جامع الترمذي حدیث نمبر: 3745
Jami at-Tirmidhi 3745
کتاب #50: کتاب: فضائل و مناقب
25: باب
باب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، وَأَبُو نُعَيْمٍ , عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا , وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ". وَزَادَ أَبُو نُعَيْمٍ فِيهِ يَوْمَ الْأَحْزَابِ، قَالَ: مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ؟ قَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں “ ۱؎ ، اور ابونعیم نے اس میں «یوم الأحزاب» ( غزوہ احزاب ) کا اضافہ کیا ہے ، آپ نے فرمایا : ” کون میرے پاس کافروں کی خبر لائے گا ؟ “ تو زبیر رضی الله عنہ بولے : میں ، آپ نے تین بار اسے پوچھا اور زبیر رضی الله عنہ نے ہر بار کہا : میں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3745]
💡 وضاحت:
۱؎: غزوہ احزاب کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کفار کی سرگرمیوں کا پتہ لگانے کے لیے یہ اعلان کیا کہ کون ہے جو مجھے کافروں کے حال سے باخبر کرے اور ایسا آپ نے تین بار کہا، تینوں مرتبہ زبیر رضی الله عنہ کے سوا کسی نے بھی جواب نہیں دیا، اسی موقع پر آپ نے زبیر رضی الله عنہ کے حق میں یہ فرمایا تھا: «ان لکل نبی حواریا و ان حواری الزبیر بن العوام» یہ بھی یاد رکھئیے کہ زبیر بن عوام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سگی پھوپھی صفیہ رضی الله عنہا کے بیٹے تھے، اور ان کی شادی ام المؤمنین عائشہ کی بڑی بہن اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہم کے ساتھ ہوئی تھی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح انظر ما قبله (3744)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجھاد 40 (2846)، و41 (2847)، 135 (2997)، وفضائل الصحابة 13 (3719)، والمغازي 29 (4113)، والآحاد 2 (7261)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 6 (2415)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (122) (تحفة الأشراف: 3020) (صحیح)