جامع الترمذي حدیث نمبر: 3945
Jami at-Tirmidhi 3945
کتاب #50: کتاب: فضائل و مناقب
74: باب فِي ثَقِيفٍ وَبَنِي حَنِيفَةَ
باب: قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرَةً، فَعَوَّضَهُ مِنْهَا سِتَّ بَكَرَاتٍ، فَتَسَخَّطَهَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ فُلَانًا أَهْدَى إِلَيَّ نَاقَةً فَعَوَّضْتُهُ مِنْهَا سِتَّ بَكَرَاتٍ، فَظَلَّ سَاخِطًا، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ، أَوْ ثَقَفِيٍّ، أَوْ دَوْسِيٍّ "، وَفِي الْحَدِيثِ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، يَرْوِي عَنْ أَيُّوبَ أَبِي الْعَلَاءِ وَهُوَ أَيُّوبُ بْنُ مِسْكِينٍ وَيُقَالُ: ابْنُ أَبِي مِسْكِينٍ، وَلَعَلَّ هَذَا الْحَدِيثَ الَّذِي رَوَاهُ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ هُوَ أَيُّوبُ أَبُو الْعَلَاءِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جوان اونٹنی ہدیہ میں دی ، اور آپ نے اس کے عوض میں اسے چھ اونٹنیاں عنایت فرمائیں ، پھر بھی وہ آپ سے خفا رہا یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا : ” فلاں نے مجھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تھی ، میں نے اس کے عوض میں اسے چھ جوان اونٹنیاں دیں ، پھر بھی وہ ناراض رہا ، میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ اب سوائے قریشی ، یا انصاری ، یا ثقفی ۱؎ یا دوسی کے کسی کا ہدیہ قبول نہ کروں “ ، اس حدیث میں مزید کچھ اور باتیں بھی ہیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث متعدد سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے آئی ہے ، ¤ ۲- اور یزید بن ہارون ایوب ابوالعلاء سے روایت کرتے ہیں ، اور وہ ایوب بن مسکین ہیں اور انہیں ابن ابی مسکین بھی کہا جاتا ہے ، اور شاید یہی وہ حدیث ہے جسے انہوں نے ایوب سے اور ایوب نے سعید مقبری سے روایت کی ہے ، اور ایوب سے مراد ایوب ابوالعلاء ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3945]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے قبیلہ ثقیف کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (3022 / التحقيق الثانى)، الصحيحة (1684)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، وانظر مایأتي (تحفة الأشراف: 12954)، وانظر مسند احمد (2/292) (صحیح)