جامع الترمذي حدیث نمبر: 3747
Jami at-Tirmidhi 3747
کتاب #50: کتاب: فضائل و مناقب
26: باب مَنَاقِبِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رضى الله عنه
باب: عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدٌ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعِيدٌ فِي الْجَنَّةِ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فِي الْجَنَّةِ ". أَخْبَرَنَا أَبُو مُصْعَبٍ قِرَاءَةً، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ.
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوبکر جنتی ہیں ، عمر جنتی ہیں ، عثمان جنتی ہیں ، علی جنتی ہیں ، طلحہ جنتی ہیں ، زبیر جنتی ہیں ، عبدالرحمٰن بن عوف جنتی ہیں ، سعد جنتی ہیں ، سعید ( سعید بن زید ) جنتی ہیں اور ابوعبیدہ بن جراح جنتی ہیں ۱؎ ( رضی اللہ علیہم اجمعین ) “ ابومصعب نے ہمیں خبر دی کہ انہوں نے عبدالعزیز بن محمد کے آگے پڑھا اور عبدالعزیز نے عبدالرحمٰن بن حمید سے اور عبدالرحمٰن نے اپنے والد حمید کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی لیکن اس میں عبدالرحمٰن بن عوف کے واسطہ کا ذکر نہیں ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث عبدالرحمٰن بن حمید سے بطریق : «عن أبيه عن سعيد بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» بھی آئی ہے ، ( اور اسی طرح آئی ہے ) ، اور یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3747]
💡 وضاحت:
۱؎: یہی وہ حدیث ہے جس میں دس جنتیوں کا نام ایک مجلس میں اکٹھے آیا ہے، اور اسی بنا پر ان دسوں کو ”عشرہ مبشرہ“ کہا جاتا ہے، ورنہ جنت کی خوشخبری آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دس کے علاوہ بھی دیگر صحابہ کو دی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (6110 و 6111)، تخرج الطحاوية (728)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 9718) (صحیح)