جامع الترمذي حدیث نمبر: 3673
Jami at-Tirmidhi 3673
کتاب #50: کتاب: فضائل و مناقب
16: باب فِي مَنَاقِبِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رضى الله عنهما كِلَيْهِمَا
باب: ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے مناقب و فضائل کا بیان
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَيْمُونٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَنْبَغِي لِقَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی قوم کے لیے مناسب نہیں کہ ابوبکر رضی الله عنہ کی موجودگی میں ان کے سوا کوئی اور ان کی امامت کرے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3673]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا، الضعيفة (4820) // ضعيف الجامع الصغير (6371) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3673) إسناده ضعيف ¤ عيسيٰ بن ميمون:ضعيف (تقدم:1089)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 17548) (ضعیف جداً) (بعض نسخوں میں ”حسن غریب“ ہے، اور بعض نسخوں اور تحفة الأشراف میں صرف ”غریب“ ہے، اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے، اس لیے کہ سند میں عیسیٰ بن میمون ضعیف راوی ہے، عبدالرحمن بن مہدی نے ان سے کہا: بسند قاسم تم عائشہ سے یہ کس طرح کی احادیث روایت کرتے ہو، تو کہا کہ دو بارہ نہیں بیان کروں گا اور امام بخاری نے فرمایا کہ وہ منکر الحدیث ہے، الضعیفة: 4820)