جامع الترمذي حدیث نمبر: 3839
Jami at-Tirmidhi 3839
کتاب #50: کتاب: فضائل و مناقب
47: باب مَنَاقِبِ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه
باب: ابوہریرہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْمُهَاجِرُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمَرَاتٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ، فَضَمَّهُنَّ ثُمَّ دَعَا لِي فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ، فَقَالَ لِي: " خُذْهُنَّ وَاجْعَلْهُنَّ فِي مِزْوَدِكَ هَذَا، أَوْ فِي هَذَا الْمِزْوَدِ، كُلَّمَا أَرَدْتَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا فَأَدْخِلْ فِيهِ يَدَكَ فَخُذْهُ وَلَا تَنْثُرْهُ نَثْرًا، فَقَدْ حَمَلْتُ مِنْ ذَلِكَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا مِنْ وَسْقٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "، فَكُنَّا نَأْكُلُ مِنْهُ وَنُطْعِمُ وَكَانَ لَا يُفَارِقُ حِقْوِي، حَتَّى كَانَ يَوْمُ قَتْلِ عُثْمَانَ فَإِنَّهُ انْقَطَعَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر حاضر ہوا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ان میں برکت کی دعا فرما دیجئیے ، تو آپ نے انہیں اکٹھا کیا پھر ان میں برکت کی دعا کی اور فرمایا : ” انہیں لے جاؤ اور اپنے توشہ دان میں رکھ لو اور جب تم اس میں سے کچھ لینے کا ارادہ کرو تو اس میں اپنا ہاتھ ڈال کر لے لو ، اسے بکھیرو نہیں چنانچہ ہم نے اس میں سے اتنے اتنے وسق اللہ کی راہ میں دیئے اور ہم اس میں سے کھاتے تھے اور کھلاتے بھی تھے ۱؎ اور وہ ( تھیلی ) کبھی میری کمر سے جدا نہیں ہوتی تھی ، یہاں تک کہ جس دن عثمان رضی الله عنہ قتل کئے گئے تو وہ ٹوٹ کر ( کہیں ) گر گئی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ سے دوسری سندوں سے آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3839]
💡 وضاحت:
۱؎: خیر و برکت کی دعا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کسی مقبول بارگاہ الٰہی آدمی کے لیے کر سکتے ہیں؟ ثابت ہوا کہ ابوہریرہ رضی الله عنہ مقبول بارگاہ الٰہی تھے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن الإسناد
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 12893) (صحیح) (شواہد کی بنا پر صحیح ہے، الصحیحة: 3963، تراجع الالبانی 227)