جامع الترمذي حدیث نمبر: 3947
Jami at-Tirmidhi 3947
کتاب #50: کتاب: فضائل و مناقب
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ , قَالُوا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَلَاذٍ يُحَدِّثُ، عَنْ نُمَيْرِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَسْرُوحٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نِعْمَ الْحَيُّ الْأَسْدُ وَالْأَشْعَرِوُنَ، لَا يَفِرُّونَ فِي الْقِتَالِ وَلَا يَغُلُّونَ، هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ "، قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: لَيْسَ هَكَذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " هُمْ مِنِّي وَإِلَيَّ "، فَقُلْتُ: لَيْسَ هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبِي وَلَكِنَّهُ حَدَّثَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ "، قَالَ: فَأَنْتَ أَعْلَمُ بِحَدِيثِ أَبِيكَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ، وَيُقَالُ: الْأَسْدُ هُمْ الْأَزْدُ.
ابوعامر اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا ہی اچھے ہیں قبیلہ اسد اور قبیلہ اشعر کے لوگ ، جو لڑائی سے بھاگتے نہیں اور نہ مال غنیمت میں خیانت کرتے ہیں ، وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں “ ، عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں : پھر میں نے اسے معاویہ رضی الله عنہ سے بیان کیا تو انہوں نے کہا : اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا ، بلکہ آپ نے یہ فرمایا کہ ” وہ مجھ سے ہیں اور میری طرف ہیں “ ، تو میں نے عرض کیا : میرے باپ نے مجھ سے اس طرح نہیں بیان کیا ، بلکہ انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں “ ، معاویہ رضی الله عنہ نے کہا : تو تم اپنے باپ کی حدیثوں کے زیادہ جانکار ہو ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف وہب بن جریر کی روایت سے جانتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اسد قبیلہ اسد ہی کے لوگ ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3947]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الضعيفة (4692) // ضعيف الجامع الصغير (5963) //
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 12066) وانظر مسند احمد (4/129) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن ملاذ مجہول راوی ہے)