (تحفة الأشراف: 10161) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ زَنْجُوَيْهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " حَسْبُكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ: مَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ، وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ، وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ساری دنیا کی عورتوں میں سے تمہیں مریم بنت عمران ، خدیجہ بنت خویلد ، فاطمہ بنت محمد ، اور فرعون کی بیوی آسیہ کافی ہیں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3878]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی یہ چاروں عورتیں ساری دنیا کی عورتوں سے افضل ہیں اور پیروی و اقتداء کے لائق ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (6181)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1346) (صحیح)
|
|
|
63: باب فَضْلِ عَائِشَةَ رضى الله عنها
باب: ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ بَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَاجْتَمَعَ صَوَاحِبَاتِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقُلْنَ: يَا أُمَّ سَلَمَةَ إِنَّ النَّاسَ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ , وَإِنَّا نُرِيدُ الْخَيْرَ كَمَا تُرِيدُ عَائِشَةُ فَقُولِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرِ النَّاسَ يُهْدُونَ إِلَيْهِ أَيْنَمَا كَانَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ أُمُّ سَلَمَةَ , فَأَعْرَضَ عَنْهَا ثُمَّ عَادَ إِلَيْهَا , فَأَعَادَتِ الْكَلَامَ , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ صَوَاحِبَاتِي قَدْ ذَكَرْنَ أَنَّ النَّاسَ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ , فَأْمُرِ النَّاسَ يُهْدُونَ أَيْنَمَا كُنْتَ، فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ قَالَتْ ذَلِكَ، قَالَ: " يَا أُمَّ سَلَمَةَ لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ , فَإِنَّهُ مَا أُنْزِلَ عَلَيَّ الْوَحْيُ وَأَنَا فِي لِحَافِ امْرَأَةٍ مِنْكُنَّ غَيْرِهَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ رُمَيْثَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ شَيْئًا مِنْ هَذَا، وَهَذَا حَدِيثٌ قَدْ رُوِيَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَلَى رِوَايَاتٍ مُخْتَلِفَةٍ، وَقَدْ رَوَى سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ لوگ اپنے ہدئیے تحفے بھیجنے کے لیے عائشہ رضی الله عنہا کے دن ( باری کے دن ) کی تلاش میں رہتے تھے ، تو میری سوکنیں سب ام سلمہ رضی الله عنہا کے یہاں جمع ہوئیں ، اور کہنے لگیں : ام سلمہ ! لوگ اپنے ہدایا بھیجنے کے لیے عائشہ رضی الله عنہا کے دن کی تلاش میں رہتے ہیں اور ہم سب بھی خیر کی اسی طرح خواہاں ہیں جیسے عائشہ ہیں ، تو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر کہو کہ آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ آپ جہاں بھی ہوں ( یعنی جس کے یہاں بھی باری ہو ) وہ لوگ وہیں آپ کو ہدایا بھیجا کریں ، چنانچہ ام سلمہ نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ، تو آپ نے اعراض کیا ، اور ان کی بات کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ، پھر آپ ان کی طرف پلٹے تو انہوں نے اپنی بات پھر دہرائی اور بولیں : میری سوکنیں کہتی ہیں کہ لوگ اپنے ہدایا کے لیے عائشہ کی باری کی تاک میں رہتے ہیں تو آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ آپ جہاں بھی ہوں وہ ہدایا بھیجا کریں ، پھر جب انہوں نے تیسری بار آپ سے یہی کہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ام سلمہ تم عائشہ کے سلسلہ میں مجھے نہ ستاؤ کیونکہ عائشہ کے علاوہ تم سب میں سے کوئی عورت ایسی نہیں جس کے لحاف میں مجھ پر وحی اتری ہو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- بعض راویوں نے اس حدیث کو حماد بن زید سے ، حماد نے ہشام بن عروہ سے اور ہشام نے اپنے باپ عروہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے ، ¤ ۳- یہ حدیث ہشام بن عروہ کے طریق سے عوف بن حارث سے بھی آئی ہے جسے عوف بن حارث نے رمیثہ کے واسطہ سے ام سلمہ رضی الله عنہا سے اس کا کچھ حصہ روایت کیا ہے ، ہشام بن عروہ سے مروی یہ حدیث مختلف طریقوں سے آئی ہے ، ¤ ۴- سلیمان بن بلال نے بھی بطریق : «هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة» حماد بن زید کی حدیث کی طرح روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3879]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح بخاری میں کعب بن مالک رضی الله عنہ کی توبہ کی قبولیت کی وحی کے بارے میں آیا ہے کہ یہ وحی ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر میں نازل ہوئی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اور ام سلمہ رضی الله عنہا ایک ہی لحاف میں تھے، لحاف میں وحی نازل ہونے کی خصوصیت صرف عائشہ رضی الله عنہا کی ہے، اور یہ بہت بڑی فضیلت کی بات ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الھبة 7 (2574)، و8 (2580، 2581)، وفضائل الصحابة 30 (3775)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 13 (2441)، سنن النسائی/عشرة النساء 3 (3396) (تحفة الأشراف: 16861)، و مسند احمد (6/293) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ الْمَكِّيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ جِبْرِيلَ جَاءَ بِصُورَتِهَا فِي خِرْقَةِ حَرِيرٍ خَضْرَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّ هَذِهِ زَوْجَتُكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مُرْسَلًا، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَائِشَةَ، وَقَدْ رَوَى أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ هَذَا.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام ایک سبز ریشم کے ٹکڑے پر ان کی تصویر لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور کہا : یہ آپ کی بیوی ہیں ، دنیا اور آخرت دونوں میں ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف عبداللہ بن عمرو بن علقمہ کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- عبدالرحمٰن بن مہدی نے اس حدیث کو عبداللہ بن عمرو بن علقمہ سے اسی سند سے مرسلاً روایت کیا ہے اور اس میں عائشہ سے روایت کا ذکر نہیں کیا ہے ، ¤ ۳- ابواسامہ نے اس حدیث کے کچھ حصہ کو ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے باپ سے ، انہوں نے عائشہ رضی الله عنہا سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۲؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3880]
💡 وضاحت:
۱؎: ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ تصویر کی حرمت سے پہلے کا ہو، کیونکہ اللہ نے ہر طرح کے جاندار کی تصویر کو حرام کر دیا ہے، یا یہ اللہ کے خاص حکم سے جبرائیل علیہ السلام کا کام تھا جس کا تعلق عام انسانوں سے نہیں ہے، عام انسانوں کے لیے وہی حرمت والا معاملہ ہے، واللہ اعلم۔
۲؎: یہ روایت صحیح بخاری کتاب النکاح باب رقم ۵اور باب رقم: ۳۵ میں آئی ہے، اس میں جبرائیل کی بجائے صرف ”فرشتہ“ کا لفظ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 16258) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَائِشَةُ هَذَا جِبْرِيلُ وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ "، قَالَتْ: قُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ تَرَى مَا لَا نَرَى. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ ! یہ جبرائیل ہیں ، تمہیں سلام کہہ رہے ہیں ، میں نے عرض کیا : اور انہیں بھی میری طرف سے سلام اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں ، آپ وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ پاتے “ ( جیسے جبرائیل کو ) ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3881]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/بدء الخلق 6 (3217)، وفضائل الصحابة 30 (3768)، والأدب 111 (6201)، والاستئذان 16 (6249)، و19 (6253)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 13 (2447)، سنن النسائی/عشرة النساء 3 (3405، 346) (تحفة الأشراف: 17766)، و مسند احمد (6/146، 150، 208، 224) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ جِبْرِيلَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ "، فَقُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں تو میں نے عرض کیا : ان پر سلام اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3882]
قال الشيخ الألباني:
صحيح وقد مضى (2846)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ، وحدیث رقم 2693 (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: " مَا أَشْكَلَ عَلَيْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ قَطُّ فَسَأَلْنَا عَائِشَةَ إِلَّا وَجَدْنَا عِنْدَهَا مِنْهُ عِلْمًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب بھی کوئی حدیث مشکل ہوتی اور ہم نے اس کے بارے میں عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا تو ہمیں ان کے پاس اس کے بارے میں کوئی جانکاری ضرور ملی ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3883]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ عائشہ رضی الله عنہا کی وسعت علمی کی دلیل ہے، اور اس سے عام صحابہ پر فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (6185)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَفْصَحَ مِنْ عَائِشَةَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی الله عنہا سے زیادہ فصیح کسی کو نہیں دیکھا ۔ © امام ترمذی کہتے ہی : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3884]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (6186)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3884) إسناده ضعيف ¤ عبدالملك بن عمير عنعن (تقدم:3659) والمفهوم صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 17668/الف) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , وَاللَّفْظُ لِابْنِ يَعْقُوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السُّلَاسِلِ , قَالَ: فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: " عَائِشَةُ "، قُلْتُ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ: " أَبُوهَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عمرو بن العاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لشکر ذات السلاسل کا امیر مقرر کیا ، وہ کہتے ہیں : تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” عائشہ “ ، میں نے پوچھا : مردوں میں کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ان کے باپ “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3885]
💡 وضاحت:
۱؎: پیچھے فاطمہ رضی الله عنہا کے مناقب میں گزرا ہے کہ عورتوں میں فاطمہ اور مردوں میں ان کے شوہر علی رضی الله عنہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب تھے، لیکن وہ حدیث ضعیف منکر ہے، اور یہ حدیث صحیح ہے، اور دونوں عورتوں اور دونوں مردوں کے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ محبوب ہونے میں تضاد ہی کیا ہے، یہ سب سے زیادہ محبوب تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل الصحابة 5 (3662)، والمغازي 63 (4358)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 1 (2384) (تحفة الأشراف: 10738) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيْكَ؟ قَالَ: " عَائِشَةُ "، قَالَ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ: " أَبُوهَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ.
عمرو بن العاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” عائشہ “ ، انہوں نے پوچھا : مردوں میں ؟ آپ نے فرمایا : ” ان کے والد “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے یعنی اسماعیل کی روایت سے جسے وہ قیس سے روایت کرتے ہیں حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3886]
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، وانظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 10745) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ ". وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبِي مُوسَى. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ هُوَ أَبُو طُوَالَةَ الْأَنْصَارِيُّ الْمَدَنِيُّ ثِقَةٌ , وَقَدْ رَوَى عَنْهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورتوں پر عائشہ کی فضیلت اسی طرح ہے جیسے ثرید کی فضیلت دوسرے کھانوں پر ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عائشہ ، ابوموسیٰ اشعری سے احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن معمر انصاری سے مراد ابوطوالہ انصاری مدنی ہیں اور وہ ثقہ ہیں ، ان سے مالک بن انس نے بھی روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3887]
💡 وضاحت:
۱؎: ان عورتوں میں سے مریم، خدیجہ اور فاطمہ مستثنیٰ ہیں، جیسا کہ دوسری روایات سے ثابت ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3281)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل الصحابة 30 (3770)، والأطعمة 25 (5419)، و30 (5428)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 13 (2446)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 14 (3281) (تحفة الأشراف: 970)، و مسند احمد (3/156، 264) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ، أَنَّ رَجُلًا نَالَ مِنْ عَائِشَةَ عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، فَقَالَ: " أَغْرِبْ مَقْبُوحًا مَنْبُوحًا أَتُؤْذِي حَبِيبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عمرو بن غالب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عمار بن یاسر رضی الله عنہ کے پاس عائشہ رضی الله عنہا کی عیب جوئی کی تو انہوں نے کہا : ہٹ مردود بدتر ، کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ کو اذیت پہنچا رہا ہے ؟ © امام ترمذی کہتے ہی : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3888]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3888) إسناده ضعيف ¤ سفيان الثوري و أبو إسحاق عنعنا (تقدما:107،746)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10364) (ضعیف الإسناد) (سند میں عمرو بن غالب لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْأَسَدِيِّ، قَال: سَمِعْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ، يَقُولُ: " هِيَ زَوْجَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ يَعْنِي عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ.
عبداللہ بن زیاد اسدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمار بن یاسر رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ یہ یعنی عائشہ رضی الله عنہا دنیا اور آخرت دونوں میں آپ کی بیوی ہیں ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3889]
💡 وضاحت:
۱؎: دیگر ازواج مطہرات کے دنیا میں دوسرے شوہر بھی تھے، جبکہ عائشہ رضی الله عنہا کا آپ کے سوا کوئی شوہر نہ تھا، اور آخرت میں عائشہ رضی الله عنہا کے آپ کی بیوی ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ دیگر ازواج مطہرات آخرت میں آپ کی بیویاں نہیں ہوں گی، عائشہ رضی الله عنہا بھی ہوں گی، وہ بھی ہوں گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح وانظر الحديث (4149)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الفتن 18 (7100، 7101) (تحفة الأشراف: 10356) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيْكَ؟ قَالَ: " عَائِشَةُ "، قِيلَ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ: " أَبُوهَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ آپ سے عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” عائشہ “ ، عرض کیا گیا مردوں میں ؟ آپ نے فرمایا : ” ان کے والد “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے یعنی انس کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3890]
قال الشيخ الألباني:
صحيح وانظر الحديث (4155)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (101) (تحفة الأشراف: 774) (صحیح)
|
|
|
64: باب فَضْلِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی فضیلت کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَكَانَ ثِقَةً , عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ: مَاتَتْ فُلَانَةُ لِبَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَجَدَ، فَقِيلَ لَهُ: أَتَسْجُدُ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ فَقَالَ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَيْتُمْ آيَةً فَاسْجُدُوا "، فَأَيُّ آيَةٍ أَعْظَمُ مِنْ ذَهَابِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
عکرمہ کہتے ہیں کہ فجر کے بعد ابن عباس رضی الله عنہما سے کہا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے فلاں کا انتقال ہو گیا ، تو وہ سجدہ میں گر گئے ، ان سے پوچھا گیا : کیا یہ سجدہ کرنے کا وقت ہے ؟ تو انہوں نے کہا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا : ” جب تم اللہ کی طرف سے کوئی خوفناک بات دیکھو تو سجدہ کرو “ ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج کے دنیا سے رخصت ہونے سے بڑی اور کون سی ہو سکتی ہے ؟ “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3891]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث یا دیگر احادیث میں اس جیسے سیاق و سباق میں «آیۃ» کا لفظ بطور خوفناک عذاب یا آسمانی مصیبت وغیرہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جس سے مقصود بندوں کو ڈرانا ہوتا ہے، تو ازواج مطہرات دنیا میں برکت کا سبب تھیں، ان کے اٹھ جانے سے برکت اٹھ جاتی ہے، اور یہ بات خوفناک ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، صحيح أبي داود (1081)، المشكاة (1491)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الصلاة 269 (1197) (تحفة الأشراف: 6037) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا كِنَانَةُ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ بَلَغَنِي عَنْ حَفْصَةَ , وَعَائِشَةَ كَلَامٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " أَلَا قُلْتِ: فَكَيْفَ تَكُونَانِ خَيْرًا مِنِّي وَزَوْجِي مُحَمَّدٌ , وَأَبِي هَارُونُ , وَعَمِّي مُوسَى "، وَكَانَ الَّذِي بَلَغَهَا أَنَّهُمْ قَالُوا: نَحْنُ أَكْرَمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا، وَقَالُوا: نَحْنُ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَنَاتُ عَمِّهِ. وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ صَفِيَّةَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هَاشِمٍ الْكُوفِيِّ , وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ.
ام المؤمنین صفیہ بنت حی رضی الله عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، مجھے حفصہ اور عائشہ رضی الله عنہما کی طرف سے ایک ( تکلیف دہ ) بات پہنچی تھی جسے میں نے آپ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : تم نے یہ کیوں نہیں کہا ؟ کہ تم دونوں مجھ سے بہتر کیسے ہو سکتی ہو ، میرے شوہر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور باپ ہارون ہیں ، اور چچا موسیٰ ہیں اور جو بات پہنچی تھی وہ یہ تھی کہ حفصہ اور عائشہ رضی الله عنہما نے کہا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ان سے زیادہ باعزت ہیں ، اس لیے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج ہیں ، اور آپ کے چچا کی بیٹیاں ہیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- صفیہ کی اس حدیث کو ہاشم کوفی کی روایت سے جانتے ہیں ، اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے ، ¤ ۳- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3892]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد وانظر الحديث (3625) // (3807) //، الرد على الحبشي (35 - 38)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3892) إسناده ضعيف ¤ هاشم بن سعيد: ضعيف (تقدم:2448) والحديث الآتي (الأصل:3894) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 15905) (ضعیف الإسناد) (سند میں ہاشم بن سعید الکوفی ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ابْنُ عَثْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَ عَامَ الْفَتْحِ فَنَاجَاهَا , فَبَكَتْ، ثُمَّ حَدَّثَهَا , فَضَحِكَتْ، قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَنْ بُكَائِهَا وَضَحِكِهَا، قَالَتْ: " أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَمُوتُ , فَبَكَيْتُ، ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ فَضَحِكْتُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال فاطمہ کو بلایا اور ان کے کان میں کچھ باتیں کہیں تو وہ رو پڑیں ، پھر آپ نے دوبارہ ان سے کچھ کہا تو وہ ہنسنے لگیں ، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو میں نے ان سے ان کے رونے اور ہنسنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بتایا تھا کہ عنقریب آپ وفات پا جائیں گے ، تو ( یہ سن کر ) میں رونے لگی تھی ، پھر آپ نے جب مجھے یہ بتایا کہ مریم بنت عمران کو چھوڑ کر میں اہل جنت کے تمام عورتوں کی سردار ہوں گی ۱؎ ، تو یہ سن کر میں ہنسنے لگی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3893]
💡 وضاحت:
۱؎: بعض روایات میں آیا ہے (الفتح: مناقب خدیجہ) کہ دنیا کی عورتوں کی سردار: مریم، پھر فاطمہ پھر خدیجہ، پھر آسیہ ہیں، اور حاکم کی روایت میں ہے کہ ”جنت کی عورتوں میں سب سے افضل: خدیجہ، فاطمہ، مریم اور آسیہ ہیں، معلوم ہوا کہ یہ چاروں دنیا اور جنت دونوں میں دیگر ساری عورتوں سے افضل ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (6184)، الصحيحة (2 / 439)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 3873 (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد , قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: بَلَغَ صَفِيَّةَ أَنَّ حَفْصَةَ قَالَتْ: بِنْتُ يَهُودِيٍّ فَبَكَتْ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي، فَقَالَ: " مَا يُبْكِيكِ؟ "، فَقَالَتْ: قَالَتْ لِي حَفْصَةُ: إِنِّي بِنْتُ يَهُودِيٍّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكِ لَابْنَةُ نَبِيٍّ , وَإِنَّ عَمَّكِ لَنَبِيٌّ , وَإِنَّكِ لَتَحْتَ نَبِيٍّ , فَفِيمَ تَفْخَرُ عَلَيْكِ؟ ثُمَّ قَالَ: اتَّقِي اللَّهَ يَا حَفْصَةُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین صفیہ رضی الله عنہا کو یہ بات پہنچی کہ ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا نے انہیں یہودی کی بیٹی ہونے کا طعنہ دیا ہے ، تو وہ رونے لگیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے تو وہ رو رہی تھیں ، آپ نے پوچھا : تم کیوں رو رہی ہو ؟ تو انہوں نے کہا : حفصہ نے مجھے یہ طعنہ دیا ہے کہ میں یہودی کی بیٹی ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو ایک نبی کی بیٹی ہے ، تیرا چچا بھی نبی ہے ۱؎ اور تو ایک نبی کے عقد میں ہے ، تو وہ کس بات میں تجھ پر فخر کر رہی ہے ، پھر آپ نے ( حفصہ سے ) فرمایا : ” حفصہ ! اللہ سے ڈر “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3894]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی صفیہ موسیٰ علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں، اور ان کے بھائی ہارون بھی نبی تھے، تو باپ اور چچا دونوں نبی ہوئے، ویسے حفصہ بھی ایک (نبی اسماعیل علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھیں، اور اسماعیل کے بھائی اسحاق (چچا) بھی نبی تھے، اور نبی کی زوجیت میں بھی تھیں، اس لحاظ سے دونوں برابر تھیں، صرف اس طرح کے تفاخر سے آپ کو انہیں تنبیہ کرنا مقصود تھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (6183)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي , وَإِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ فَدَعُوهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، مَا أَقَلَّ مَنْ رَوَاهُ عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَرُوِيَ هَذَا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں اور جب تم میں سے کوئی مر جائے تو اسے خیر باد کہہ دو ، یعنی اس کی برائیوں کو یاد نہ کرو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث ثوری کی روایت سے حسن غریب صحیح ہے اور ثوری سے روایت کرنے والے اسے کتنے کم لوگ ہیں اور یہ حدیث ہشام بن عروہ سے عروہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً بھی آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3895]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ اور اس کے بعد کی دونوں حدیثوں کی اس باب سے کوئی مناسبت نہیں، یہ گویا اس کتاب کی متفرق چھوٹی چھاٹی احادیث کے طور پر یہاں درج کی گئی ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (285)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف بھذا التمام (تحفة الأشراف: 16919)، وأخرج الجملة الأخیرة ”إذا مات …“ کل من: صحیح البخاری/الجنائز 97 (4899)، وسنن النسائی/الجنائز 52 (1938)، و مسند احمد (6/180) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ الْوَلِيدِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي شَيْئًا، فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْهِمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ فَقَسَّمَهُ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى رَجُلَيْنِ جَالِسَيْنِ وَهُمَا يَقُولَانِ: وَاللَّهِ مَا أَرَادَ مُحَمَّدٌ بِقِسْمَتِهِ الَّتِي قَسَمَهَا وَجْهَ اللَّهِ وَلَا الدَّارَ الْآخِرَةَ، فَتَثَبَّتُّ حِينَ سَمِعْتُهُمَا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرْتُهُ , فَاحْمَرَّ وَجْهُهُ وَقَالَ: " دَعْنِي عَنْكَ فَقَدْ أُوذِيَ مُوسَى بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ زِيدَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ رَجُلٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے اصحاب میں سے کوئی کسی کی برائی مجھ تک نہ پہنچائے ، کیونکہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ جب میں ان کی طرف نکلوں تو میرا سینہ صاف ہو “ ، عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں : ( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال آیا اور آپ نے اسے تقسیم کر دیا ، تو میں دو آدمیوں کے پاس پہنچا جو بیٹھے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے : قسم اللہ کی ! محمد نے اپنی اس تقسیم سے جو انہوں نے کی ہے نہ رضائے الٰہی طلب کی ہے نہ دار آخرت ، جب میں نے اسے سنا تو یہ بات مجھے بری لگی ، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا : ” مجھے جانے دو کیونکہ موسیٰ کو تو اس سے بھی زیادہ ستایا گیا پھر بھی انہوں نے صبر کیا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے غریب ہے اور اس سند میں ایک آدمی کا اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3896]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد، لكن الشطر الثاني منه في القسمة صحيح // ضعيف الجامع الصغير (6322) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3897،3896) إسناده ضعيف / د 4860
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأدب 33 (4860) (تحفة الأشراف: 9227) (ضعیف الإسناد) (سند میں زید بن زائدہ لین الحدیث راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، وَالْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ شَيْئًا ". وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ هَذَا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی کسی کی کوئی بات مجھے نہ پہنچائے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اس حدیث کا کچھ حصہ اس سند کے علاوہ سے بھی عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے مرفوعاً آیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3897]
قال الشيخ الألباني:
**
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3897،3896) إسناده ضعيف / د 4860
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (ضعیف)
|
|
|
65: باب مِنْ فَضَائِلِ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ رضى الله عنه
باب: ابی بن کعب رضی الله عنہ کے فضائل کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، قَال: سَمِعْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ , فَقَرَأَ عَلَيْهِ " لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا " وَقَرَأَ فِيهَا: إِنَّ ذَاتَ الدِّينِ عِنْدَ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ الْمُسْلِمَةُ لَا الْيَهُودِيَّةُ , وَلَا النَّصْرَانِيَّةُ , وَلَا الْمَجُوسِيَّةُ، مَنْ يَعْمَلْ خَيْرًا فَلَنْ يُكْفَرَهُ، وَقَرَأَ عَلَيْهِ: لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِ ثَانِيًا، وَلَوْ كَانَ لَهُ ثَانِيًا لَابْتَغَى إِلَيْهِ ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ ". وَقَدْ رَوَاهُ قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ ".
ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں ، چنانچہ آپ نے انہیں «لم يكن الذين كفروا» پڑھ کر سنایا ، اس میں یہ بات بھی کہ بیشک دین والی ، اللہ کے نزدیک تمام ادیان وملل سے کٹ کر اللہ کی جانب یکسو ہو جانے والی مسلمان عورت ہے ، نہ یہودی ، نصرانی اور مجوسی عورت ، جو کوئی نیکی کرے گا تو اس کی ناقدری ہرگز نہیں کی جائے گی اور آپ نے انہیں یہ بھی بتایا کہ انسان کے پاس مال سے بھری ہوئی ایک وادی ہو تو وہ دوسری بھی چاہے گا ، اور اگر اسے دوسری مل جائے تو تیسری چاہے گا ، اور انسان کا پیٹ صرف مٹی ہی بھر سکے گی اور اللہ اسی کی توبہ قبول کرتا ہے جو واقعی توبہ کرے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث اس کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی آئی ہے ، اسے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابزی نے اپنے والد سے انہوں نے ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں “ ، ¤ ۳- اسے قتادہ نے انس سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب سے فرمایا : ” اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3898]
💡 وضاحت:
۱؎: حقیقت میں انسان ایسا حریص ہے کہ وہ دنیا کے مال و متاع سے کسی بھی طرح سیر نہیں ہوتا اسے قبر کی مٹی ہی آسودہ کر سکتی ہے۔ (دیکھئیے حدیث رقم: ۳۷۹۳ کا اور اس کے حواشی) یہ حدیث پیچھے معاذ بن جبل، زید بن ثابت، ابی بن کعب اور ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہم کے اکٹھے باب میں بھی آ چکی ہے اور امام ترمذی نے اس حدیث پر ابی بن کعب کا باب قائم کر کے ان کی فضیلت مزید بیان کیا ہے، اس لیے کہ وہ بہت بڑے عالم بھی تھے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، وجملة ابن آدم صحيحة تخريج المشكلة (14)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 3793 (حسن صحیح)
|
|
|
66: باب فِي فَضْلِ الأَنْصَارِ وَقُرَيْشٍ
باب: انصار اور قریش کے فضائل کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ ".
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار ہی کا ایک فرد ہوتا “ ۱؎ ۔ اسی سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : ” اگر انصار کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3899]
💡 وضاحت:
۱؎: اس فرمان سے انصار کی دل جمعی مقصود ہے، یعنی انصار کی خوشنودی کے لیے میں یہاں تک جا سکتا ہوں کہ اگر ممکن ہوتا تو میں بھی انصار ہی میں سے ہو جاتا، مگر نسب کی تبدیل تو ممکن نہیں یہ بات انصار کی اسلام کے لیے فدائیت اور قربانی کا اعتراف ہے، اگلا فرمان البتہ ممکن ہے کہ ”اگر انصار کسی وادی میں چلیں تو میں انہی کے ساتھ ہوں گا“ اگر اس کی نوبت آ پاتی تو مہاجرین و انصار کی آپسی محبت چونکہ اللہ و رسول کے حوالہ سے تھی اس لیے ان کے آپس میں اس طرح کی بات ہونے کی نوبت ہی نہیں آ سکی، رضی الله عنہم۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح، الصحيحة (1768)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 33)، و مسند احمد (5/137، 138) (حسن صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَنْصَارِ: " لَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يَبْغَضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ، مَنْ أَحَبَّهُمْ فَأَحَبَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَأَبْغَضَهُ اللَّهُ، " فَقُلْتُ لَهُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنَ الْبَرَاءِ؟ فَقَالَ: إِيَّايَ حَدَّثَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ سَلَكَ الْأَنْصَارُ وَادِيًا , أَوْ شِعْبًا لَكُنْتُ مَعَ الْأَنْصَارِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، یا کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے بارے میں فرمایا : ” ان سے مومن ہی محبت کرتا ہے ، اور ان سے منافق ہی بغض رکھتا ہے ، جو ان سے محبت کرے گا اس سے اللہ محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا اس سے اللہ بغض رکھے گا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3900]
💡 وضاحت:
۱؎: اب اس سے بڑھ کر کسی کی فضیلت اور کیا ہو گی، «رضی اللہ عن الأنصار وأرضاہم وعن جمیع الصحابۃ رضوان اللہ علیہم اجمعین» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (163)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/مناقب الأنصار 4 (3783)، صحیح مسلم/الإیمان 33 (75)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (163) (تحفة الأشراف: 1792) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَال: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: " هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ؟ "، قَالُوا: لَا إِلَّا ابْنَ أُخْتٍ لَنَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ ابْنَ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ قُرَيْشًا حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِجَاهِلِيَّةٍ , وَمُصِيبَةٍ , وَإِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَجْبُرَهُمْ , وَأَتَأَلَّفَهُمْ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بُيُوتِكُمْ "، قَالُوا: بَلَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَهُمْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فتح مکہ کے وقت ) انصار کے کچھ لوگوں کو اکٹھا کیا ۱؎ اور فرمایا : ” کیا تمہارے علاوہ تم میں کوئی اور ہے ؟ “ لوگوں نے عرض کیا : نہیں سوائے ہمارے بھانجے کے ، تو آپ نے فرمایا : ” قوم کا بھانجا تو قوم ہی میں داخل ہوتا ہے “ ، پھر آپ نے فرمایا : ” قریش اپنی جاہلیت اور ( کفر کی ) مصیبت سے نکل کر ابھی نئے نئے اسلام لائے ہیں ۔ میں چاہتا ہوں کہ کچھ ان کی دلجوئی کروں اور انہیں مانوس کروں ، ( اسی لیے مال غنیمت میں سے انہیں دیا ہے ) کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ لوگ دنیا لے کر اپنے گھروں کو لوٹیں اور تم اللہ کے رسول کو لے کر اپنے گھر جاؤ “ ، لوگوں نے عرض کیا : کیوں نہیں ، ہم اس پر راضی ہیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور انصار دوسری وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی و گھاٹی میں چلوں گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3901]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ غزوہ حنین کے بعد کا واقعہ ہے، جس کے اندر آپ نے قریش کے نئے مسلمانوں کو مال غنیمت میں سے بطور تالیف قلب عطا فرمایا تو بعض نوجوان انصاری حضرات کی طرف سے کچھ ناپسندیدہ رنجیدگی کا اظہار کیا گیا تھا، اسی پر آپ نے انصار کو جمع کر کے یہ ارشاد فرمایا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (1776)، الروض النضير (961)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المناقب 14 (3528)، ومناقب الأنصار 1 (3778)، والمغازي 56 (4334)، والفرائض 24 (6722)، صحیح مسلم/الزکاة 46 (1059)، سنن النسائی/الزکاة 96 (2611) (تحفة الأشراف: 1244)، و مسند احمد (3/201، 246)، وسنن الدارمی/السیر 82 (2530) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يُعَزِّيهِ فِيمَنْ أُصِيبَ مِنْ أَهْلِهِ وَبَنِي عَمِّهِ يَوْمَ الْحَرَّةِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: إِنِّي أُبَشِّرُكَ بِبُشْرَى مِنَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ , وَلِذَرَارِيِّ الْأَنْصَارِ , وَلِذَرَارِيِّ ذَرَارِيهِمْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ، وَقَدْ رَوَاهُ قَتَادَةُ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ.
زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے انس بن مالک رضی الله عنہ کو خط لکھا اس خط میں وہ ان کی ان لوگوں کے سلسلہ میں تعزیت کر رہے تھے جو ان کے گھر والوں میں سے اور چچا کے بیٹوں میں سے حرّہ ۱؎ کے دن کام آ گئے تھے تو انہوں نے ( اس خط میں ) انہیں لکھا : میں آپ کو اللہ کی طرف سے ایک خوشخبری سناتا ہوں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا : ” اے اللہ ! انصار کو ، ان کی اولاد کو ، اور ان کی اولاد کے اولاد کو بخش دے “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اسے قتادہ نے بھی نضر بن انس رضی الله عنہ سے اور انہوں نے زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3902]
💡 وضاحت:
۱؎: ”حرّہ کا دن“ اس واقعے کو کہا جاتا ہے جس میں یزید کی فوجوں نے مسلم بن قتیبہ مُرّی کی سرکردگی میں سنہ ۶۳ھ میں مدینہ پر حملہ کر کے اہل مدینہ کو لوٹا تھا اور مدینہ کو تخت و تاراج کیا تھا، اس میں بہت سے صحابہ و تابعین کی جانیں چلی گئی تھیں، یہ فوج کشی اہل مدینہ کے یزید کی بیعت سے انکار پر کی گئی تھی، (عفا اللہ عنہ) یہ واقعہ چونکہ مدینہ کے ایک محلہ ”حرّہ“ میں ہوا تھا اس لیے اس کا نام ”یوم الحرّۃ“ پڑ گیا۔
۲؎: یعنی: اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کے کام آنے والے آپ کی اولاد کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت شامل ہے، اس لیے آپ کو ان کی موت پر رنجیدہ نہیں ہونا چاہیئے، ایک مومن کا منتہائے آرزو آخرت میں بخشش ہی تو ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/فضائل الصحابة 43 (2506) (تحفة الأشراف: 3686) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , وَعَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَقْرِئْ قَوْمَكَ السَّلَامَ فَإِنَّهُمْ مَا عَلِمْتُ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوطلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنی قوم ۱؎ کو سلام کہو ، کیونکہ وہ پاکباز اور صابر لوگ ہیں جیسا کہ مجھے معلوم ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3903]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: قوم انصار کو سلام کہو، اس میں انصار کی فضیلت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، لكن، الصحيحة منه الشطر الثاني، المشكاة (6242)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3903) إسناده ضعيف ¤ محمد بن ثابت البناني: ضعيف (تقدم: 3510) وتابعه الحسن بن أبى جعفر وهو ضعيف (تقدم:334)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3774) (ضعیف) (سند میں محمد بن ثابت بنانی ضعیف راوی ہے، مگر اس کا دوسرا ٹکڑا شواہد کی بنا پر صحیح ہے، الصحیحة 3096)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَا إِنَّ عَيْبَتِيَ الَّتِي آوِي إِلَيْهَا أَهْلُ بَيْتِي، وَإِنَّ كَرِشِيَ الْأَنْصَارُ، فَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ وَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری جامہ دانی جس کی طرف میں پناہ لیتا ہوں یعنی میرے خاص لوگ میرے اہل بیت ہیں ، اور میرے راز دار اور امین انصار ہیں تو تم ان کے خطا کاروں کو درگزر کرو اور ان کے بھلے لوگوں کی اچھائیوں کو قبول کرو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3904]
💡 وضاحت:
۱؎: «عيبه» جامہ دانی اور صندوق کو کہتے ہیں جس میں کپڑے حفاظت سے رکھے جاتے ہیں، آپ نے اپنے اہل بیت کو جامہ دانی اس لیے کہا کہ وہ آپ کے خدمت گار اور معاون تھے، اور «کرش» جانور کے اس عضو کا نام ہے جو مثل معدہ کے ہوتا ہے، آپ نے انصار کو «کرش» اس معنی میں کہا کہ جس طرح معدہ میں کھانا اور غذا جمع ہوتی ہے پھر اس سے سارے بدن و نفع پہنچتا ہے اسی طرح میرے لیے انصار ہیں کیونکہ وہ بے انتہا دیانت دار اور امانت دار ہیں اور میرے عہود و مواثیق اور اسرار کے حافظ و نگہبان اور مجھ پر دل و جان سے قربان ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
منكر - بذكر أهل البيت -، المشكاة (6240) // ضعيف الجامع الصغير (2175) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3904) إسناده ضعيف ¤ عطية: ضعيف (تقدم: 477)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4198) (منکر) (اہل بیت کے ذکر کے ساتھ منکر ہے، سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، مگر حدیث رقم 3906 سے تقویت پا کر اس کا دوسرا ٹکڑا صحیح ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يُرِدْ هَوَانَ قُرَيْشٍ أَهَانَهُ اللَّهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ. حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو قریش کی رسوائی چاہے گا اللہ اسے رسوا کر دے گا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ، ¤ ۲- ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں : مجھے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے خبر دی ، وہ کہتے ہیں : مجھ سے میرے والد نے بیان کیا اور انہوں نے صالح بن کیسان سے اور صالح نے ابن شہاب سے اسی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3905]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے اللہ کے نزدیک قریش کے مقام و مرتبہ کا ثبوت ہے، کیونکہ قریش ہی سے سب سے افضل نبی پیدا ہوئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (1178)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3925) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، وَالْمُؤَمَّلُ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَبْغَضُ الْأَنْصَارَ أَحَدٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی شخص جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3906]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ آڑے وقت میں انصار ہی ایمان کی تائید و نصرت میں آگے آئے، اس لیے کہ قریش کی ناراضگی مول لی، ہر طرح کی قربانیاں پیش کیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (1234)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 5483) (صحیح) (الصحیحہ 1234)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَال: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي، وَإِنَّ النَّاسَ سَيَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ , وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انصار میرے راز دار اور میرے خاص الخاص ہیں ، لوگ عنقریب بڑھیں گے اور انصار کم ہوتے جائیں گے ، تو تم ان کے بھلے لوگوں کی اچھائیوں کو قبول کرو اور ان کے خطا کاروں کی خطاؤں سے درگزر کرو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3907]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/مناقب الأنصار 11 (3801)، صحیح مسلم/فضائل الأنصار 43 (2510) (تحفة الأشراف: 1245) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْوَرَّاقُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ نَحْوَهُ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! قریش کے پہلوں کو تو نے ( قتل ، قید اور ذلت کا ) عذاب چکھایا ہے ۱؎ ، تو ان کے پچھلوں کو بخشش و عنایت سے نواز دے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3908]
💡 وضاحت:
۱؎: جیسے غزوہ بدر اور فتح مکہ میں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح الضعيفة تحت الحديث (398)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (حسن صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْوَرَّاقُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ نَحْوَهُ.
ہم سے عبدالوہاب وراق نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے یحییٰ بن سعید اموی نے اعمش کے واسطہ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3908M]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح الضعيفة تحت الحديث (398)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (حسن صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ جَعْفَرٍ الْأَحْمَرِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ , وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ , وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ , وَلِنِسَاءِ الْأَنْصَارِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «اللهم اغفر للأنصار ولأبناء الأنصار ولأبناء أبناء الأنصار ولنساء الأنصار» ” اے اللہ ! انصار کو ، ان کے بیٹوں کو ، ان کے بیٹوں کے بیٹوں کو اور ان کی عورتوں کو بخش دے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3909]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3909) إسناده ضعيف ¤ عطاء بن السائب اختلط (تقدم: 184) وللحديث شواهد عند البخاري (4906) و مسلم (2506) وغيرهما دون قوله ”ولنساء الانصار“
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/فضائل الصحابة 43 (2507) (صحیح)
|
|
|
67: باب فِي أَىِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ
باب: انصار کے کن گھروں اور قبیلوں میں خیر ہے
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ أَوْ بِخَيْرِ الْأَنْصَارِ؟ "، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو سَاعِدَةَ، ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ , فَقَبَضَ أَصَابِعَهُ ثُمَّ بَسَطَهُنَّ كَالرَّامِي بِيَدَيْهِ، قَالَ: وَفِي دُورِ الْأَنْصَارِ كُلِّهَا خَيْرٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا أَيْضًا عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں انصار کے بہتر گھروں کی یا انصار کے بہتر لوگوں کی خبر نہ دوں ؟ لوگوں نے عرض کیا : کیوں نہیں اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” سب سے بہتر بنی نجار ہیں ، پھر بنی عبدالاشہل ہیں جو ان سے قریب ہیں ، پھر بنی حارث بن خزرج ہیں جو ان سے قریب ہیں ، پھر بنی ساعدہ ہیں ۱؎ ، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا اور اپنی انگلیوں کو بند کیا ، پھر کھولا جیسے کوئی اپنے ہاتھوں سے کچھ پھینک رہا ہو “ اور فرمایا : ” انصار کے سارے گھروں میں خیر ہے ۲؎ “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- انس سے بھی آئی ہے جسے وہ ابواسید ساعدی کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3910]
💡 وضاحت:
۱؎: اسلام کے لیے سبقت کے حساب سے ان قبائل کے فضائل کی ترتیب رکھی گئی ہے، جو جس قبیلہ نے جس ترتیب سے اول اسلام کی طرف سبقت کی آپ نے اس کو اسی درجہ کی فضیلت سے سرفراز فرمایا۔
۲؎: یعنی: ایمان میں دیگر عربی قبائل کی بنسبت سبقت کے سبب انصار کے سارے خاندانوں کو ایک گونہ فضیلت حاصل ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الطلاق 25 (5300)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 44 (2511) (تحفة الأشراف: 1656) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَال: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ دُورُ بَنِي النَّجَّارِ، ثُمَّ دُورُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ بَنِي سَاعِدَةَ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ " , فَقَالَ سَعْدٌ: مَا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَدْ فَضَّلَ عَلَيْنَا فَقِيلَ: قَدْ فَضَّلَكُمْ عَلَى كَثِيرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ اسْمُهُ: مَالِكُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابواسید ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انصار کے گھروں میں سب سے بہتر گھر بنی نجار کے گھر ۱؎ ہیں ، پھر بنی عبدالاشہل کے ، پھر بنی حارث بن خزرج کے پھر بنی ساعدہ کے اور انصار کے سارے گھروں میں خیر ہے “ ، تو سعد نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی سمجھ رہا ہوں کہ آپ نے ہم پر لوگوں کو فضیلت دی ہے ۲؎ تو ان سے کہا گیا : آپ کو بھی تو بہت سے لوگوں پر فضیلت دی ہے ۳؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- ابواسید ساعدی کا نام مالک بن ربیعہ ہے ، ¤ ۳- اسی جیسی روایت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی مرفوع طریقہ سے آئی ہے ، ¤ ۴- اسے معمر نے زہری سے ، زہری نے ابوسلمہ اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے اور ان دونوں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3911]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: قبائل و خاندان۔
۲؎: آپ بنی ساعدہ میں سے تھے جن کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چوتھے درجہ پر کیا۔ ۳؎: یعنی: بنی ساعدہ کے بعد بھی تو انصار کے کئی خاندان ہیں جن کے اوپر بنی ساعدہ کو فضیلت دی ہے، نیز یہ بھی خیال رہے کہ یہ ترتیب آپ نے بحکم خداوندی بتائی تھی، اس لیے آپ پر اعتراض نہیں کرنا چاہیئے، یہ نصیحت خود سعد بن معاذ کے بھائی سہل نے کی تھی «کما فی مسلم» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/مناقب الأنصار 7 (3789، و3790)، و15 (3807)، والأدب 605347)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 44 (2511) (تحفة الأشراف: 11189) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ دِيَارِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انصار کے گھروں میں سب سے بہتر گھر بنی نجار کے گھر ہیں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3912]
💡 وضاحت:
۱؎: بنی نجار ہی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ کا ننہیال تھا، یہ آپ کے ماموؤں کا خاندان تھا، نیز اسلام میں نسبت بھی اسی قبیلے نے کی تھی، یا اسلام میں ان کی قربانیاں دیگر خاندان کی بنسبت زیادہ تھیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح بما قبله (3911)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3353) (صحیح) (سند میں مجالد بن سعید ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ حدیث کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ الْأَنْصَارِ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
جابر عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انصار میں سب سے بہتر بنی عبدالاشہل ہیں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3913]
💡 وضاحت:
۱؎: سابقہ حدیث میں «بنی اشہل» کا ذکر «بنی نجار» کے بعد آیا ہے، تو یہاں «من» کا لفظ محذوف ماننا ہو گا، یعنی: «بنی اشہل» انصار کے سب سے بہتر خاندانوں میں سے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح بما قبله (3912)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
68: باب فِي فَضْلِ الْمَدِينَةِ
باب: مدینہ کی فضیلت کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِحَرَّةِ السُّقْيَا الَّتِي كَانَتْ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ائْتُونِي بِوَضُوءٍ " , فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ عَبْدَكَ وَخَلِيلَكَ , وَدَعَا لِأَهْلِ مَكَّةَ بِالْبَرَكَةِ، وَأَنَا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ أَدْعُوكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنْ تُبَارِكَ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ، وَصَاعِهِمْ مِثْلَيْ مَا بَارَكْتَ لِأَهْلِ مَكَّةَ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ جب ہم حرہ سقیا ۱؎ میں پہنچے جو سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کا محلہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «اللهم إن إبراهيم كان عبدك وخليلك ودعا لأهل مكة بالبركة وأنا عبدك ورسولك أدعوك لأهل المدينة أن تبارك لهم في مدهم وصاعهم مثلي ما باركت لأهل مكة مع البركة بركتين» ” مجھے وضو کا پانی دو “ ، چنانچہ آپ نے وضو کیا ، پھر آپ قبلہ رخ کھڑے ہوئے اور فرمایا : ” اے اللہ ! ابراہیم تیرے بندے اور تیرے دوست ہیں اور انہوں نے اہل مکہ کے لیے برکت کی دعا فرمائی ، اور میں تیرا بندہ اور تیرا رسول ہوں ، اور تجھ سے اہل مدینہ کے لیے دعا کرتا ہوں کہ تو ان کے مد اور ان کی صاع میں اہل مکہ کو جو تو نے برکت دی ہے اس کی دوگنا برکت فرما ، اور ہر برکت کے ساتھ دو برکتیں ( یعنی اہل مکہ کی دوگنی برکت عطا فرما ۲؎ ) “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عائشہ ، عبداللہ بن زید اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3914]
💡 وضاحت:
۱؎: «حرّۃ السقیا» مکہ اور مدینہ کے درمیان مدینہ سے دو دن کے راستے پر ایک جگہ کا نام ہے۔
۲؎: مکہ میں گرچہ اللہ کا گھر ہے، مگر مکہ والوں نے اللہ کے سب سے محبوب بندے کو مکہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا تو مدینہ نے محبوب الٰہی کو پناہ دی جو آپ کی آخری پناہ ہو گئی، نیز یہیں کے باشندوں نے اسلام کو پناہ دی، اس کے لیے قربانیاں پیش کیں، جان و مال کا نذرانہ پیش کر دیا، سارے عالم میں یہیں سے اسلام کا پھیلاؤ ہوا، اس لیے مدینہ کے لیے دوگنی برکت کی دعا فرمائی، اس دعا کا اثر ہر زائر مکہ کے لیے واضح طور پر دیکھی سنی حقیقت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، التعليق الرغيب (2 / 144)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) وانظر مسند احمد (1/115) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُبَاتَةَ يُونُسُ بْنُ يَحْيَى بْنِ نُبَاتَةَ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، مِنْ حَدِيثِ عَلِيٍّ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
علی اور ابوہریرہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ( مسجد نبوی ) جو حصہ ہے وہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، اور یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی مرفوعاً آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3915]
💡 وضاحت:
۱؎: روضۃ الجنۃ، مسجد نبوی میں ہے، اور مسجد نبوی مدینہ میں ہے، پس اس سے مدینہ کی فضیلت ثابت ہوئی۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح ظلال الجنة (731)، الروض النضير (1115)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10327، 14939) (حسن صحیح)
|
|
|
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جو حصہ ہے وہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3916]
💡 وضاحت:
۱؎: مسجد الحرام میں ایک نماز کا ثواب دوسری مسجدوں کی بنسبت ایک لاگھ گنا ہے، مسجد نبوی میں نماز کا ثواب ایک ہزار گنا ہے، اور مسجد نبوی مدینہ میں ہے، اس سے مدینہ کی فضیلت ثابت ہوئی۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح، ابن ماجة (1404 و 1405)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (14811) (حسن صحیح)
|
|
|
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.
اور اسی سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری اور مسجدوں کے ایک ہزار نمازوں سے بہتر ہے سوائے مسجد الحرام کے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ، یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی مرفوع طریقہ سے آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3916M]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح، ابن ماجة (1404 و 1405)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (14811) (حسن صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَمُتْ بِهَا، فَإِنِّي أَشْفَعُ لِمَنْ يَمُوتُ بِهَا "، وَفِي الْبَابِ عَنْ سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو مدینہ میں مر سکتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہیں مرے کیونکہ جو وہاں مرے گا میں اس کے حق میں سفارش کروں گا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے یعنی ایوب سختیانی کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں سبیعہ بنت حارث اسلمیہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3917]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی مدینہ میں رہنے کے لیے اسباب اختیار کرے، اگر کامیابی ہو گئی تو «فبہا» ورنہ یہ کوئی فرض کام نہیں ہے، نیز مدینہ میں اسی مرنے والے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت فرمائیں گے، جس کی وفات صحیح ایمان و عقیدہ پر ہوئی ہو، نہ کہ مشرک اور بدعتی کی شفاعت بھی کریں گے، آپ نے فرمایا ہے: ”آخرت کے لیے اٹھا کر رکھی گئی میری دعا اس کو فائدہ پہنچائے گی جس نے اللہ کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہیں کیا ہو گا (اس حدیث میں مدینہ کی ایک اہم فضیلت کا بیان ہے)“۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3112)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الحج 10 (3112) (تحفة الأشراف: 7553) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَال: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ مَوْلَاةً لَهُ أَتَتْهُ، فَقَالَتْ: اشْتَدَّ عَلَيَّ الزَّمَانُ وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الْعِرَاقِ، قَالَ: فَهَلَّا إِلَى الشَّأْمِ أَرْضِ الْمَنْشَرِ، اصْبِرِي لَكَاعِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ صَبَرَ عَلَى شِدَّتِهَا وَلَأْوَائِهَا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَسُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، وَسُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کی ایک آزاد کردہ لونڈی ان کے پاس آئی اور ان سے کہنے لگی میں گردش زمانہ کی شکار ہوں اور عراق جانا چاہتی ہوں ، تو انہوں نے کہا : تو شام کیوں نہیں چلی جاتی جو حشر و نشر کی سر زمین ہے ، ( آپ نے کہا ) «اصبري لكاع» ! کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس نے اس کی ( مدینہ کی ) سختی اور تنگی معیشت پر صبر کیا تو میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ یا سفارشی ہوں گا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث عبیداللہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابو سعید خدری ، سفیان بن ابی زہیر اور سبیعہ اسلمیہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3918]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ بھی مدینہ کی ایک فضیلت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح تخريج فقه السيرة (184)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 8122) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، أَخْبَرَنَا أَبِي جُنَادَةُ بْنُ سَلْمٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آخِرُ قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْإِسْلَامِ خَرَابًا الْمَدِينَةُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ جُنَادَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: تَعَجَّبَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ هَذَا.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسلام کے شہروں میں ویرانی کے اعتبار سے مدینہ سب سے آخری شہر ہو گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف جنادہ کی روایت سے جانتے ہیں ، جسے وہ ہشام بن عروہ سے روایت کرتے ہیں ، ¤ ۲- محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کے ابوہریرہ رضی الله عنہ پر تعجب کا اظہار کیا ہے ( یعنی ایسی بات کیسے صحیح ہو سکتی ہے ) ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3919]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الضعيفة (1300) // ضعيف الجامع الصغير (4) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3919) إسناده ضعيف ¤ جنادة بن سلم: ضعيف (التحرير: 974) وثقه جماعة وحدث عن هشام بن عروة حديثًا منكرًا
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 14166) (ضعیف) (سند میں جنادہ کو بہت سے أئمہ نے ضعیف قرار دیا ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ فَأَصَابَهُ وَعَكٌ بِالْمَدِينَةِ، فَجَاءَ الْأَعْرَابِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ، ثُمَّ جَاءَهُ، فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى، فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ، تَنْفِي خَبَثَهَا، وَتُنَصِّعُ طَيِّبَهَا "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی ، پھر اسے مدینہ میں بخار آ گیا تو وہ اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پاس آیا اور کہنے لگا ، آپ مجھے میری بیعت پھیر دیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا ، پھر وہ دوبارہ آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا : آپ میری بیعت مجھے پھیر دیں تو پھر آپ نے انکار کیا ، پھر وہ اعرابی مدینہ چھوڑ کر چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مدینہ ایک بھٹی کے مثل ہے جو دور کر دیتا ہے اپنے کھوٹ کو اور خالص کر دیتا ہے پاک کو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3920]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی لوہار کی بھٹی جس طرح لوہے کے میل اور اس کے زنگ کو دور کر دیتی ہے اسی طرح مدینہ اپنے یہاں سے برے لوگوں کو نکال پھینکتا ہے۔ اور مدینہ کی یہ خصوصیت کیا صرف عہد نبوی تک کے لیے تھی (جیسا کہ قاضی عیاض کہتے ہیں) یا عہد نبوی کے بعد بھی باقی ہے؟ (جیسا کہ نووی وغیرہ کہتے ہیں) نووی نے حدیث دجال سے استدلال کیا ہے کہ اس وقت بھی مدینہ ایسا کرے گا، کہ برے لوگوں کو اپنے یہاں سے نکال باہر کرے گا، اب اپنی یہ بات کہ بہت سے صحابہ و خیار تابعین بھی مدینہ سے باہر چلے گئے، تو کیا وہ لوگ بھی برے تھے؟ ہرگز نہیں، اس حدیث کا مطلب ہے: جو مدینہ کو برا جان کر وہاں سے نکل جائے وہ اس حدیث کا مصداق ہے، اور رہے صحابہ کرام تو وہ مدینہ کی سکونت کو افضل جانتے تھے، مگر دین اور علم دین کی اشاعت کے مقصد عظیم کی خاطر باہر گئے تھے، رضی الله عنہم۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل المدینة 10 (1883)، والأحکام 45 (7209)، و47 (7211)، و50 (7216)، والاعتصام 16 (7322)، صحیح مسلم/الحج 88 (1383) (تحفة الأشراف: 3071)، موطا امام مالک/الجامع 2 (4)، و مسند احمد (3/292) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ تَرْتَعُ بِالْمَدِينَةِ مَا ذَعَرْتُهَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حَرَامٌ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ سَعْدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے تھے کہ اگر میں مدینہ میں ہرنوں کو چرتے دیکھوں تو انہیں نہ ڈراؤں اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” اس کی دونوں پتھریلی زمینوں ۱؎ کے درمیان کا حصہ حرم ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں سعد ، عبداللہ بن زید ، انس ، ابوایوب ، زید بن ثابت ، رافع بن خدیج ، سہل بن حنیف اور جابر رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3921]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ دونوں پتھریلی زمینیں (حرہ) حرّہ غربیہ اور حرّہ شرقیہ کے نام سے معروف ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل المدینة 4 (1873)، صحیح مسلم/الحج 85 (1372) (تحفة الأشراف: 13235)، وط/الجامع 3 (11)، و مسند احمد (2/236، 487) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ , فَقَالَ: " هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احد پہاڑ نظر آیا تو آپ نے فرمایا : ” یہ ایسا پہاڑ ہے کہ یہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے ، اے اللہ ! ابراہیم نے مکہ کو حرام کیا اور میں اس ( مدینہ ) کی دونوں پتھریلی زمینوں کے بیچ کے حصہ کو حرام قرار دے رہا ہوں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3922]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجھاد 71 (2889)، وأحادیث الأنبیاء 11 (3367)، والمغازي 28 (4083، 4084)، والاعتصام 16 (7333)، صحیح مسلم/الحج 85 (1365) (تحفة الأشراف: 1116)، و مسند احمد (3/140، 149، 240) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عِيسَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَامِرِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيَّ أَيَّ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ نَزَلْتَ فَهِيَ دَارُ هِجْرَتِكَ: الْمَدِينَةَ، أَوْ الْبَحْرَيْنِ، أَوْ قِنَّسْرِينَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو عَمَّارٍ.
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ نے میری طرف وحی کی کہ مدینہ ، بحرین اور قنسرین ان تینوں میں سے جہاں بھی تم جاؤ وہی تمہارا دار الہجرت ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف فضل بن موسیٰ کی روایت سے جانتے ہیں اور ان سے ابوعمار یعنی حسین بن حریث روایت کرنے میں منفرد ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3923]
قال الشيخ الألباني:
موضوع الرد على الكتاني رقم الحديث (1) // ضعيف الجامع الصغير (1573) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3923) إسناده ضعيف ¤ غيلان: لين (تق:5370) وقال ابن حبان فى هذا الحديث فى ترجمة غيلان: ”يروي عن أبى زرعة بن عمرو بن جرير حديثًا منكرًا“ (الثقات311/7)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3241) (موضوع) (سند میں غیلان بن عبد اللہ سخت ضعیف راوی ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي سَعِيد، وَسُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٌ، وَسُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، قَالَ: وَصَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ أَخُو سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مدینہ کی تنگی معیشت اور اس کی سختیوں پر جو صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ اور سفارشی ہوں گا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابو سعید خدری ، سفیان بن ابی زہیر اور سبیعہ اسلمیہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- صالح بن ابی صالح سہیل بن ابی صالح کے بھائی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3924]
💡 وضاحت:
۱؎: شرط وہی ہے کہ وہ پکا موحد ہو، کسی طرح کے بھی شرک کا مرتکب اس شفاعت کا مستحق نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح تخريج فقه السيرة (184)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحج 86 (1378) (تحفة الأشراف: 12804) (صحیح)
|
|
|
69: باب فِي فَضْلِ مَكَّةَ
باب: مکہ کی فضیلت کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ ابْنِ حَمْرَاءَ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا عَلَى الْحَزْوَرَةِ , فَقَالَ: " وَاللَّهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ، وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، نَحْوَهُ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدِيثُ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ ابْنِ حَمْرَاءَ، عِنْدِي أَصَحُّ.
عبداللہ بن عدی بن حمراء زہری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «حزوراء» ( چھوٹا ٹیلہ ) پر کھڑے دیکھا ، آپ نے فرمایا : ” قسم اللہ کی ! بلاشبہ تو اللہ کی سر زمین میں سب سے بہتر ہے اور اللہ کی زمینوں میں اللہ کے نزدیک سب سے محبوب سر زمین ہے ، اگر مجھے تجھ سے نہ نکالا جاتا تو میں نہ نکلتا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ، ¤ ۲- اسے یونس نے بھی زہری سے اسی طرح روایت کیا ہے ، اور اسے محمد بن عمرو نے بطریق : «أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے ، اور زہری کی حدیث جو بطریق : «أبي سلمة عن عبد الله بن عدي ابن حمراء» آئی ہے وہ میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3925]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث نیز مسجد الحرام مکہ میں نماز کے اجر و ثواب والی حدیث سے معلوم ہوتا ہے، کہ مکہ: مدینہ سے افضل ہے، یہی محققین کا قول ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3108)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المناسک 103 (3108) (تحفة الأشراف: 6641) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَأَبُو الطُّفَيْلِ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَّةَ: " مَا أَطْيَبَكِ مِنْ بَلَدٍ وَأَحَبَّكِ إِلَيَّ، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمِي أَخْرَجُونِي مِنْكِ مَا سَكَنْتُ غَيْرَكِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : ” کتنا پاکیزہ شہر ہے تو اور تو کتنا مجھے محبوب ہے ، میری قوم نے مجھے تجھ سے نہ نکالا ہوتا تو میں تیرے علاوہ کہیں اور نہ رہتا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3926]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (2724)
تخریج دارالدعوہ:
تفردبہ المؤلف (تحفة الأشراف: 5539) (صحیح)
|
|
|
70: باب مَنَاقِبَ فِي فَضْلِ الْعَرَبِ
باب: عربوں کی فضیلت کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا سَلْمَانُ، لَا تَبْغَضْنِي فَتُفَارِقَ دِينَكَ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَبْغَضُكَ وَبِكَ هَدَانَا اللَّهُ؟ قَالَ: " تَبْغَضُ الْعَرَبَ فَتَبْغَضُنِي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَدْرٍ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ، وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، يَقُولُ: أَبُو ظَبْيَانَ لَمْ يُدْرِكْ سَلْمَانَ، مَاتَ سَلْمَانُ قَبْلَ عَلِيٍّ.
سلمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سلمان ! تم مجھ سے بغض نہ رکھو کہ تمہارا دین ہاتھ سے جاتا رہے “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں کیسے آپ سے بغض رکھ سکتا ہوں اور حال یہ ہے کہ اللہ نے آپ ہی کے ذریعہ ہمیں ہدایت بخشی ہے ، آپ نے فرمایا : ” تم عربوں سے بغض رکھو گے تو مجھ سے بغض رکھو گے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف ابوبدر شجاع بن ولید کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : ابوظبیان نے سلمان کا زمانہ نہیں پایا ہے اور سلمان علی سے پہلے وفات پا گئے تھے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3927]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الضعيفة (2020)، المشكاة (5989) // ضعيف الجامع الصغير (6394) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3927) إسناده ضعيف ¤ قابوس ضعيف (تقدم:1053)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4488) (ضعیف) (سند میں قابوس لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عُمَرَ الْأَحْمَسِيِّ، عَنْ مُخَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ غَشَّ الْعَرَبَ لَمْ يَدْخُلْ فِي شَفَاعَتِي وَلَمْ تَنَلْهُ مَوَدَّتِي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حُصَيْنِ بْنِ عُمَرَ الْأَحْمَسِيِّ، عَنْ مُخَارِقٍ، وَلَيْسَ حُصَيْنٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ بِذَاكَ الْقَوِيِّ.
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے عربوں کو دھوکہ دیا وہ میری شفاعت میں شامل نہ ہو گا اور اسے میری محبت نصیب نہ ہو گی “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف حصین بن عمر احمسی کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ مخارق سے روایت کرتے ہیں ، اور حصین محدثین کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3928]
قال الشيخ الألباني:
موضوع، الضعيفة (545)، المشكاة (5990) // ضعيف الجامع الصغير (5715) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3928) إسناده ضعيف جدًا ¤ حصين بن عمر: متروك (تق:1378) وقال الهيثمي: وضعفه الجمهور (مجمع الزوائد 53/10)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9812) (موضوع) (سند میں حصین بن عمر الاحمسی“ متروک راوی ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: كَانَتْ أُمُّ الْحُرَيْرِ إِذَا مَاتَ أَحَدٌ مِنَ الْعَرَبِ اشْتَدَّ عَلَيْهَا، فَقِيلَ لَهَا: إِنَّا نَرَاكِ إِذَا مَاتَ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ اشْتَدَّ عَلَيْكِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ مَوْلَايَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنَ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ هَلَاكُ الْعَرَبِ "، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي رَزِينٍ: وَمَوْلَاهَا طَلْحَةُ بْنُ مَالِكٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ.
محمد بن رزین کی والدہ کہتی ہیں کہ جب کوئی عرب مرتا تو ام جریر پر اس کی موت بڑی سخت ہو جاتی یعنی انہیں زبردست صدمہ ہوتا تو ان سے کہا گیا کہ ہم آپ کو دیکھتے ہیں کہ جب کوئی عرب مرتا ہے تو آپ کو بہت صدمہ پہنچتا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : میں نے اپنے مالک کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عربوں کی ہلاکت قرب قیامت کی نشانی ہے “ ۔ محمد بن رزین کہتے ہیں : ان کے مالک کا نام طلحہ بن مالک ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف سلیمان بن حرب کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3929]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الضعيفة (4515)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3929) إسناده ضعيف ¤ أم [محمد بن أبى زرين] مجهولة (تحفة الأحوذي 376/4) ولم أجد من وثقها
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 5022) (ضعیف) (سند میں ام الحریر اور ام محمد بن ابی رزین دونوں مجہول ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ شَرِيكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيَفِرَّنَّ النَّاسُ مِنَ الدَّجَّالِ حَتَّى يَلْحَقُوا بِالْجِبَالِ "، قَالَتْ أُمُّ شَرِيكٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: " هُمْ قَلِيلٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
ام شریک رضی الله عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگ دجال سے بھاگیں گے ، یہاں تک کہ پہاڑوں پر جا رہیں گے “ ، ام شریک رضی الله عنہا نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس وقت عرب کہاں ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : ” وہ ( تعداد میں ) تھوڑے ہوں گے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3930]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الفتن 25 (2945) (تحفة الأشراف: 18330) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ بَصْرِيٌّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَامٌ أَبُو الْعَرَبِ، وَيَافِثُ أَبُو الرُّومِ، وَحَامٌ أَبُو الْحَبَشِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَيُقَالُ: يَافِثُ، وَيَافِتُ، وَيفِثُ.
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «سام» عربوں کے جد امجد ہیں اور «یافث» رومیوں کے اور «حام» حبشیوں کے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے اور «یافث» ، «یافِتُ» اور «یَفِتُ» تینوں لغتیں ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3931]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ تینوں نوح علیہ السلام کے بیٹوں کے نام ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الضعيفة (3683) // تقدم برقم (635 / 3461)، ضعيف الجامع الصغير (3214) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3931) ضعيف/ تقدم: 3231
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 3231 (ضعیف)
|
|
|
71: باب فِي فَضْلِ الْعَجَمِ
باب: عجمیوں کی فضیلت کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: ذُكِرَتِ الْأَعَاجِمُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنَا بِهِمْ أَوْ بِبَعْضِهِمْ أَوْثَقُ مِنِّي بِكُمْ أَوْ بِبَعْضِكُمْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، وَصَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ هَذَا يُقَالُ لَهُ: صَالِحُ بْنُ مِهْرَانَ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عجم کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ” مجھے ان پر یا ان کے بعض لوگوں پر تم سے یا تمہارے بعض لوگوں سے زیادہ اعتماد ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف ابوبکر بن عیاش کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- اور صالح بن ابی صالح کو صالح بن مہران مولی عمرو بن حریث بھی کہا جاتا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3932]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (6245)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3932) إسناده ضعيف ¤ صالح: ضعيف (تق:2867) وسفيان بن وكيع: ضعيف (تقدم:3082)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 13502) (ضعیف) (سند میں صالح بن ابی صالح ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ الدِّيلِيُّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَتْ سُورَةُ الْجُمُعَةِ، فَتَلَاهَا، فَلَمَّا بَلَغَ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ سورة الجمعة آية 3، قَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِنَا؟ فَلَمْ يُكَلِّمْهُ، قَالَ: وَسَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ فِينَا، قَالَ: فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ , فَقَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ بِالثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلَاءِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو الْغَيْثِ اسْمُهُ: سَالِمٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ مَدَنِيٌّ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس وقت سورۃ الجمعہ نازل ہوئی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، آپ نے اس کی تلاوت فرمائی ، جب «وآخرين منهم لما يلحقوا بهم» پر پہنچے تو آپ سے ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ کون لوگ ہیں جو ابھی ہم سے ملے نہیں ہیں تو آپ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا ، وہ کہتے ہیں : اور سلمان فارسی ہم میں موجود تھے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سلمان کے اوپر رکھا اور فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ایمان ثریا پر بھی ہو گا تو بھی اس کے کچھ لوگ اسے حاصل کر لیں گے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- اور یہ متعدد سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے مرفوع طریقہ سے آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3933]
💡 وضاحت:
۱؎: سلمان فارسی رضی الله عنہ عجمی (ملک ایران کے) تھے اور اس آیت میں انہیں لوگوں کی طرف اشارہ ہے، عجم میں بےشمار محدثین اور عظیم امامان اسلام پیدا ہوئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح وهو مكرر الحديث (3541)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تفسیر سورة الجمعة 1 (4897)، 4898)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 59 (2526) (تحفة الأشراف: 12917)، و مسند احمد (2/297، 420، 469) (صحیح)
|
|
|
72: باب فِي فَضْلِ الْيَمَنِ
باب: یمن کی فضیلت کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ قِبَلَ الْيَمَنِ , فَقَالَ: " اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ.
زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف دیکھا اور فرمایا : ” اے اللہ ! ان کے دلوں کو ہماری طرف پھیر دے اور ہمارے صاع اور مد میں ہمیں برکت دے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ہم اسے یعنی زید بن ثابت کی اس حدیث کو صرف عمران قطان کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3934]
💡 وضاحت:
۱؎: مدینہ میں زیادہ تر علم یمن سے آیا کرتا تھا، اس لیے آپ نے اہل یمن کی دلوں کو مدینہ کی طرف پھیر دینے کی دعا فرمائی، اسی مناسبت سے آپ نے مدینہ کی صاع اور مد (یعنی صاع اور مد میں ناپے جانے غلے) میں برکت کی دعا فرمائی۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح، المشكاة (6263 / التحقيق الثانى)، الإرواء (4 / 176)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3697) (حسن صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَضْعَفُ قُلُوبًا , وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً الْإِيمَانُ يَمَانٍ , وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ ". وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے پاس اہل یمن آئے وہ نرم دل اور رقیق القلب ہیں ، ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن عباس اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3935]
💡 وضاحت:
۱؎: بقول بعض آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان و حکمت کو جو یمنی فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان و حکمت دونوں مکہ سے نکلے ہیں اور مکہ تہامہ سے ہے اور تہامہ سر زمین یمن میں داخل ہے، اور بقول بعض یہاں ظاہری معنی ہی مراد لینے میں کوئی حرج نہیں، یعنی یہاں خاص یمن جو معروف ہے کہ وہ لوگ مراد ہیں جو اس وقت یمن سے آئے تھے، نہ کہ ہر زمانہ کے اہل یمن مراد ہیں، نیز یہ معنی بھی بیان کیا گیا ہے کہ یمن والوں سے بہت آسانی سے ایمان قبول کر لیا، جبکہ دیگر علاقوں کے لوگوں پر بہت زیادہ محنت کرنی پڑتی تھی، اس لیے اہل یمن (اس وقت کے اہل یمن) کی تعریف کی، «واللہ اعلم»
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الروض النضير (1034)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المغازي 74 (4388، 4390)، صحیح مسلم/الإیمان 21 (52/84) (تحفة الأشراف: 15047)، و مسند احمد (2/252، 258، 258، 480، 541) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، نَحْوَهُ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سلطنت ( حکومت ) قریش میں رہے گی ، اور قضاء انصار میں اور اذان حبشہ میں اور امانت قبیلہ ازد میں یعنی یمن میں “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3936]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (1083)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، نَحْوَهُ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا اور عبدالرحمٰن نے معاویہ بن صالح سے اور معاویہ نے ابومریم انصاری کے واسطہ سے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ، اور اسے مرفوع نہیں کیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اور یہ زید بن حباب کی ( اوپر والی ) حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3936M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (1083)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنِي عَمِّي صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الْكَبِيرِ بْنِ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، حَدَّثَنِي عَمِّي عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْأَزْدُ أُسْدُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ، يُرِيدُ النَّاسُ أَنْ يَضَعُوهُمْ , وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يَرْفَعَهُمْ، وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَقُولُ الرَّجُلُ: يَا لَيْتَ أَبِي كَانَ أَزْدِيًّا، يَا لَيْتَ أُمِّي كَانَتْ أَزْدِيَّةً ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ أَنَسٍ مَوْقُوفٌ وَهُوَ عِنْدَنَا أَصَحُّ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «ازد» ( اہل یمن ) زمین میں اللہ کے شیر ہیں ، لوگ انہیں گرانا چاہتے ہیں اور اللہ انہیں اٹھانا چاہتا ہے ، اور لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ آدمی کہے گا ، کاش ! میرا باپ ازدی ہوتا ، کاش میری ماں ! ازدیہ ہوتی “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- یہ حدیث اس سند سے انس سے موقوف طریقہ سے آئی ہے ، اور یہ ہمارے نزدیک زیادہ صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3937]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الضعيفة (2467) // ضعيف الجامع الصغير (2275) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3937) سنده حسن ¤ صالح بن عبدالكبير حسن له ابن شاهين (تاريخ دمشق 248/42۔249) و روي له الضياء فى المختارة
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 919) (ضعیف) (سند میں صالح بن عبد الکریم مجہول ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنِي غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: " إِنْ لَمْ نَكُنْ مِنَ الْأَزْدِ، فَلَسْنَا مِنَ النَّاسِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اگر ہم ازدی ( یعنی قبیلہ ازد کے ) نہ ہوں تو ہم آدمی ہیں ہی نہیں ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3938]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ہم مکمل انسان نہ ہوتے، انس رضی الله عنہ قبیلہ انصار کے تھے، اور سارے انصار قبیلہ ازد کے ہیں، اور یہ قبیلہ یمن سے حجاز آیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد موقوف
تخریج دارالدعوہ:
(صحیح) تحفة الأحوذی (4196/10/304) کے نسخے میں یہ حدیث ہے، اور مکتبة المعارف کے نسخے اور تحفة الأشراف میں یہ حدیث نہیں ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ زَنْجُوَيْهِ بَغْدَادِيٌّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ مِينَاءَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ أَحْسِبُهُ مِنْ قَيْسٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْعَنْ حِمْيَرًا فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَحِمَ اللَّهُ حِمْيَرًا أَفْوَاهُهُمْ سَلَامٌ , وَأَيْدِيهِمْ طَعَامٌ , وَهُمْ أَهْلُ أَمْنٍ وَإِيمَانٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَيُرْوَى عَنْ مِينَاءَ هَذَا أَحَادِيثُ مَنَاكِيرُ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا ( میرا خیال ہے کہ وہ قبیلہ قیس کا تھا ) اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! قبیلہ حمیر پر لعنت فرمائیے ، تو آپ نے اس سے چہرہ پھیر لیا ، پھر وہ دوسری طرف سے آپ کے پاس آیا ، آپ نے پھر اس سے اپنا چہرہ پھیر لیا ، پھر وہ دوسری طرف سے آیا تو آپ نے پھر اپنا چہرہ پھیر لیا ، پھر وہ دوسری طرف سے آیا تو آپ نے اپنا چہرہ پھیر لیا اور فرمایا : ” اللہ حمیر پر رحم کرے ، ان کے منہ میں سلام ہے ، ان کے ہاتھ میں کھانا ہے ، اور وہ امن و ایمان والے لوگ ہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے عبدالرزاق کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- اور میناء سے بہت سی منکر حدیثیں روایت کی جاتی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3939]
قال الشيخ الألباني:
موضوع، الضعيفة (349) // ضعيف الجامع الصغير (3109) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3939) إسناده ضعيف جدًا ¤ ميناء متروك ورمي بالرفض وكذبه أبو حاتم (تق:7059) وقال الهيثمي: وضعفه الجمهور (مجمع الزوائد 22/9)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 14633)، و مسند احمد (2/278) (موضوع) (سند میں مینا بن ابی مینا متروک شیعی راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفة 349)
|
|
|
73: باب مَنَاقِبَ لِغِفَارَ وَأَسْلَمَ وَجُهَيْنَةَ وَمُزَيْنَةَ
باب: قبائل غفار، اسلم، جہینہ اور مزنیہ کے فضائل و مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْأَنْصَارُ، وَمُزَيْنَةُ، وَجُهَيْنَةُ، وَغِفَارٌ، وَأَشْجَعُ، وَمَنْ كَانَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ مَوَالِيَّ، لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ , وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَاهُمْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انصار ، مزینہ ، جہینہ ، غفار ، اشجع اور جو قبیلہ عبدالدار کے ہوں وہ میرے رفیق ہیں ، ان کا اللہ کے علاوہ کوئی اور رفیق نہیں ، اور اللہ اور اس کے رسول ان کے رفیق ہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3940]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/فضائل الصحابة 47 (2519) (تحفة الأشراف: 3493) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بنی اسلم کو اللہ صحیح سالم رکھے ، غفار کو اللہ بخشے اور عصیہ ( قبیلہ ) نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3941]
💡 وضاحت:
۱؎: اس میں، قبیلہ اسلم، اور غفار کی منقبت ہے، جبکہ قبیلہ ”عصیہ“ کی برائی ہے۔
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المناقب 6 (3513)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 46 (2518)، ویأتي برقم 3948 (تحفة الأشراف: 7130)، و مسند احمد (2/20، 50، 60) (صحیح)
|
|
|
74: باب فِي ثَقِيفٍ وَبَنِي حَنِيفَةَ
باب: قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْرَقَتْنَا نِبَالُ ثَقِيفٍ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ، قَالَ: " اللَّهُمَّ اهْدِ ثَقِيفًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ثقیف کے تیروں نے ہمیں زخمی کر دیا ، تو آپ اللہ سے ان کے لیے بد دعا فرمائیں ، آپ نے فرمایا : «اللهم اهد ثقيفا» ” اے اللہ ! ثقیف کو ہدایت دے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3942]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (5986)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3942) إسناده ضعيف ¤ أبو الزبير عنعن (تقدم: 10) و رواه عبدالرحمن بن سابط عن جابر به مختصراً (مسند أحمد:343/3) وعبدالرحمن لم يسمع من جابر رضى الله عنه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2779) (ضعیف) (سند میں ابوالزبیر محمد بن مسلم مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: " مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَكْرَهُ ثَلَاثَةَ أَحْيَاءٍ: ثَقِيفًا، وَبَنِي حَنِيفَةَ، وَبَنِي أُمَيَّةَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ تین قبیلوں ثقیف ، بنی حنیفہ اور بنی امیہ کو ناپسند کرتے تھے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3943]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سلسلہ میں علماء کا کہنا ہے کہ ثقیف کو حجاج بن یوسف اور بنی حنیفہ کو مسیلمہ کذاب اور بنی امیہ کو عبیداللہ بن زیاد کی وجہ سے ناپسند کرتے تھے (واللہ اعلم)۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3943) إسناده ضعيف ¤ هشام بن حسان والحسن البصري عنعنا (تقدما:21،460)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10813) (ضعیف الإسناد) (حسن بصری مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت ہے، جب کہ عمران بن حصین رضی الله عنہ“ سے ان کا سماع بھی نہیں ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ أَبُو مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُصْمٍ يُكْنَى أَبَا عُلْوَانَ وَهُوَ كُوفِيٌّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ، وَشَرِيكٌ يَقُولُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُصْمٍ، وَإِسْرَائِيلُ، يروي عَنْ هَذَا الشَّيْخِ، وَيَقُولُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ، وَفِي الْبَاب عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ثقیف میں ایک جھوٹا اور ایک تباہی مچانے والا ظالم شخص ہو گا “ ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3944]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے اشارہ مختار بن عبید ثقفی کی طرف ہے جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور ظالم حجاج بن یوسف ثقفی کی طرف ہے جس نے ہزاروں صالحین اور اکابرین کو اپنے ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح ومضى (2221) // هذا الرقم فى طبعة الدعاس، وهو عندنا برقم (1808 / 2331) //
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ أَبُو مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُصْمٍ يُكْنَى أَبَا عُلْوَانَ وَهُوَ كُوفِيٌّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ، وَشَرِيكٌ يَقُولُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُصْمٍ، وَإِسْرَائِيلُ، يروي عَنْ هَذَا الشَّيْخِ، وَيَقُولُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ، وَفِي الْبَاب عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ.
ہم سے عبدالرحمٰن بن واقد ابومسلم نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں : ہم سے شریک نے اسی سند سے اسی طرح کی حدیث بیان کی اور عبدالرحمٰن بن عاصم کی کنیت ابوعلوان ہے اور وہ کوفی ہیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں ، اور شریک کی روایت میں عبداللہ بن عصم ہے ، اور اسرائیل بھی انہیں شیخ سے روایت کرتے ہیں ، لیکن انہوں نے عبداللہ بن عصم کے بجائے عبداللہ بن عصمۃ کہا ہے ، ¤ ۳- اس باب میں اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3944M]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے اشارہ مختار بن عبید ثقفی کی طرف ہے جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور ظالم حجاج بن یوسف ثقفی کی طرف ہے جس نے ہزاروں صالحین اور اکابرین کو اپنے ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح ومضى (2221) // هذا الرقم فى طبعة الدعاس، وهو عندنا برقم (1808 / 2331) //
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرَةً، فَعَوَّضَهُ مِنْهَا سِتَّ بَكَرَاتٍ، فَتَسَخَّطَهَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ فُلَانًا أَهْدَى إِلَيَّ نَاقَةً فَعَوَّضْتُهُ مِنْهَا سِتَّ بَكَرَاتٍ، فَظَلَّ سَاخِطًا، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ، أَوْ ثَقَفِيٍّ، أَوْ دَوْسِيٍّ "، وَفِي الْحَدِيثِ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، يَرْوِي عَنْ أَيُّوبَ أَبِي الْعَلَاءِ وَهُوَ أَيُّوبُ بْنُ مِسْكِينٍ وَيُقَالُ: ابْنُ أَبِي مِسْكِينٍ، وَلَعَلَّ هَذَا الْحَدِيثَ الَّذِي رَوَاهُ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ هُوَ أَيُّوبُ أَبُو الْعَلَاءِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جوان اونٹنی ہدیہ میں دی ، اور آپ نے اس کے عوض میں اسے چھ اونٹنیاں عنایت فرمائیں ، پھر بھی وہ آپ سے خفا رہا یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا : ” فلاں نے مجھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تھی ، میں نے اس کے عوض میں اسے چھ جوان اونٹنیاں دیں ، پھر بھی وہ ناراض رہا ، میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ اب سوائے قریشی ، یا انصاری ، یا ثقفی ۱؎ یا دوسی کے کسی کا ہدیہ قبول نہ کروں “ ، اس حدیث میں مزید کچھ اور باتیں بھی ہیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث متعدد سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے آئی ہے ، ¤ ۲- اور یزید بن ہارون ایوب ابوالعلاء سے روایت کرتے ہیں ، اور وہ ایوب بن مسکین ہیں اور انہیں ابن ابی مسکین بھی کہا جاتا ہے ، اور شاید یہی وہ حدیث ہے جسے انہوں نے ایوب سے اور ایوب نے سعید مقبری سے روایت کی ہے ، اور ایوب سے مراد ایوب ابوالعلاء ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3945]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے قبیلہ ثقیف کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (3022 / التحقيق الثانى)، الصحيحة (1684)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، وانظر مایأتي (تحفة الأشراف: 12954)، وانظر مسند احمد (2/292) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَهْدَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةً مِنْ إِبِلِهِ الَّتِي كَانُوا أَصَابُوا بِالْغَابَةِ، فَعَوَّضَهُ مِنْهَا بَعْضَ الْعِوَضِ، فَتَسَخَّطَهُ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ يَقُولُ: " إِنَّ رِجَالًا مِنَ الْعَرَبِ يُهْدِي أَحَدُهُمُ الْهَدِيَّةَ فَأُعَوِّضُهُ مِنْهَا بِقَدْرِ مَا عِنْدِي , ثُمَّ يَتَسَخَّطُهُ , فَيَظَلُّ يَتَسَخَّطُ فِيهِ عَلَيَّ , وَايْمُ اللَّهِ لَا أَقْبَلُ بَعْدَ مَقَامِي هَذَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ هَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ، أَوْ ثَقَفِيٍّ، أَوْ دَوْسِيٍّ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، عَنْ أَيُّوبَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فزارہ کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ان اونٹوں میں سے جو اسے غابہ میں ملے تھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تو آپ نے اسے اس کا کچھ عوض دیا ، لیکن وہ آپ سے خفا رہا ، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا کہ ” عربوں میں سے کچھ لوگ مجھے ہدیہ دیتے ہیں اور اس کے بدلہ میں انہیں جس قدر میرے پاس ہوتا ہے میں دیتا ہوں ، پھر بھی وہ خفا رہتا ہے اور برابر مجھ سے اپنی خفگی جتاتا رہتا ہے ، قسم اللہ کی ! اس کے بعد میں عربوں میں سے کسی بھی آدمی کا ہدیہ قبول نہیں کروں گا سوائے قریشی ، انصاری یا ثقفی یا دوسی کے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے اور یہ یزید بن ہارون کی روایت سے جسے وہ ایوب سے روایت کرتے ہیں زیادہ صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3946]
قال الشيخ الألباني:
صحيح انظر ما قبله (3945)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ البیوع 82 (3537)، وانظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 14320) (صحیح) (سابقہ حدیث میں ایوب بن مسکین (یا ابن ابی مسکین) صدوق ہیں، لیکن صاحب اوہام ہیں، اور اس سند میں محمد بن اسحاق صدوق لیکن مدلس ہیں، لیکن شواہد و متابعات کی بنا پر یہ حدیث اور سابقہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحہ رقم 1684)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ , قَالُوا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَلَاذٍ يُحَدِّثُ، عَنْ نُمَيْرِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَسْرُوحٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نِعْمَ الْحَيُّ الْأَسْدُ وَالْأَشْعَرِوُنَ، لَا يَفِرُّونَ فِي الْقِتَالِ وَلَا يَغُلُّونَ، هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ "، قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: لَيْسَ هَكَذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " هُمْ مِنِّي وَإِلَيَّ "، فَقُلْتُ: لَيْسَ هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبِي وَلَكِنَّهُ حَدَّثَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ "، قَالَ: فَأَنْتَ أَعْلَمُ بِحَدِيثِ أَبِيكَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ، وَيُقَالُ: الْأَسْدُ هُمْ الْأَزْدُ.
ابوعامر اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا ہی اچھے ہیں قبیلہ اسد اور قبیلہ اشعر کے لوگ ، جو لڑائی سے بھاگتے نہیں اور نہ مال غنیمت میں خیانت کرتے ہیں ، وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں “ ، عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں : پھر میں نے اسے معاویہ رضی الله عنہ سے بیان کیا تو انہوں نے کہا : اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا ، بلکہ آپ نے یہ فرمایا کہ ” وہ مجھ سے ہیں اور میری طرف ہیں “ ، تو میں نے عرض کیا : میرے باپ نے مجھ سے اس طرح نہیں بیان کیا ، بلکہ انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں “ ، معاویہ رضی الله عنہ نے کہا : تو تم اپنے باپ کی حدیثوں کے زیادہ جانکار ہو ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف وہب بن جریر کی روایت سے جانتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اسد قبیلہ اسد ہی کے لوگ ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3947]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الضعيفة (4692) // ضعيف الجامع الصغير (5963) //
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 12066) وانظر مسند احمد (4/129) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن ملاذ مجہول راوی ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، وَأَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، وَبُرَيْدَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ قبیلہ اسلم کو سلامت رکھے اور بنی غفار کو اللہ کو بخشے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابوذر ، ابوبرزہ اسلمی اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے ہی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3948]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 3941 (تحفة الأشراف: 7194) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَزَادَ فِيهِ: " وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ قبیلہ اسلم کو سلامت رکھے اور غفار کو اللہ بخش دے اور عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3949]
قال الشيخ الألباني:
صحيح انظر ما قبله (3948)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَزَادَ فِيهِ: " وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے مؤمل نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں : ہم سے سفیان نے عبداللہ بن دینار کے واسطہ سے شعبہ کی حدیث کے مانند روایت کی اور اس میں اتنا اضافہ کیا «وعصية عصت الله ورسوله» ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3949M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح انظر ما قبله (3948)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَغِفَارٌ , وَأَسْلَمُ , وَمُزَيْنَةُ , وَمَنْ كَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ، أَوْ قَالَ: جُهَيْنَةُ، وَمَنْ كَانَ مِنْ مُزَيْنَةَ خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ , وَطَيِّئٍ , وَغَطَفَانَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! غفار ، اسلم ، مزنیہ اور جو جہنیہ کے لوگ “ یا آپ نے فرمایا : ” جہنیہ اور جو مزنیہ کے لوگ ہیں اللہ کے نزدیک قیامت کے دن اسد ، طی اور غطفان سے بہتر ہوں گے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3950]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/فضائل الصحابة 47 (2520/191) (تحفة الأشراف: 13881) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: جَاءَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَبْشِرُوا يَا بَنِي تَمِيمٍ "، قَالُوا: بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا، قَالَ: فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَاءَ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ: " اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ تَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ " , قَالُوا: قَدْ قَبِلْنَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی تمیم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ نے فرمایا : ” اے بنی تمیم ! خوش ہو جاؤ “ ، وہ لوگ کہنے لگے : آپ نے ہمیں بشارت دی ہے ، تو ( کچھ ) دیجئیے ، وہ کہتے ہیں : یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا ، اتنے میں یمن کے کچھ لوگ آ گئے تو آپ نے فرمایا : ” تمہیں لوگ بشارت قبول کر لو “ ، جب بنی تمیم نے اسے قبول نہیں کیا تو ان لوگوں نے کہا : ہم نے قبول کر لیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3951]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/بدء الخلق 1 (3190)، والمغازي 67 (4365)، و74 (4386)، والتوحید 22 (7418) (تحفة الأشراف: 10829) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَسْلَمُ، وَغِفَارٌ، وَمُزَيْنَةُ، خَيْرٌ مِنْ تَمِيمٍ، وَأَسَدٍ، وَغَطَفَانَ، وَبَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ "، يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ، فَقَالَ الْقَوْمُ: قَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا، قَالَ: " فَهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوبکرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قبائل اسلم ، غفار اور مزینہ ، قبائل تمیم ، اسد ، غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں “ ، اور آپ اس کے ساتھ اپنی آواز اونچی کر رہے تھے ، تو لوگ کہنے لگے : نامراد ہوئے اور خسارے میں رہے ، آپ نے فرمایا : ” وہ ان ( قبائل یعنی تمیم ، اسد ، غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ ) سے بہتر ہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3952]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المناقب 6 (3515، و3516)، والأیمان والنذور 3 (6635)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 47 (2522) (تحفة الأشراف: 1168) (صحیح)
|
|
|
75: باب فِي فَضْلِ الشَّأْمِ وَالْيَمَنِ
باب: شام اور یمن کی فضیلت کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ابْنُ ابْنَةِ أَزْهَرَ السَّمَّانِ، حَدَّثَنِي جَدِّي أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأمِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا "، قَالُوا: وَفِي نَجْدِنَا، قَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأْمِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا "، قَالُوا: وَفِي نَجْدِنَا، قَالَ: " هُنَاكَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ، وَبِهَا، أَوْ قَالَ: مِنْهَا، يَخْرُجُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! ہمارے شام میں برکت عطا فرما ، اے اللہ ! ہمارے یمن میں برکت عطا فرما “ ، لوگوں نے عرض کیا : اور ہمارے نجد میں ، آپ نے فرمایا : ” اے اللہ ! ہمارے شام میں برکت عطا فرما ، اور ہمارے یمن میں برکت عطا فرما “ ، لوگوں نے عرض کیا : اور ہمارے نجد میں ، آپ نے فرمایا : ” یہاں زلزلے اور فتنے ہیں ، اور اسی سے شیطان کی سینگ نکلے گی “ ، ( یعنی شیطان کا لشکر اور اس کے مددگار نکلیں گے ) ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے یعنی ابن عون کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث بطریق : «سالم بن عبد الله بن عمر عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» بھی آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3953]
💡 وضاحت:
۱؎: محقق شارحین حدیث نے قطعی دلائل اور تاریخی حقائق سے یہ ثابت کیا ہے کہ اس حدیث میں مذکور ”نجد“ سے مراد ”عراق“ ہے، تاریخ نے ثابت کر دیا ہے کہ دینی فتنے زیادہ تر عراق سے اٹھے، لغت میں نجد اونچی زمین (سطح مرتفع) کو کہا جاتا ہے، سعودیہ میں واقع ”نجد“ کو بھی اسی وجہ سے ”نجد“ کہا جاتا ہے، اس اعتبار سے عراق پر بھی نجد کا لفظ صادق آتا ہے، اور حسی و معنوی دینی فتنوں کے عراق سے ظہور نے یہ ثابت کر دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہی عراق اور مضافات کا علاقہ تھا، بدعتی فرقوں نے اس حدیث کا مصداق شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب نجدی کی تحریک کو قرار دیا ہے، «شتان مابین الیزیدین» سلف صالحین کے عقیدہ اور فہم شریعت کے مطابق چلائی گئی تحریک چاہے مذمومہ نجد ہی سے کیوں نہ ہو اس حدیث کا مصداق کیسے ہو سکتی ہے؟ اگر نجدی تحریک مراد ہو گی تو اصل اسلام ہی مراد ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح تخريج فضائل الشام (8)، الصحيحة (2246)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الاستسقاء 27 (1037)، والفتن 16 (7094) (تحفة الأشراف: 7745) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَال: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُؤَلِّفُ الْقُرْآنَ مِنَ الرِّقَاعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طُوبَى لِلشَّأْمِ "، فَقُلْنَا: لِأَيٍّ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " لِأَنَّ مَلَائِكَةَ الرَّحْمَنِ بَاسِطَةٌ أَجْنِحَتَهَا عَلَيْهَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ.
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کاغذ کے پرزوں سے قرآن کو مرتب کر رہے تھے ، تو آپ نے فرمایا : ” مبارکبادی ہو شام کے لیے “ ، ہم نے عرض کیا : کس چیز کی اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” اس بات کی کہ رحمن کے فرشتے ان کے لیے اپنے بازو بچھاتے ہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف یحییٰ بن ایوب کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3954]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الفضائل أيضا رقم (1)، المشكاة (6624)، الصحيحة (502)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3728)، وانظر: مسند احمد (5/184) (صحیح) (ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم 503)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَفْتَخِرُونَ بِآبَائِهِمُ الَّذِينَ مَاتُوا، إِنَّمَا هُمْ فَحْمُ جَهَنَّمَ، أَوْ لَيَكُونُنَّ أَهْوَنَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الْجُعَلِ الَّذِي يُدَهْدِهُ الْخِرَاءَ بِأَنْفِهِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ، إِنَّمَا هُوَ مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ، وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ، النَّاسُ كُلُّهُمْ بَنُو آدَمَ , وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ تُرَابٍ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” باز آ جائیں وہ قومیں جو اپنے ان آباء و اجداد پر فخر کر رہی ہیں جو مر گئے ہیں ، وہ جہنم کا کوئلہ ہیں ورنہ وہ اللہ کے نزدیک اس گبریلے سے بھی زیادہ ذلیل ہو جائیں گے ، جو اپنے آگے اپنی ناک سے نجاست دھکیلتا رہتا ہے ، اللہ نے تم سے جاہلیت کی نخوت کو ختم کر دیا ہے ، اب تو لوگ مومن و متقی ہیں یا فاجر و بدبخت ، لوگ سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن عمر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3955]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے مراد وہ آباء و اجداد ہیں جن کی وفات کفر کی حالت میں ہو چکی تھی، وہ کیسے بھی عال نسب ہوں، ان پر مسلمانوں کو فخر کرنا درست نہیں کیونکہ ان کی وفات کفر پر ہوئی ہے۔
۲؎: قبائل کے فضائل کے اخیر میں شاید اس حدیث کے لانے سے مولف کا مقصد یہ ہو کہ مذکورہ قبائل کے جو بھی فضائل ہوں اصل کامیابی اور فضیلت کی بات اپنا ایمان وعمل ہے، قبیلہ خاندان کی برتری اور ان پر فخر کچھ کام نہیں آئے گا، یہ فخر بالآخر ذلت کا سبب بن جائے گا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، التعليق الرغيب (4 / 21 و 33 - 34)، غاية المرام (312)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 13074) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ الْمَدَنِيُّ , حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قَدْ أَذْهَبَ اللَّهُ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ، مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ، وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ، وَالنَّاسُ بَنُو آدَمَ , وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَهَذَا أَصَحُّ عِنْدَنَا مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ، وَسَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ قَدْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَيَرْوِي عَنْ أَبِيهِ أَشْيَاءَ كَثِيرَةً، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَقَدْ رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي عَامِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور اپنے باپ دادا پر فخر کو ختم کر دیا ہے ، اب لوگ مومن و متقی ہیں یا فاجر و بدبخت اور سارے لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنائے گئے ہیں ۔“ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن اور یہ ہمارے نزدیک پہلی روایت سے زیادہ صحیح ہے ، ¤ ۲- سعید مقبری نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے سنا ہے اور وہ اپنے باپ کے واسطے سے بہت سی چیزیں ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں ، ¤ ۳- سفیان ثوری اور کئی دوسرے راویوں نے یہ حدیث ہشام بن سعد سے ، ہشام نے سعید مقبری سے اور سعید مقبری نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوعامر کی حدیث کے مانند روایت کی ہے جسے وہ ہشام بن سعد سے روایت کرتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3956]
قال الشيخ الألباني:
حسن انظر ما قبله (3955)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأدب 120 (5116) (تحفة الأشراف: 14333) (حسن)
|
|