جامع الترمذي حدیث نمبر: 3749
Jami at-Tirmidhi 3749
کتاب #50: کتاب: فضائل و مناقب
26: باب مَنَاقِبِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رضى الله عنه
باب: عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ صَخْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " إِنَّ أَمْرَكُنَّ مِمَّا يُهِمُّنِي بَعْدِي , وَلَنْ يَصْبِرَ عَلَيْكُنَّ إِلَّا الصَّابِرُونَ "، قَالَ: ثُمَّ تَقُولُ عَائِشَةُ: فَسَقَى اللَّهُ أَبَاكَ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ تُرِيدُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَكَانَ قَدْ وَصَلَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ يُقَالُ: بِيعَتْ بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا. قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنی بیویوں سے ) فرماتے تھے : تم لوگوں کا معاملہ مجھے پریشان کئے رہتا ہے کہ میرے بعد تمہارا کیا ہو گا ؟ تمہارے حقوق کی ادائیگی کے معاملہ میں صرف صبر کرنے والے ہی صبر کر سکیں گے ۔ پھر عائشہ رضی الله عنہا نے ( ابوسلمہ سے ) کہا : اللہ تمہارے والد یعنی عبدالرحمٰن بن عوف کو جنت کی نہر سلسبیل سے سیراب کرے ، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے ساتھ ایک ایسے مال کے ذریعہ جو چالیس ہزار ( دینار ) میں بکا ، اچھے سلوک کا مظاہرہ کیا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3749]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ پر صادق آتی ہے، یعنی یہ «الصابرون» میں داخل ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، المشكاة (6121 و 6122)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 17726) (حسن)