جامع الترمذي حدیث نمبر: 3840
Jami at-Tirmidhi 3840
کتاب #50: کتاب: فضائل و مناقب
47: باب مَنَاقِبِ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه
باب: ابوہریرہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُرَابِطِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: لِمَ كُنِّيتَ أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: أَمَا تَفْرَقُ مِنِّي؟ قُلْتُ: بَلَى وَاللَّهِ إِنِّي لَأَهَابُكَ، قَالَ: " كُنْتُ أَرْعَى غَنَمَ أَهْلِي وَكَانَتْ لِي هُرَيْرَةٌ صَغِيرَةٌ , فَكُنْتُ أَضَعُهَا بِاللَّيْلِ فِي شَجَرَةٍ، فَإِذَا كَانَ النَّهَارُ ذَهَبْتُ بِهَا مَعِي , فَلَعِبْتُ بِهَا , فَكَنَّوْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
عبداللہ بن رافع کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے پوچھا : آپ کی کنیت ابوہریرہ کیوں پڑی ؟ تو انہوں نے کہا : کیا تم مجھ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ؟ قسم اللہ کی ! میں آپ سے ڈرتا ہوں ، پھر انہوں نے کہا : میں اپنے گھر والوں کی بکریاں چراتا تھا ، میری ایک چھوٹی سی بلی تھی میں اس کو رات میں ایک درخت پر بٹھا دیتا اور دن میں اسے اپنے ساتھ لے جاتا ، اور اس سے کھیلتا ، تو لوگوں نے میری کنیت ابوہریرہ رکھ دی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3840]
قال الشيخ الألباني:
حسن الإسناد
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 13560) (حسن الإسناد)